امریکہ، یورپی یونین اور
10 دیگر ممالک کے لبنان میں جنگ بندی کے مطالبے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنی تجویز پر
عملدرآمد کے لیے قریقین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
رات میں زوم پر ہونے والی
ایک بریفنگ کے دوران صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے سینیئر حکام نے صحافیوں کو
بتایا کہ جنگ بندی کی تجویز کا اعلان ایک اہم ’پیشرفت‘ ہے۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ
کی قیادت میں اہم یورپی ممالک اور عرب ریاستوں کا جنگ بندی کی تجویز پر متفق ہونا
ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی
ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ سے لڑائی کو روکنے اور 21 روز جنگ بندی کی درخواست
کی ہے تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ان ممالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2006
میں اقوامِ متحدہ میں منظور کی گئی قرار داد کے تحت اسرائیل اور لبنان کے درمیان
تنازع کو حل کیا جائے۔
ان ممالک کی جانب سے غزہ
میں بھی جنگ بندی کے معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس وقت امریکہ اور اس کے
اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جا ری کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ابھی دنیا بھر
کے ممالک کے سربراہان اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود
ہیں۔
لیکن امریکی حکام کی جانب
سے ’پیشرفت‘ کے دعوے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی کے
لیے تیار ہیں۔
لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے
جیسے امریکی حکام دونوں فریقین پر دباؤ ڈالنے اور جنگ بندی کے حوالے سے اپنے
منصوبے کو باوزن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جب پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل
اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہیں تو ایک امریکی سینیئر افسر نے کہا کہ: ’میں یہ
بتا سکتا ہوں کہ ہماری فریقین سے بات چیت ہوئی ہے اور ہمیں محسوس ہوا کہ یہ (جنگ
بندی کے) مطالبے کے لیے صحیح وقت ہے، انھیں اس تحریر (مشترکہ اعلامیے) کے بارے میں
علم ہے۔ ہم چاہیں گے کہ وہ آنے والے گھنٹوں میں اپنے عمل ذریعے اس ڈیل پر اتفاق
کرلیں۔‘
حزب اللہ اور امریکہ کے
درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔ سینیئر امریکی افسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے
اپنی تحریر پر اسرائیلی حکام اور لبنان کی حکومت سے بات چیت کی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے لبنانی حکومت
حزب اللہ سے بات چیت کرے گی۔
اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے
کی شرط پر امریکی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی
حکومتیں اسے (جنگ بندی کو) قبول کرلیں گی تو دونوں طرف جنگ بندی ہو جائے گی۔‘
اس بات میں وزن تو نظر آ رہا
تھا لیکن اس زوم کال کے بعد جب صبح سفارتکار سو کر اُٹھے تو انھیں لبنان میں مزید
اسرائیلی فضائی حملوں اور اسرائیل میں حزب اللہ کے مزید راکٹ حملوں کی خبریں ملیں۔
یہ ہفتہ لبنان کے لیے
انتہائی خونی ثابت ہوا ہے کیونکہ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں
اب تک 50 بچوں سمیت 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کیا جنگ بندی کا منصوبہ
کامیاب ہو سکتا ہے؟
جنگ بندی کے حوالے سے
ابتدائی آثار اچھے نہیں ہیں۔ جمعے کو اقوامِ متحدہ کی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے
والے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر سے جو بیان جاری ہوا ہے اسے
دیکھ کر لگتا ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک کسی بھی معاہدے یا تجویز سے اتفاق نہیں کیا
ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے
دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو نے اپنی فوج کو ’پوری قوت کے ساتھ‘
لڑائی جاری رکھنے کے احکامات دیے ہیں۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب
میقاتی نے بھی ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ لبنان نے جنگ بندی
پر اتفاق کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات ’مکمل جھوٹ‘ پر مبنی ہیں۔
امریکہ اور اتحادی ممالک
کی جانب سے جاری کیا جانے والا مشترکہ اعلامیہ دراصل اسرائیل اور حزب اللہ پر بین
الاقوامی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ لڑائی کو رُکوایا جا سکے۔
اس معاہدے پر رواں ہفتے
نیویارک میں مزید کام ہوگا اور یہ آگے بھی جاری رہے گا۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں ’فوری جنگ بندی‘ کے الفاظ
استعمال کیے ہیں۔
خیال رہے اسرائیل پر حماس
کے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں متحرک
انداز میں ان قراردادوں کو بلاک کیا تھا جن میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا
گیا تھا اور پھر اچانک صدر بائیڈن نے جنگ بندی کے الفاظ ادا کیے اور امریکہ کی اس
معاملے پر پوزیشن تبدیل ہو گئی۔
اس کے بعد سے امریکہ
سفارتی عمل کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے
تبادلے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
امریکہ کا الزام ہے کہ حماس
اور اسرائیل میں ’سیاسی فیصلہ کرنے کی طاقت‘ کا فقدان ہے۔ دوسری جانب امریکہ
اسرائیل کو ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔
ان تمام چیزوں کو دیکھتے
ہوئے اس بات کی توقع کرنا ذرا مشکل ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل اور حزب
اللہ کو دباؤ کے ذریعے جنگ بندی کے لیے راضی کر سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب گراؤنڈ
پر لڑائی جا ری ہے، اسرائیلی فضائی حملے ہو رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے پیجر حملوں کے
بعد حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن حزب اللہ اور اسرائیل
کے درمیان معاہدہ غزہ سے مختلف ہوگا کیونکہ غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے دوران
یرغمالیوں کے تبادلے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے، لیکن حزب اللہ اور
اسرائیل کے درمیان کسی بھی مذاکرات میں یرغمالیوں کا کوئی ذکر نہیں۔
لیکن اس لڑائی میں دونوں
فریقین کو ہی اپنے مقاصد عزیز ہیں۔ اسرائیلی اپنے شمالی علاقے میں نقل مکانی کرنے
والے 60 ہزار لوگوں کو باحفاظت واپس اپنے گھر بھیجنا چاہتا ہے جہاں انھیں لبنان سے
راکٹ حملوں کا ڈر نہ ہو۔
دوسری جانب حزب اللہ لبنان
میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کا خاتمہ چاہتی ہے کیونکہ وہاں تقریباً 90 ہزار
افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔
لبنانی تنظیم چاہے گی کہ
ملک میں اس کی برتری اور اس کے جنوبی حصے میں اس کی موجودگی برقرار رہے۔ ان کی
کوشش یہ بھی ہوگی کہ گذشتہ ہفتے کے حالات و واقعات کے سبب مسالک کی بنیاد پر تقسیم
ملک کے اندر اس کے خلاف مزاحمت نہ بڑھے۔
لبنان اور اسرائیل کے
تنازع کے حل کے لیے امریکہ نمائندہ خصوصی آموس ہوکسٹائن کی مہینوں پر محیط تمام
کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ امریکہ
اور اس کے اتحادی 21 دن کی جنگ بندی اس لیے چاہتے ہیں تاکہ اس وقفے کے دوران اس
تنازع کا کوئی دیر پا حل نکالا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی قرار داد
1701 پر عملدرآمد پر مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ حزب اللہ جنوبی
لبنان سے واپس چلی جائے اور ہتھیاروں کا استعمال چھوڑ دے۔
سنہ 2006 کے بعد سے
اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ایک دوسرے پر قرار داد 1701 کی خلاف ورزی کا الزام لگا
رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً
دو دہائیوں سے حل نہ ہونے والے اس معاملے کو ایک قلیل مدتی منصوبے کے تحت حل کرنے
کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جب میزائل گرنے کا سلسلہ
جاری ہو ایسے میں سفارتکاری سے اتنی توقع رکھنا شاید زیادہ سودمند ثابت نہ ہو۔