آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔‘
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کئی غیور سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہوئیں۔
’انھوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن یہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں کھڑے ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کبھی ان فتنہ الخوارج، ان دہشتگردوں نے ان پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ ہر سیاسی جماعت کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر حملے ہوئے۔ چاہے وہ اے این پی ہو، جے یو آئی ہو، چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، چاہے وہ نون لیگ ہو۔ حملہ ہوا یا نہیں ہوا؟ ان (پی ٹی آئی) پر کیوں نہیں کرتے۔‘
