آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی رہبر اعلیٰ کا حسن نصر اللہ کے ’خون کا بدلہ‘ لینے کا اعادہ، اسرائیل نے حساب برابر کر دیا: نیتن یاہو

حزب اللہ نے ایک بیان میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حسن نصر اللہ کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ’حساب برابر کر دیا۔‘

خلاصہ

  • حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سربراہ حسن نصر اللہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت جمعے کو بیروت میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ہوئی۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ کے 'خون کا بدلہ' لینے کا اعادہ کیا ہے۔
  • اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حسن نصر اللہ کی موت کے بعد حساب برابر ہو گیا۔
  • عراق کے وزیر اعظم نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اقوام متحدہ میں پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے، ’کسی بھی انڈین جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا‘

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر میں کشمیر کے تذکرے پر انڈیا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ پاکستان کی طرف سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ ہے۔ جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی انڈین جارحیت کا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں اقوام متحدہ میں انڈین سفارتکار بھاویکا منگلانندن نے کہا کہ ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر بزدلانہ حملہ کیا گیا ہے۔‘

    بھاویکا نے شہباز شریف کی تقریر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے ذریعے چلایا جانے والا ملک جو دہشت گردی، منشیات کی تجارت اور بین الاقوامی جرائم کے لیے عالمی سطح پر بدنام ہے نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے۔‘

    انڈین سفارتکار نے کہا کہ ’جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کو اپنے پڑوسیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘

    انڈیا کی سفارتکار نے کہ ’اس نے ہماری پارلیمنٹ، ہمارے مالیاتی دارالحکومت ممبئی، بازاروں اور مقدس مقامات کے راستوں پر حملہ کیا ہے۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ اس طرح کے ملک کے لیے کہیں بھی تشدد کی بات کرنا سب سے بڑی منافقت ہے۔‘

    ’یہ ایک ایسے ملک کے لیے اور بھی عجیب ہے جس کے انتخابات میں دھاندلی کی تاریخ ہے اور وہ سیاسی آپشنز کی بات کر رہے ہیں۔‘

    شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مزید کیا کہا؟

    جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین کے عوام کی طرح جموں و کشمیر کے لوگ بھی اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے ایک صدی سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ’امن کی طرف بڑھنے کے بجائے انڈیا جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے وعدوں سے گریزاں ہے، یہ قراردادیں جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے بنیادی حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے حامل استصواب رائے کا اختیار دیتی ہیں۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے انڈیا نے جموں و کشمیر کے لیے بدقسمتی سے ان کے رہنماؤں کے بقول ’حتمی حل‘ کو مسلط کرنے کے لیے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں، نو لاکھ بھارتی فوجی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو طویل کرفیو، ماورائے عدالت قتل اور ہزاروں نوجوان کشمیریوں کے اغوا جیسے خوفناک اقدامات سے خوفزدہ کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کے تحت انڈیا کشمیریوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کر رہا ہے اور باہر کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے، یہ دقیانوسی حربہ تمام قابض طاقتوں نے استعمال کیا لیکن یہ ہمیشہ ناکام رہا، جموں و کشمیر میں بھی یہ ناکام ہو گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام اس غلط ہندوستانی شناخت کو مسترد کرنے میں پرعزم ہیں جو نئی دہلی ان پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ہر گھڑی ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی وحشیانہ جبر و استبداد کی پالیسی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ برہان وانی کی میراث لاکھوں کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو تحریک دیتی رہے گی، اپنی بے مثال جدوجہد کے جائز ہونے سے تحریک حاصل کر کے وہ نڈر انداز میں اپنے راستے پر کاربند ہیں، ان کی دل دہلا دینے والی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک انسانی زندگی چھپی ہوئی ہے، ایک خواب منتظر اور ایک امید بکھری ہوئی ہے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ انڈیا اپنی عسکری صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر توسیع میں مصروف عمل ہے جو درحقیقت پاکستان کے خلاف صف آرائی ہے، اس کے جنگی نظریے، ایک اچانک حملے اور ’جوہری پھیلاؤ کے تحت محدود جنگ‘ کے تصور کے حامل ہیں، ہندوستان نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان کی ایک باہمی ’سٹریٹجک ریسٹرینٹ رجیم‘ کی تجاویز کو ٹھکرا دیا ہے، اس کی قیادت نے اکثر لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے اور آزاد کشمیر پر ’قبضہ‘ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

  2. آج صبح لبنان سے اسرائیل پر 10 میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر کی علی الصبح لبنان سے داغے گئے 10 راکٹوں کو فضا میں مار گرایا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ راکٹوں کو روک دیا گیا، تاہم بیان میں کسی نقصان یا زخمی ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسراییلی فوج لبنان میں حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچےکو نقصان پہنچانے کےلیے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔'

  3. امریکہ سمیت کوئی اسرائیل کو نہیں روک سکتا: جوزف بوریل

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ سمیت کوئی بھی طاقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو ’روک‘ نہیں سکتی۔

    جوزف بوریل نے نیو یارک میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم جنگ بندی کے لیے تمام سفارتی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی نتن یاہو کو روکنے کے قابل نہیں ہے، نہ غزہ میں اور نہ ہی مغربی کنارے میں‘۔

    بوریل نے کہا کہ نتن یاہو نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیلی ’اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک حزب اللہ کو تباہ نہیں کر دیا جاتا‘۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’اگر تباہ ہونے کی تشریح حماس جیسی ہی رہی تو ہم ایک طویل جنگ کی طرف جائیں گے۔‘

    انھوں نے امریکہ اور فرانس کے 21 روزہ جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کی۔

  4. بیروت حملے نے مغرب کو بے بس کر دیا, جریمی بوون، یروشلم میں بین الاقوامی مدیر

    امریکیوں کے پاس کسی بھی فریق کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بہت کم داؤ پیچ ہیں۔ وہ قانون کے مطابق حزب اللہ اور حماس سے بات نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

    چونکہ امریکی انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، اس لیے ان کے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے امکانات گذشتہ سال کے مقابلے میں اور بھی کم ہیں۔

    گذشتہ اکتوبر میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت اور فوج کے اہم افسران حزب اللہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لبنان میں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن حملہ کر سکتے ہیں۔

    امریکیوں نے انھیں ایسا نہ کرنے پر قائل کیا اور دلیل دی کہ اس سے پورے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اسرائیل کے لیے کسی بھی ممکنہ سکیورٹی فائدے کو ختم کر سکتی ہے۔

    لیکن جس طرح اسرائیل لڑ رہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران نتن یاہو نے صدر جو بائیڈن کی خواہشات کو نظر انداز کرنے کی عادت بنا لی۔

    بیروت پر حملے میں استعمال ہونے والے طیارے اور بم اسرائیل کو فراہم کرنے کے باوجود صدر بائیڈن اور ان کی ٹیم تماشائی بنی ہوئی تھی۔

    مغربی سفارت کار جن میں اسرائیل کے کٹر ترین اتحادی بھی شامل ہیں، معاملات کو پرسکون کرنے کی امید کر رہے تھے اور اسرائیل پر زور دے رہے تھے کہ وہ سفارتی حل کو قبول کرے۔

    اب وہ صورتحال کو مایوسی اور بے بسی کے احساس سے دیکھ رہے ہوں گے۔

  5. حسن نصراللہ: لبنان کو اپنی مٹھی میں لینے والے حزب اللہ کے سربراہ کون ہیں؟

    حسن نصراللہ ایک شیعہ عالم ہیں جو لبنان میں حزب اللہ گروپ کے رہنما ہیں۔ اس گروپ کو اس وقت لبنان کی اہم ترین سیاسی جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے جس کا اپنا مسلح ونگ بھی ہے۔

    حسن نصراللہ، جو لبنان اور دیگر عرب ممالک دونوں میں مقبول ہیں، حزب اللہ کا مرکزی چہرہ سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے اس گروہ کی تاریخ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    ان کے اسلامی جمہوریہ ایران اور علی خامنہ ای کے ساتھ بہت قریبی اور خصوصی تعلقات ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ حزب اللہ کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا، نہ تو ایران کے رہنماؤں اور نہ ہی نصر اللہ نے اپنے قریبی تعلقات کو کبھی چھپایا۔

    حسن نصراللہ کے جتنے پرجوش پرستار ہیں اتنے ہی ان کے دشمن بھی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت کے خوف سے برسوں سے عوام کے سامنے نہیں آئے۔ لیکن اس وجہ سے ان کے مداح ان کی تقریروں سے محروم رہتے تھے۔

  6. پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

    پاکستان تحریک انصاف کے جلسے یا کسی ممکنہ احتجاج سے قبل ہی حکومت پنجاب نے راولپنڈی ڈویژن میں دو دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے رینجرز بھی طلب کر لی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب سے جاری حکم نامے کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران راولپنڈی ڈویژن میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی، جبکہ اسلحہ رکھنے اور نمائش پر بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ 23 ستمبر کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ 28 ستمبر کو راولپنڈی میں جلسہ کریں گے جس کے این او سی کے لیے درخواست جمع کروا دی ہے۔

    سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں نئے توشہ حانہ مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 ستمبر کو ان کی جماعت راولپنڈی میں جلسہ نہیں احتجاج کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست واپس لے رہے ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے حکومت نے جلسے کی اجازت نہیں دینی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اجازت دی بھی تو شہر سے باہر دینگے اس لیے جلسے کے بجائے اب ہم راولپنڈی میں سنیچر کے روز بھرپور احتجاج کریں گے۔ عمران خان نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    عمران خان کی طرف سے جلسے کو احتجاج میں بدلنے کی کال کے بعد تحریک انصاف نے باقاعدہ ابھی تک اس جلسے کی منسوخی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ البتہ پنجاب حکومت کی طرف سے دفعہ 144 کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی میں جلسے جلسوس اور اجتماعات پر پابندی کا اطلاق ہفتہ 28 ستمبر اور اتوار 29 ستمبر کو ہوگا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان کو پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔

    راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال میں دفعہ 144 نافذ ہوگی جبکہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز کی چھ کمپنیاں تعینات ہوں گی۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر کا راولپنڈی آمد کا اندیشہ ہے اس لیے امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈویژن میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔

    تحریک انصاف کے جلسے یا ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے جڑواں شہروں کی پولیس کی مشترکہ حکمت عملی تیار

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے کیے جانے والے جلسے یا ممکنہ احتجاج کی صوررت میں راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس نے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔

    ان کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت ضلع راولپنڈی کو 25 جبکہ اسلام آباد کو نو مقامات سے مکمل سیل کیا جائے گا۔

    فتح جنگ ٹول پلازہ، کچہ سٹاپ، گلزار قائد، شمس آباد، فیض آباد، ائی جے پی روڈ، ڈبل روڈ، کٹاریاں پل، پنڈورا چونگی، کھنہ پل سمیت دیگر مقامات کو سیل کیا جائے گا۔

    اسلام آباد کو ٹی چوک، کورال، کھنہ، فیض آباد، آئی جے پی جنکشن، 26 نمبر، گولڑہ موڑ، بی 17, مارگلہ کٹ جی ٹی روڈ سے مکمل سیل کیا جائے گا۔ تمام راستوں کو تین ٹیئرز میں کنٹینرز, ڈمپرز، لوڈڈ ٹرک اور خار دار تاروں کی مدد سے بند کیا جائے گا۔

    راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں 4000 سے زائد افسران اور اہلکار اینٹی رائٹ سامان کے ساتھ فرائض سر انجام دیں گے۔ راولپنڈی کے 31 مختلف مقامات پر اضافی پکٹس بنائی جائیں گی۔ ہر پکٹ پر ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز نفری کے ہمراہ مامور ہوں گے۔

    پنجاب پولیس کی معاونت کے لیے ایلیٹ فورس اور پیٹرولنگ یونٹ کو ایمٹی رائٹ سامان مہیا کیا جائے گا۔ اسلام آباد پولیس کی نفری لا اینڈ آرڈر سمیت پی ٹی آئی کے احتجاج کرنے والے کارکنان کو گرفتار کرے گی۔ ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد، ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی اور ایس ڈی پی اوز سمیت اسلام آباد کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز فیلڈ میں موجود ہوں گے۔

    پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ایسے میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو خراب کرنے والے افراد کی گرفتاری فوری عمل میں لائی جائے گی۔

  7. حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کا بیروت کی عمارتوں پر حملہ، متعدد رہنماؤں کی ہلاکت کے دعوے

    ایک امریکی عہدیدار نے بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے جمعے کے روز بیروت میں کیے گئے فضائی حملوں کا ہدف حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ تھے تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نصراللہ اس حملے میں نشانہ بنے یا نہیں۔

    امریکی عہدیدار لبنانی میڈیا کی ان خبروں کی بھی تصدیق نہیں کر سکے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حزب اللہ کے دیگر سینئر رہنما بھی مارے گئے ہیں۔

    عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے تنازع کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

    ان حملوں میں شہر کے جنوب میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ دہیہ میں کئی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان ایڈمرل ڈینیئل ہاگری نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر ’انتہائی درست‘ حملہ کیا گیا۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 91 زخمی ہوئے ہیں۔

    سنیچر کے روز صبح سویرے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے کمانڈر، اس کے نائب اور پارٹی کے کئی رہنما ایک فضائی حملے میں مارے ہیں۔

    فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی فورسز نے ’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے کمانڈر محمد علی اسماعیل اور ان کے نائب حسین احمد اسماعیل کو ہلاک کر دیا‘۔

    فوج نے ابراہیم محمد قباسی اور "حزب اللہ کے راکٹ اور میزائل سسٹم کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں" کی ہلاکت کا بھی اعلان کیا۔

    حزب اللہ نے رہنماؤں کے حوالے سے اسرائیلی اعلان کی تصدیق یا تردید نہیں کی، جب کہ اس نے شہری عمارتوں میں اسلحے کے ذخیرے کی موجودگی کے بارے میں اسرائیل کے ’الزامات‘ کی تردید کی اور کہا’اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    نتن یاہو نے حزب اللہ کو شکست دینے کا عہد کیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کو شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ پر حملے جاری رکھے گا تاکہ شمالی اسرائیل میں تقریبا 70 ہزار بے گھر اسرائیلیوں کو ان کے گھروں میں واپس بھیجنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

    ان کے دفتر نے کہا کہ وہ نیو یارک کا اپنا دورہ مختصر کر رہے ہیں اور اسرائیل واپس جا رہے ہیں۔

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا کو اسرائیل کی جانب سے دہیہ پر حملے کے بارے میں پیشگی کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔

    دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے مطابق جو بائیڈن نے پینٹاگون کو حکم دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کو ضرورت پڑنے پر ’ایڈجسٹ‘ کرے۔ بائیڈن نے خطے میں امریکی سفارت خانوں کو حکم دیا کہ وہ مناسب طور پر تمام حفاظتی اقدامات کریں۔

  8. کیا مشرقی وسطی کی جنگ کے دنیا میں پھیلنے کے خدشات ہیں؟, جیرمی بوون کا تجزیہ

    ابھی آگے بڑے فیصلے ہونا ہیں۔

    سب سے پہلے حزب اللہ اور اس کے رہنما حسن نصراللہ کے نقطہ نظر سے، جو غالباً آج کے اسرائیلی حملے کا ہدف تھے اور جنھوں نے اپنے تقریباً تمام اعلیٰ فوجی افسران کو کھو دیا ہے۔

    انھیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھیں تنظیم کے باقی بچے ہوئے ہتھیاروں کے ساتھ کیا کرنا ہے، کیا وہ اسے اسرائیل کے خلاف اس طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح اسرائیل میں بہت سے لوگوں کو ڈر ہے؟

    اور اسرائیلیوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ آگے کیا ہونا ہے۔ وہ پہلے ہی لبنان کے خلاف زمینی آپریشن کے بارے میں کہہ چکے ہیں، اور جب کہ انھوں نے ابھی تک تمام عسکری وسائل کو متحرک نہیں کیا ہے جس کی انھیں ضرورت ہو سکتی ہے، یہ وہ چیز ہے جو بالکل ان کے ایجنڈے پر ہے۔

    چنانچہ مغرب میں اسرائیل کے اتحادیوں میں سے وہ سفارت کار، جو حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، میرے خیال میں اب واقعات کو بہت مایوسی اور بے بسی کے احساس سے دیکھ رہے ہوں گے۔

    اور مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی اس جنگ کے امکانات کے بارے میں وہ تمام خدشات نہ صرف یہاں بلکہ پوری دنیا کی وزارت خارجہ میں ہوں گے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اس کا ہاتھ اوپر ہے اور وہ اپنے فائدے کو گھر تک لانا چاہتا ہے۔

  9. اسرائیلی حملہ تنازعے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے جو ’صورتحال کو تبدیل‘ کر دے گا: ایرانی سفارت خانہ

    ایران نے اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ حملہ خطرناک کشیدگی کو بڑھانے کے مترادف ہے جو صورتحال کو تبدیل‘کر دے گا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ حملہ خطرناک کشیدگی بڑھائے گا جو صورتحال کو تبدیل کر دے گا‘ اور ’اس کے منصوبہ سازوں کو مناسب سزا دی جائے گی۔‘

  10. امریکہ کو اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پینٹاگون

    پینٹاگون کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں امریکہ ملوث نہیں ہے اور اس کے پاس اس حملے کی پیشگی اطلاع بھی نہیں تھی۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز نے پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کو اس حملے کے متعلق علم نہیں تھا۔

    تاہم پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈیفنس سیکرٹری لائڈ آسٹن نے اسرائیلی وزیر دفاع سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ ترجمان پینٹاگون نے اس آپریشن سے متعلق مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے اور نہ ہی اس بارے میں بتایا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ زندہ ہے یا حملے میں ہلاک ہو گئے۔ تاہم حزب اللہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ زندہ اور محفوظ ہیں۔

  11. بریکنگ, بیروت میں متعدد دھماکے، اسرائیل کا حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیروت میں حزب اللہ کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر شہر کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں قائم تھا۔

    اس حملے کے دوران بیروت میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں اور شہر لرز اٹھا ہے۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ 76 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اس بارے میں بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ اس حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    جبکہ حزب اللہ کے ذرائع نے مختلف میڈیا کے اداروں کو بتایا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ زندہ اور محفوظ ہے تاہم حزب اللہ کی جانب سے براہ راست اس بارے میں کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔

    دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اپنا امریکہ کا دورہ مختصر کر کے اسرائیل واپس پہنچ رہے ہیں۔ جبکہ امریکی ادارے پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اسے اس حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

  12. مایوسی پھیلانے والے عناصر اجتماعی کوششوں سے شکست کھا چکے ہیں، آرمی چیف

    پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ وہ افراد جو معاشرے میں مایوسی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے تھے، تمام سٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششوں سے شکست کھا چکے ہیں۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دورہِ کراچی میں تاجر برادری سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔

    انھوں نے برادر اور دوست ممالک خاص طور پر چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پاکستان کی معاشی بحالی میں کئی شعبوں میں مدد پر بھی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے پاس مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوم کو پاکستان کے روشن مستقبل پر مکمل یقین اور اعتماد ہونا چاہیے، پاکستان، اللہ کے حکم سے، اپنے حقیقی مقام تک پہنچے گا۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو معاشرے میں مایوسی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے تھے، تمام سٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششوں سے شکست کھا چکے ہیں۔

    آرمی چیف نے کراچی کی کاروباری برادری سے بھی ملاقات کی اور ملک کی اقتصادی ترقی میں ان کے کردار کو سراہا، جبکہ شرکا نے ’ایس آئی ایف سی‘ کی کارکردگی کی تعریف کی اور ملکی معیشت میں مثبت پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی مزید معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نےکراچی میں ’انوویسٹا انڈس آئی ٹی پارک‘ کا افتتاح بھی کیا۔

    یہ پارک پاکستان کے نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعلیم اور صنعت کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

  13. بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی۔45 پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کا انکشاف، ٹریبونل کا 15 پولنگ سٹیشنوں پر نئے ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں دوبارہ انتخاب کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان میں ایک الیکشن ٹریبونل نے کوئٹہ شہر سے عام انتخابات کے دوران صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی۔45 کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر پیمانے دھاندلی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن حلقے کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر ’صاف اور شفاف انتخابات کروانے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے‘ اور اسے نئے ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا ہے۔

    بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے قرار دیا ہے کہ ریٹرننگ افسر اور پولیس کی ملی بھگت سے بیلٹ بُکس اور انتخابی مواد غائب کیے گئے۔ ٹریبونل کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے اس سلسلے میں کوئی کاروائی نہیں کی۔

    2024 کے عام انتخابات میں پی بی۔45 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار علی مدد جتک کو کامیاب قرار پائے تھے۔

    ان کے مخالف جمیعتِ علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیدوار محمد عثمان پرکانی کی درخواست پر ٹریبونل نے علی مدد جتک کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے کے 15 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا ہے۔

    ’دو پولنگ اسٹیشنوں سے بیلٹ بُکس کی گمشدگی کی نشاندہی‘

    الیکشن ٹریبونل نے پی بی۔45 کے دو پولنگ سٹیشنوں سے بیلٹ بُکس اور دیگر انتخابی میٹیریئل کی گمشدگی کی نشاندہی کی ہے۔

    ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق الیکشن کے دن جب نواب بگٹی ہائی اسکول سریاب ملز کے پولنگ اسٹیشن پر پریزائیڈنگ آفیسر اور انتخابی عملے کے دوسرے لوگ پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ کمرے کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔

    ’وہاں پر موجود پولیس کے انچارج نے پولنگ عملے کو بتایا کہ آدھی رات کو ایس ایچ او نیو سریاب آئے اور وہاں سے الیکشن مواد لے گئے اور صبح ان کو واپس لائے۔‘

    فیصلے میں لکھا ہے کہ ’ان میں سے چار بیلٹ بُکس اور دیگر مواد غائب تھے۔ اسی طرج ڈی جی زراعت کے دفتر میں بنائے گئے پولنگ سٹیشن سے بھی پانچ بیلٹ بُکس غائب تھیں۔‘

    ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق پریزائڈنگ افسران نے ریٹرننگ افسر کو بیلٹ بُکس اور دیگر انتخابی مواد کی گمشدگی کے بارے میں تحریری چٹی لکھ کر دی لیکن ریٹرننگ افسر نے اس حوالے سے کوئی کاروائی نہیں کی۔

    ٹریبونل کا کہنا ہے کہ پولیس کے ایس ایچ او کی جانب سے پولنگ سٹیشن سے انتخابی مواد لے جانا غیر قانونی تھا۔

    ٹریبیونل نے اپنی رائے کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلٹ بکس کی گمشدگی ریٹرننگ افسر اور پولیس اہلکاروں کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔

    ’دو قسم کے فارم 45 پیش کیئے گئے‘

    الیکشن ٹریبونل کے مطابق انتخابی عزرداری کی سماعت کے دوران دو قسم کے فارم 45 پیش کیئے گئے: ایک کامیاب امیدوار کی جانب سے جبکہ دوسرا درخواست دہندہ اور بعض دیگر مدعا علیہان کی جانب سے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ اصلی فارم 45 وہ تھے جو ووٹوں کی گنتی کے فوراً بعد امیدواروں کے ایجنٹوں کے حوالے کیے گئے۔ ایسے فارم 45 پر امیدواروں کے ایجنٹوں کے دستخط تھے۔

    ٹریبونل کے مطابق جو فارم 45 کامیاب امیدوار کی جانب سے پیش کیے گئے ان پر امیدواروں کے ایجنٹوں نے سرے سے دستخط نہیں کیے تھے جبکہ ان کے نام اردو میں تحریر کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ان تمام فارم 45 میں سے زیادہ تر پر ایک ہی قلم کا استعمال کیا گیا تھا جبکہ ان پر کٹوتی بھی زیادہ تھی۔

    ٹریبیونل کے جج نے کہا کہ انھیں یہ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ جو فارم 45 کامیاب امیدوار کی جانب سے پیش کیے گئے وہ جعلی تھے۔

    ’15 پولنگ سٹیشنوں پر کامیاب امیدوار کے حق میں غیر فطری ووٹنگ‘

    الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق حلقے کے 49 پولنگ سٹیشنوں کے فارم 47 کے مطابق علی مدد جتک نے کل پانچ ہزار 671 ووٹ حاصل کیے۔ ان میں چار ہزار 911 ووٹ انھیں متنازعہ 15 پولنگ سٹیشنوں پر پڑے تھے۔ باقی 34 پولنگ سٹیشنوں سے کامیاب امیدوار کو محض 760 ووٹ ملے تھے۔

    ٹریبونل کے فیصلے میں کہا گیا کہ کامیاب امیدوار کے حق میں متنازعہ 15 پولنگ سٹیشنوں پر پڑنے والے ووٹوں کی شرح غیر فطری ہے۔

    ٹریبونل نے کہا کہ یہ حقیقت 15 پولنگ سٹیشنوں پر پڑنے والے ووٹوں کی شفافیت کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔

    ’الیکشن کمیشن دوبارہ انتخاب نئے ریٹرننگ افسر سے کروائے‘

    الیکشن ٹریبونل نے قرار دیا ہے کہ یہ بات عیاں ہے کہ حلقے میں بے قاعدگیاں اور غیر قانونی اقدامات مبینہ طور پر ریٹرننگ افسر کی ملی بھگت سے ہوئیں۔

    ٹریبونل نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ حلقے کے 15 پولنگ اسٹیشنوں پر فوری طور پر دوبارہ انتخاب کروائے۔

    تاہم ٹریبونل کی جانب سے کمیشن کو ہدیات کی گئی ہے کہ دوبارہ انتخاب کے لیے نئے ریٹرننگ افسر، ڈپٹی ریٹرننگ افسر اور عملہ تعینات کیا جائے۔

  14. مخصوص نشستوں کا کیس: سپریم کورٹ تشریح کی آڑ میں آئین دوبارہ نہیں لکھ سکتی، الیکشن کمیشن

    سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس میں تفصیلی فیصلہ جاری کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے نظرثانی کیس میں مزید گزارشات جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ تشریح کی آڑ میں آئین دوبارہ نہیں لکھ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔

    الیکشن کمیشن اس مختصر حکم نامے کےخلاف نظرثانی درخواست دائر کردی تھی۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن رواں برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نظر ثانی درخواست پر فیصلہ ہونے تک عدالتی فیصلہ پر حکم امتناع جاری کیا جائے

    الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹکا مخصوص نشستوں کیس کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں اپنے 12 جولائی کے احکامات سے انحراف کیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے 41 ارکانِ اسمبلی کو تحریک انصاف تک محدود کردیا ہے۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ آزاد حیثیت سےمنتخب ہونے والے ارکان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہے، سپریم کورٹ نے 15 دن کی مہلت دے کر آئین کے الفاظ کو بدل دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی جمع کروائے لیکن عدالتی فیصلے میں ان بیان حلفیوں کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔

    کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے جمع کروائے گئے سرٹیفکیٹس درست بھی مان لیے جائیں تب بھی پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 39 نہیں بنتی۔

    الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کروائی ہیں وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشتوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تحریک انصاف نے کسی فورم پر اپنے حق کا دعوی نہیں کیا ہے۔

    کمیشن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دعویٰ نہ کرنے والے کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا ہے۔

  15. ایران میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں اسرائیل کے ’لمبے ہاتھ‘ نہ پہنچ سکیں: بنیامن نیتن یاہو

    جمعے کے روز جب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے آئے تو ہال میں بیٹھے کچھ افراد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

    جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں اسرائیل کے ’لمبے ہاتھ‘ نہ پہنچ سکیں اور ’یہ بات پورے مشرق وسطیٰ کے لیے سچ ہے۔‘

    انھوں نے ایران کو متنبہ کیا کہ ’اگر تم ہمیں مارو گے تو ہم بھی تمہیں ماریں گے۔‘

    اپنے خطاب کے دوران نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ عسکری گروہ حماس کے ’نصف سے زیادہ‘ ارکان کو مارے یا پکڑے جا چکے ہیں اور ان کی بٹالین تباہ کی جاچکی ہیں۔

    نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو یہ جنگ فوراً ختم ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حزب اللہ پر حملے اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک شمالی اسرائیل کے 60,000 سے زائد شہری اپنے گھروں کو لوٹ نہیں جاتے۔

    نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ ان کا اس سال جنرل اسمبلی آنے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ ان کا ملک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن ان کے ملک کے خلف پھیلائے گئے ’جھوٹ اور بہتان‘ کے بعد انھیں آنا پڑا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدہ پر پہنچنے والے تھے لیکن پھر 7 اکتوبر کا واقعہ ہوگیا۔

    اپنی تقریر کے دوران انھوں نے اسرائیلی یرغمالیوں کے گھر والوں کو ایک پھر یقین دلایا کہ ان کی حکومت یرغمالیوں کی واپسی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

    نیتن یاہو نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل کے ساتھ دیگر اقوام کی طرح منصفانہ سلوک نہیں کیا جاتا، کوئی بھی اقوام متحدہ کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے اقوامِ متحدہ کو ’تاریک گھر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’یہود دشمنی کے اس دلدل میں، اکثریت یہودی ریاست کو غیر انسانی بنانے کے لیے تیار ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل یہ جنگ جیت کر رہے گا کیونکہ اُس کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

  16. شہباز شریف کا اقوامِ متحدہ سے خطاب: اسرائیلی جارحیت کو طول دینے والوں کے ہاتھ بھی غزہ کے بچوں کے خون سے رنگے ہیں

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ میں مارے جانے والے بچوں کا خون صرف اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پر نہیں بلکہ ان کے ہاتھوں پر بھی ہے جو اسرائیلی جارحیت کو طول دے رہے ہیں۔

    اپنے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی جارحیت جاری ہے جبکہ یوکرین جنگ نے بھی عالمی مسائل پیدا کئے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔ ان کہنا تھا کہ معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

    اپنی تقریر کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا، ’اسرائیلی جارحیت کو طوالت دینے والوں کے ہاتھ بھی غزہ کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف مذمت کرنا کافی نہیں ہے، ہمیں فوری طور پر اس خونریزی کو روکنا ہوگا۔

    لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ محض چند دنوں کے دوران اسرئیل کی بمباری سے لبنان میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اس کے بہت خطرناک نتائج ثابت ہو سکتے ہیں۔

  17. 72 گھنٹوں میں 30,000 سے زائد افراد لبنان سے شام نقل مکانی کر چکے ہیں: اقوامِ متحدہ

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 30,000 سے زائد افراد نے لبنان سے شام نقل مکانی کی ہے۔ ان میں تقریباً 80 فیصد شامی شہری ہیں۔

    شام میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے گونزالو ورگاس لوسا نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا نقل مکانی کرنے والے افراد جنگ زدہ ملک سے ایک ایسے ملک کی طرف جا رہے ہیں جو 13 سالوں سے بحران میں گھڑا ہوا ہے۔

    2011 سے شام کو اپنے ہی مہاجرین کے بحران کا سامنا ہے۔

    غزہ جنگ کے اغاز کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے باعث تقریباً 70,000 کے قریب شمالی اسرائیل کے شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں پیر سے اب تک تقریباً 90,000 لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد 110,000 افراد کے علاوہ جو پہلے ہی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

  18. شام پر حملہ حزب اللہ کو ایرانی ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے

    اس سے قبل ہم نے خبر دی تھی کہ شام اور لبنان کی سرحد پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے تنیجے میں پانچ شامی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے شام کے راستے حزب اللہ کو ایرانی ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

    رواں ہفتے کے آغاز میں میں اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل ٹومر بار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ اسرائیل حزب اللہ کی فوجی صلاحیت کو بری طرح نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا ہے لیکن اسے ابھی بھی حزب اللہ کی دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کو روکنے کی ضرورت ہے۔ شام کے راستے اسلحے کی فراہمی کو روکنا اس میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

    جمعرات کے روز اپنے افسران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ہم ایران سے لبنان ہتھیاروں کی منتقلی کے کسی بھی امکان کو روکنے جا رہے ہیں۔

  19. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد ملبے میں بچ جانے والوں تلاش جاری

    لبنان میں ریڈ کراس کی ٹیمیں صبح سے جنوبی لبنان کے شہر نباتیہ میں ملبے تلے لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ان کی چار ٹیمیں ایمبولینسوں کے ساتھ زخمیوں اور علاقے میں انخلا میں مدد کر رہی ہیں۔

    اس سے قبل شبعہ میں ایک حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں 92 افراد ہلاک ہوئے۔

  20. آئی ڈی ایف کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی تنصیبات پر درجنوں حملے کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی تنصیبات پر درجنوں حملے کیے ہیں۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایک لانچر کو نشانہ بنایا ہے جس سے آج صبح شمالی اسرائیل میں حیفہ اور کریوٹ کی طرف راکٹ فائر کیے گئے تھے۔

    حزب اللہ نے آج صبح دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حیفہ پر راکٹ فائر کیے تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ آج صبح لبنان سے فائر کیے جانے والے 10 میزائلوں کی نشاندہی کے بعد شمالی اسرائیل میں واقع تیبریاس اور حیفہ میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق کچھ میزائلوں کو روک لیا گیا جبکہ دیگر کھلے علاقوں میں گرے۔