پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات جیو پولیٹیکل صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے: شہباز شریف
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بغیر مداخلت ملاقات کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین سے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔
خلاصہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات جیو پولیٹیکل صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج گل حسن اورنگزیب نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ پتا افراد کے کمیشن نے اگر کارروائی نہیں کرنی ہوتی تو پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کیے جاتے ہیں
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر ملزمان کو بری کردیا ہے
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کے دوران 771 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 80324 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے
لائیو کوریج
’ترقیاتی سکیموں کی مد نہ تو 500 ارب روپیہ ایم این ایز ایم پی ایز کو دیا گیا ہے نہ ایسا کوئی ارادہ ہے‘
،تصویر کا ذریعہTararAttaullah
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’ترقیاتی سکیموں کی مد نہ تو 500 ارب روپیہ ایم این ایز ایم پی ایز کو دیا گیا ہے نہ ایسا کوئی ارادہ ہے‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے سینیئر سیاستدان شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ ترقیاتی سکیموں کی مد میں ایم این ایز ایم پپی ایز کو 500 ارب روپیہ دیا گیا ہے اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں یہ اتنا غلط نمبر کہاں سے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ای ڈی پی) کا کل فنڈ 1500 ارب دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شاید دونوں نے کتاب ٹھیک نہیں پڑھی اور بہت ہی لاعلم ہیں اور یہ کہنا کہ یہ سارا ضائع ہو کر کرپشن میں جاتا ہے، ہمارے ایم این ایز ایم پی ایز بہت باعزت لوگ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ نئی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی گئی اور شہبام شریف نے عملی طور پر حکومتی اخراجات کو کم کرکے دکھایا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ فنڈ (پی ای ڈی پی) کا کل فنڈ 1500 ارب دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شاید دونوں نے کتاب ٹھیک نہیں پڑھی اور بہت ہی لاعلم ہیں اور یہ کہنا کہ یہ سارا ضائع ہو کر کرپشن میں جاتا ہے، ہمارے ایم این ایز ایم پی ایز بہت باعزت لوگ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں کمی اس طرح ہی ہوتی ہے جب آپ پی ڈبلیو ڈی جیسے محکموں کو ختم کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ پر ایک کمیٹی بنائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اراکین نہ تنخواہ لے رہے ہیں نہ مراعات اور ٹریول پر بھی پابندیاں ہیں۔اور وزیراعظم بھی نہ تنخواہ لے رہے ہیں نہ مراعات۔
یہ ملکی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے، آئی ایم ایف نے ایم این ایز کو 500 ارب دینے اور تنخواہ دار پر ٹیکس لگانے کا نہیں کہا: شاہد خاقان عباسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینیئر سیاستدان شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ پاکستان کی تاریخ کا بدترین بجٹ پاس کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’موجودہ بجٹ میں پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔‘
انھوں نے حکومتی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بجٹ کے تحت ملک کی معیشت نہیں چل سکتی، ٹیکس کا یکساں نظام ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے تنخواہ دار طبقے پر، ایکسپورٹر پر ٹیکس لگا کر آپ نے معیشت کی ترقی کو ختم کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقے سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں آج بھی نان فائلر کی کیٹیگری موجود ہے اور یہ آج بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج تو حکومتی خسارہ اتنا ہے کہ آپ کے پاس عیاشیاں کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ مہنگائی کی بات کریں تو جو ریٹیلر رجسٹرڈ ہیں وہ جو چیز بیچیں گے اس پر آدھا فیصد اور جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان پر ڈھائی فیصد لگے گا، یہ بھی عوام کی جیب سے آئے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن ہم جو ایل پی جی ڈیزل سمگل ہو رہی ہے اس کو نہیں چھیڑیں گے، ہم اربوں کی سگریٹس بک رہی ہیں ان کو نہیں چھیڑیں گے۔ ایک اور بڑی عجیب بات ہے کہ جب فاٹا کا اضمام ہوا تھا تو وہاں جو فیکٹریاں لگی تھیں انھیں پانچ سال وہی چھوٹ ملی تھی سیلز ٹیکس کی جو اس سے پہلے تھی۔
’یہ فیکٹریاں بغیر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کے مال بناتی ہیں اور پاکستان میں فروخت کرتی ہیں۔ اور جب آپ کم قیمت پر پاکستان میں مال بنا رہے ہوں تو دوسری فیکٹریاں آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ انھیں ایک بار پھر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے، حالانکہ ان سے فاٹا کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ صرف کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پراپرٹی بیچنے پر ڈھائی سے چار فیصد تک لیکن اس میں ایسی شق رکھی ہے جس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے سویلین اور ملٹری کے ریٹائرڈ لوگوں کو چھوٹ دے دی گئی ہے۔ جب آپ اس قسم کی شقیں لگاتے ہیں تو لوگ سوال پوچھیں گے۔
’ایک اور معاملہ سمجھ سے باہر ہے اور وہ برآمدات کے شعبوں پر ٹیکس لگانا، ڈیڑھ سے دو فیصد ٹیکس کم سے کم لگایا جائے گا جب آپ کو سب سے زیادہ ڈالرز کی ضرورت ہے۔‘
شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ’آپ ملک کے تنخواہ دار طبقے کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ یہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، میں حکومت ہوں اپنے اخراجات کم نہیں کروں لیکن بوجھ تم پر ڈالوں گا، تو یہ ملک کیسے چلے گا؟
’کیا اس ملک میں جو دوسروں پر ٹیکس لگاتے ہیں خود ان پر ٹیکس نہیں لگنا چاہیے؟ یہ ہوتی ہے اشرافیہ جو اپنے آپ کو بھی بچاتی ہے اور اپنے دوستوں کو۔‘
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’آپ نے آج تک ڈسکوز کی نجکاری کرنے کی بات بھی نہیں کی، آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ حکومت کا حجم کیسے کم کرنا ہے۔
’آئی ایم ایف نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ
500 سے 600 ارب ایم این اے ایم پی ایز کو دیں، انھوں نے نہیں کہا تھا کہ آپ 24
فیصد جاری اخراجات بڑھائیں، آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ زراعت پر ٹیکس لگائیں،
ریٹیلر پر فکسڈ ٹیکس لگائیں وہ آپ نہیں لگا رہے، پراپرٹی ٹیکس بھی نہیں لگا رہے، آئی ایم ایف نے تو آپ سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے کا نہیں کہا تھا۔‘
واٹس اپ: ٹک ٹاک پر بی بی سی اردو کے نیوز بلیٹنز کا آغاز
’2019 میں بلوچستان عوامی پارٹی کو مخصوص نشست دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا‘
مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے تسلیم کیا کہ 2019 میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو خواتین کی مخصوص نشست دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔
لارجر بینچ میں موجود جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ’2019 میں بی اے پی کو الیکشن لڑے بغیر، فہرست جمع کرائے بغیر، خیبر پختونخوا میں مخصوص نشست کیسے ملی؟‘
اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ’موجودہ الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ 2019 میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔‘
یاد رہے کہ 2019 کے دوران راتوں رات وجود میں آنے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو بغیر کسی تنظیمی ڈھانچے کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں داخل ہوئی تھی۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں سے منتخب تین اراکین اسمبلی نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس جماعت کو صوبائی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص ایک نشست مل گئی تھی۔
قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں نہ تو بی اے پی کے کوئی امیدوار میدان میں اترے تھے اور نہ ہی اس جماعت کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ خیبرپختونخوا میں وجود رکھتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اسے مخصوص نشست الاٹ کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کو ایک سال کا وقت دیا گیا لیکن انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائے گئے: چیف جسٹس کے ریمارکس
،تصویر کا ذریعہReuters
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ تسلیم شدہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک سال
کا وقت دیا گیا (مگر انٹرا پارٹی) الیکشن نہیں کرائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے فراغ دلی
کا مظاہرہ کیا۔‘
پیر کو الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے سپریم کورٹ میں اپنے
دلائل مکمل کر لیے ہیں۔
سماعت کے آغاز میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا
کہ پی ٹی آئی نے قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جبکہ پارٹی سرٹیفکیٹس
جمع کرانے کے وقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا۔
سکندر مہمند نے کہا کہ ’ٹکٹ جاری کرتے وقت تحریک انصاف کی
کوئی قانونی تنظیم نہیں تھی۔ پارٹی تنظیم انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے کی
وجہ سے وجود نہیں رکھتی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کئی امیدواروں نے پارٹی سے وابستگی نہیں
لکھی۔ اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوں گے۔‘
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار حامد رضا کے
کاغذات نامزدگی اور سرٹیفیکٹ میں تضاد ہے۔ ’حامد رضا نے پی ٹی آئی نظریاتی کا سرٹیفکیٹ
جمع کرایا۔ بعد میں آزاد امیدوار ڈکلیئیر کرنے کی درخواست دی۔‘
’الیکشن سے پہلے قانون کے مطابق پی ٹی آئی اپنے انٹرا پارٹی
الیکشن کرا سکتی تھی۔‘
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پی
ٹی آئی کو ایک سال کا وقت دیا گیا (مگر) الیکشن نہیں کرائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے
فراغ دلی کا مظاہرہ کیا۔‘
سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے
جس کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بھی الیکشن کمیشن کے وکیل
کے دلائل اپنا لیے۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے جے یو آئی کے وکیل سے
استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے اچھا کام کیا ہے جس پر عدالت کو جواب دیا گیا
کہ انھوں نے اس معاملے میں اچھا کام کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل نے بھی وفاق اور الیکشن کمیشن
کے وکیل کے دلائل کو اپنایا ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے غیر حاضری کی بنا پر علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے
،تصویر کا ذریعہX/PTI
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے غیر حاضری کی بنا پر خیر
پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے
خلاف تھانہ سنگجانی اور آئی نائن میں درج دو مقدمات پر انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج
طاہر عباس سپرا نے سماعت کی ہے۔
سماعت کے دوران علی نواز اعوان، واثق قیوم، عامر کیانی اور دیگر
رہنما عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور
اور عامر مغل کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دیں۔
تاہم عدالت نے علی امین گنڈاپور اور عامر مغل کی حاضری سے استثنیٰ کی
درخواستیں مسترد کر دیں اور دونوں ملزمان کی غیر حاضری پر ان کے ناقابل ضمانت
وارنٹ گرفتاری جاری کر
دیے۔
سماعت کے دوران ایک موقع پر عدالت نے
برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’تمام
غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری ہوں گے۔ تماشہ بنا ہوا ہے۔ ایک آتا ہے، دو نہیں آتے۔‘
وکلا نے آئندہ پیشی پر تمام ملزمان کی حاضری کی یقین دہانی کرائی۔
دریں اثنا عدالت نے عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے حوالے سے
سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ
’جو ملزم 8 تاریخ کو نہیں آئیں گے ان کو
اشتہاری قرار دوں گا۔ آٹھ جولائی کو کوئی بیمار ہو، بخار ہو، کچھ بھی ہو۔ جو نہ آیا
اسے اشتہاری قرار دیں گے۔‘
’عدالتی مفرور کو اشتہاری قرار دینے کے لیے تیس دن ضروری نہیں ہیں۔ میں
نے ان کیسز کو انجام تک پہچانا ہے، آپ کا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’اگر کیسز میں جان ہوئی تو چلیں گے ورنہ
فارغ ہوں گے۔ آٹھ جولائی کے بعد کیسز کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔‘
عدالت نے دونوں مقدمات کی سماعت 8 جولائی تک ملتوی کی ہے۔
لکی مروت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، تین بھٹہ مزدور ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAFP
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں غزنی خیل کے علاقے میں بھٹہ خشت پر کام کرنے والے تین مزدوروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں فاروق، نقیب اللہ اور صالح خان شامل ہیں اور لواحقین نے انڈس ہائی وے پر تاجہ زئی کے مقام پر احتجاج کیا ہے۔
یہ واقعہ آج صبح قریب چار بجے غزنی خیل کے قریب گورکہ شاہ حسین کے علاقے میں ہوا۔
پولیس کے مطابق تینوں افراد علاقے میں بھٹہ خشت پر کام کرتے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں غم کی فضا ہے۔ حملہ آورووں کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہو سکا۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ علاقے میں اچانک بہت زیادہ روشنی ہوئی اور ایسا لگا کہ اچانک دن ہوگیا ہو۔ پھر اس کے بعد فائرنگ ہوئی۔ روشنی صرف اس مقام پر ہوئی جہاں مزدور بھٹہ خشت پر کام کے لیے جا رہے تھے۔
پولیس حکام نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹارچ لائٹ کے علاوہ تین گاڑیوں کی لائٹس بھی دیکھی گئی ہیں جو واقعے کے بعد غزنی خیل کی جانب چلی گئیں۔
اس واقعے کے بعد اہل علاقہ نے انڈس ہائی وے پر غزنی خیل کے قریب تاجہ زئی کے مقام پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پُرتشدد واقعات
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور قریبی قبائلی علاقوں میں بے یقینی کی صورتحال ہے جہاں تشدد کے واقعات معمول سے ہو رہے ہیں۔
جبکہ کچھ علاقوں سے مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز بھی موجود ہیں جو مسلح شدت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتی ہیں۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں کے بارے میں ان دنوں سرکاری سطح پر بیان کم ہی جاری کیا جاتا ہے۔
مقامی سطح پر عام شہری بتاتے ہیں کے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور بعض مقامات سے کارروائیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی ہیں۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کے علاوہ جرائم پیشہ افراد بھی متحرک ہیں جو راستوں پر گاڑیوں کو لوٹنے اور خوف کی فضا پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔
لکی مروت میں 9 جون کو نامعلوم افراد کی جانب سے سکیورٹی فوسرز کی گاڑی کے قریب دھماکے ہوئے تھے جس میں فوج کے ایک کپتان سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
اس کے بعد 11 جون کو سکیورٹی فورسز نے لکی مروت کے مضافات میں ایک آپریشن میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑ پور تک گذشتہ دنوں میں ڈرون پروازوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں جبکہ لکی مروت کے علاقے سر درگا میں چند روز پہلے ایک ڈرون حملے میں شدت پسند گروہ کے تین افراد کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی گئی تھی۔
لکی مروت میں اس سال اپریل کے مہینے میں گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا تھا جس میں مقررین نے مجوزہ فوجی آپریشن کو مسترد کیا تھا۔
اس جرگے میں کہا گیا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس علاقے میں بڑے فوجی آپریشن کا ارادہ ہے لیکن وہ اس آپریشن کو مسترد کرتے ہیں۔
بریکنگ, بحریہ کے اہلکاروں کو سزائے موت دینے کی وجوہات نہ بتائی گئیں تو سزا کالعدم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا: جسٹس بابر ستار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستانی بحریہ کے پانچ اہلکاروں کو سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ سزا دیے جانے کی وجوہات نہیں بتائی جاتیں تو عدالت کے پاس اسے کالعدم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
جسٹس بابر ستار نے پیر کو سزائے موت پانے والے پانچ اہلکاروں کی طرف سے کورٹ مارشل کی کارروائی کی دستاویزات فراہم نہ کر نے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
پاک بحریہ کے سابق اہلکاروں ارسلان نذیر ستی، محمد حماد، محمد طاہر رشید، حماد احمد خان اور عرفان اللہ نے اس سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔
درخواست گزاران کا کہنا ہے کہ انھیں جنرل کورٹ مارشل میں سزائے موت سنائی گئی لیکن وکیل کی معاونت فراہم نہیں کی گئی اور ملزمان کو شواہد اور کورٹ آف انکوائری کی دستاویزات بھی نہیں دی گئیں۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان دستاویزات تک رسائی کے بغیر سزائے موت کے خلاف اپیل کی جو مسترد ہوئی۔
سماعت کے دوران پاکستانی بحریہ کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی اور بحریہ کے ایک نمائندے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ان اہلکاروں کا کورٹ مارشل کر کے دی جانے والی سزائے موت کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
اس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر عدالت کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے کہ کورٹ مار شل کی اس کارروائی کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ انھوں نے پاکستانی بحریہ کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ' آپ چاہتے ہیں میں فیصلہ کر دوں؟' ان کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ سزائے موت کیوں دی گئی، اس کی وجوہات بتائی جائیں۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ 'یہ بتانا کہ سزائے موت کیوں دی گئی، کوئی خفیہ معاملہ نہیں۔' اس پر پاکستان نیوی کے نمائندے نے حکام سے ہدایات لینے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔
عدالت نے ہدایات لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی اور ساتھ ہی پانچوں قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد روکنے کے حکم میں توسیع بھی کر دی گئی۔
ادھر درخواستگزاروں کے وکیل کرنل انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ کورٹ مارشل کے ریکارڈ میں انکوائری رپورٹ اور
شواہد نہیں تھے جس کی وجہ سے انھیں اپیل دائر کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا
کہ کورٹ مارشل میں بحریہ کے اہلکاروں کو ایک دوسرے کے خلاف گواہ بنایا گیا تھا جس
کی اجازت نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ سزائے موت
دینے کی عدالتی کارروائی خفیہ نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ان اہلکاروں کی زندگی کا
معاملہ تھا۔
کرنل انعام نے کہا کہ بغیر
کونسل کے ان افراد کو سزائے موت دی گئی جو ’دنیا میں کسی عدالت، کسی قانون میں نہیں۔‘
واضح رہے کہ نیوی ٹربیونل نے نیوی ڈاک یارڈ حملے کے مقدمے میں گرفتار نیوی کے پانچ اہلکاروں کو ڈاک یارڈ پر حملے اور نیوی کی قیادت کے خلاف سازش کے الزام میں مجرم ثابت ہونے پر2016 میں موت کی سزا سنائی تھی۔
کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ پر ستمبر 2014 میں حملہ کیا گیا تھاجس کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ پاکستان نیوی کی جانب سے اس وقت جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس حملے میں دو شدت پسند جبکہ ایک نیوی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ چار حملہ آوروں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔
پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیوں کیا؟, اعظم خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت پاکستان کی جانب سے حال ہی سرحد پار افغانستان کے اندر کارروائیوں کا عندیہ دیے جانے کے بعد ایک جانب جہاں افغانستان کی طالبان حکومت نے اسے ایک غیر دانشمندانہ بیان قرار دیا ہے تو وہیں حکومت کو پاکستان کے اندر بھی مخالفت کا سامنا ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے افغانستان میں عسکری کارروائی کا کھل کر اعلان کیا؟
پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے ہوتے ہوئے عمران خان کی رہائی کا امکان نہیں: فواد چوہدری
،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے ہوتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا امکان نہیں ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’وقت نہیں بدلا۔ ہم چاہتے ہیں عمران خان باہر آئیں (لیکن) ایک فیصد چانس نہیں کہ موجودہ قیادت عمران خان کو باہر لا سکے۔ ان کے پاس سیاسی حکمت عملی اور صلاحیت نہیں۔‘
’سینیئر لیڈرشپ شاہ محمود قریشی کو جیل سے آنے نہیں دے رہے، پرویز الہی متحرک نہیں ہوسکے۔۔۔ جب تک پرانی لیڈرشپ کو شامل نہیں کیا جاتا عمران خان کی رہائی کا ایک فیصد چانس نہیں۔‘
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب سات اور ساڑھے نو روپے سے زیادہ اضافہ
پاکستان کی حکومت نے یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں سات روپے 45 پیسے اضافہ کا کیا گیا ہے جس کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 265 روپے 61 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی نو روپے 56 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 277 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
خیال رہے کہ جون کے مہینے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت بھی سوا پانچ روپے کے قریب کم ہوئی تھی تاہم یکم جولائی سے اس قیمت میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حال ہی میں منظور ہونے والے سالانہ بجٹ میں پیٹرول پر عائد لیوی میں دس روپے فی لیٹر کا اضافہ بھی منظور کیا گیا ہے تاہم وزارتِ خزانہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یکم جولائی سے ہونے والے اضافے میں اس لیوی کی مد میں اضافہ شامل ہے یا نہیں۔ اس اضافے سے قبل حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 80 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس لاگو نہیں تاہم پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے جسے موجودہ مالی سال میں بڑھا کر 70 روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباؤ محسوس کر رہے ہیں: وزیر خزانہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز پر ٹیکس یکم جولائی سے لگ جائے گا۔ لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباؤ محسوس کر رہے ہیں، خواہش ہے کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو۔ ’2022 میں جو مفتاح نے ریٹیلرز پر ٹیکس کا قدم اٹھایا تھا وہ ہونا چاہیے تھا، کل تک 42 ہزار ریٹیلرز رجسٹر ہوگئے۔ ریٹیلرز پر یکم جولائی سے ٹیکس لگے گا۔ کوئی کمپنی نقصان میں جاتی ہے تو اس پر ٹیکس نہیں ہوگا۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طویل المدتی پروگرام کرنے جا رہے ہیں۔ جولائی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کی امید ہے۔ ’ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے۔ معاشی استحکام سےغیرملکی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی بہتری کواب پائیدارمعاشی استحکام کی طرف لے جانا ہے۔‘
صدر آصف علی زرداری نے فنانس بل کی منظوری دے دی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے فنانس بل 25-2024 کی توثیق کر دی ہے۔ مالیاتی بل یکم جولائی یعنی آج سے نافذ العمل ہوگا۔
40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کا انچارج کون ہے؟حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے: اسلام آباد ہائیکورٹ
،تصویر کا ذریعہIHC
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم نامہ جاری کیا ہے۔
حکم نامے میں وفاقی حکومت سے استفسار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت رپورٹ دے کہ ’ لا فل انٹرسپشن مینجمنٹ سسٹم لگانے کا ذمہ دار اورانچارج کون ہے جو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے لیے شہریوں کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگز بادی النظر میں قانونا درست نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم نامے کے مطابق ٹیلی کام کمپنیز آئندہ سماعت تک یقینی بنائیں کہ نگرانی کے نظام تک رسائی نا ہو۔
تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ آیا ملک میں غیر قانونی نگرانی کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو ایسی غیر قانونی کارروائی کا ذمہ دار کون ہے؟
عدالت کے مطابق تقریباً 40 لاکھ موبائل صارفین کی ایک وقت میں کال اور ایس ایم ایس تک رسائی کی جا رہی ہے، موبائل کمپنیوں نے شہریوں کے دو فیصد ڈیٹا تک جو رسائی کا سسٹم لگا کر دے رکھا ہے، بادی النظر میں قانوناً درست نہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دو فیصد ڈیٹا تک رسائی کے سسٹم کو کون استعمال کر رہا ہے اس حوالے سے عدالت کو نہیں بتایا گیا۔ توقع ہے وزیر اعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔
یاد رہے کہ آٹھ دسمبر2022 کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک ہوئی تھی۔
21 سیکنڈ پر مشتمل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات چیت کرتے سنا گیا۔
بشری بی بی نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی ذاتی آڈیو کال کو میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش اور پبلک کیا گیا جس کا مقصد انھیں ہراساں کرنا اور خاندانی زندگی پر منفی اثرات ڈالنا تھا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’جو گفتگو ریکارڈ کی گئی اور سوشل میڈیا پر لیک ہوئی ان کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں۔‘
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی اے عدالت کو بتا چکے کہ کسی ایجنسی کو سرویلنس کی اجازت نہیں دی، لا فل انٹرسپٹ مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے غلط بیانی پر پی ٹی اے چیئرمین اور ممبران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بادی النظر میں وزرائے اعظم ، سیاسی لیڈران ، ججوں اور ان کی فیملی ، بزنس مینوں کی آڈیو ریکارڈنگ سرویلنس کا میکنزم موجود ہے، بادی النظر میں آڈیو ریکارڈنگ کر بعد مخصوص سوشل اکاؤنٹس پر پھر مین سٹریم میڈیا پر آتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہpti
عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز اور پی ٹی اے کے درمیان خط و کتابت کی تفصیل پی ٹی اے سربمہر لفافے میں جمع کرائی جبکہ ٹیلی کام کمپنیز بھی پی ٹی اے کے ساتھ سسٹم لگانے کی سر بمہررپورٹ جمع کرائیں۔
عدالت نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیزآئندہ سماعت تک سی ڈی آر، لائیو لوکیشن وزارت داخلہ کے ایس او پیز کے مطابق شئیر کریں۔
حکم نامے کے مطابق شہریوں کی موبائل فون کالز ریکارڈ کرنے کا سسٹم اتنا جدید اور خودکار ہے کہ ٹیلی کام آپریٹر کو بھی نہیں پتہ چلتا کہ ان کے کس صارف کی گفتگو سنی یا ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ٹیلی کام صارفین کی کل تعداد کے دو فیصد کی ہر وقت سرویلنس کی جا سکتی ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ چیمبر میں کچھ دستاویزات دکھانا چاہتے ہیں تاہم چیمبر سماعت کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ توقع ہے وزیراعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔
حکم نامے کے مطابق ’وفاقی حکومت چھ ہفتے میں بتائے کون شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر ڈیٹا لیک کرتا ہے۔ ذمہ داروں کا تعین کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائِے۔‘
’بادی النظر میں وزرااعظم، سیاسی لیڈرز، ججز، ان کی فیملیز، بزنس مینوں کی آڈیو ریکارڈنگ سرویلنس کا میکنزم موجود ہے، بادی النظر میں آڈیو ریکارڈنگ کے بعد مخصوص سوشل اکاؤنٹس پر پھر مین سٹریم میڈیا پر لائی جاتی ہے۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ تقریبا ًچالیس لاکھ موبائل صارفین کی ایک وقت میں کال اور ایس ایم ایس تک رسائی ہو رہی ہے،موبائل کمپنیز نے شہریوں کے 2 فیصد ڈیٹا تک جو رسائی کا سسٹم لگا کر کے دے رکھا ہے بادی النظر میں قانوناً درست نہیں۔‘
عدالت کے مطابق ’ قانونی فریم ورک کی تفصیلات جو موجود ہیں اس صورت میں جب نگرانی کی جانی ہے تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو راز میں رکھا جانا چاہیے۔‘
حکم نامے میں کہا گیا کہ ’قانون کی حکمرانی کا پورا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف شہریوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلانا ہے جن کی انھیں پابندی کرنی چاہیے اور دوسری طرف ریاستی اداروں کی زمہ داری ہے کہ جس طریقے سے انھیں ریاستی اختیار استعمال کرنے کی اجازت عطا کی گئی اسے عوامی اعتماد کے ساتھ ہی استعمال کیا جانا لازم ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی مبینہ آڈیو لیک کے خلاف کیس پر سماعت کے دوران چار محکموں نے جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی درخواست کی تھی۔
پیمرا پی ٹی اے، ایف آئی سے اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی استدعا کی تھی۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا، ایف آئی اے، پی ٹی اے کی جانب سے جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی متفرق درخواستیں خارج کردیں تھیں، عدالت نے پیمرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے کی درخواستیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے جرمانوں کے ساتھ خارج کر دی تھیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔
مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔
بشریٰ بی بی اور نجم ثاقب کی مبینہ ٹیلی فونک کالز لیک ہوگئی تھیں، جس کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، اس حوالے سے دونوں نے عدالت میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم عدالت نے نجم ثاقب اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر علیحدہ علیحدہ درخواستوں کو اکٹھا کردیا تھا۔
بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
اس لائیو پیج میں پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شیئر کی جائے گی۔