فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس: کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہے، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران سات رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کے خلاف ہوتی ہے اور تمام جرائم ریاستی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔

خلاصہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے براہِ راست مذاکرات سنیچر کے روز ہوں گے
  • اسحاق ڈار کا امریکی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، افغانستان میں امریکی اسلحے اور پاکستانی معدنیات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے 34 فیصد جوابی ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکہ مزید ٹیرف نافذ کرے گا

لائیو کوریج

  1. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 6287 پوائنٹس کی تاریخی کمی، کاروبار عارضی طور پر معطل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے پہلے کاروباری روز میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی ہے اور انڈیکس میں 6287 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس 112504 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کی مطابق حصص مارکیٹ میں پوائنٹس کے تناسب سے یہ ایک روز میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے جس کے بعد مارکیٹ میں کاروبار معطل کر دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں 6287 پوائنٹس کی کمی ملکی تاریخ میں ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک دن میں انڈیکس میں پانچ فیصد کی کمی کے بعد کاروبار کو معطل کر دیا جاتا ہے اور اب سٹاک مارکیٹ میں کاروبار 45 منٹ تک معطل رہے گا اور اس کے بعد مارکیٹ میں کاروبار کا دوبارہ آغاز ہو گا۔

    پیر کے روز سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا جب انڈیکس 1700 پوائنٹس منفی کے ساتھ اوپن ہوا اور اس کے بعد اس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔ سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان غالب ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار اس مندی کی وجہ عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں کمی کو قرار دیتے ہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کی وجہ سے مندی کا شکار ہوئیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جب امریکی صدر کی جانب سے ٹیرف کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں تیزی ریکارڈ کی گئی تھی

    تجزیہ کار جبران سردار نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے اگرچہ عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں مندی تھی تاہم پاکستان کی دسٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی جس کی وجہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان تھا۔

    انھوں نے کہا عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آنا تھا جو آج آیا ہے۔ جبران نے کہا آج جاپان اور ایشیاء کی دوسری مارکیٹوں میں کاروبار منفی ہے اور پاکستان سٹاک ایکسچینج بھی اسی رجحان کے زیر اثر ہے۔

  2. بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور لکپاس میں دھرنا جاری, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کویٹہ

    quetta

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین کی عدم رہائی اور اس سلسلے میں دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان کے اکثر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ہڑتال کی کال بلوچستان نیشنل پارٹی نے دی تھی، جبکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں نے اس کی حمایت کی تھی۔

    ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثرعلاقوں میں کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ جن شہروں میں شٹرڈائون ہڑتال ہورہی ہے وہاں ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

    گذشتہ روز دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ انتظامیہ کی جانب اجازت نہ دینے کے خلاف ضلع خضدار میں مظاہرین نے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو خضدار شہر میں بند کیا تھا۔

    مطاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔

    quetta

    لکپاس میں دھرنا جاری

    کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دھرنا دس روز سے جاری ہے۔

    اس دھرنے میں متعدد قبائلی عمائدین بھی شریک ہیں جبکہ حکومت میں شامل جماعتوں کے سوا بلوچستان کی اکثر سیاسی جماعتوں نے دھرنے اور اس کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔

    اس دھرنے کے شرکا کو 28 مارچ کو کوئٹہ پہنچنا تھا لیکن اس سلسلے میں ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے بی این پی کے سربراہ سردار اخترمینگل کی قیادت میں شروع ہونے والے مارچ کے شرکا کو حکومت اور انتظامیہ نے لکپاس سے آگے نہیں جانے دیا تھا۔ جس کے باعث اب وہاں دھرنا جاری ہے۔

    اس دھرنے کے شرکا نے گذشتہ روز کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کی کوشش کی تھی لیکن تمام راستوں کی بندش اور پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے لانگ مارچ کے شرکا کوئٹہ کی جانب مارچ نہیں کرسکے تھے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ خواتین کی رہائی تک ان کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے خواتین کو رہا نہیں کیا اور لانگ مارچ کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو پورے بلوچستان کو حکومت کے خلاف مزاحمت کا مرکز بنایا جائے گا۔

    لانگ مارچ اور دھرنے کے شرکا کا واحد مطالبہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی رہائی

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں کی رہائی کا ہے جن کو عید سے چند روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

    سرکاری حکام کی جانب سے تین ایم پی او کے تحت سردار اختر مینگل کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    گذشتہ روز متعلقہ حکام دھرنے کے مقام پر وارنٹ گرفتاری لیکر سردار اخترمینگل کے پاس گئے تھے لیکن حکومتِ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ انھوں نے گرفتاری دینے سے انکار کیا تھا۔

    شاہد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اگر دھرنے کے شرکا نے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کی کوشش کی تو قانون اپنا راستہ لے گا۔

  3. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس میں 3300 پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پی ایس ایکس میں سوموار کے روز کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپی ایس ایکس میں سوموار کے روز کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا

    پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید مندی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس تین ہزار 300 پوائنٹس کی کمی کے بعد 115488 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

    پی ایس ایکس میں سوموار کے روز کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا جب انڈیکس 1700 پوائنٹس منفی کے ساتھ کھلا اور بعد ازاں اس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار اس مندی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں ہونے والی کمی کو قرار دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر کی جانب سے ٹیرف کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر منڈیوں میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    تجزیہ کار جبران سردار نے بتایا کہ اگرچہ گذشتہ ہفتے عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں مندی تھی تاہم پی ایس ایکس میں تیزی رہی جس کی وجہ حکومت کی جانب سے پاور ٹیرف میں لائی جانے والی کمی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ تاہم عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا اثر بالآخر پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی پڑنا تھا جو آج دیکھنے میں آیا۔ جبران سردار کے مطابق امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں متاثر ہوئی ہیں اور آٹھ سے نو فیصد تک نیچے آئی ہیں۔

    جبران سردار کا مزید کہنا تھا کہ آج جاپان اور ایشیا کی دوسری مارکیٹوں میں کاروبار منفی ہے اور پاکستان سٹاک ایکسچینج بھی اسی رجحان کے زیر اثر ہے۔

    تجزیہ کار جبران سردار کے مطابق امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں متاثر ہوئی ہیں اور آٹھ سے نو فیصد تک نیچے آئی ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتجزیہ کار جبران سردار کے مطابق امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں متاثر ہوئی ہیں اور آٹھ سے نو فیصد تک نیچے آئی ہیں۔

    امریکی محصولات کا اثر، ایشیا کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک سے درآمدات پر محصولات عائد کیے جانے کے بعد سوموار کے روز ایشیا کی بیشتر سٹاک مارکیٹوں بشمول پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

    • ایشیا کی مختلف حصص مارکیٹوں کی تازہ ترین صورتحال:
    • سب سے زیادہ کمی ہانگ کانگ کی سٹاک مارکیٹ میں دیکھنے میں آئی۔ ہینگ سینگ 12٫9 فیصد کمی واقع ہوئی۔
    • جاپان کی نکئی 225 میں چھ اشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی ہے
    • چین کی شنگھائی کمپوزٹ میں آٹھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے
    • انڈیا کی حصص مارکیٹیں نفٹی 50 اور سینسیکس میں بالترتیب چار اور 3.7 فیصد گری ہیں
    • جنوبی کوریا کی شیئر مارکیٹ 5.2 فیصد کمی
    • تائیوان اور سنگاپور کی مارکیٹوں میں بالترتیب 9.7 اور 7.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے

    سب سے زیادہ گراوٹ بینکوں کے حصص میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ میں ایچ ایس بی سی اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے شیئرز کی قیمت میں بالترتیب 15 اور 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    اس سے قبل امریکی مارکیٹس کے فیوچر میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آئی تھی۔ اس کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آج جب وال سٹریٹ میں دن آغاز ہوگا تو وہاں بھی مارکیٹ گرنے کا خدشہ ہے۔

    جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کی مارکیٹیں گذشتہ تین روز سے مندی کا شکار ہیں جبکہ جمعے کے روز تعطیل کے بعد کھلنے والی چین کی مارکیٹ میں بھی کاروبار کا آغاز کا اچھا نہیں رہا۔

    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو نہ صرف امریکی معیشت کے متعلق تشویش لاحق ہے بلکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں عالمی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

    کساد بازاری کے آغاز کے لیے ایک بڑی وجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کووڈ کی عالمی وبا اور حالیہ مالیاتی بحران ایسی ہی کچھ وجوہات ہیں۔

  4. افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی: تین ہزار سے زائد افغان سیٹزن کارڈ کے حامل افراد طورخم کے راستے ڈی پورٹ

    طورخم سرحد۔ فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنطورخم سرحد۔ فائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز طورخم سرحد کے راستے 1698 افغان سیٹزن کارڈ کے حامل افراد اور 3268 غیر قانونی تارکین افغانستان واپس بھیجے گئے۔

    صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یکم اپریل سے اب تک 3053 افغان سیٹزن کارڈ کے حامل افراد کو طورخم کے راستے افغانستان بھجوایا جا چکا ہے۔

    اب تک اسلام آباد سے 160، پنجاب سے 1980 اور گلگت بلتستان سے ایک افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈر کو براستہ طورخم افغانستان بھجوایا جا چکا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 4 لاکھ 84 ہزار 975 غیر قانونی تارکین وطن کو طورخم سرحد سے افغانستان واپس بھجوایا جا چکا ہے۔

    یاد رہے کہ طورخم بارڈر کے ذریعے ملک بھر میں مقیم افغان سیٹیزن کارڈز ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین کی وطن واپسی 31 مارچ 2025 تک رضاکارانہ تھی۔

    تاہم 31 مارچ کے بعد ملک بھر کے افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین کو ہولڈنگ کیمپ میں رجسٹر کر کے طورخم کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا جس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    سنیچر کے روز اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے اپنے ایک بیان میں پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مُلک کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی سے افغان پناہ گزین کو زبردستی بے دخل کرنے کا اپنا منصوبہ ترک کر دے اور انھیں افغانستان واپس جانے پر مجبور نہ کرے۔

  5. متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات: ’خطے میں تنازعے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تبادلہ خیال‘

    متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اتوار کے روز ابوظہبی میں اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون ساعر سے ملاقات کی۔

    ،تصویر کا ذریعہmofa.gov.ae/

    ،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اتوار کے روز ابوظہبی میں اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون ساعر سے ملاقات کی۔

    متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اتوار کے روز ابوظہبی میں اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون ساعر سے ملاقات کی ہے۔

    امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران ’غزہ میں جنگ بندی معاہدے، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے میں تنازعے کے پھیلاؤ کو روکنے‘ کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اماراتی وزیرِ خارجہ نے فلسطینیوں کی حمایت اور اُن کے حق خود ارادیت کے لیے اپنے ملک کے عزم کی ایک بار پھر توثیق کی ہے۔

    بیان کے مطابق اماراتی وزیرِ خارجہ نے دو ریاستی حل پر مبنی جامع امن کے حصول کے لیے مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ سیاسی کوششوں کو آگے بڑھانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ملاقات اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے تقریباً تین ہفتے بعد ہوئی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملاقات کے دوران ’دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے علاوہ علاقائی مسائل پر بھی بات ہوئی۔‘

    ’مشرق وسطیٰ میں اہم چیلنجز درپیش ہیں، لیکن تعاون اور استحکام کے بہتر مستقبل کے لیے شراکت دار موجود ہیں۔‘

    اس ملاقات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے، دی ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں تاہم ’غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم کی شدید عوامی مخالفت کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ عوامی دوروں اور اقدامات سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔‘

    دونوں رہنماؤں کے مابین یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایران اور امریکہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے دھمکیوں اور انتباہات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ شامی صدر احمد الشراع بھی آئندہ ہفتے سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات آ رہے ہیں۔ شام میں سابق صدر بشارالاسد کی معزولی اور باغیوں کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے فضائی حملوں میں شام کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ہی سال کے آغاز میں غزہ نء قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط  کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل ابوظہبی میں ملاقات ہوئی تھی۔

    ،تصویر کا ذریعہmofa.gov.ae/

    ،تصویر کا کیپشناس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ہی سال کے آغاز میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل ابوظہبی میں ملاقات ہوئی تھی۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین رواں سال ہونے والی دوسری ملاقات

    اسرائیلی وزیرِ خارجہ کے مطابق یہ شیخ عبداللہ بن زاید سے اُن کی دوسری ملاقات تھی۔

    اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان رواں سال کے آغاز میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل ابوظہبی میں ملاقات ہوئی تھی۔

    سرکاری اماراتی میڈیا کے مطابق عبداللہ زاید نے 2024 میں اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائرلاپڈ سے ملاقات کی تھی جس میں ’دو ریاستی حل پر مبنی جامع امن کے حصول کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔‘

    ایمریٹس نیوز ایجنسی کے مطابق سنہ 2022 میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا تھا جس میں ان کے ہمراہ ایک ’اعلیٰ سطحی سرکاری اور اقتصادی وفد‘ بھی تھا۔

  6. اختر مینگل کی گرفتاری کی کوشش اور بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال: بات یہاں تک کیسے پہنچی؟, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    ،ویڈیو کیپشنکوئٹہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ شہر کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف اتوار کو بلوچستان کے مزید علاقوں میں شاہراہوں کو بطور احتجاج بند کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر میں سریاب کے علاقے میں شاہراہوں کو بند کرنے پر پولیس اور مظاہرین کی درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

    دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان میں پیر کو بی این پی کی جانب سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

    دھرنے کے شرکا کی جانب سے مطالبات سے پیچھے نہ ہٹنے اور حکومت کی جانب سے مطالبات کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے جو شاہراہیں بند ہیں اس سے بلوچستان میں عام لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سریاب میں جھڑپیں اور گرفتاریاں

    گذشتہ نو روز سے بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس پر جاری دھرنے کے شرکا کو مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اتوار کے روز کوئٹہ کی جانب مارچ کرنا تھا لیکن وہ رکاوٹوں کی وجہ سے وہاں سے نہیں نکل سکے۔

    بی این پی کے رہنما اختر حسین لانگو نے بتایا کہ علی الصبح چار بجے پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے دھرنے کے شرکا کا گھیراؤ کیا جبکہ کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مستونگ شہر اور لکپاس کے درمیان اور کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مختلف علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹو گرافر بنارس خان ان کیمرا مینز میں شامل تھے جنھوں نے صبح دھرنے کے مقام تک جانے کی کوشش کی لیکن پولیس کے اہلکاروں نے ان کو لکپاس ٹنل سے آگے جانے نہیں دیا۔

    بنارس خان نے بتایا کہ پہلے کے مقابلے ٹنل کو آج کنٹینروں سے مکمل بھر دیا گیا تھا جبکہ گردونواح میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔

    دھرنے کی شرکا کو کوئٹہ کی جانب اجازت نہ دینے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نے یہ اعلان کیا کہ پارٹی کے کارکن جہاں جہاں بھی ہیں وہاں شاہراہوں کو بند کریں۔

    اس اعلان کے بعد پارٹی کے کارکنوں کے کوئٹہ میں سریاب کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کو بند کیا جن کے خلاف پولیس نے کاروائی کی۔ شام تک مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔

    مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کرنے کے علاوہ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔ گرفتار ہونے والے متعدد مطاہرین کو پولیس اہلکار تشدد کا نشانہ بھی بناتے رہے۔

    سونا خان کے علاقے میں ان جھڑپوں کے دوران دو درجن سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی پُرامن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    بلوچستان
    ،تصویر کا کیپشنشاہراہ پر خندقوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ - کراچی شاہراہ پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے

    شاہراہ پر خندقوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ - کراچی شاہراہ پر لوگوں کی مشکلات

    ماضی میں مظاہروں کو روکنے کے لیے بلوچستان میں شاہراہوں پر گاڑیاں کھڑی کی جاتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ سرکاری حکام کی جانب سے ان پر بڑے بڑے گڑھے بھی کھودے گئے۔

    کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر کوئٹہ اور مستونگ کے اضلاع کی سرحد پر ایک بڑا گڑھا کھودنے کے علاوہ لک پاس کی ٹنل کی دوسری جانب بھی گڑھا کھودا گیا ہے جبکہ لکپاس اور دھرنے کے مقام سے کوئٹہ شہر تک شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے کنٹینرز بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

    ان رکاوٹوں کی وجہ سے آج دن بھر کوئٹہ کراچی شاہراہ ویران دکھائی دیتا رہا اور گاڑیوں کی بندش کی وجہ سے قرب و جوار کے لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    شاہراہ پر پیدل چلنے والے اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور لکپاس کے درمیان مختلف کلیوں سے جو متبادل راستے ہیں ان پر بھی گڑھے کھودے گئے ہیں تاکہ دھرنے کے شرکا وہاں سے کوئٹہ شہر کی جانب نہیں آسکیں۔

    اسی طرح کوئٹہ اور مستونگ کے درمیان دشت کے علاقے میں بھی گاڑیوں کی آمدورفت کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

    جہاں ان رکاوٹوں کی وجہ سے دو اہم شاہراہوں کوئٹہ کراچی ہائی وے اور کوئٹہ کراچی تفتان ہائی وے پر لوگوں کو سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں 9 روز سے پھنسی ہوئی مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

    بلوچستان
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب اجازت نہ دینے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب اجازت نہ دینے کے خلاف پیر کے بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔

    اس سلسلے میں کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینیئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام جو دھرنا دیا جارہا ہے وہ پرامن ہے لیکن حکومت اس کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب آنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی تو پھر لوگوں کے پاس احتجاج کا باقی کونسا راستہ رہ جائے گا۔جو اقدامات کیئے جارہے ہیں اس سے یہ لگتا ہے حکومت معاملات کا پر امن حل نہیں چاہتی ہے۔

    ادھر لکپاس میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’ریاست نے ہمیں کچلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، مگر ہم سر جھکانے والے نہیں۔ یہ دھرنا ہر صورت جاری رہے گا اور اب ہم پورے بلوچستان کو مزاحمت کا مرکز بنائیں گے۔‘

    دوسری جانب سرکاری حکام نے بلوچستان نیشنل پارٹی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کی پارٹی کی قیادت ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا گیا لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے۔

    درایں اثنا ترجمان نے ایکس پر بی این پی کے لانگ مارچ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سردار اختر مینگل نے اگر کوئٹہ کی جانب مارچ کیا تو انھیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  7. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • اسرائیلی کی فوج نے 23 مارچ کو جنوبی غزہ میں 15 امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے معاملے میں اپنے سپاہیوں کی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔
    • وائٹ ہاؤس کی قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات کے اعلان کے بعد 50 سے زائد ممالک تجارتی مذاکرات شروع کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر چُکے ہیں۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ سے افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز 39 افغان پناہ گزینوں کو بارڈر پر افغان انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔
    • برطانیہ نے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو اراکینِ پارلیمنٹ کو اسرائیل میں داخلے سے منع کرنے اور انھیں حراست میں لیے جانے پر اسرائیلی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول اور گہری تشویش کا باعث‘ قرار دیا ہے۔
  8. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔