آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنگ بندی کی کوئی مدت طے نہیں، ناکہ بندی اور دھمکیاں مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات ممکن ہیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں
  • پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے
  • ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا
  • اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کا امکان تھا تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اپنے وفود پاکستان روانہ نہیں کیے گئے
  • ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان ’بے معنی‘ ہے اور یہ ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے‘

لائیو کوریج

  1. لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’جنگ بندی میں توسیع کے لیے رابطے‘

    لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کو مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس وقت 10 روزہ عارضی جنگ بندی جاری ہے جو 16 اپریل کو نافذ ہوئی تھی۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں صدر جوزف عون نے کہا کہ جن مذاکرات کی تیاری کی جا رہی ہے وہ اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے، لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا، قیدیوں کی واپسی، بین الاقوامی سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو پر مبنی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے حوالے سے لبنان کا مؤقف واضح ہے۔ کوئی رعایت نہیں، کوئی سودے بازی نہیں اور کوئی ہتھیار ڈالنا نہیں۔ سوائے اس کے کہ لبنانی خودمختاری اور تمام لبنانیوں کے مفاد کو یقینی بنایا جائے۔‘

    صدر عون کے دفتر کی جانب سے جاری پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حمایت نے لبنان کو ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

  2. آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں؟

    تیل بردار جہازوں کے لیے دنیا کی سب سے مصروف بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک تیسرا جہاز بھی فائرنگ کی زد میں آ گیا ہے۔ یہاں سمندری آمدورفت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز پر تمام بحری ٹریفک روک دی تھی جس کے بعد امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کی۔

    اتوار کے روز امریکی افواج نے ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی جبکہ پینٹاگون نے بتایا کہ گذشتہ روز بحرالکاہل کے علاقے میں ایران سے منسلک ایک پابندی زدہ ٹینکر کو بھی روکا گیا۔ ایران نے اس اقدام کو ’قزاقی‘ قرار دیا تھا۔

    امریکہ نے کیا کہا ہے؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اس شرط پر طے پائی تھی کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ یہ جنگ ’واضح برتری‘ سے جیت رہا ہے اور یہ کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔

    جنگ بندی کے خاتمے کے قریب آتے ہی ایران کی مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی جس کے بعد ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں پیش رفت تک جنگ بندی میں توسیع کر دی۔

    ایران نے کیا کہا ہے؟

    ایران کے ایک سینئر قانون ساز ابراہیم عزیزی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ’کبھی ترک نہیں کرے گا‘۔ جبکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی ناکہ بندی کو ’جارحانہ عمل‘ قرار دیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے مخصوص محفوظ راستوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی تھی تاہم جب صدر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو تہران نے ایک بار پھر اسے بند کر دیا۔

  3. ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے: ایرانی وزارت خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد ایران ’سیاسی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اور مناسب اقدامات کرے گا۔

    گذشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کی وجہ ایران میں ’شدید تقسیم‘ کو قرار دیا تھا۔

    واشنگٹن کے ساتھ مزید مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سفارت کاری قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اور ’معقول حالات میں ضرورت پڑنے پر ہم اسے استعمال کریں گے۔‘

  4. آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے باعث جنگ بندی پر بڑھتا دباؤ, سباسچن اشر، مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار

    ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے جو امن معاہدے کی جانب پیش رفت میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پاسداران انقلاب کی گن بوٹس نے آبی گزرگاہ عبور کرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکا۔

    اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس اقدام سے جنگ بندی پر دباؤ بڑھے گا۔ ساتھ ہی یہ خطرہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ ڈیڈلاک کے دوران تنازع دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔

    اپنی تازہ گفتگو میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کو تہران کے لیے ایک معاشی نقصان قرار دیا۔ لیکن بظاہر ایران کا مقصد امریکہ پر پڑنے والے سیاسی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔

  5. آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملے: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اب تک دستیاب معلومات کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہے:

    پہلا حملہ

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا جس کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے میں ملوث جہاز ایپامینونڈاس ہے یونانی کمپنی کی ملکیت ہے۔

    دوسرا حملہ

    وینگارڈ اور یو کے ایم ٹی او کے مطابق پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر حملے کی زد میں آیا۔ کہا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔

    تیسرا حملہ

    سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جا رہا تھا۔ جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

    پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس کو تحویل میں لے کر ایرانی ساحل کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نے جہازوں پر بغیر اجازت کے گزرنے کی کوشش کرنے اور بحری نیویگیشن کے نظام سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

  6. پاسداران انقلاب کی بحریہ نے تین جہازوں کو نشانہ بنایا، دو کو اپنی تحویل میں لے لیا: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے تینوں جہازوں کو پاسداران انقلاب نے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ یوفوریا نامی ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ اس وقت ایرانی ساحل کے قریب گراؤنڈ ہو چکا ہے۔

    ایرانی میڈیا کو دیے بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے خلاف ورزی کے مرتکب دو جہازوں کو اپنی تحویل میں لیا اور ایرانی ساحل کی جانب منتقل کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’نظم و سلامتی میں خلل ڈالنا ہماری سرخ لکیر ہے۔‘

  7. ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے آبنائے ہرمز پر تین جہازوں پر حملے, بی بی سی ویریفائی

    سمندری انٹیلی جنس فراہم کرنے والے ادارے وینگارڈ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک تیسرا مال بردار جہاز حملے کی زد میں آیا ہے۔

    ایران کے ساحل سے تقریباً چھ بحری میل کے فاصلے پر پانامہ کے پرچم بردار جہاز ایم ایس سی فرانسسکا کو آبنائے ہرمز سے جنوبی سمت میں خلیج عمان کی جانب جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

    وینگارڈ کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایم ایس سی فرانسسکا سے رابطہ کیا اور اسے لنگر انداز ہونے کی ہدایت دی۔

    جہاز کی جانب سے ہل اور رہائشی حصے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔

    اس سے قبل بی بی سی ویریفائی کے مطابق آج صبح جس مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ پانامہ کا پرچم بردار جہاز یوفوریا ہے جو متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت ہے۔

    کلپر کے اے آئی ایس ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز 22 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہوا تھا اور اس کی منزل سعودی عرب کا شہر جدہ درج تھی۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر اور وینگارڈ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے مغرب میں تقریباً آٹھ بحری میل کے فاصلے پر جہاز کو حملے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد جہاز کے کیپٹن نے اسے روک دیا۔

    بتایا گیا ہے کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ آج صبح خلیج میں نشانہ بننے والا دوسرا جہاز ہے۔

    اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایک یونانی ملکیت کے جہاز پر پاسداران انقلاب نے فائرنگ کی تھی۔

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پاسداران انقلاب کی ایک گن بوٹ نے کنٹینر بردار جہاز پر فائرنگ کی۔ بی بی سی ویریفائی کے مطابق اس واقعے میں ملوث جہاز یونان کا پرچم بردار ’ایپامینونڈاس‘ ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ خبر رساں ادارے نور نیوز نے جہاز کے کپتان کی جانب سے یو کے ایم ٹی او کو دیے گئے اس بیان سے اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جہاز کو کسی قسم کی ریڈیو وارننگ نہیں دی گئی تھی۔

    نور نیوز کے مطابق جہاز نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔

    یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا اور فائرنگ کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔

  8. پہلگام حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر مودی کا پیغام اور پاکستان کا ردعمل

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ سال ہونے والے پہلگام حملے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔‘

    ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم گذشتہ برس اسی دن پہلگام کے ہولناک دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والے بے گناہ افراد کو یاد کر رہے ہیں۔ انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں ان سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ’بطور قوم ہم غم اور عزم کے ساتھ متحد ہیں۔ انڈیا کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

    اس کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ انڈیا پہلگام حملے کے ایک سال بعد بھی ’اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا۔‘

    ان کا دعویٰ تھا کہ انڈیا ’اپنے اندرونی معاملات کو بیرونی اور بیرونی معاملات کو اندرونی رنگ دے کر پیش کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی اس کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ بیرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔‘

    عطا تارڑ نے یاد دلایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی مگر انڈیا کے پاس ’اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا۔‘

    انھوں نے مئی 2025 کی لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘

  9. ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع بے معنی ہے: ایرانی مشیر

    ایران کے ایک سینیئر مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی بات ’بے معنی‘ ہے اور یہ یقینی طور پر ’اچانک حملے کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی چال ہے۔‘

    مہدی محمدی ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر ہیں۔

    ایکس پر فارسی زبان میں ایک پیغام میں مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ’ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں۔ اس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران خود پہل کرے۔‘

    امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے۔

    اتوار کے روز امریکی افواج نے ایرانی مال بردار جہاز پر سوار ہو کر اس کی تلاشی لی۔ اس سے قبل ایران کئی ہفتوں سے اس مصروف سمندری تجارتی راستے کو عملی طور پر بند کیے ہوئے تھا۔

  10. وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی سفر سے ملاقات، قیام امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایران کے سفیر سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے 22 اپریل 2026 کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جاری علاقائی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

    خیال رہے کہ ایرانی سفیر نے گذشتہ روز اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’یہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک بڑی تہذیب کا حامل کوئی بھی ملک دھمکی اور طاقت کے زیر اثر مذاکرات نہیں کرتا۔ یہ ایک مضبوط، اسلامی اور فقہی اصول ہے۔ کاش امریکہ نے اس حقیقت کو سمجھا ہوتا۔۔۔‘

  11. آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز پر فائرنگ: یو کے ایم ٹی او

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر پہلے ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی ہے۔

    برطانوی رائل نیوی کی زیر قیادت یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر جانے والے ایک کارگو جہاز پر ایران کے مغرب میں فائرنگ کیے جانے کی اطلاع ملی اور اب اسے پانی میں روک دیا گیا ہے۔

  12. چین نے پیٹرول کی قیمتیں کم کر دیں

    چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے مطابق ایران جنگ کے پیش نظر تیل کی عالمی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد چین پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کر رہا ہے۔

    قیمت میں کمی سے ڈرائیوروں کو 92 آکٹین ​​پیٹرول کے 50 لیٹر کے ٹینک پر تقریباً تین ڈالر کی بچت ہو گی۔

    واضح رہے کہ بیجنگ نے ایران امریکہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا۔

  13. امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے

    اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے امیر سعید کا کہنا ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    امیر سعید کے مطابق ’ہمیں کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ یہ ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ جیسے ہی انھوں نے بحری ناکہ بندی ختم کی، مذاکرات کا اگلا دور ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے عسکری جارحیت نہیں شروع کی بلکہ انھوں نے ہمارے خلاف جنگ شروع کی اور ’ہم تیار ہیں۔‘

    ایران کے نمائندے نے یہ بھی کہا کہ ’اگر وہ (امریکہ) میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، تاکہ سیاسی حل تلاش کیا جا سکے تو ’وہ ہمیں بھی تیار پائیں گے‘ اور اگر ’وہ جنگ چاہتے ہیں تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

  14. پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا: یو کے میری ٹائم

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی ہے۔

    برطانوی رائل نیوی کی زیر قیادت یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عمان سے 15 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔

  15. پاکستان میں امن مذاکرات کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایران میں رجیم تبدیلی کا دعویٰ کیا لیکن اب وہ اسے خود رجیم فریکچر قرار دے رہے ہیں۔

    اب جب کہ ایران کے بہت سے اعلیٰ رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، یہ سوال کہ اب وہاں طاقت میں کون ہے، سفارت کاری کے کام کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔

    امریکی صدر کے تازہ اقدام کے اثرات کا اندازہ لگانا شاید تھوڑی جلد ہے لیکن تہران کی طرف سے فوری ملنے والے اشارے مثبت نہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایک اور حملے کے لیے وقت خرید رہے ہیں۔

    ایک فوجی ترجمان نے اس وارننگ کو دہرایا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایران جوابی حملہ کرنے کو تیار ہے۔

    اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے انتظامات بدستور جاری ہیں، شہر کے کچھ حصے تاحال سیل ہیں لیکن اس ہفتے ہونے والی ملاقات کی امیدیں فی الحال معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

  16. چار دن قبل مجھے بتایا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ چار دن قبل ان سے رابطہ کر کے بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں رکھنا چاہتا، وہ اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر 500 ملین ڈالر کما سکے۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’ایران اس لیے یہ کہہ رہا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ہے کیونکہ میں نے اسے مکمل طور پر بند اور بلاک کر رکھا ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چار روز قبل ان کو بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے لیکن اگر ہم ایسا کریں گے تو ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو پائے گی۔

  17. ایران کے خلاف جارحیت کی صورت میں ہم پہلے سے طے شدہ اہداف پر حملہ کریں گے: خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر

    ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج ’متحرک ہیں‘ اور ’جارحیت کی صورت میں‘ جواب دیں گی۔

    خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے خبردار کیا ہے کہ ’امریکی صدر اور ملک کے فوجی کمانڈروں کی بار بار دھمکیوں کے پیش نظر‘ ایرانی مسلح افواج ’متحرک‘ ہیں۔

    ان کے مطابق ’ہماری قابل اور طاقتور افواج ایران کے خلاف جارحیت یا کسی بھی کارروائی کی صورت میں پہلے سے طے شدہ اہداف پر فوری اور طاقتور حملہ کرنے کے لیے طویل عرصے سے 100 فیصد تیار ہیں۔‘

    واضح رہے کہ خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے ’جب تک کہ ایران اپنی آفر پیش نہیں کرتا۔‘

  18. امریکی وزیرِ خزانہ کی ناکہ بندی پر وضاحت، نئی پابندیوں کی دھمکی

    امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری ناکہ بندی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’چند ہی دنوں میں ایران کے خارگ جزیرے پر واقع تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات مکمل طور پر بھر جائیں گی اور ایران کو نا چاہتے ہوئے بھی تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں گے۔‘

    وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا براہِ راست ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو نشانہ بنانا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ امریکی وزارت خزانہ معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کے مالی وسائل پیدا کرنے، منتقل کرنے اور واپس لانے کی صلاحیت کو منظم انداز میں کمزور کرتی رہے گی۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ ’جو کوئی بھی خفیہ طور پر ایران کی تجارت پر امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرے گا اسے بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

  19. اب امریکہ سے مذاکرات غیر معقول ہیں: ایرانی رکنِ پارلیمان, غنچہ حبیبزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمود نبویان کا ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’اب کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر نقصان دہ اور غیر معقول ہیں۔‘

    واضح رہے کہ محمود نبویان اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کا حصہ تھے۔

    دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج ’پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی اور امریکہ و اسرائیل کو مزید سخت سبق سکھائیں گی۔‘

    نبویان کی پوسٹ اور خاتم الانبیاء کے بیان دونوں میں جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اگرچہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آئے ہیں۔

    تاحال امریکی صدر کے جنگ بندی میں توسیع کے بیان کے بعد ایران کی وزارت خارجہ اس کے دیگر حکام، یا پارلیمنٹ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  20. امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔

    وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔

    امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔