آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنگ بندی کی کوئی مدت طے نہیں، ناکہ بندی اور دھمکیاں مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات ممکن ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں
  • پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے
  • ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا
  • اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کا امکان تھا تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اپنے وفود پاکستان روانہ نہیں کیے گئے
  • ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان ’بے معنی‘ ہے اور یہ ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے‘

لائیو کوریج

  1. ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی اُنگلی ٹریگر پر ہو گی: حکومتی ترجمان

    ایرانی حکومت کی ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران کی ’انگلی ٹریگر پر‘ اور دفاعی فورسز ’مکمل تیاری کی حالت میں‘ ہوں گی۔

    فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی نہ تو واضح تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی کہ آیا ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی جنگ کی حکمتِ عملی اور دوسری سفارت کاری کی حکمتِ عملی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی۔‘

  2. ’ایران، امریکہ کی صلح ہو تو شکر ہم ادا کریں گے‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے جو شخصیات اسلام آباد پہنچ رہی ہیں، ان کے طیارے نور خان ایئربیس کے رن وے کا استعمال کر رہے ہیں۔

    اسی وجہ سے علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ان علاقوں کے بند کیے جانے کے باعث یہاں کی بزنس کمیونٹی کو تشویش کا سامنا ہے کیونکہ ان کے کاروبار اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

  3. پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث پاکستان نے دونوں فریقین کو جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکہ کی قائم مقام ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے آج پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں ’خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

    بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے ’چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دینے کے پاکستان کے مستقل مؤقف کو اجاگر کیا۔‘

    انھوں نے ’امریکہ اور ایران کے درمیان روابط کی ضرورت پر زور دیا، دونوں فریقین سے جنگ بندی میں توسیع پر غور کرنے اور مکالمے اور سفارت کاری کو موقع دینے کی اپیل کی۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بیکر نے ’خطے میں امن کے فروغ اور بات چیت میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار پر امریکہ کی جانب سے قدردانی کا اظہار کیا۔‘

  4. ٹرمپ معاہدے کے لیے پُرامید مگر بمباری کی بھی دھمکی, برنڈ ڈبسمین جونیئر، بی بی سی نیوز/واشنگٹن ڈی سی

    بظاہر امریکی صدر ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پُرامید ہیں۔ انھوں نے سی این بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ایسی عظیم ڈیل چاہتے ہیں جو امریکہ کے لیے قابل قبول ہو اور ایران کو مستقبل میں مدد دے گی۔

    لیکن ٹرمپ دراصل ایران کے خلاف ’کیرٹ اینڈ سٹک‘ کی حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ ڈیل ابھی بھی میز پر ہے لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں تک جاری جنگ بندی کے دوران امریکہ نے خطے میں اپنی فورسز کو مضبوط کیا ہے اور وہ دوبارہ ضرورت پڑنے پر بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ان کے بیانات میں وہ سمجھوتہ شامل نہیں جو وہ کرنے کو تیار ہیں۔

    ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ایران کے ساتھ کیسا معاہدہ چاہتے ہیں، سوائے اس مطالبے کے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے یا رکھنے کی صلاحیت نہیں ہو سکتی۔

    ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ کہہ کر ان مذاکرات پر وقت کی ایک حد عائد کر دی ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتے۔

  5. جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا، ایران کو مذاکرات کرنا ہوں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

    سی این بی سی کو دیے انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ امید ظاہر کی کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم معاہدہ ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے اور ’ہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں۔‘

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس ’یہی راستہ ہے‘ اور انھیں ’مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘

    امریکی صدر کا بھی کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو وہ ’دوبارہ مضبوط بن سکتا ہے اور ایک عظیم قوم بن سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا گیا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو کیا وہ دوبارہ حملے شروع کریں گے۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’میری توقع ہے کہ بمباری ہو گی کیونکہ میرے خیال میں اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھنا بہتر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن آپ جانتے ہیں، ہم تیار ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ فوج پوری طرح تیار ہے۔‘

  6. جنگ بندی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان کیا طے پایا تھا؟

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی متعدد بار خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جبکہ ایرانی حکام بھی اس سے قبل ٹرمپ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ نے 8 اپریل کو دو ہفتوں پر مشتمل ایک مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی مدت بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اس شرط پر طے پایا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جو خلیج سے تیل اور دیگر برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

    تہران نے اس وقت کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کو دو ہفتوں کے لیے گزرنے کی اجازت دے گا اور ان کی آمد و رفت ایرانی فوج کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہو گی۔

  7. ہمیں بحرِ ہند میں امریکہ کی جانب سے روکے گئے ٹینکر کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟, تھامس کوپلینڈ، بی بی سی ویریفائی

    جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرِ ہند میں امریکی فوج کی جانب سے روکا گیا ایک ٹینکر آج علی الصبح تیزی سے مڑا اور اب سری لنکا کے جنوب مشرق میں تقریباً 700 کلومیٹر یعنی 430 میل کے فاصلے پر اپنی موجودہ جگہ ظاہر کر رہا ہے۔

    میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل بردار ٹینکر ٹفانی، جس کی گنجائش تقریباً تین لاکھ ٹن ہے، اس وقت مال بردار حالت میں ہے۔

    اس ٹینکر پر امریکہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں اور اس کا تعلق ایک انڈین شپنگ کمپنی سے ہے جس پر ایران سے روابط کے باعث امریکی پابندیاں ہیں۔

    مقام سے متعلق اطلاعات کے مطابق ٹفانی نے 10 اپریل کو خلیجی خطے سے روانگی اختیار کی تھی اور 18 اپریل کو سری لنکا کی بندرگاہ گال کے قریب مختصر طور پر رکا۔ اس کے بعد اسے امریکہ نے روک لیا۔

    میرین ٹریفک کے مطابق اندازہ تھا کہ یہ اتوار کو اپنی ممکنہ منزل سنگاپور پہنچ جائے گا۔

  8. امریکی فوج کی ’پابندی زدہ‘ ٹینکر کے خلاف کارروائی

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے انڈو پیسفک خطے میں پابندی زدہ ٹینکر کے خلاف کارروائی کی ہے جس کا مقصد ’ایران کی حمایت کرنے والے غیر قانونی نیٹ ورکس میں خلل ڈالنا تھا۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکی محکمۂ جنگ نے کہا کہ اس نے ’بغیر کسی واقعے کے بے وطن اور پابندی زدہ جہاز ایم ٹی ٹیفانی کی جانچ، سمندری روک تھام اور اس پر سوار ہونے کی کارروائی کی۔‘

    محکمے نے اس کارروائی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ یہ معلومات شیئر کیں۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ وہ ’دنیا بھر میں سمندری نفاذِ قانون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس میں خلل ڈالا جا سکے اور ایران کو مادی معاونت فراہم کرنے والے پابندی زدہ جہازوں کو روکا جا سکے۔ وہ جہاں کہیں بھی سرگرم ہوں۔‘

    محکمے نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی پانی پابندی زدہ جہازوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہیں۔‘

  9. ٹرمپ کا ایران پر جنگ بندی کی ’کئی بار خلاف ورزی کرنے‘ کا الزام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کے معاہدے کی ’متعدد بار‘ خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    یہ الزام انھوں نے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لگایا۔ تاہم اس حوالے سے انھوں نے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی کہ وہ کس واقعے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ ایران نے بھی امریکہ پر ایسے ہی الزامات عائد کیے ہیں۔

    پیر کے روز ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ خلیج میں ایک تجارتی جہاز پر ’امریکی حملہ اور اس پر قبضہ‘ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

  10. اسلام آباد میں مذاکرات سے قبل تمام فریقین سے رابطے میں ہیں: قطر

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔

    ماجد الانصاری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

    ’پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ ہم بھی اس میں شامل ہیں۔ ہم پاکستان میں اپنے بھائیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

    ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ تمام خلیجی ممالک روزانہ کی بنیاد پر مختلف فریقوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ ’یہ ہمارے خطے کا بحران ہے۔ اسی لیے ہمارے براہ راست رابطے ہیں۔‘

    آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرنا کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اس بحران کو علاقائی سے بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر دیتی ہے۔‘

  11. جنگ اور انٹرنیٹ کی بندش نے ایرانی عوام کو کتنا متاثر کیا؟, ژیار گل، بی بی سی/اسلام آباد

    ایران کے اندر بہت سے لوگ، جن میں اسلامی جمہوریہ کے حامی بھی شامل ہیں، عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے اور مزید معاشی مشکلات کے لیے خود کو تیار رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہی تو کیا ایرانی حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے سکے گی؟ اور کیا تہران مذاکرات سے دستبردار ہونے کا متحمل ہو سکتا ہے؟

    تنازع سے پہلے ہی پابندیوں، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے بہت سے گھرانوں کو محض بقا کی جدوجہد تک محدود کر دیا تھا۔ خاندان صرف بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہے تھے۔

    اب بند ہونے والے کاروبار، مسترد شدہ چیک اور پیٹروکیمیکل، فولاد اور المونیم کی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان نے کساد بازاری کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    گذشتہ ایک سال کے دوران اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں دگنا اضافہ اور برآمدات میں کمی کے ساتھ، ایران کی کرنسی ریال کو مزید کمزوری کا سامنا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایرانی حکام کی جانب سے معاشی نقصان کا تخمینہ 270 ارب ڈالر اس مشکل کو بیان کرتا ہے۔

    اس کے اثرات خاص طور پر ان خواتین کے لیے شدید رہے ہیں جو چھوٹے آن لائن کاروبار چلا رہی تھیں۔ انٹرنیٹ کی بندش اور تعطل کے باعث ایسی بہت سی خواتین متاثر ہوئیں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دستکاریاں فروخت کرتی تھیں۔ یوں خاندانوں کے لیے آمدنی کے اہم ذرائع راتوں رات ختم ہو گئے۔

    ان کے نقصانات ایک وسیع تر حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جنگ اور انٹرنیٹ پر پابندیاں نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ایران کی سب سے کمزور برادریوں میں روزگار کے ذرائع کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

  12. ایران کے ساتھ سابقہ معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکہ کو کئی ماہ لگے تھے, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار/بی بی سی نیوز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ان کا پلڑا بھاری ہے۔ ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ہم ایران کے ساتھ جو معاہدہ کر رہے ہیں وہ جے سی پی او اے سے کہیں بہتر ہوگا۔‘ اس سے ان کی مراد وہ معاہدہ تھا جو صدر اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ طے کیا تھا۔

    اس معاہدے کا مکمل نام جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن تھا جس کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا اور اس کے بدلے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔

    یہ معاہدہ صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا اور غالباً اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے اسے جلد از جلد ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے امریکہ کو اس معاہدے سے نکال کر عملی طور پر اسے ناکارہ بنا دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے 2018 میں اعلان کیا کہ امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے۔ انھوں نے اسے ’بوسیدہ اور گلا سڑا‘ قرار دیا اور دوبارہ ایران پر معاشی پابندیاں نافذ کر دیں۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا کہ وہ دوبارہ یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کی تیاری کرے گا۔

    یہ معاہدہ پی فائیو پلس ون یعنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے درمیان 18 ماہ کی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔ ان مذاکرات میں نہایت تجربہ کار ایرانی مذاکرات کار شامل تھے اور یہ طویل اور پیچیدہ بات چیت کا نتیجہ تھا۔

    یہ انتہائی تعلیم یافتہ اور کثیر لسانی افراد ہیں جو اپنے مؤقف پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور ایسا معاہدہ کسی عجلت میں طے نہیں کیا جا سکتا۔

  13. ’ایران کا بیانیہ ٹرمپ کے غیر مستقل موقف کی عکاسی کرتا ہے‘

    انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے مؤقف میں مستقل مزاج رہی ہے جبکہ بظاہر نظر آنے والے متضاد بیانات دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غیر مستقل مؤقف‘ پر ایرانی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

    علی واعظ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران نے ’بڑی حد تک ہم آہنگی‘ برقرار رکھی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ تہران سے آنے والے بعض متضاد اشاروں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ یہ زیادہ تر اس بات کی عکاسی ہے کہ ایرانی قیادت صدر ٹرمپ کے غیر واضح اور بدلتے مؤقف پر کس طرح ردعمل دے رہی ہے۔

    مثال کے طور پر علی واعظ کے مطابق جب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کا اعلان کیا تو یہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔

    بعد ازاں جب صدر ٹرمپ نے امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو ایرانی فوج نے کہا کہ وہ اپنی بندش دوبارہ قائم کرے گی۔

    اُن کے بقول یہ کسی اندرونی اختلاف کی علامت نہیں بلکہ واقعات کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔

  14. راولپنڈی میں بس اڈوں کی سروسز بحال

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پشاور روڈ پر واقع بس سٹینڈز کی بند سروسز کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’پشاور روڈ پر اڈوں سے بس سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔ شہر کے اندر اور بین الاضلاعی روٹس پر معمول کے مطابق بسیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ 19 اپریک کو انتظامیہ نے راولپنڈی میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تا حکمِ ثانی معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

  15. اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کی تیاریاں مگر غیر یقینی: ہم اب تک ہمیں کیا معلوم ہے؟

    • ایران کے پارلیمانی سپیکر قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو تہران ’میدانِ جنگ میں نئے پتے کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے۔‘
    • دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس میں توسیع کا امکان ’انتہائی کم‘ ہے۔
    • امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ تاہم تہران نے اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجے گا۔
    • پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اب بھی سکیورٹی اہلکاروں کی چوکیاں نظر آتی ہیں اور سڑکوں پر ’اسلام آباد ٹاکس‘ کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ تاہم فضا میں بے یقینی بھی موجود ہے۔
    • تجزیہ کاروں کے مطابق تہران میں اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایرانی عوام سے ایسے مطالبات کیے جا سکتے ہیں جنھیں وہ پورا کرنے کے لیے تیار نہیں
    • ادھر چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’معمول کی آمد و رفت‘ کو برقرار رکھا جانا چاہیے
  16. امریکہ-ایران مذاکرات: چین کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی ’مکمل حمایت‘

    پاکستان میں چین کے سفیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق اسلام آباد کی کوششوں کی ’مکمل حمایت‘ کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی سفیر جیانگ زائی دونگ سے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران جیانگ زائی دونگ نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ کوششیں ’خطے اور اس سے آگے پائیدار امن اور استحکام کے لیے اہم ہیں۔‘

  17. ایران کا کوئی بھی مذاکراتی وفد اسلام آباد روانہ نہیں ہوا: ایرانی میڈیا

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں اُن اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ایرانی وفد اسلام آباد روانہ ہوا ہے۔ بیان کے مطابق اب تک کوئی وفد ایران سے روانہ نہیں ہوا ہے۔

    اس نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور خطے میں گردش کرنے والی اُن خبروں کو افواہیں قرار دیا ہے جن میں وفد کی روانگی، آمد یا اس کے متوقع وقت کا ذکر کیا گیا تھا۔

    بیان میں ایرانی حکام کے مؤقف کو بھی دہرایا گیا ہے جن میں پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں۔

    اُن کا کہنا ہے کہ تہران ’دھمکیوں کے سائے میں کسی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرتا۔‘

  18. ’جھوٹ بولنے اور خود فریبی کے شکار امریکی صدر کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے‘: کمانڈر پاسدران انقلاب

    ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے ٹیلی گرام پر ایرانی فوج کے ایک کمانڈر کا اقتباس پوسٹ کیا ہے۔

    میجر جنرل عبداللہی کا کہنا ہے کہ آئی آر جی سی نے اسرائیل اور امریکہ کو ’مایوسی اور تھکن کی طرف دھکیل دیا اور انھیں شدت سے جنگ بندی کی درخواست پر مجبور کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ مسلح افواج ’جھوٹ بولنے اور خود فریبی کے شکار امریکی صدر کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے موضوع پر۔‘

  19. اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں جاری لیکن غیر یقینی صورتحال برقرار

    اسلام آباد میں آج بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں۔

    دارالحکومت سے گزرتے ہوئے، اب بھی سڑکوں پر حفاظتی چوکیاں اور ’اسلام آباد ٹاکس‘ کے پوسٹر لگے نظر آتے ہیں لیکن بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک امریکی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا لیکن وقت واضح نہیں۔

    یہ خیال تھا کہ امریکی وفد اب تک اسلام آباد پہنچ چکا ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    اس حوالے سے وضاحت کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔

    اس کے بجائے ایران کے بیانات میں اب بھی غصہ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران ’خطرات کے سائے میں‘ مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ’ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام بھی لگایا۔ وہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات کا حوالہ دے رہے ہیں، جس میں امریکہ نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا۔

    لیکن ایران کے اندر کچھ اور بھی چل رہا ہے۔ سخت گیر نظریات کے حامل افراد باقر قالیباف جیسی شخصیات پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سفارت کاری پر تنازعے کا انتخاب کریں۔

    ایک ایسے ملک میں، جہاں کئی سینیئر رہنما اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، پس پردہ اقتدار کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔

    جو کچھ ہم عوامی طور پر سن رہے ہیں، اس میں زیادہ تر سیاسی بیان بازی ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران اسلام آباد سفر کی تیاری کر رہا ہو۔

    لیکن اس سب کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے، ہم ابھی تک یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ امن مذاکرات واقعی ہوں گے یا نہیں۔

  20. ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا: ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’اس حقیقت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے کہ اس قدر قدیم تہذیب رکھنے والا ملک کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک ٹھوس، اسلامی اور مذہبی اصول ہے۔ کاش امریکہ اسے سمجھ جاتا۔‘