آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری

امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس کی سڑکوں پر ایک امریکی امیگریشن افسر نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد شہر میں رات بھر احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تاہم اس کے خاتمے تک چین سے نہيں بیٹھیں گے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جو روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکتا ہے۔
  • تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر سیاست نہ کرنے کے حوالے سے شروع سے موقف واضح ہے کہ دہشتگردی کو ہرحال میں جڑ سے اکھاڑنا قومی فریضہ ہے۔
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سہیل آفریدی کا وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر تنقید بحث کی زد میں: ’اپنی جامعات کو بین الاقوامی تحقیق سے باہر مت کیجیئے‘

    ’وی سی صاحبہ آپ نے انگریزی میں تقریر کی جو مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ جملہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے ایک وڈیو کلپ میں موجود ہے۔

    سہیل آفریدی نے اس کلپ میں مزید کہا کہ ’میں نے تمام یونیورسٹیز کو ہدایت کی ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے اور تمام تقریریں اردو میں ہوں گی۔ میں یہ دوسری مرتبہ کہہ رہا ہوں اب تیسری بار مجھے غصہ آئے گا۔‘

    یہ کلپ بدھ کے روز پشاور کی بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی کے نویں کانووکیشن سے خطاب کے دوران بات چیت کا حصہ ہے۔

    سہیل آفریدی نے اس کلپ میں یہ الفاظ گو کہ چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ نرم لہجے میں ادا کیے اور جملے کے آخر میں وہ ہنستے ہوئے بھی دیکھے گئے تاہم سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ان کے اس جملے پر تنقید کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر صارفین اس کلپ کو شیئر کر رہے ہیں تو بعض اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

    کئی صارفین نے اس پر اپنی رائے دیتے ہوئے انگریزی کو تحقیق کی زبان قرار دیا۔

    صحافی نجم ولی خان نے لکھا کہ ’یونیورسٹیوں میں علم اور تحقیق کی زبان انگریزی ہی ہے۔ اپنی زبان پر فخر درست مگر اپنی جامعات اور طلبہ و طالبات کو بین الاقوامی تحقیق اور رابطوں سے باہر مت کیجئے۔‘

    ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اپنی مادری زبانوں کو فروغ دینا اور ان پر فخر کرنا ایک اچھا عمل ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ انگریزی یا دیگر بین الاقوامی زبانوں میں مہارت حاصل کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف طلباء کو دنیا بھر کی تحقیق تک رسائی ملتی ہے بلکہ وہ اپنے علم کو عالمی سطح پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔‘

    دوسری جانب کئی صارفین یہ بھی کہتے دکھائی دیے کہ یونیورسٹی گورنر کے ماتحت آتی ہے اس لیے وزیر اعلیٰ کا ’غصے کی دھمکی‘ دینا مناسب رویہ نہیں۔

    بعض صارفین نے سہیل آفریدی سے سوال یہ بھی کیا کہ وائس چانسلر کے لیے خود انھوں نے اس کا اردو متبادل کیوں نہیں ادا کیا۔

    تاہم کئی صارفین سہیل آفریدی کی بات سے اتفاق بھی کر رہے ہیں تو بعض نے اس بحث میں پشتو میں تقریر کی تجاویز بھی دیں۔

  2. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثرہ خاندانوں کو اعلان کردہ معاوضہ آج تک نہیں ملا: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مسلسل آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہ ہونا پالیسی شفٹ کا تقاضا کرتا ہے، قوم کو اعتماد میں لیا جائے، اعتماد کے بغیر فیصلے قبول نہیں۔

    بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے نویں کانووکیشن سے خطاب میں وزیر اعلی نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا نے پہلے بھی پاکستان کے لیے بھاری قربانیاں دی ہیں، مزید قربانی سے پہلے سچ بولنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثرہ خاندانوں کو اعلان کردہ معاوضہ آج تک نہیں ملا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے نام پر کسی سیاسی جماعت یا قیادت کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔‘ کچھ عناصر خیبر پختونخوا کی ترقی اور بچوں کے ہاتھ میں قلم دیکھنا نہیں چاہتے، ہمیں بندوق نہیں بلکہ قلم کی سیاست سیکھنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری بچیاں اور بچے پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے مگر بند کمروں کے فیصلوں نے مسائل بڑھائے۔ بند کمروں کے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، پالیسی مشاورت سے بننی چاہیے۔‘

  3. بنوں: عسکریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ ادا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ سرکاری سطح پر ادا کر دی گئی ہے۔

    اغوا کے بعد قتل کا یہ واقعہ بنوں کی تحصیل ڈومیل کے علاقے عمل خیل میں پیش آیا ہے۔

    ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے مقامی صحافی کو بتایا کہ سب ڈویژن وزیر بنوں میں کانسٹیبل نوید اکرم، عمل خیل ڈومیل کے رہائشی مقامی فٹبال گراؤنڈ سے مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ مغوی اہلکار کو اس سے قبل بھی دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ پولیس کی نوکری چھوڑ دیں تاہم انھوں نے فرائض کی انجام دہی جاری رکھی تھی۔

    اہل علاقہ کے مطابق عمائدین نے مغوی کی رہائی کے لیے مذاکرات بھی کیے تاہم وہ بات چیت ناکام ہوئی اور پولیس اہلکار نوید اکرم کو قتل کر دیا گیا جن کی لاش سدا خیل روڈ پر ملی ہے۔ سپاہی نوید اکرم کی نماز جنازہ آج صبح پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں آئے روز پولیس اور سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

    بنوں ضلع کی سرحد پر واقع لکی مروت کی تحصیل نورنگ میں چند روز پہلے نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ٹریفک پولیس کے تین اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا ان میں ٹریفک پولیس کے انچارج بھی شامل تھے۔

    اسی طرح دو روز پہلے لکی مروت کے علاقے بیگو خیل میں لکی سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کو لے جانے والی بس کے قریب دھماکہ کیا گیا تھا جس میں ہسپتال حکام کے مطابق ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے تھے۔

    بنوں ضلع میں چند ماہ کے دوران پولیس اہلکاروں کے اغوا اور ان کے قتل کی واقعات اس سے پہلے بھی پیش آ چکے ہیں جوکہ مقامی دیہاتوں میں مقامی امن کمیٹی کے عہدیداروں کے ساتھ عسکریت پسندوں کی جھڑپوں کی اطلاعات بھی آئے روز موصول ہوتی رہتی ہیں۔

    بنوں ریجن کے پولیس سربراہ ڈی آئی جی بنوں کی جانب سے سال 2025 میں پولیس کی کارکردگی کی رپورٹ چند روز پہلے جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ میں272 عسکریت پسندوں کو ہلاک 163 کو زخمی اور 187 کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سال کے دوران پولیس پر کتنے حملے ہوئے ہیں اور اس میں کتنا جانی نقصان ہوا ہے ۔

  4. پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی کی یقین دہانی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی چینی وزیر داخلہ وانگ ژاو ہونگ کے ساتھ آج بیجنگ میں ملاقات میں انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے چین کی وزارت پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں پاک چین وزرائے داخلہ کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات رہی۔

    ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کی ہر تین ماہ بعد میٹنگ پر اتفاق سمیت پاک چین دوطرفہ تعلقات۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    چینی وزیر داخلہ نے چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہارکیا اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور انک ی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

    چینی وزیر داخلہ نے انسداد دہشت گردی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

    چینی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مشترکہ و فوری ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

    چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے خصوصی پروٹیکشن یونٹ بنا رہے ہیں: محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’چینی شہریوں اور مشترکہ مفادات کے منصوبوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے ہر سطح پر مضبوط اقدامات کیے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں خصوصی پروٹیکشن یونٹ بنا رہے ہیں ۔سائبر کرائمز کی روک تھام کیلئے چینی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔‘

    چینی وزیر داخلہ نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کو ستمبر میں چین میں ہونے والے گلوبل سکیورٹی تعاون فورم میں شرکت کی دعوت دی۔

  5. کوئٹہ میں احتجاجاً لوڈر رکشہ نذر آتش کرنے کا واقعہ، پولیس کی رشوت مانگنے کے الزام کی تردید, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ڈرائیور نے اپنے لوڈر رکشے کو احتجاجاً نذر آتش کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ادھر پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ ٹریفک اہلکاروں کی طرف سے رکشے کے مالک سے رشوت مانگی گئی تھی۔

    اس شخص نے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے تنگ آ کر ایسا کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

    پانی کی عدم موجودگی میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے لوڈر رکشے میں موجود دودھ سے آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ اس آگ سے لوڈر رکشے کو شدید نقصان پہنچا۔

    پولیس حکام نے ڈرائیور کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرائیور کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھے۔

    لوڈر رکشے کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ ایئرپورٹ روڈ پر قندھار ناکہ کے علاقے میں پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔

    اس ویڈیو میں لوڈر رکشے کا ڈرائیور ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’ان کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے ایسا کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کی منت سماجت کی۔ اہلکاروں نے تھپڑ مارا، بے عزت کیا اور دودھ بھی گرایا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار ’پیسے مانگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے کچھ بچتا نہیں ہے۔‘

    لوڈر رکشے میں دودھ کے کین تھے۔

    ایک پولیس اہلکار دودھ کا کین اٹھا کر دودھ آگ پر ڈال رہا ہوتا ہے تو اس دوران پشتو زبان میں ڈرائیور آ کر ان کو آگ بجھانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’میں اس کے پیسے نہیں مانگوں گا۔‘

    اگرچہ دودھ سے آگ تو بجھ جاتی ہے لیکن اس سے قبل ہی آگ سے لوڈر کے موٹر سائیکل کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔

    سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈرائیور سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    پولیس کا اس واقعے کے بارے میں کیا کہنا ہے؟

    اس واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق قندھار ناکے پر ایک لوڈر رکشے کے مالک نے جذباتی ہو کر اپنے رکشہ کو آگ لگا دی جس کے باعث جان و مال کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ رکشوں کے خلاف کارروائی کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے تحت کی جا رہی تھی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ رکشے کے مالک کے پاس ’کسی قسم کے قانونی کاغذات یا پرمٹ موجود نہیں تھا۔‘

    بیان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور علاقے میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا۔ ’بروقت کارروائی کے باعث کسی جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا اور صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا۔‘

    ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اپنے مسائل قانونی اور متعلقہ فورمز کے ذریعے حل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  6. طالبان نے افغانستان کے صوبہ تخار میں جھڑپوں کی تصدیق کر دی

    طالبان نے افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں سونے کی ایک کان پر جھڑپوں کی اطلاعات کی تصدیق کر دی ہے۔

    طالبان کے حامی ’حریت ریڈیو‘ پر گذشتہ روز نشر ہونے والے ایک آڈیو کلپ میں طالبان کے زیر انتظام وزارت برائے کان کنی اور پیٹرولیم کے ترجمان نے تصدیق کی کہ تخار کے چاہاب ضلع کے سمتی علاقے میں مقامی لوگوں اور کان کنی کے کام سے وابستہ افراد کے درمیان مہلک جھڑپیں ہوئیں۔

    ہمایوں افغان نے کہا کہ ’ہاں مقامی رہائشیوں اور ٹھیکیدار کمپنی کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں مالی اور جانی نقصان ہوا۔ اس بارے میں مزید تفصیلات بعد میں شیئر کی جائیں گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایک وفد کو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے وہاں بھیجا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 2 جنوری کو برطانیہ میں افغان چینل ’افغانستان انٹرنیشنل‘ نے اطلاع دی تھی کہ ضلع چاہاب میں مقامی لوگوں اور طالبان سے منسلک کمپنی کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔

    5 جنوری کو اطلاع تھی کہ ان جھڑپوں میں کمپنی کے ملازم تین افراد اور ایک سکیورٹی گارڈ مارا گیا۔

    چینل نے مزید کہا کہ مقامی لوگ ماحولیاتی اثرات اور پانی کی قلت کی وجہ سے کان میں کام کی مخالفت کر رہے تھے۔

  7. انڈین پنجاب کی پولیس کا 15 سالہ ’جاسوس‘ گرفتار کرنے کا دعویٰ: ’حساس فوجی تنصیبات کی معلومات پاکستان بھیجتا تھا‘, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سانبہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوجوان کو پنجاب پولیس نے ضلع پٹھان کوٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔

    گرفتاری کے بعد پٹھان کوٹ کے اعلیٰ پولیس افسر دلجِندر سنگھ ڈھلون نے بتایا کہ اس نوجوان کے موبائل فون کی باریکی سے جانچ کی گئی اور اس میں پایا گیا کہ ’یہ لڑکا پاکستان میں مقیم فوج، آئی ایس آئی اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور ایک سال سے حساس فوجی تنصیبات کی تصویریں بھیج رہا تھا۔‘

    پولیس افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نوجوان کا فون پاکستان سے ہی ’کلون‘ کیا گیا تھا اور اہم تنصیبات اور فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں وہاں لایئو فیڈ جا رہی تھی۔

    پولیس نے ابتدائی تفتیش کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، پاکستان میں مقیم ایک ’نارکو گینگسٹر‘ کے ساتھ بھی رابطے میں تھا۔

    پولیس نے نوجوان کے خلاف ’آفیشل سیکریٹس ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر کے یہ کہا ہے کہ عدالت میں پیش کرنے سے پہلے لڑکے سے مزید پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔

    اس دوران پنجاب پولیس نے انبالہ سے ایک پنجابی شہری کو گرفتار کر کے دعویٰ کیا کہ وہ انڈین ایئر فورس سٹیشن سے خفیہ معلومات جمع کر کے پاکستان بھیج رہا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شہری سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک پاکستانی خاتون کے ساتھ سات ماہ سے مسلسل رابطے میں تھا۔

    قابل ذکر بات ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان کے خلاف انڈیا کے آپریشن سندوُر کے بعد صرف دو ہفتوں کے اندر دو خواتین سمیت 12 انڈین شہریوں کو گرفتار کر کے پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے جاسوس تھے۔

    ان میں ہریانہ کی یوٹیوبر جیوتی ملہوترا اور پنجاب کی 31 سالہ غزالہ بھی تھیں۔ اس سے قبل دلی میں پاکستانی سفارتحانے کے ایک اہلکار کو بھی جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کیا گیا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران کل 17 افراد کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر کی عمر 20 اور 35 سال کے درمیان ہیں تاہم منگل کو گرفتار کیا گیا جموں کا شہری سب سے کم عمر ہے۔

    پنجاب کے پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں مقیم انڈیا مخالف عناصر کے ان نیٹ ورکس کا پتہ لگا کر ایسے نوجوانوں کی کونسلنگ کی جائے گی جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ’پاکستان کے جھانسے میں پھنس سکتے ہیں۔‘

  8. متنازع ٹویٹس کیس میں فوج کے ترجمان کو بطور گواہ بلایا جائے، ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی درخواست

    پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اپنے خلاف عدالت میں زیر سماعت ’متنازع ٹویٹس کیس‘ پر اثر انداز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ عدالت بلانے کی درخواست دائر کی ہے۔

    اسلام آباد سیشن کورٹ میں دائر درخواست میں ایمان مزاری کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے خلاف بیان دیا، انھیں خود کش بمباروں کے لیے انسانی حقوق کا کارکن قرار دیا اور یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی ڈوریاں بیرون ملک سے ہلائی جا رہی ہیں۔

    ایمان مزاری کے مطابق ایک سرکاری افسر ہونے کے ناطے پاک فوج کے ترجمان کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عدالت میں چلنے والے مقدمے پر اثر انداز ہوں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے اپنی درخواست میں ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ بلایا جائے اور ان پر جرح کی جائے کیوں کہ ان کے لگائے الزامات کے ’ثبوت‘ سامنے آنا کیس کے لیے ضروری ہے۔

    درخواست کے مطابق ’بد نیتی سے دیے گئے ان متعصبانہ بیانات پر اگر جرح نہ کی گئی تو مقدمہ خراب ہو گا۔ ایسا نہ ہونے کی صورت ملزموں کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اور ضروری ہو گا کہ مقدمہ ہی کالعدم قرار دے دیا جائے۔‘

    جج افضل مجوکا نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلبی کی درخواست پر استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے درخواست کی کاپی استغاثہ کو بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست 2025 کو درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم کرنا اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

  9. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، تین دن میں 100 انڈیکس 7000 پوائنٹس سے زیادہ بڑھ گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی تیزی دیکھی گئی۔ دن ساڑھے 11 بجے انڈیکس 868 پوائنٹس تک اضافے کے بعد 186500 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں موجودہ ہفتے مسلسل تیزی ریکارڈ کی گئی۔ سوموار کے روز انڈیکس میں 3374 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ 182000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند ہوا تھا۔ منگل کے روز بھی سٹاک ایکسچینج میں تیزی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس میں 2654 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ روز انڈیکس 18500 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

    آج سٹاک ایکسچینج میں مزید تیزی دیکھی گئی جب انڈیکس کاروبار کے پہلے آدھے گھنٹے میں 1700 پوائنٹس اضافے کے بعد 186700 پوائنٹس کی سطح سے اوپر چلا گیا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج بھی تیزی رہی اور ہنڈرڈ انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 186000 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔

    ’یہ تیزی ادارہ جاتی اور عام سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے ہے، میوچل فنڈز نمایاں خریدار رہے۔ یہ رجحان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سال کے آغاز پر سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کی تقسیم تبدیل کر رہے ہیں اور بہتر معاشی اور مالی صورت حال کی توقع پر زیادہ پیسہ شیئر مارکیٹ میں لگا رہے ہیں۔‘

  10. مادورو کو پکڑنے کی امریکی کارروائی میں 55 فوجی ہلاک ہوئے: وینزویلا اور کیوبا کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، جس میں بڑی تعداد کیوبا کے فوجیوں کی ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے اس آپریشن کی کامیابی پر ’خوشی‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے کراکس کو حیران کر دیا‘۔

    دوسری جانب وینزویلا اور کیوبا کی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ سنیچر کی شب امریکی کارروائی میں دونوں ممالک کی افواج کے 55 اہلکار ہلاک ہوئے، جس کے نتیجے میں صدر مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ کیوبا کی حکومت نے اپنے 32 فوجیوں کے نام جاری کیے ہیں جو اس کارروائی میں ہلاک ہوئے۔

    مادورو نے اپنے 12 سالہ دورِ اقتدار میں، اپنے پیش رو ہیوگو شاویز کی طرح اپنی حفاظت کے لیے کیوبا کے خصوصی فوجی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا تھا۔

    اسی دوران وینزویلا کی فوج نے بھی آن لائن ایک فہرست جاری کی ہے جس میں اس کے 23 اہلکاروں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں پانچ کرنل بھی شامل ہیں۔

    کیوبا اور وینزویلا کی بائیں بازو کی حکومتیں عام طور پر فوجی تعاون، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں قریبی تعلقات رکھتی ہیں، جس کی بڑی وجہ ان پر امریکی دباؤ ہے۔

  11. ’روس نے بحر اوقیانوس میں موجود اپنے تیل بردار جہاز کو ممکنہ امریکی حملے سے بچانے کے لیے کشتیاں روانہ کر دیں‘

    امریکہ میں بی بی سی کے میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ روس نے بحر اوقیانوس میں اپنے تیل بردار بحری جہاز کو ممنکہ امریکی حملے سے بچانے کے لیے اپنی بحریہ کو احکامات جاری کر دیے ہیں اور اس کی جانب اپنی کشتیاں روانہ کر دی ہیں۔

    اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن اس جہاز کو نقصان پہنچانے یا ڈبونے کی بجائے اسے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔

    یہ بحری جہاز جو اس وقت خالی ہے ماضی میں وینزویلا سے خام تیل کی رسد میں اہم کرداد ادا کرتا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وینزویلا میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تیل بردار بحری جہازوں پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی ’ناکابندی‘ کیے جانے کا حکم بھی دیا تھا۔ جسے وینزویلا کی حکومت کی جانب سے ’چوری‘ اور نا قبلِ قبول اقدام قرار دیا تھا۔

    وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا کہ وینزویلا کی حکومت جہازوں کے ذریعے امریکہ میں منشیات سمگل کر رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ امریکی کوسٹ گارڈ نے کیریبین میں بیلا ون نامی جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی، جب یہ وینزویلا کی طرف جا رہا تھا۔ اس پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی ترسیل کا الزام تھا۔ بعد ازاں جہاز نے اچانک راستہ اور نام بدل کر ’مارینیرا‘ رکھ لیا اور مبینہ طور پر گویانا کے پرچم سے روسی پرچم میں منتقل ہو گیا۔

    یورپ کی جانب اس کی پیش قدمی کے ساتھ ہی تقریباً 10 امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی پہنچے ہیں۔ روس نے بحری جہاز کے گرد صورتحال کو ’تشویش ناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن اس جہاز کو نقصان پہنچانے یا ڈبونے کی بجائے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔

    منگل کو امریکی فوج کی ’سدرن کمانڈ‘ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ پابندی شدہ جہازوں اور عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری بحریہ متحرک اور تیار ہیں۔ جب بھی حکم آئے گا ہم اس پر عملدرآمد کے لیے پہنچ جائیں گے۔‘

  12. اپنی عوام پر واردات کون ڈالتا ہے یہ سب کو پتہ ہے: ایمان مزاری کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی منگل کے روز ہونے والی پریس کانفرنس اس وقت بھی پاکستان کے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔

    اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جہاں پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور ان میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے بریفنگ دی وہیں انھوں نے بانی پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا کی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ جب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو باہر کے ملک اور حتیٰ کے پاکستان میں بھی کچھ لوگ بیٹھ کر ان (دہشتگردوں) کے حق میں ٹویٹس کرنے لگتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب آپ انھیں پکڑتے ہیں اور ان کے جرائم کو سامنے لاتے ہیں تو پردہ نشین اور باریک وارداتیوں کو بھی سامنے آنا پڑتا ہے۔‘

    اس دوران فوجی ترجمان نے کچھ سکرین شاٹس بھی دکھائے جن میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری کی ٹویٹس بھی شامل تھیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس دوران ایمان مزاری کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کی ٹویٹ کے سکریٹ شاٹس دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ خود کو انسانی حقوق کی کارکن کہتی ہیں۔ یہ کس کے انسانی حقوق ہیں؟ خود کش بمبار جسے گھر میں بٹھایا ہے، جو ان کی سہولت کاری کرتا ہے اس کے انسانی حقوق کی سہولت کاری کے لیے۔ ان سب کی ڈوریاں باہر سے چلتی ہیں۔‘

    ایمان مزاری نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا جواب انتہائی سخت الفاظ میں دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنی عوام پر واردات کون ڈالتا ہے یہ سب کو پتہ ہے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر اور ایمان مزاری کی حمایت میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگ بات بھی کر رہے ہیں۔

    ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ دراصل اختلافِ رائے کو جرم اور انسانی حقوق کی وکالت کو مشکوک بنانے کی ایک خطرناک روش ہے۔ بغیر کسی عدالتی فیصلے، ثبوت یا شفاف انکوائری کے ایک سویلین وکیل پر عوامی سطح پر الزامات عائد کرنا نہ صرف بنیادی حقوق اور اصولِ انصاف کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔‘

    امبر زہرہ نامی صارف نے لکھا کہ ’جب ریاستی عہدے پر بیٹھا شخص قومی میڈیا پر ایک شہری پر سنگین الزامات لگائے تو سوال اٹھانا عوام کا حق بنتا ہے۔ آئین کا حلف سیاستدان، وکیل اور شہری سب کے لیے ہے، کسی کے لیے استثنا نہیں۔ جو سوال پوچھے جا رہے ہیں وہ ذاتی نہیں، قومی ہیں اور ان کے جواب بھی دینے ہوں گے۔‘

    اس بحث میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی حمایت کرتے نظر آئے اور کہا کہ ایمان مزاری ’ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی رہتی ہیں۔‘

    واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف گذشتہ برس 22 اگست کو ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔

    یہ کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

  13. وینزویلا سے امریکہ کو پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا امریکہ کو 30 سے 50 ملین یعنی تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا، جو ایک غیر متوقع فوجی آپریشن کے بعد ممکن ہوا ہے جس میں صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ان کے کنٹرول میں ہوگی تاکہ اسے وینزویلا اور امریکہ کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آئندہ 18 ماہ میں امریکی آئل انڈسٹری وینزویلا میں دوبارہ فعال ہو جائے گی اور ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آئے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق وینزویلا کی سابقہ پیداوار بحال کرنے میں ممکنہ طور پر دہائی اور اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے، جبکہ مادورو کو منشیات اور اسلحہ سمگلنگ کے الزامات پر ایک آپریشن کے حراست میں لے کر امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پیر کو این بی سی نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کا تیل پیدا کرنے والا ملک ہونا امریکہ کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم رہتی ہیں۔

    ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے ڈھانچے کو درست کر سکتی ہیں۔

    وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیں، تاہم اس کی تیل کی پیداوار سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے مسلسل کمی کا شکار ہے۔

  14. ’نایاب معدنیات کا خزانہ‘ اور ٹرمپ کی دھمکی: امریکی صدر گرین لینڈ کو پانے کے لیے عسکری طاقت استعمال کر سکتے ہیں؟

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر بات کر رہے ہیں، جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہی ہے اور یقیناً امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر انچیف کے پاس ایک آپشن ہوتا ہے۔‘

    سنہ 2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک میں ڈنمارک کے ایک خودمختار علاقے اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی ​​دلچسپی ظاہر کی تھی۔

    انھوں نے سب سے پہلے بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران 2019 میں گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس مرتبہ انھوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی اقتصادی طاقت یا فوجی استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

    تاہم ڈینش اور یورپی حکام نے ٹرمپ کی خواہشات کا جواب یہ کہہ کر دیا ہے کہ ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔‘

    گرین لینڈ کے وزیر اعظم میوٹ ایگیڈ نے گزشتہ ماہ واضح طور پر کہا تھا کہ گرین لینڈ اس کے لوگوں کا ہے اور یہ برائے فروخت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ نے سات جنوری 2026 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ تک کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔

  15. گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے جس کے حصول کے لیے فوج کے استعمال سمیت مختلف آپشنز زیر غور ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر بات کر رہے ہیں، جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہی ہے اور یقیناً امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر انچیف کے پاس ایک آپشن ہوتا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان یورپی رہنماؤں کے ڈنمارک کے حق میں ایک مشترکہ بیان سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد آیا، جو آرکٹک میں دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کے عزائم کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ’ضرورت‘ ہے۔ جس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی بھی حملہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بنے گا۔

    گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے ڈنمارک کے اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار گرین لینڈ میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ گذشتہ برس بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔

    ٹرمپ کی جانب سے اس موضوع کو بار بار توجہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ ان کے لیے اس معاملے کی اہمیت کافی بڑھ چکی ہے لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

    ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل وجہ وہ معدنیات کا خزانہ ہے جو گرین لینڈ میں موجود ہے۔

    سنہ 2023 میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اور گرین لینڈ نے تخمینہ پیش کیا تھا کہ جزیرے پر 38 معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر، گریفائیٹ، نیوبیئم، ٹائٹینیئم، روڈیئم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات جیسا کہ نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آتی ہیں، بھی پائی گئی ہیں۔

    اس حوالے سے بی بی سی کی یہ تحریر پڑھیے:

  16. 80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے: سہیل آفریدی

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے مزید لکھا کہ ’اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزرا دہشت گردی کا نشانہ بنے، کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔‘

    ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔‘

    انھوں نے تجویز دی کہ ’دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔‘

  17. عمران خان کے بغیر کوئی مکالمہ آگے نہیں بڑھ سکتا: تحریک انصاف

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کی بات ’پانچ بڑوں‘ تک آگئی ہے تو اسے نا ہی سمجھا جائے۔

    پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے سوا پی ٹی آئی کا کوئی اور چیئرمین نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’رانا ثنااللہ نے پانچ بڑوں کے بیٹھنے کی جو بات کہی ہے، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کی آفر یہ ہے کہ عمران خان کو کال کوٹھری میں چھوڑ کر آؤ اور ہمارے ساتھ چائے پیو۔ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی مکالمہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘

    بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ نہ تو یہ پانچ بڑے ملاقات کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے آگے بڑھیں گے؟ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور بغیر ملاقات واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی بات پر وہ عوامی سطح پر کمنٹ نہیں کرتے۔ ’بھیک مانگنے کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ عدالت کے احکامات موجود ہیں، جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔ ایس او پیز اور قوانین موجود ہیں، اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہیں دی جاتی تو یہ بھیک ہی ہے۔‘

  18. کوئٹہ میں وفاقی لیویز کے بزرگ ملازمین کی شدید سردی میں علامتی بھوک ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وفاقی لیویز فورس سے تعلق رکھنے والے بزرگ ملازمین کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، ایسے وقت میں جب شہر شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگائے گئے اس کیمپ میں شریک افراد کا تعلق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ کیمپ میں موجود لعل محمد مری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تین سے چار دہائیوں تک وفاقی لیویز فورس میں خدمات انجام دیتے رہے، لیکن گذشتہ چار برس سے ان کی تنخواہیں بند ہیں۔

    ان کے مطابق وفاقی لیویز کے جن ملازمین کی تنخواہیں بند ہیں، ان کی تعداد 1500 سے زائد ہے اور یہ ملازمین بلوچستان کے 18 اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لعل محمد مری نے بتایا کہ تنخواہوں کی بندش کے خلاف انھوں نے 2024 میں بھی کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ قائم کیا تھا، تاہم 27 فروری 2024 کو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا، لیکن مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر شدید سردی میں احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ ان کی آواز سنی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بند تنخواہیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں پینشن یا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے۔

  19. پاکستانی فوج کے ترجمان کے افغانستان سے متعلقہ بیانات ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے متصادم ہیں، ترجمان افغان طالبان

    افغان طالبان نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیانات کو ’غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے پر کی گئی تنقید حقائق کے منافی ہے اور ایک ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے اور پاکستان کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف ’بے بنیاد پروپیگنڈے‘ کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دھمکی آمیز زبان افغان عوام کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘

    امارت اسلامیہ نے پاکستان کے اداروں پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں اور سنجیدہ بیانات دیں۔

  20. فوج کے ترجمان کی عمران خان پر تنقید: ’انھوں نے اپنی جماعت کو ڈکٹیٹر کی طرح چلایا اور پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اپنی جماعت کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلایا، پوری جماعت اس ایک بندے کے گرد گھومتی تھی اور اس وقت پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی۔‘

    ’اس وقت بھی ان کو تھا کہ بات چیت کرو، بات چیت کرو اور وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے۔ جو اس وقت ڈی جی آئی تھے، وہ اس وقت کدھر ہیں، جن کو انھوں نے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ آپ اسے ادارے پر نہیں لگا سکتے یہ شخصیات کا کھیل تھا۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بھئی وہ وزیراعظم تھا، وہ با اختیار وزیراعظم تھا۔ جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ اتنا با اختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ اتنا اختیار تو سنہ 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دے۔‘

    ’ہمیں تو یہ ہی پتا ہے کہ قوم کا ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح، وہ عظیم شخصیت جس نے ملک بنایا۔ اور قوم کا ایک ہی شاعر ہے، علامہ اقبال اور ہم تو ان کو ہی پڑھ کر آئے تھے۔ یہ قوم کا ایک نیا باپ لے کر آ گئے تھے کیونکہ اس وقت ان کی سیاست یہ ہی ڈیمانڈ کرتی تھی۔‘

    جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ ’وہ جو ابھی بھی بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ ابھی بھی کہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل کرو، وہ جو خبط ادھر تھا وہ خبط ابھی بھی ہے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کو ان طالبان یا دہشتگردوں سے کیا محبت ہے۔ آپ کو ان کے گمراہ کن نظریات سے کیا محبت ہے۔ کس کے کہنے پر آپ پورے صوبے کو تو جھونک چکے ہیں اور اب پورے ملک کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں، جس کا ایندھن آپ کے بچے بن رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں پر ترقی نہیں ہو رہی، کاروبار نہیں آ رہا۔ وہاں پر لوگ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔‘