کراچی سمیت سندھ میں مزید بارشوں اور سیلاب کی وارننگ: عام تعطیل کا اعلان اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے کراچی سمیت سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں آج عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 365 تک پہنچ گئی ہے اور 181 افراد زخمی ہوئے۔
  • سیلاب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 225 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  • خیبرپختونخوا میں سیلاب سے سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے سندھ میں بھی شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے۔
  • کراچی میں بارش کے بعد معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور شہر کی مرکزی شاہراہیں زیر آب آگئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور ہزاروں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے ہیں۔
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی نہیں بھیجے جائیں گے۔
  • 26 جون سے اب تک پاکستان بھر میں بارش سے متعلقہ واقعات میں کم از کم 670 ہلاک جبکہ 1000 زخمی ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یوکرین روس جنگ: وائٹ ہاؤس میں بند دروازوں کے پیچھے مذاکرات

    امریکی صدر ٹرمپ اور یورپی رہنما وائٹ ہاؤس میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    رہنماؤں میں بات چیت بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔ تاحال بات چیت سے متعلق کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    اس سے پہلے وائٹ ہاؤس میں امریکی ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان دوستانہ ملاقات ہوئی جس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین کو ’بہت اچھا تحفظ‘ دے گا لیکن انھوں نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ یہ ضمانت نیٹو دے گا یا اس میں امریکہ ملوث ہو سکتا ہے۔

  2. وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کی دوستانہ ملاقات: امریکہ یوکرین کو ’بہت اچھا تحفظ‘ دے گا، ٹرمپ

    ٹرمپ اور زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان دوستانہ ملاقات ہوئی جو فروری میں دونوں صدور کے درمیان اسی کمرے میں ہونے والی تلخ ملاقات سے قدرے مختلف تھی۔

    یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنما ہنستے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

    اوول آفس میں ملاقات کے آغاز میں زیلنسکی نے اپنی اہلیہ اولینا زیلینسکا کی جانب سے ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو ایک ذاتی خط پہنچایا جس میں انھوں نے روس میں قید یوکرین کے بچوں کو وطن واپس لانے کی کوششوں پر امریکی خاتون اول کا شکریہ ادا کیا۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین کو ’بہت اچھا تحفظ‘ دے گا لیکن انھوں نے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ یہ ضمانت نیٹو دے گا یا اس میں امریکہ ملوث ہو سکتا ہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے، جو جمعے کو پوتن کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے قبل ان کے سابقہ موقف سے متضاد بات ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ زیلنسکی اور دیگر یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد آج بعد میں پوتن سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ امریکہ سے کیا گارنٹی چاہتے ہیں، یوکرینی رہنما کا کہنا تھا کہ انھیں سازوسامان اور انٹیلی جنس سمیت ’ہر چیز‘ کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل ایک رپورٹر نے زیلنسکی کے لباس کی تعریف کیآ یہ وہی صحافی تھے جنھوں نے فروری میں زیلنسکی کے لباس پر تنقید کی تھی۔

    ٹرمپ اور زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. روس۔ یوکرین تنازع کے تصفیے کے لیے یورپی رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس آمد شروع

    سر کئیر سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس آمد شروع ہو گئی ہے۔

    یورپین کمیشن کی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹامر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، یورپین کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین، نیٹو اتحاد کے سربراہ مارک روٹے اور اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا ملونی سمیت دیگر رہنما وائٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز
  4. ممکنہ ایٹمی جنگ سمیت چھ ماہ میں چھ جنگوں کا تصفیہ کرایا، تنقید کی پرواہ کیے بغیر روس۔ یوکرین تنازع حل کراؤں گا: ٹرمپ

    ٹرمپ، پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’میں نے چھ ماہ میں چھ جنگوں کا تصفیہ کرایا ہے، جس میں سے ایک ایٹمی جنگ میں بدل سکتی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس کے باوجود مجھے وال سٹریٹ جنرل سمیت دیگر بہت سی جگہوں پر جو پڑھنے اور سننے کو مل رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ انھیں صورتحال کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ رواں برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ کی ثالثی کا متعدد بار مختلف فورمز پر ذکر کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’مجھے بتائیں کہ میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کیا برا کر رہا ہوں۔ یہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جنگ تھی نہ کہ میری۔ میں تو یہاں اسے مزید بڑھانے کے بجائے اس جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر رہا ہوں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگر میں صدر ہوتا تو یہ جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔ مجھے ٹھیک ٹھیک پتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ مجھے ان لوگوں کے مشوروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو ان تنازعات سے سالہا سال جڑے ہوئے ہیں اور انھوں نے کبھی ان کے خاتمے کی کوشش نہیں کی۔‘

    ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ’یہ بیوقوف لوگ ہیں۔ جن میں سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ یوکرین اور روسی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ’تمام تر تنقید کے باوجود میں اس تنازع کا حل نکالوں گا اور میں نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’کل وائٹ ہاؤس کے لیے ایک بڑا دن ہوگا۔ اتنی بڑی تعداد میں یورپی رہنما کھبی ادھر جمع نہیں ہوئے ہیں۔ ان کی میزبانی میرے لیے باعث فخر ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اس بات پر مکمل طور پر متفق ہوں کہ اگر روس اپنے ہاتھ کھڑے کر دے اور یہ کہے کہ ہماری بس ہو گئی ہے، ہم نے شکست تسلیم کر لی ہے، ہم یوکرین اور امریکہ کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ قابل تکریم، قابل عزت اور طاقتور تسلیم کرتے ہیں۔۔ تو تب بھی ’فیک نیوز میڈیا‘ اور ان کے ڈیموکریٹ پارٹنرز یہ کہیں گے کہ یہ ٹرمپ کے لیے بہت برا اور باعث شرمندگی کا دن ہے اور یہ ملک کی تاریخ میں سب سے برا دن ہے۔ ’اسی وجہ سے یہ فیک نیوز ہیں۔‘

  5. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بارشوں سے چھ ہلاکتیں، ایک خاتون لاپتہ, نصیر چوہدری، صحافی

    Pakistan administered Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کے روز ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور ایک خاتون لاپتہ ہوگئی ہیں۔ سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس خطے میں آٹھ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 46 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

    اس خطے میں تعلیمی ادارے 23 اگست تک بند رہیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پونچھ یونیورسٹی کی لیکچرار ڈاکٹر گل لالہ نالہ تراڑ میں گاڑی سمیت سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد ان کی نعش کو نالے سے نکال لیا ہے۔ ڈاکٹر گل لالہ کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی علاقے کھڑک سے تھا۔

    اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق راولاکوٹ میں سیلابی پانی کی وجہ سے سات مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور 22 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں تین گاڑیاں بھی سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    نیلم ویلی میں کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی، جو تاؤ بٹ سیر کے لیے نکلی تھی، شنڈداس کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی۔

    ڈاکٹر ذیشان شاہد اور ان کی اہلیہ موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی چھوٹی بچی محفوظ رہیں۔ حادثے سے گاڑی کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی مر گئے ہیں۔ نیلم میں شدید بارشوں سے گاڑیوں کے حادثات میں چار افراد ہلاک ہوئے اور ایک شخص زخمی ہو گئے ہیں۔

    ضلع بھمبر میں بھی بارشوں کے باعث کئی مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں چھ مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ سدھنوتی میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور 18 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

    کوٹلی میں نالے میں بہہ جانے والی ایک خاتون کی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ پٹہکہ میں ایک خاتون پاؤں پھسل کر گرنے سے ہلاک ہو گئی ہیں۔

  6. انڈین اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات، ’مثبت تعلقات کے لیے سرحدوں پر امن ضروری ہے‘

    انڈیا، چین

    ،تصویر کا ذریعہChina Daily via REUTERS/File Photo

    انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے پیر کو نئی دہلی میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی صرف اسی صورت میں پیدا سکتی ہے جب ان کی سرحد پر امن ہو۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی پیر کو دو روزہ دورے پر انڈین دارالحکومت پہنچے جس کے دوران وہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ سرحدی مذاکرات کے 24ویں دور میں شریک ہوں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    جے شنکر نے اپنے ابتدائی کلمات چینی وزیر خارجہ سے کہا کہ ’یہ (سرحدی مسائل پر بات چیت) بہت اہم ہے کیونکہ ہمارے تعلقات میں کسی بھی مثبت رفتار کی بنیاد سرحدی علاقوں میں مشترکہ طور پر امن و سکون کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔‘

    انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ سنہ 2020 میں ایک خونی سرحدی جھڑپ کے بعد سے مغربی ہمالیہ میں اپنی متنازع سرحد پر جمع اپنی فوجوں کو واپس بلا لیں۔

    خیال رہے کہ وانگ یی کا یہ دورہ مودی کے چین کے سفر سے چند دن پہلے ہوا ہے۔

    یہ ان کا سات برس میں پہلا دورہ ہے جس کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک علاقائی سیاسی اور سکیورٹی گروپ جس کا روس بھی حصہ ہے۔

    دونوں بڑے ممالک میں تعلقات میں برف اس وقت پگھلنے لگی جب اکتوبر میں نئی دہلی اور بیجنگ کے سربراہان نے روس می بات چیت کے بعد اپنی ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا۔

    سنہ 2020 کے موسم گرما میں ان کی متنازع ہمالیائی سرحد پر فوجی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے خراب ہو گئے تھے۔ اس جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

  7. ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات پر پوتن کا انڈین وزیراعظم مودی کو فون

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے تصدیق کی ہے کہ انھیں روسی صدر پوتن کی طرف سے فون کال موصول ہوئی ہے جس میں انھوں نے ٹرمپ سے اپنی ملاقات سے متعلق بتایا ہے۔

    مودی نے اس فون کال پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا روس اور یوکرین کے تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے اور اس حوالے سے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    Narendra Modi

    ،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

  8. زیر حراست لیکچرار عثمان قاضی کی ’سرکاری اعترافی ویڈیو‘ میں کیا ہے؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Usman Qazi

    ،تصویر کا ذریعہScreengrabe

    بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز(بیوٹمز) کے لیکچرار عثمان قاضی جنھیں 12 اگست کی شب کوئٹہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا کی گرفتاری حکومت کی طرف سے اب ظاہر کی گئی ہے۔

    ان کی گرفتاری کا اعلان پیر کو وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے خطاب کیا بلکہ عثمان قاضی کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر لائی گئی جس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انھوں نے شدت پسندی کے مختلف واقعات میں سہولت کاری کا اعتراف کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حکومتی مؤقف ہے اور بی بی سی آزادانہ طور پر اس مؤقف کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    اپنی پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عثمان قاضی کی گرفتاری کو خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کی اہم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے حوالے سے تحقیقات میں بڑی مدد ملے گی۔

    ’اغوا کے بعد دبائو ڈال کر عثمان قاضی سے بیان لیا گیا ہے‘

    وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ایک ٹویٹ کے مطابق ڈاکٹر عثمان قاضی کو ان کے بھائی جبران احمد کے ساتھ ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ تاہم سرکاری حکام کی جانب سے پریس کانفرنس میں ان کے بھائی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

    بی بی سی نے ڈاکٹر عثمان کے رشتہ داروں سے ان کا مؤقف لینے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم یونیورسٹی کے ایک اور لیکچرار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی سرکاری حکام کی جانب سے ان کا ایک اعترافی بیان جاری کیا گیا ہے جس پر ہم حیران ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عثمان قاضی گذشتہ سات آٹھ سال سے یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ وہ کلاسوں کے حوالے سے ریگولر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ ہماری جو بھی نشست و برخاست ہوتی تھی اس میں نہ وہ کسی کالعدم تنظیم کے حوالے سے بات کرتے تھے اور نہ ہی ہم نے ان میں کسی کالعدم تنظیم یا دہشت گردی کی کسی سرگرمی کی جانب جھکائو محسوس کیا۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ان کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ انھیں ان کے بھائی کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

    حکام کی جانب سے ان کے اعترافی بیان جاری کرنے کے بعد یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ ان کا یہ بیان ان کے مبینہ اغوا کے بعد دوران حراست لیا گیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ان کو بھائی کے ہمراہ پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور تاحال ان کے بھائی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ہوسکتا ہے کہ بھائی کے حوالے سے یا کسی اور حوالے سے ان پر دبائو ڈال کر یہ بیان لیا گیا ہو‘۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالت سے پہلے ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا جو کہ خود قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جس طرح ایک پی ایچ ڈی ہولڈر اور یونیورسٹی کے ٹیچر کو اٹھایا گیا تو اس پر یونیورسٹیوں کے اساتذہ میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی اور سو کے قریب اساتذہ نے وائس چانسلر کو لکھا تھا کہ عثمان قاضی کو منظر عام پر لایا جائے جس کے باعث حکومت پر دباؤ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج پریس کانفرنس میں ان کا ویڈیو بیان پیش کرنے سے ایک روز پہلے جو جعلی اکائونٹس ہیں ان سے ان الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اغوا اور پھر حراست کے دوران جو بیان لیا جاتا ہے اس کی کوئی قانونی حیثیت اور اہمیت نہیں ہے‘۔

    بی وائی سی کی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی غیر قانونی کام ملوث بھی ہے تو قانون کی نظر میں یہ بات درست نہیں ہے کہ عدالت سے پہلے ان کا میڈیا ٹرائل کیا جائے۔

    پریس کانفرنس کے بعد سہہ پہر کو عثمان قاضی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جنھیں عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔

    ڈاکٹر عثمان قاضی کون ہیں؟

    عثمان قاضی کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت سے ہے۔

    انھوں نے ابتدائی تعلیم تربت سے حاصل کی جس کے بعد انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کیا۔

    انھوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے مطالعہ پاکستان میں ماسٹرز اور ایم فل کیا۔

    بعد میں انھوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سکالرشپ پر پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ وہ گذشتہ سات آٹھ سال سے بیوٹمز میں مطالعہ پاکستان کے لیکچرار کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

    حکومت کی جانب سے پیش کردہ ان کے اعترافی ویڈیو میں کیا ہے؟

    پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے عثمان قاضی کا جو ویڈیو بیان پیش کیا گیا اس میں بیان کا آغاز انھوں نے بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھ کر کیا۔

    اس بیان میں وہ کہہ رہے تھے کہ جب وہ پی ایچ ڈی کر رہے تھے تو 2020 میں ان کا اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، جہاں قائد اعظم یونیورسٹی میں تنظیم کے تین لوگوں سے رابطہ ہوا جن میں سے دو بعد میں مارے گئے۔

    ویڈیو بیان کے مطابق ایک شخص ’ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک نے حال احوال کرنے کے بعد مجھے تنظیم میں شامل کیا۔ میرا رابطہ کالعدم بی ایل اے کے بشیر زیب سے ٹیلی گرام کے ذریعے کرایا۔ جب میں کوئٹہ آیا تو مجھ سے تین کاموں کی سہولت کاری لی گئی‘۔

    حکومت کی جانب سے ریلیز کی گئی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’سہولت کاری کا ایک کام یہ تھا کہ قلات میں بوہیر نامی بی ایل اے کا ایک ریجنل کمانڈر لڑائی میں زخمی ہوا تھا۔ ان کو میں نے جگہ دی تھی۔ علاج کے بعد وہ واپس چلا گیا۔ اس کے بعد گذشتہ سال نومبر میں ہیبتان نے بتایا کہ ایک اور شخص آئے گا جنھیں آپ نے جگہ دینا ہے۔ وہ رفیق بزنجو تھا جنھیں دو روز کے بعد انھوں نے کسی اور شخص کے حوالے کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ریلوے سٹیشن پر خود کش حملہ کر دیا جس میں سکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کے جانوں کا ضیاع ہوا‘۔

    ڈاکٹر عثمان کے ویڈیو بیان کے مطابق اس کے بعد ہیببتان نے ایک اور ٹارگٹ دیا جو کہ نعمان عرف پیرک کی حوالگی کا تھا۔ ان کے مطابق ’وہ سات آٹھ دن میرے پاس رہا جس کو میں نے بعد میں جمیل عرف نجیب نامی شخص کے حوالے کیا۔ نعمان عرف پیرک کو 14 اگست کے کسی ایونٹ میں استعمال کیا جانا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انھوں نے ایک پسٹل خرید کر ایک خاتون کو دیا جس نے اسے تنظیم کے ڈیتھ سکواڈ کے حوالے کیا تھا۔ وہ پسٹل سکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کرنے میں استعمال ہوا تھا‘۔

    حکومت کی جانب سے سامنے لائی گئی ویڈیو میں ڈاکٹر عثمان سہولت کاری کا اعتراف کر رہے ہیں اور یہ بیان دے رہے ہیں کہ انھوں نے یہ کام کیے ہیں، تنظیم کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور یہ سہولت کاری کی ہے حالانکہ ریاست نے سب کچھ دیا، عزت دی، وقار دی۔

    اس ویڈیو میں وہ بتاتے ہیں کہ ’خاندان کو دیکھیں تو میری اہلیہ کو بھی نوکری دی ہے۔ اس کے باوجود میں نے قانونی کی خلاف ورزی اور ریاست کے ساتھ غداری کی ہے جس پر میں تہہ دل سے شرمندہ ہوں اور ایسے کاموں کے ساتھ منسلک رہنے پر افسوس ہے‘۔

    ویڈیو بیان کے مطابق ’اس ویڈیو اور پیغام دینے کا مقصد یہ ہے ہے کہ جو آئندہ آنے والی نسلیں ہیں، نوجوان اور جو طالب علم ہیں وہ اپنے آپ کو اس طرح کے انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے بچائیں۔‘

    14روزہ ریمانڈ پر حوالگی

    ماضی میں بلوچستان میں سی ٹی ڈی یا پولیس کی بعض کیسز میں جن لوگوں کا اعترافی بیان پیش کیا جاتا رہا ہے ان میں سے بعض بعد میں مشکوک مقابلوں میں مارے جاتے رہے ہیں جن میں سے ایک واقعہ کم سن طالب علم کے اغوا میں گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم کا تھا۔

    گذشتہ ماہ پریس کانفرنس میں اعترافی بیان کے چند روز بعد میڈیا کو سرکاری حکام کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ انھیں ان کے دوسرے ساتھیوں کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔

    تاہم عثمان قاضی کے اعترافی بیان پیش کرنے کے چند گھنٹے بعد ان کو سیشن کورٹ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ٹو میں انتہائی سخت سکیورٹی میں پیش کیا گیا۔

    عدالت کے جج محمد علی کاکڑ نے ملزم کو 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد ملزم کو سخت سکیورٹی میں عدالت سے واپس لے جایا گیا۔

    Sarfraz Bugti

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر اعلی بلوچستان نے پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پریس کانفرنس میں عثمان قاضی کی گرفتاری کو خفیہ اداروں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے مبینہ طور پر یہ بھی اعتراف کیا کہ انھوں نے گذشتہ سال ریلوے سٹیشن پر خود کش حملے کے بمبار کی سہولت کاری کی تھی۔

    خیال رہے کہ اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ملزم نے ایک خاتون کو پسٹل بھی خرید کر دی تھی جس کے ذریعے وہ ٹارگٹ کلنگ کرتی تھیں اور پھر پسٹل ان کو واپس کر دیتی تھیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بیانیہ اپنایا جاتا ہے کہ بلوچستان میں احساس محرومی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے۔

  9. صوابی میں سیلابی صورتحال، چار افراد ہلاک, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    Rescue 1122

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    صوابی میں گدون کے علاقے دراوڑی بالا میں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی میں 160 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    ریسکیو ترجمان کے مطابق مردان، نوشہرہ، چارسدہ اور صوابی کی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔

    ان کے مطابق سیلابی صورتحال میں چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 15 گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صوابی میں زیادہ نقصان کا خدشہ بتایا گیا تھا لیکن ریسکیو اہلکاروں نے بر وقت پہنچ کر سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالا ہے۔

    صوابی میڈیکل کمپلیکس کے ترجمان رحم خان کے مطابق پانچ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو ٹوپی لایا گیا تھا جن میں دو زخمیوں کو کمپلیکس منتقل کر دیا گیا تھا اور تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہNoor ul Islam

    ’کلاؤڈ برسٹ‘ ہوتا کیا ہے؟

    ’کلاؤڈ برسٹ‘ یا بادل پھٹنے کا مطلب کسی مخصوص علاقے میں اچانک بہت کم وقت میں گرج چمک کے ساتھ بہت زیادہ اور موسلادھار بارش کا ہونا ہے جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے۔

    بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔

    اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

    اس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ سہار نہیں سکتا۔

    کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ماضی میں پاکستان اور انڈیا اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں جہاں کم اونچائی والے مون سون بادل اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور برس پڑتے ہیں۔

  10. روس کے یوکرین پر حملوں میں کم از کم دس ہلاکتیں: ’روس کو جنگ کے بدلے نوازنا نہیں چاہیے‘

    Reuters/ State Emergency Service of Ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters/ State Emergency Service of Ukraine

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے گذشتہ رات خارکیف میں روسی حملے کی مذمت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ روس کو یوکرین کے خلاف جنگ کے بدلے نوازنا نہیں چاہیے۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ روس اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ آج واشنگٹن میں جنگ کے خاتمے سے متعلق ملاقات ہونے جا رہی ہے اور ایسے میں روس خارکیف، اوڈیسا اور دیگر یوکرینی علاقوں پر حملہ آور ہو رہا ہے۔

    یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے رات بھر 140 ڈرونز اور چار میزائل فائر کیے جن میں سے 88 کو مار گرایا گیا ہے۔

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اوڈیسا کی بحیرہ اسود کی بندرگاہ میں، ایندھن اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سہولت پر حملہ کیا گیا۔

    صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد یوکرین کی توانائی کی آزادی اور تعلقات کو نشانہ بنانا تھا، کیونکہ یہ ایک آذربائیجانی کمپنی کی ملکیت ہے۔

    اس علاقے کے سیاسی رہنما ایوان فیدوروف کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے ایک اور حملے میں زاپوریژیا شہر میں تین افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے۔

    مقامی رہنما اولیہ سنیہوبوف کا کہنا ہے کہ خارکیف کو بھی رات کو نشانہ بنایا گیا اور ایک رہائشی علاقے پر ڈرون حملے میں سات افراد مارے گئے جن میں ایک 18 ماہ کا چھوٹا بچہ اور ایک 16 برس کا لڑکا شامل ہے۔

  11. ایران سے رواں برس 20 لاکھ افغانیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا: وزیر داخلہ

    ایران، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا ہے کہ ’ایران میں 60 لاکھ سے زائد افغان شہری موجود ہیں‘ اور ان کا ملک پہلے ’پہلے مرحلے میں‘ رواں برس کے آخر تک کم از کم 20 لاکھ افغان اپنے ملک واپس جائیں گے۔

    اسکندر مومنی، جو ایران سے افغانوں کی ملک بدری کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں ایران کی مشرقی سرحدوں کا دورہ کیا ہے۔ انھوں نے آج مشہد پہنچنے پر صحافیوں کو بتایا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 1.2 ملین غیر قانونی افغان شہری اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

    ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق ’ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ افراد نے رضاکارانہ طور پر اور خود شناخت کی ہے کہ وہ ایران چھوڑ چکے ہیں۔‘

    اسکندر مومنی نے اس بات پر زور دیا کہ اس کارروائی کا مطلب ’اینٹی امیگریشن‘ نہیں ہے اور ہر ممالک کے غیر ملکی شہریوں کے حوالے سے مخصوص ضابطے ہیں۔

    افغانوں کی ملک بدری کے دوران ایران سے افغانیوں کی ملک بدری کے طریقہ کار پر متعدد بار تنقید کی گئی۔

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    اس سے قبل ایرانی وزارت داخلہ میں غیر ملکی شہریوں اور تارکین وطن کے امور کے مرکز کے سربراہ نادر یارحمادی نے کہا تھا کہ ان میں سے 2.1 ملین افراد کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایران سے ملک بدر کیے گئے 70 فیصد افغانوں کو زبردستی افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ یہ واپسی قانونی طریقہ کار کے مطابق اور انسانی وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی جائے گی اور اس سلسلے میں نیشنل مائیگریشن آرگنائزیشن بھی ضروری تحقیقات کرے گی۔

    ایرانی وزیر داخلہ آج دوغارون بارڈر کا دورہ بھی کریں گے۔

    ایرانی حکومت نے ’غیر قانونی‘ افغانوں کی واپسی کے لیے گذشتہ سال مارچ میں ڈیڈ لائن کا اعلان کیا تھا، لیکن 12 روزہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد اس عمل میں بہت تیزی آئی۔

  12. ٹرمپ کے غصے سے بچنے کے لیے آج زیلنسکی کو بہت محتاط رہنا ہوگا, ٹام بیٹ مین، بی بی سی نیوز

    ٹرمپ، زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کم از کم پانچ یورپی ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی یونین اور نیٹو کے سربراہان سے ملنے سے پہلے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔ یہ یوکرین کے اہم حمایتیوں کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں اتحاد کا ایک غیر معمولی مظاہرہ ہے۔

    زیلنسکی کو بڑے خطرات کا سامنا ہے۔

    الاسکا سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مؤقف کو آگے بڑھایا ہے جس سے ایک ہلچل پیدا ہو سکتی ہے جسے یورپی رہنما ہر قیمت پر روکنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کے کریمیا واپس حاصل کرنے اور نیٹو میں شمولیت کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پوتن مشرق میں ڈونباس کے پورے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، مگر زیلنسکی نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ اس اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے۔

    یوکرین کے رہنما کو آج بہت محتاط رہنا ہوگا اور وہ اپنے ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے کو اپنے زیر انتظام رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ساتھ صدارتی غصے اور الزام تراشی والی اس صورتحال سے بچنا ہوگا جس کا انھیں فروری میں اوول آفس میں سامنا کرنا پڑا تھا۔

    لیکن کم از کم ایک بات ان کی حمایت میں جا سکتی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اب مزید روسی جارحیت کو روکنے کے لیے یورپ کو سکیورٹی گارنٹی دینے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔

    ان کے مذاکرات کار سٹیو وٹکوف نے انھیں نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ، جو سب ممالک کے لیے دفاع کی ضمانت دیت ہے سے تشبیہ دی ہے، حالانکہ حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک اس پر اپنا ذہن نہیں بنایا ہے۔

    نیٹو کے رہنما ٹھوس ضمانت حاصل کرنے کے لیے سخت دباؤ ڈالیں گے جبکہ زیلنسکی اپنے قیمتی امن معاہدے کو حاصل کرنے کی جلدی میں ٹرمپ کے دباؤ کا نشانہ بنیں گے۔

  13. صوابی کے گاؤں دالوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کی اطلاعات، امدادی ٹیمیں روانہ

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گاؤں دالوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    صوابی کے ڈسٹرکٹ کمشنر نصراللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات کی موسلادھار بارشوں کے بعد آج صبح انھیں اطلاع ملی کہ ضلع کے ایک دور دراز گاؤں دالوڑی میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دالوڑی 40 سے 50 گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔

    نصراللہ خان کا کہنا ہے کہ انھیں اطلاعات موصول ہوئیں کہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں 15 سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے جس کے بعد امدادی ٹیمیں گاوؑں کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقہ ہونے، لینڈ سلائیدنگ اور پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے بھاری مشینری فی الحال جائے وقوعہ تک نہیں پہنچائی جا سکی ہے۔ ان کے مطابق کچھ ریسکیو اہلکار دالوڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم ان سے فی الحال رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

    ڈی سی صوابی نے بتایا کہ وہ خود بھی اس مقام کی طرف جا رہے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں کمی آتے ہی مشینری بھی روانہ کر دی جائے گی۔

    علاقہ گدون میں کلاوڈ برسٹ کا واقعے میں حادثے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق دو زخمیوں کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس لایا گیا اور باقی زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹوپی لایا گیا۔ ترجمان کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہیں۔

    زخمیوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔ تینوں ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو ہائی الرٹ پہ رکھا گیا ہے۔

    ’کلاؤڈ برسٹ‘ ہوتا کیا ہے؟

    ’کلاؤڈ برسٹ‘ یا بادل پھٹنے کا مطلب کسی مخصوص علاقے میں اچانک بہت کم وقت میں گرج چمک کے ساتھ بہت زیادہ اور موسلادھار بارش کا ہونا ہے جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے۔

    بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔

    اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

    اس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ سہار نہیں سکتا۔

    کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ماضی میں پاکستان اور انڈیا اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں جہاں کم اونچائی والے مون سون بادل اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور برس پڑتے ہیں۔

  14. رواں سال مون سون سیزن میں پاکستان بھر میں 670 افراد ہلاک، 80 سے زائد تاحال لاپتہ: این ڈی ایم اے

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر۔ فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنچیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر۔ فائل فوٹو

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈازاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران 670 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 80 سے 90 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رواں سال مون سون کے دوران مختلف واقعات میں اب تک تقیباً 670 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر کا کہنا تھا کہ 80 سے 90 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، اگر ان کا جلد کچھ پتہ نہ چلا تو ان کا شمار بھی مرنے والوں میں کیا جائے گا۔

    این ڈی ایم اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک چلے گا اور اس دوران صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

    لیفٹننٹ جنرل انعام حیدر نے بتایا کہ رواں ماہ 23 سے اگست کے آخر تک اور ستمبر کے پہلے دس دنوں میں مون سون کے مزید دو سپیل آنے کی توقع ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ دس ستمبر کے بعد صورتحال بتدریج بہتر ہونا شروع ہو جائے گی اور ستمبر کے آخر تک معمول پر آ جائے گی۔

    موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ حکومت ایک جامع انٹیگریٹد طریقہ کار سامنے لا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں موسمیاتی پیش گوئی کے چھوٹے چھوٹے نظام لگے ہوئے ہیں۔ ’کہیں گلوف الرٹ کا نظام لگا ہے، کہیں موسم کی پیش گوئی اور کہیں سٹیلائٹ، یہ سب انٹیگریٹ ہوگا تاکہ وقت سے پہلے لوگوں کو آگاہی دی جا سکے۔‘

    بلوچسان میں ہرنائی کے مقام پر بارشوں سے دو بہنیں ہلاک، ایک زخمی

    محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جن کے باعث ہرنائی میں دو بہنیں ہلاک اور ایک زخمی ہو گئی ہیں۔

    ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کے بعض دیگر مشرقی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ گذشتہ شب شروع ہوا تھا۔ ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار قمست اللہ نے بتایا کہ بارشوں کے باعث ہرنائی شہر کے محلہ اخترآباد میں عبدالکریم خجک نامی شخص کے مکان کے ایک کمرے کی چھت گر گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ چھت گرنے سے عبدالکریم کی دو بیٹیاں ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئی ہے۔ مرنے والی بہنوں کی شناخت حفصہ اور حمیرا جبکہ زخمی بہن کی شناخت زبیدہ کے نام سے ہوئی ہے۔ مرنے والی بہنوں کی عمریں 13 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔

    لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زخمی خاتون کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا الرٹ

    بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے 20 سے زائد مقامات پر تیز اور درمیانے درجے کی ہواؤں کے ساتھ بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے بلوچستان کے 20 سے زائد علاقوں کے لیے الرٹ جاری کردیا ہے۔ الرٹ کے مطابق بلوچستان کے 20 سے زائد علاقوں میں آج سے 22 اگست تک تیز اور درمیانی ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ان علاقوں میں خضدار، قلات، آواران، لسبیلہ، سوراب، کیچ، گوادر، ڈیرہ بگٹی، قلات، کوہلو، بارکھان، ژوب، شیرانی، دکی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، سبی اور پنجگور شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ بارشوں کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کاشتکار اپنے سولر پینلز کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

  15. یوکرین کے کریمیا واپس حاصل کرنے اور نیٹو میں شمولیت کا امکان نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    زیلنسکی ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے کریمیا واپس حاصل کرنے اور نیٹو میں شمولیت کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نہ یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا اور نہ ہی وہ روس کے قبضے سے کریمیا کو واپس حاصل کر سکے گا۔

    ٹرمپ کا یہ بیان زیلنسکی اور دیگر یورپی رہنماؤں سے ملاقات سے محض چند گھنٹے پہلے سامنے آیا ہے۔

    ٹرمپ کی یورپی رہنماؤں سے ہونے والی اس میٹنگ سے قبل جمعے کے روز انھوں نے امریکی ریاست الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کی تھی۔

    ٹرمپ آج کی ملاقات کو لے کر کافی پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آج وائٹ ہاؤس میں بڑا دن ہے۔ کبھی ایک ساتھ اتنے یورپی لیڈر نہیں آئے۔ ان کی میزبانی میرے لیے اعزاز ہے۔‘

    زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کو امید ہے کہ روس کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں صدر ٹرمپ یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتیں دینے کا وعدہ کریں گے۔ اس سے قبل ایک امریکی ایلچی اتوار کے روز کہہ چکے ہیں کہ پوتن نے یوکرین کے لیے نیٹو کی طرز پر ایک سکیورٹی معاہدے پر راضی ہوگئے ہیں۔

  16. کلاؤڈ برسٹ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کٹھوعہ میں سات افراد ہلاک، کشتواڑ میں ہلاکتوں کی تعداد 62 ہو گئی, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے گھٹی قصبہ میں اتوار کی شب بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے نتیجے میں آنے والی طغیانی کے باعث سات افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب، گذشتہ جمعہ کو جموں کے کشتواڑ ضلع میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری اتُل ڈھُلو نے 62 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرنے والوں میں سے 20 افراد کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے جبکہ 70 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    واضح رہے کشتواڑ کے چشوٹی گاوٴں میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب بڑی تعداد میں ہندو یاتری چشوٹی سے 10 کلومیٹر کے پیدل پہاڑی سفر کی تیاری کررہے تھے۔ کشتواڑ کے مچیل پہاڑی علاقے میں ماتا چنڈی سے منسوب ایک مندر ہے جہاں ہرسال ہندو یاتری پوجا کے لیے آتے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ان ہی یاتریوں کی ہے۔

    بارشوں اور طغیانی کے خدشات کے باعث حکام نے جموں کے تمام 10 اضلاع میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا ہے۔ لائن آف کنٹرول ایل او سی کے قریبی اضلاع راجوری اور پونچھ میں بھی حکام نے ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

  17. پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ، پی ڈی ایم اے کی قریبی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قریبی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    عرفان علی کاٹھیا نے دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جانے کی ہدایت کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم او نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ موسم کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں۔

  18. امریکہ انڈیا اور پاکستان کی سرگرمیوں کی ’ہر روز‘ نگرانی کرتا ہے: مارکو روبیو

    اسحاق ڈار مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ جھڑپ کے بعد ہونے والی جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سرگرمیوں پر امریکہ کی ہمہ وقت نظر ہے اور وہ اس کی 'ہر روز' نگرانی کرتا ہے۔

    روبیو نے این بی سی نیوز کے 'میٹ دی پریس' پروگرام میں کہا: 'جنگ بندی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ تنازع میں شامل فریق اگر ایک دوسرے پر فائرنگ بند کرنے پر راضی ہو جائیں (تو یہ جنگ بندی ہے) اور روس نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا ہے۔'

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جنگ بندی کی پیچیدگیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے برقرار رکھنا پڑتا ہے، جو ایک مشکل امر ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ہم ہر روز اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟'

    دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ نے یوکرین اور روس کے حوالے سے کہا: 'جنگ بندی بہت تیزی سے ٹوٹ سکتی ہے، خاص طور پر (یوکرین) کی جنگ کے بعد جو ساڑھے تین سال سے جاری ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اس بات سے اختلاف کرے گا کہ ہم مستقل جنگ بندی لانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایک امن معاہدے تک پہنچنا ہے، تاکہ ابھی کوئی جنگ نہ ہو اور مستقبل میں کوئی جنگ نہ ہو۔'

    ساتھ ہی 'فاکس نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے روبیو نے ایک بار پھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی تنازعے کا ذکر کیا۔ روبیو نے کہا: 'میں سمجھتا ہوں کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں اور ہمیں ایک ایسے صدر کا شکرگذار ہونا چاہیے جس نے امن کی بحالی کو اپنی انتظامیہ کی ترجیح بنایا ہے۔

    'ہم نے اسے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں دیکھا ہے۔ ہم نے اسے انڈیا اور پاکستان کے درمیان دیکھا ہے۔ ہم نے اسے روانڈا اور ڈی آر سی (ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو) میں دیکھا ہے۔ اور ہم دنیا میں امن کے ہر ممکن مواقع سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔'

    اب تک 40 بار جنگ روکنے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انڈیا اور پاکستان نے واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والی 'طویل رات' کی بات چیت کے بعد 'مکمل اور فوری' جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

    اس کے بعد سے، ٹرمپ نے تقریباً 40 بار دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو 'حل' کرنے میں مدد کی ہے اور ان جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ تنازع بند کر دیتے ہیں تو امریکہ ان کے ساتھ 'بہت زیادہ کاروبار' کرے گا۔

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا کی پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کو روکنے میں کسی بھی ملک کے رہنما کی ثالثی نہیں ہے۔

  19. ’یوکرین امن معاہدے کی کامیابی کے لیے کچھ تو دینا پڑے گا‘, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    ٹرمہ، میخوان، سٹارمر

    ،تصویر کا ذریعہPhoto by Ukrainian Presidential Press Service via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سوموار کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    یہ عین ممکن ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات جمعے کے روز الاسکا میں امریکہ-روس سربراہی اجلاس کے مقابلے میں یوکرین کے مستقبل اور پورے یورپ کی سلامتی کے لیے زیادہ اہم ثابت ہو۔

    بظاہر تو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات توقعات کے مطابق ہی رہی۔

    کوئی جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا، نہ پابندیاں لگائی گئیں اور نہ کوئی اور عظیم الشان اعلانات کیے گئے۔

    کیا یوکرین اور یورپ کو دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے کسی معاہدے سے دور رکھا جا سکے گا؟

    اس کا دارومدار یوکرین اور اس کے اتحادیوں پر ہے کہ آیا وہ اس کو روک پاتے ہیں۔

    واشنگٹن میں صدر زیلنسکی کے ہمراہ برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر، فراسیسی صدر ایمانوئل میخوان، جرمن چانسلر میرز اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی کا مقصد محض اس بات کو یقینی بنانا نہیں کہ زیلنسکی سے ساتھ دوبارہ اوول آفس میں 28 فروری جیسا سلوک نہ ہو۔

    بظاہر تو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات توقعات کے مطابق ہی رہی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبظاہر تو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات توقعات کے مطابق ہی رہی۔

    وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دو چیزوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے: اول، یہ کہ یوکرین کی براہ راست شمولیت کے بغیر یوکرین کے لیے کوئی امن معاہدہ نہیں ہو سکتا اور دوسرا ایسے کسی بھی امن معاہدے کو سکیورٹی ضمانتوں کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

    سب سے بڑھ کر، یورپی رہنماؤں کی خواہش ہے کہ وہ امریکی صدر کو یہ دکھا سکیں کہ یوکرین اور یورپ متحد ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بے چین ہیں کہ صدر ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات سے متاثر ہو کر روسی رہنماؤں کے مطالبات تسلیم نہ کر لیں۔

    یہیں سر کیئر سٹارمر کی سفارتی صلاحیتوں کا اصلی امتحان ہو گا۔

    ٹرمپ سٹارمر کو پسند کرتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں اور ایک ماہ کے بعد ٹرمپ سرکاری دورے پر برطانیہ آنے والے ہیں۔

    امریکی صدر اس ملاقات میں شریک نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کو بھی پسند کرتے ہیں، ایک ایسے شخص جنھیں 'ٹرمپ وِسپرر' بھی کہا جاتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر بظاہر اپنے فرانسیسی ہم منصب میخوان کو زیادہ پسند نہیں کرتے اور وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں ان کی جانب سے اقوام متحدہ کی اگلی جنرل اسمبلی کے موقع پر غیر مشروط طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔

    یوکرین امن معاہدے کی کامیابی کے لیے کچھ تو دینا ہو گا۔

    یورپی رہنماؤں نے بارہا کہا ہے کہ بین الاقوامی سرحدوں کو طاقت سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور صدر زیلنسکی بار بار کہ چکے ہیں وہ روس کے قبضے میں موجود یوکرینی سرزمین کے دعوے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس کے علاوہ یوکرین کا آئین بھی انھیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہے۔

    لیکن پوتن ڈونباس چاہتے ہیں جس کا تقریباً 85 فیصد حصہ پہلے ہی ان کی افواج کے کنٹرول میں ہے، اور وہ کریمیا واپس کرنے کا بھی قطعی طور پر کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    پھر بھی جیسا کہ اسٹونیا کے سابق وزیر اعظم اور اب یورپ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کایا کالس نے ایک بار مجھ سے کہا تھا: اس جنگ میں یوکرین کی فتح محض مقبوضہ سرزمین کو روسی قبضے سے چھڑوانا نہیں۔

    اگر یوکرین امریکہ سے آرٹیکل 5 جیسی حفاظتی ضمانتیں حاصل کر پائے جن کے بارے میں اب بات کی جا رہی ہے جو مستقبل میں کسی بھی قسم کی روسی جارحیت کو روکنے کے لیے کافی ہو اور اس کے نتیجے میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر اپنی آزادی کی حفاظت کر پائے تو یہ بھی اس کے لیے فتح ہوگی۔

  20. اسرائیل میں لاکھوں افراد کا غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناتوار کو روز سب سے بڑا مظاہرہ تل ابیب میں ہوا۔

    اسرائیل میں لاکھوں افراد نے غزہ جنگ کے خاتمے اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے مظاہرے کیے۔

    اتوار کو روز سب سے بڑا مظاہرہ تل ابیب میں ہوا۔ مظاہرے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اسرائیل حکومت کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے نے حماس کے قید میں موجود 20 کے قریب یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اس ملک گیر ہڑتال کے نتیجے میں اسرائیل کے کچھ علاقوں میں سڑکیں، دفاتر اور یونیورسٹیاں بند رہیں جبکہ 40 کے قریب مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے مظاہروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے نتیجے میں ’حماس کے موقف کو تقویت ملے گی‘اور صرف یرغمالیوں کی رہائی کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگا۔

    یہ مظاہرے اسرائیل کی جنگی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور اس کی آبادی کو وہاں سے بے دخل کرنے کے حق میں ووٹ دینے کے ایک ہفتے بعد سامنے ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اسرائیل کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔

    حماس کے زیرانتظام شہر کی میونسپلٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے منصوبے کے اعلان کے کے بعد سے ہزاروں باشندے غزہ شہر کے جنوبی زیتون محلے سے نقل مکانی کر کے جا چکے ہیں جہاں کئی دنوں سے مسلسل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک ’المناک‘ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

    اسرائیل غزہ شہر سے دس لاکھ افراد کو زبردستی بے دخل کر کے انھیں جنوب میں کیمپوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس نے اس بات کا صحیح ٹائم ٹیبل فراہم نہیں کیا ہے کہ اس کی افواج غزہ شہر میں کب داخل ہوں گی۔

    Protesters block a road in Tel Aviv

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتل ابیب میں مظاہرین ںے ایک سڑک بلاک کر رکھی ہے۔