اقوام متحدہ میں پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے، ’کسی بھی انڈین جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر میں کشمیر کے تذکرے پر انڈیا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ پاکستان کی طرف سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ ہے۔ جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی انڈین جارحیت کا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں اقوام متحدہ میں انڈین سفارتکار بھاویکا منگلانندن نے کہا کہ ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر بزدلانہ حملہ کیا گیا ہے۔‘
بھاویکا نے شہباز شریف کی تقریر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے ذریعے چلایا جانے والا ملک جو دہشت گردی، منشیات کی تجارت اور بین الاقوامی جرائم کے لیے عالمی سطح پر بدنام ہے نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے۔‘
انڈین سفارتکار نے کہا کہ ’جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘
انڈیا کی سفارتکار نے کہ ’اس نے ہماری پارلیمنٹ، ہمارے مالیاتی دارالحکومت ممبئی، بازاروں اور مقدس مقامات کے راستوں پر حملہ کیا ہے۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ اس طرح کے ملک کے لیے کہیں بھی تشدد کی بات کرنا سب سے بڑی منافقت ہے۔‘
’یہ ایک ایسے ملک کے لیے اور بھی عجیب ہے جس کے انتخابات میں دھاندلی کی تاریخ ہے اور وہ سیاسی آپشنز کی بات کر رہے ہیں۔‘
شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مزید کیا کہا؟
جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین کے عوام کی طرح جموں و کشمیر کے لوگ بھی اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے ایک صدی سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ’امن کی طرف بڑھنے کے بجائے انڈیا جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے وعدوں سے گریزاں ہے، یہ قراردادیں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے بنیادی حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے حامل استصواب رائے کا اختیار دیتی ہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے انڈیا نے جموں و کشمیر کے لیے بدقسمتی سے ان کے رہنماؤں کے بقول ’حتمی حل‘ کو مسلط کرنے کے لیے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں، نو لاکھ بھارتی فوجی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو طویل کرفیو، ماورائے عدالت قتل اور ہزاروں نوجوان کشمیریوں کے اغوا جیسے خوفناک اقدامات سے خوفزدہ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کے تحت انڈیا کشمیریوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کر رہا ہے اور باہر کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے، یہ دقیانوسی حربہ تمام قابض طاقتوں نے استعمال کیا لیکن یہ ہمیشہ ناکام رہا، جموں و کشمیر میں بھی یہ ناکام ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام اس غلط ہندوستانی شناخت کو مسترد کرنے میں پرعزم ہیں جو نئی دہلی ان پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ہر گھڑی ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی وحشیانہ جبر و استبداد کی پالیسی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ برہان وانی کی میراث لاکھوں کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو تحریک دیتی رہے گی، اپنی بے مثال جدوجہد کے جائز ہونے سے تحریک حاصل کر کے وہ نڈر انداز میں اپنے راستے پر کاربند ہیں، ان کی دل دہلا دینے والی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسانی زندگی چھپی ہوئی ہے، ایک خواب منتظر اور ایک امید بکھری ہوئی ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انڈیا اپنی عسکری صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر توسیع میں مصروف عمل ہے جو درحقیقت پاکستان کے خلاف صف آرائی ہے، اس کے جنگی نظریے، ایک اچانک حملے اور ’جوہری پھیلاؤ کے تحت محدود جنگ‘ کے تصور کے حامل ہیں، ہندوستان نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان کی ایک باہمی ’سٹریٹجک ریسٹرینٹ رجیم‘ کی تجاویز کو ٹھکرا دیا ہے، اس کی قیادت نے اکثر لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے اور آزاد کشمیر پر ’قبضہ‘ کرنے کی دھمکی دی ہے۔