امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری

امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد شہر میں رات بھر احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔
  • تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کرنے کے حوالے سے شروع سے موقف واضح ہے کہ دہشتگردی کو ہرحال میں جڑ سے اکھاڑنا قومی فریضہ ہے۔
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

لائیو کوریج

  1. آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

    Radio Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔‘

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کئی غیور سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہوئیں۔

    ’انھوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن یہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں کھڑے ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کبھی ان فتنہ الخوارج، ان دہشتگردوں نے ان پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ ہر سیاسی جماعت کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر حملے ہوئے۔ چاہے وہ اے این پی ہو، جے یو آئی ہو، چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، چاہے وہ نون لیگ ہو۔ حملہ ہوا یا نہیں ہوا؟ ان (پی ٹی آئی) پر کیوں نہیں کرتے۔‘

  2. گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

    صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ برس میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستانی فوج نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ برس 2597 دہشتگرد بھی مارے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت دہشتگردی کے دیگر حملوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہاں پر پوری دنیا سے دہشت گردوں کے لیے آماجگاہ بن چکی ہے۔ القاعدہ، داعش وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشتگرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔‘