جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے، عسکری ذرائع کا 104 مسافروں کی بازیابی اور 16 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

بلوچستان میں درۂ بولان کے علاقے ڈھاڈر میں جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 16 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ بازیاب ہونے والے 80 مسافر بذریعہ ٹرین مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔

خلاصہ

  • بلوچستان کے ضلع سبّی میں منگل کی سہ پہر نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
  • پاکستان کے عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اب تک 104 مسافروں کو شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے دوران 16 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
  • عسکری ذرائع کے مطابق دس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس میں اضافی نفری بھی حصہ لے رہی ہے۔
  • جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
  • ریلوے حکام کے مطابق یہ ٹرین نو بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں 400 سے زیادہ مسافر سوار ہیں۔
  • بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
  • وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بہت سارے مسافروں کو شدت پسند ٹرین سے لے کر پہاڑی علاقے میں لے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستانی سفیر کی امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کی تصدیق: ’سفارتکار ذاتی دورے پر لاس اینجلس پہنچے تھے‘، دفتر خارجہ

    امریکی امیگریشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی حکام کی جانب سے ایک پاکستانی سفارتکار کو ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے اور انھیں واپس بھیج دیے جانے کی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ سفارتکار نجی دورے پر امریکہ پہنچے تھے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستانی اور انڈین ذرائع ابلاغ میں ایک خبر سامنے آئی تھی جس میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا تھا کہ ترکمانستان میں پاکستان کے سفیر کے کے احسن وگن کو لاس اینجلس سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا سفیر کو امیگریشن اعتراضات کے باعث ڈی پورٹ کیا گیا۔ خبر کے مطابق کے کے احسن کے پاس امریکی ویزہ اور تمام ضروری سفری دستاویزات تھے اور وہ ذاتی دورے پر لاس اینجلس پہنچے تھے۔

    سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی امیگریشن سسٹم میں کے کے احسن کے ’متنازعہ ویزا ریفرنس‘ کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اعتراضات کیا تھے۔

  2. ماسکو اور گردونواح کے علاقوں پر ڈرون حملے، ایک شخص ہلاک

    ماسکو ڈرون

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات ماسکو شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی ہے جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

    ماسکو ریجن کے گورنر آندرے ووروبیف کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق روسی دارالحکومت سے متصل ودنوئے اور ڈومودیدوو قصبوں سے ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں میں ایک رہائشی عمارت کے سات اپارٹمنٹس کو نقصان پہنچا ہے۔

    ابتدائی طور پر روسی حکام کا کہنا تھا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    گورنر آندرے ووروبیف کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں زیرِ علاج دو زخمیوں کی حالت تشویوناک ہے۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے 73 ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ گرنے والے ڈرون کے ملبے سے ایک عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا ہے۔

    روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق گذشتہ رات روس کی حدود میں داخل ہونے والے 337 یوکرینی ڈرونز کو مار گرائے گئے۔

    حملے کے نتیجے میں ایک ضلعی ٹرین نیٹ ورک کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ماسکو کے ہوائی اڈوں پر پروازوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ فروری 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ روس پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    ماسکو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرینی اور امریکی حکام روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ٰرض سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

    گورنر ووروبیف نے سوشل میڈیا پر حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے اپارٹمنٹس اور جلی ہوئی گاڑیوں کی تصاویر شیئر کی ہیں۔ یہ تصاویر بظاہر ماسکو کے علاقے کے ایک کار پارک کی دکھائی دیتی ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    گورنر ووروبیف نے سوشل میڈیا پر حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے اپارٹمنٹس اور جلی ہوئی گاڑیوں کی تصاویر شیئر کی ہیں

    ،تصویر کا ذریعہt.me/vorobiev_liv

    ،تصویر کا کیپشنگورنر ووروبیف نے سوشل میڈیا پر حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے اپارٹمنٹس اور جلی ہوئی گاڑیوں کی تصاویر شیئر کی ہیں
  3. امریکی معیشت میں کسادبازاری کے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان، عالمی سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے ممکنہ کساد بازاری کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت اس وقت ’تبدیلی کے دور‘ سے گزر رہی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے ممکنہ کساد بازاری کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت اس وقت ’تبدیلی کے دور‘ سے گزر رہی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کے اعتراف کے بعد کہ امریکہ کی جانب سے دیگر ممالک پر ٹیرف کے اطلاق کے نتیجے میں امریکی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے، ایشیا کی سٹاک مارکیٹس میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

    ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے کساد بازاری کے امکان کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت اس وقت ’تبدیلی کے دور‘ سے گزر رہی ہے۔

    اتوار کے روز نشر ہونے والے امریکی صدر کے بیان کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور مشیران سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کی کوششیں بے سود دکھائی دیتی ہیں۔

    سرمایہ کاری بینک سیکسو سے منسلک چارو چنانا کا کہنا ہے کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک سٹاک مارکیٹ دوست صدر ہیں تاہم اب اس تصور کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ممگل کی صبح کاروبار کے آغاز پر جاپان کی سٹاک مارکیٹ نیکے 225 1.7 فیصد، جنوبی کوریا کی مارکیٹ 1.5 فیصد جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.7 فیصد مندی دیکھنے میں آئی۔

    سوموار کے روز نیو یارک میں امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیوں پر نظر رکھنے والی S&P 500 کاروبار کے اختتام پر 2.7 فیصد نیچے چلی گئی جبکہ ڈو جونز انڈسٹریل ایوریج میں دو فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    امریکی سٹاک بازاروں میں سب سے زیادہ نیس ڈیک متاثر ہوئی جو دن کے اختتام پر چار فیصد کمی پر بند ہوئی۔

    صدر ٹرمپ کے قریب سمجھے جانے والے ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کے حصص میں 15 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ مصنوعی ذہانت کی چپس بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے شیئر کی قیمت میں بھی پانچ فیصد سے زائد کی کمی ہوئی۔ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول میٹا، امیزون اور ایلفابیٹ کے حصص میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی فرم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹر کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنما ٹیرف کے حوالے سے ٹرمپ کی اگلی چال کے بارے میں اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ کار بھی اس بارے میں محض اندازے ہی لگا رہے ہیں اور مارکیٹ کے سنگین موڈ سے یہ واضح ہے۔

    ’اگرچہ کساد بازاری کی بات قبل از وقت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجہ خیز ہونے کا محض امکان ہی سرمایہ کاروں کو دفاعی ذہنیت میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔‘

  4. یوکرین کی جزوی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق ممکن ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اس تنازع کے خاتمے کے لیے یوکرین اور روس کو مشکل فیصلوں کے لیے تیار رہنا پڑے گا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اس تنازع کے خاتمے کے لیے یوکرین اور روس کو مشکل فیصلوں کے لیے تیار رہنا پڑے گا

    سعودی عرب میں یوکرین اور امریکہ کے درمیان منگل کے روز شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے ساتھ جنگ ​​کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی جزوی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کا امکان ہے۔

    سوموار کے روز امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ تجویز کافی نہیں ہے لیکن اس تنازع کے خاتمے کے لیے اس قسم کی رعایتیں ضروری ہیں۔

    دوسری جانب، ایک یوکرینی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا یے کہ مذاکرات کے دوران یوکرین کی جانب سے فضائی اور بحری جنگ بندی کی تجویز دیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل روس نے عارضی جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔ روس کا کہنا تھا کہ یہ یوکرین کے فوجی خاتمے کو ٹالنے کی کوشش ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سوموار کے روز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔ تاہم اس بات کا امکان نہیں کہ وہ یوکرین اور امریکہ کے وفود کے مابین ہونے والی بات چیت میں کوئی باضابطہ کردار ادا کریں۔

    سوموار کے روز اپنے ویڈیو خطاب میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات سے ’عملی نتائج‘ کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کا موقف ’تعمیری‘ ہو گا۔

    سوموار کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسوموار کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

    یوکرین کے وفد میں صدر زیلنسکی کے دفتر کے سربراہ اینڈری یرمک اور یوکرین کے قومی سلانتی کے مشیر کے علاوہ یوکرینی وزرا خارجہ و داخلہ بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت مارکو روبیو کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اس وفد میں قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی سفیر اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

    جدہ پہنچنے سے قبل جاری ایک بیان میں روبیو کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کے لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یوکرین کے ارادے کیا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازع کے خاتمے کے لیے یوکرین اور روس کو مشکل فیصلوں کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور یہ تنازع سفارتی طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

    روبیو کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے یوکرین کی فوجی امداد کی معطلی کا مسئلہ بھی جلد ہی حل ہو جائے گا۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی پر ماسکو کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں امریکہ کسی قسم کی سکیورٹی گارنٹی دینے کے لیے راضی نہیں۔

    دو ہفتے قبل وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنگ ختم کے لیے تیار نہیں۔ اس ناخوشگوار ملاقات کے بعد امریکہ نے یوکرین کی فوجی امداد معطل کردی تھی جبکہ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بھی روک دیا تھا۔

  5. شمالی برطانیہ کے ساحل کے نزدیک آئل ٹینکر اور سوڈیم سائینائیڈ سے لدے کارگو جہاز میں تصادم، آگ تاحال بجھائی نہیں جا سکی

    ہمبر ایسٹوریری کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز کے عملے کا ایک رکن اب بھی لاپتہ ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنہمبر ایسٹوریری کوسٹ گارڈ کے مطابق کارگو جہاز کے عملے کا ایک رکن اب بھی لاپتہ ہے

    سوموار کے روز شمالی برطانیہ کے ساحل کے نزدیک بحیرہ شمالی میں ایک بحری آئل ٹینکر اور کارگو جہاز کے درمیان ٹکر کے نتیجے میں لگنے والی آگ 17 گھنٹے بعد بھی بجھائی نہیں جا سکی۔

    ہمبر ایسٹوریری کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز کے عملے کا ایک رکن اب بھی لاپتہ ہے جبکہ تلاش کا کام روک دیا گیا ہے۔

    حادثے کا شکار ہونے والا آئل ٹینکر سٹینا امیکیولیٹ امریکہ میں رجسٹرڈ ہے اور امریکی فوج کے لیے طیاروں کا فیول لے کر جا رہا تھا جبکہ پرتگالی کارگو جہاز سولونگ پر انتہائی زہریلے کیمیکل موجود تھے۔

    میرین ٹریفک کے مطابق، سٹینا امیکیولیٹ یونانی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور ہمبر ایسٹوریری کے نزدیک لنگر انداز تھا۔

    سولونگ سکاٹ لینڈ کی بندرگاہ گرینج ماؤتھ سے ہالینڈ کے روٹرڈیم بندرگاہ کی جانب گامزن تھا اور حادثے کے وقت اس پر سوڈیم سائینائیڈ کے 15 کنٹینرز موجود تھے۔

    کوسٹ گارڈ کے ڈویشنل کمانڈر میتھیو ایٹکنسن کا کہنا ہے کہ 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو ہسپتال لے جایا گیا۔ حادثے میں لاپتہ ہونے والا شخص کارگو جہاز کے عملے کا رکن ہے۔

    آئل ٹینکر پر موجود ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ کارگو جہاز اچانک ہی سامنے آگیا اور سٹینا ایمیکیولیٹ سے ٹکرا گیا۔

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ،تصویر کا کیپشنآئل ٹینکر پر موجود ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ کارگو جہاز اچانک ہی سامنے آگیا اور سٹینا ایمیکیولیٹ سے ٹکرا گیا۔

    آئل ٹینکر پر موجود ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ کارگو جہاز اچانک ہی سامنے آگیا اور سٹینا ایمیکیولیٹ سے ٹکرا گیا۔

    اس بات کی تصدیق کے بعد کہ شمالی برطانیہ کے مشرقی ساحل کے نزدیک جہازوں کے تصادم کے نتیجے میں آئل ٹینکر سے کچھ جیٹ ایندھن سمندر میں لیک ہو گیا ہے، اس حادثے سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کا اندازہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانیہ کی میرین ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن برانچ کا کہنا ہے کہ انسپکٹرز اور عملے کی ایک ٹیم نے ثبوت اکٹھے کرنے شروع کر دیے ہیں اور ابتدائی جانچ جا رہی ہے۔

  6. کینیڈا کی سالمیت کو ہمسائے ملک سے خطرہ لاحق ہے: جسٹن ٹروڈو کا الوداعی خطاب

    Canada

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے معاشی پابندیوں کے تناظر میں کینیڈا کے وزیراعظم نے گذشتہ رات اپنے الوداعی خطاب میں کینیڈا کو درپیش خطرات پر کھل کر بات کی ہے

    کینیڈا کے وزیراعظم کے طور پر جسٹن ٹروڈو نے اپنے الوداعی خطاب میں امریکہ اور کینیڈا میں جاری تجارتی تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کینیڈا کی سالمیت کو اس کے ہمسائے سے خطرہ لاحق ہے۔

    جسٹن ٹروڈو کے بعد اب نو منتخب وزیرِ اعظم مارک کارنی اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے معاشی پابندیوں کے تناظر میں کینیڈا کے وزیراعظم نے گذشتہ رات اپنے الوداعی خطاب میں کینیڈا کو درپیش خطرات پر کھل کر بات کی ہے۔

    جسٹس ٹروڈو کی 16 برس کی بیٹی ایلا گریس ٹروڈو نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض نبھائے۔

    سوشل میڈیا پر ان کے والد سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اب انھیں آن لائن کم اور گھر پر زیادہ دیکھنا چاہتی ہوں۔‘

    اپنے الوداعی خطاب میں جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ انھیں گذشتہ دس برس پر فخر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اپنے کریئر کے آغاز پر یہ کہا تھا کہ وہ کھبی سیاست میں نہیں جائیں گے۔

    جسٹن ٹروڈو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشن53 برس کے جسٹن ٹروڈو نے 2015 میں کینیڈا کی حکمرانی سنبھالی تھی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے گذشتہ دس برس کے چیلنجز اور بحرانوں پر بات کی ہے

    جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ’آج کی رات ہمارے مستقبل سے متعلق ہے، ہماری پارٹی اور ہمارے ملک کے مستقبل کے بارے میں ہے۔

    53 برس کے جسٹن ٹروڈو نے 2015 میں کینیڈا کی حکمرانی سنبھالی تھی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے گذشتہ دس برس کے چیلنجز اور بحرانوں پر بات کی ہے۔

    اپنی تقریر میں انھوں نے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازع پر بھی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کینیڈا کو اپنے پڑوسی سے سالمیت کا خطرہ لاحق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آپ کے ملک کو آپ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ میں نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی ہے اور ہر دن کینیڈا کو ایسا ملک بنانے کی کوشش کی ہے جو ہر کینیڈا کے شہری کے لیے مثالی ملک ہو۔

  7. ’پاکستان میں پالیسی ریٹ یعنی شرح سود 22 سے 12 فیصد ہو گیا‘ صدر زرداری، اس شرح سود میں کمی کا عوام کو کیا فائدہ ہوتا ہے ؟, تنویر ملک ، صحافی

    شرح سود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآج سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملک میں پالیسی ریٹ یعنی شرح سود کو بارہ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دیا ہے۔ پاکستان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ طے کیا جاتا ہے جو ملک میں بینکوں کی جانب سے قرضے دینے کی شرح سود ہوتی ہے۔ بینکوں کی جانب سے صارفین کو جس شرح سود پر قرضہ فراہم کیا جائے گا اسے پالیسی ریٹ کہا جاتا ہے۔

    پاکستان میں 2023 میں شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جس کی وجہ ملک میں مہگائی کی بلند ترین 38 فیصد شرح تھی تاہم مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں کمی کے بعد شرح سود میں بتدریج کمی دیکھی گئی اور جنوری 2025 میں یہ بارہ فیصد تک آگئی۔

    پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جب شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا تو اس کے مطابق اس کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانا تھا۔

    ماہرین معیشت کے مطابق بلند شرح سود کے ذریعے مارکیٹ میں پیسے کی سپلائی کو کم کیا جاتا ہے تا کہ لوگوں کے پاس کم پیسہ ہو تو وہ کم خرچ کریں گے اور اس سے چیزوں کی قیمتوں میں کمی کو قابو پایا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے آج سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملک میں پالیسی ریٹ یعنی شرح سود کو بارہ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مالیاتی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے ملک میں شرح سود میں کمی کے فائدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کی بات کی جائے تو اس مالی سال میں حکومت کو مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بچت ہوتی ہے یعنی شرح سود میں کمی سے حکومت کی قرضوں کی ادائیگی پر سود میں بھی کمی ہو گی، جبکہ دوسری جانب نجی شعبے کو کاروبار کے لیے سستا قرضہ ملے گا جو کافی عرصے سے شرح سود میں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا اس سے عوام کا فائدہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب انڈسٹری کو کم ریٹ پر قرضہ ملے گا تو صنعتی شعبہ زیادہ قرضہ لے کر مزید کاروبار پھیلائے گا اور اس سے ملازمتیں پیدا ہوں گی تو اس کے ساتھ چیزوں کی فراہمی زیادہ ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کا مطلب ہے کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہو رہی ہے جس کا فائدہ عوام کو ہوتا ہے۔

  8. عوام مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، حکومت ریلیف دے: آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

    ASIF ZARDARI

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ،تصویر کا کیپشنآصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں اس پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔‘

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج عام آدمی، مزدور اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے شہری مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔‘

    آصف زرداری نے کہا کہ ’میں اس پارلیمنٹ اور حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ اگلے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔‘

    صدر مملکت نے کہا کہ ’حکومت کو آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے، تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کم کرنے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ملازمتوں میں کمی سے بچنا چاہیے، ہماری توجہ نوکریاں پیدا کرنے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے نتیجہ استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر آٹھویں بار خطاب کرنا میرا واحد اعزاز ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے۔‘

    صدرمملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے خوب نعرے بازی کی۔ خطاب شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج شروع کر دیا۔ شدید نعرے بازی کے باعث صدر نے کانوں پر ہیڈفون لگا لیے۔

    اپوزیشن کو مل کر کام کرنے کی دعوت

    آصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کو یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو قومی مفاد کو بالاتر رکھنے اور ذاتی و سیاسی اختلافات پشت ڈال کر معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔

    آصف زرداری نے کہا کہ ’ہمیں پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے عزم کے ساتھ کام کرنا ہے، ملک کو یکجہتی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔‘

    ’معیشت مستحکم ہوئی ہے‘

    آصف زرداری نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے، حکومت نے پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کیا ہے۔

    ان کے مطابق اس عرصے میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آئند ہے۔‘

    صدر آصف زرداری نے کہا کہ ’اب ہمیں عوامی خدمت کے شعبے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر بھرپور توجہ دینی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ملک میں گڈ گورننس اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا ہے، ٹیکس کے نظام میں مزید بہتر لانی ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’عوام نے پارلیمان سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، ہمیں عوام کی امیدوں پر پورا اترنا ہوگا۔‘

    آصف زرداری نے کہا کہ ملک میں سماجی انصاف کا فروغ ضروری ہے، عوامی بہبود کے منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی۔

  9. اسرائیل کا غزہ کی بجلی مکمل طور پر منقطع کرنے کا فیصلہ، حماس نے سستی بلیک میلنگ" کا انتباہ دیا

    Israel

    اسرائیل نے حماس پر دباو ڈالنے کی کوشش میں غزہ کی پٹی کی بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے۔

    وزیر توانائی ایلی کوہن نے یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والی اس پٹی کو انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی تمام اشیاء منقطع کرنے کے ایک ہفتے بعد کیا ہے۔

    انھوں نے اتوار کی شام نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ ’ہم یرغمالیوں کی واپسی کے لیے تمام آلات استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد 'ایک دن' غزہ میں حماس موجود نہ ہو۔‘

    بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ بنیادی طور پر ضروری ڈی سیلینیشن پلانٹس کے کام کو متاثر کرے گا، جو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے درکار ہیں۔

    حماس نے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک، ادویات اور پانی سے محروم کیے جانے کے بعد اس نے ’سستی اور ناقابل قبول بلیک میلنگ کی پالیسی کے ذریعے عوام اور ان کی مزاحمت پر دباؤ ڈالنے کی مایوس کن کوشش‘ کی ہے۔

  10. 30 کروڑ مستحق افراد میں اور ایک ارب 60 کروڑ ’خود پر خرچ کرنے والا‘ محکمہ زکوۃ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں محکمہ زکوٰۃ سالانہ مستحق افراد میں 30 کروڑ بانٹتا ہے تاہم دو سال سے یہ 30 کروڑ روپے تقسیم بھی نہیں ہوئے۔

    اس بات کا انکشاف وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو سائنس کالج کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    انھوں نے کہا کہ زکوٰۃ ہمارا ایک محکمہ ہے جس نے لوگوں میں سال میں 30 کروڑ روپے بانٹنا ہوتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس 30 کروڑ کو بانٹنے کے لیے محکمے پر سالانہ ایک ارب 60 کروڑ روپے خرچ کرنے ہوتے ہیں جس کے لیے فیول کے اخراجات کے ساتھ 80 گاڑہاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دو سال سے یہ 30 کروڑ روپے تقسیم بھی نہیں ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ قصور کسی اور کا نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ یہ قصور ہماری کلاس کا ہے۔

  11. کینیڈا کے نو منتخب وزیرِ اعظم مارک کارنی جنھیں صدر ٹرمپ کے ساتھ معاملات چلانے کا تجربہ ہے

    مارک کارنی بینک آف انگلینڈ کی 300 سالہ تاریخ میں گورنر بننے والے پہلے غیر برطانوی شخص تھے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمارک کارنی بینک آف انگلینڈ کی 300 سالہ تاریخ میں گورنر بننے والے پہلے غیر برطانوی شخص تھے۔

    برطانیہ کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ مارک کارنی کینیڈا کے اگلے وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

    کینیڈا کی وزارتِ عظمی کے دیگر امیدواروں کے بر عکس مارک کارنی کا سیاست میں کوئی تجربہ نہیں تاہم اس کے باوجود وہ باآسانی جسٹن ٹروڈو کی جگہ نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے۔

    مارک کارنی 1965 میں کینیڈا کے دور دراز علاقے فورٹ سمتھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں سکالرشپ پر ہارورڈ یونیوسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1995 میں انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    سنہ 2003 میں مارک کارنی نے نجی شعبے کی نوکری چھوڑ کر کینیڈا کے مرکزی بینک میں بطور ڈپٹی گورنر شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ محکمہ خزانہ میں سینیئر ایسوسی ایٹ ڈپٹی منسٹر تعینات ہوئے۔

    سنہ 2007 میں عالمی کسادبازاری کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل انھیں کینیڈا کے مرکزی بینک، بینک آف کینیڈا، کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔

    عالمی کسادبازاری کے دوران مرکزی بینک کے سربراہ کے طور پر ان کی کارکردگی کو کافی سراہا گیا اور انھیں ملک کو شدید معاشی مشکلات سے بچانا کا سہرا دیا جاتا ہے۔

    بینک آف کینیڈا کے گورنر کے طور ہر معیشت کو احسن طریقے سے سنبھالنے کی ان کی کوششوں کے اعتراف میں انھیں برطانیہ کے مرکزی بینک، دی بینک آف انگلینڈ، کے گورنر کی نوکری کی پیشکش کی گئی۔

    جب مارک کارنی نے 2013 میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو وہ اس بینک کی 300 سال کی زائد تاریخ میں گورنر بننے والے پہلے غیر برطانوی شخص تھے۔

    انھیں بینک آف انگلینڈ کو جدید بنانے کا بھی سہرا جاتا ہے۔ مارک کانی اپنے پیشرو کے مقابلے میں زیادہ کثرت میڈیا کے سامنے آتے تھے۔

    بینک آف انگلینڈ میں کام کرنے کے دوران انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نمٹنے کا کافی تجربہ ہے۔ ٹرمپ نے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد نہ صرف کینیڈا پر بھاری ٹیرف عائد کر دیے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو کینیڈا اپنی 51ویں ریاست بنا لینا چاہیے۔

    2011 سے 218 تک مارک کارنی فنانشل سٹیبلٹی بورڈ کے سربراہ تھے جس کا کام دنیا بھر کی ریگولیٹری اتھارٹیز کے کام کو ہم آہنگ کرنا تھا۔ اس تناظر میں انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلی صدارت کی دوران اپنائی گئی پالیسیوں کے عالمی ردعمل میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

    وہ اکثر ان جی 20 میٹنگز میں شامل ہوتے تھے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود ہوتے۔

    انھوں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے دوران خود کو ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین امیدوار کے طور پر پیش کیا اور یہی ان کی جیت کی وجہ بنی۔

    گذشتہ ماہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے ایک مباحثے کے دوران انھوں نے دعویٰ کیا،’مجھے بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ ہے۔‘

    ’ایسی صورتحال میں آپ کو بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ درکار ہوتا ہے، آپ کو مذاکرات میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

  12. نو مئی کے ملزمان کی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت عید کے بعد تک ملتوی

    سپریم کورٹ نے نو مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کی ضمانت کے خلاف کے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی۔

    سوموار کے روز چیف جسٹس یحی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان اپیلوں پر سماعت شروع کی تو پنجاب حکومت کی جانب سے ان اپیلوں کی پیروی کرنے والے وکیل ذولفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ان اپیلوں کی پیروی کے لیے ان کا نوٹیفکیشن دو روز قبل ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپیلیں ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے 100 سے زائد دائر درخواستیں ہیں۔ ذولفقار نقوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی ان اپیلوں کو پڑھا بھی نہیں ہے لہٰذا ان اپیلوں پر سماعت ملتوی کردی جائے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب حکومت کے وکیل کی درخواست ہر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کو ملتوی کروانے کی اس روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔

    بعد ازاں عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کی سماعت چند ہفتوں تک ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ اب ان اپیلوں پر سماعت عیدالفطر کے بعد ہو گی۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نو مئی کے ملزمان کی ضمانتیں منظور کی تھیں جس کے خلاف پنجاب حکومت نے ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

  13. یوکرین جنگ بندی کے مطالبے پر ’آگے بڑھنے کے لیے تیار‘ ہے: امریکہ

    یوکرینی فوجی اے ٹی فور اینٹی ٹینک لانچر چلانے کی ساتھ مشق کر رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنیوکرینی فوجی اے ٹی فور اینٹی ٹینک لانچر چلانے کی ساتھ مشق کر رہے ہیں۔

    امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ یوکرین کی قیادت جنگ بندی معاہدے کے امریکی مطالبے کو ماننے کے لیے تیار ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارک روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز منگل کے روز اپنے یوکرینی ہم منصب سے مذاکرات کے لیے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی پر ماسکو کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں امریکہ کسی قسم کی سکیورٹی گارنٹی دینے کے لیے راضی نہیں۔

    دس روز قبل وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنگ ختم کے لیے تیار نہیں۔ اس ناخوشگوار ملاقات کے بعد امریکہ نے یوکرین کی فوجی امداد معطل کردی تھی جبکہ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بھی روک دیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنگ ختم کے لیے تیار نہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ جنگ ختم کے لیے تیار نہیں۔

    روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر باضابطہ حملہ کیا تھا اور اب روسی افواج یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار نے بتایا کہ یوکرین کی سینیئر قیادت کا مذاکرات کے لیے جدہ آنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

    ولادیمیر زیلنسکی بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے جدہ پہنچ رہے ہیں تاہم اس بات کی امید نہیں کہ وہ امریکہ اور یوکرین کے مابین ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔

    یوکرین کے وفد میں صدر زیلنسکی کے دفتر کے سربراہ اینڈری یرمک اور یوکرین کے قومی سلانتی کے مشیر کے علاوہ یوکرینی وزرا خارجہ و داخلہ بھی شامل ہیں۔

  14. سپین، اٹلی میں پاکستانی شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں 11 افراد گرفتار

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہSPAIN'S MINISTRY OF INTERIOR

    سپین کی نیشنل اور کیٹیلونیا پولیس، اور اٹلی کی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر شدت پسندانہ کارروائیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے، لوگوں کو شدت پسند کارروائیوں کی ترغیب دینے اور ممکنہ اہداف کی نشاندہی کا الزام ہے۔

    سپین کی محکمہ داخلہ کی جانب سے سات مارچ کو جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، یہ آپریشن گذشتہ سوموار (تین مارچ) کو سپین کے شہر بارسلونا اور اٹلی کے شہر پیاچینزا میں کیا گیا۔

    اس آپریشن کے نتیجے میں دس افراد کو بارسلونا اور ایک کو پیاچینزا سے گرفتار کیا گیا۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق، حالیہ آپریشن سپین کی نیشنل پولیس کی پہلے سے جاری تفتیش کا حصہ ہے جس میں گذشتہ تین برسوں کے دوران سپین میں موجود ایک شدت پسند پاکستانی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    اس سے قبل سپین کی پولیس کی جانب سے 2022 میں پانچ اور 2023 میں 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے سپین اور اٹلی میں ایک انتہائی منظم گروہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس نے خفیہ میسیجنگ چینلز کے ذریعے ایسی ہدایات جاری کی تھیں جس میں گروہ کے نظریے کے خلاف جانے والے لوگوں کے قتل اور سر قلم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھیں۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے اپنی اشاعتوں میں اُن شدت پسندوں کی بھی تعریف کی تھی جنھوں نے یورپ اور پاکستان میں توہین مذہب کے مبینہ ملزمان پر حملے کیے تھے۔ تفتیش سے پتا چلا ہے کہ زیرِ تفتیش ملزمان میں سے کچھ افراد نے پہلے ہی یورپ میں ممکنہ اہداف کی شناخت کرنا شروع کر دی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے انسٹنٹ میسیجنگ گروپس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جن کے ذریعے اس تنظیم کے نظریے کو پھیلایا جا رہا تھا۔ ان میں سے ایک گروپ کو زیر حراست افراد میں سے ایک ملزم چلا رہا تھا جو مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ہے جہاں نہ صرف تعصب کو فروغ دیا جاتا بلکہ مستقبل میں نشانہ بنایا جانے کے لیے ممکنہ اہداف کی نشاندہی بھی کی گئی۔

    تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق مبینہ طور پر ایک شدت پسند تنظیم سے ہے جس کی مالی معاونت کے لیے تنظیم کے ارکان باقاعدگی سے چندہ دیتے تھے۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے 10 افراد میں سے چار ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

  15. برطانیہ اور کینیڈا کے مرکزی بینکوں کے سابق سربراہ مارک کارنی کینیڈا کے نئے وزیراعظم منتخب

    مارک کارنی برطانیہ اور کینیڈا کے مرکزی بینکوں کے سربراہ رہ چکے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمارک کارنی برطانیہ اور کینیڈا کے مرکزی بینکوں کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

    برطانیہ اور کینیڈا کے مرکزی بینکوں کے سابق سربراہ مارک کارنی کینیڈا کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

    وہ کینیڈا کے موجودہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی جگہ لبرل پارٹی کی قیادت بھی سنبھالیں گے۔

    اتوار کے روز اپنی تقریر کے دوران کینیڈا کے نو منتخب وزیراعظم نے اپنی عوام کو متنبہ کیا کہ ملک پر کڑا وقت آنے والا ہے۔

    کارنی کا کہنا تھا کہ کینیڈا پر یہ مشکل وقت ایک ایسے ملک کی وجہ سے آرہا ہے جس پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    نو منتخب وزیرِ اعظم کا اشارہ امریکہ کی جانب تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امریکی صدر عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالات کشیدہ ہیں۔

    صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا سے آنے والی مصنوعات پر 25 درآمدی ٹیرف عائد کیے جانے کے اعلان کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

    تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف کا اطلاق دو اپریل تک موؑخر کر دیا۔

    امریکہ کی جانب سے محصولات کے جواب میں کینیڈا کے موجودہ وزیرِ اعظم جسٹن ٹرودو نے بھی 108 ارب ڈالرز کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دی ہیں۔

    ٹروڈو نے الزام لگایا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے کا مقصد کینیڈا کی معیشت کو تباہ کرنا ہے تاکہ امریکہ کے لیے کینیڈا کو اپنی 51ویں ریاست بنانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انھوں نے آخری دم تک مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اپنے خطاب میں کارنی کا کہنا تھا، ’ہم اس صدمے سے تو باہر آ رہے ہیں لیکن ہمیں یہ سبق یاد رکھنا ہوگا کہ ہمیں خود اپنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا، ’ہمیں آنے والے مشکل دنوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔‘

    ’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ساتھ مل کر ہم اس بحران سے نکل سکتے ہیں۔‘

    ’ہم اس بحران سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلیں گے کیونکہ کینیڈا کی بنیاد اس کے لوگوں کی طاقت پر رکھی گئی ہے۔‘

    مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا پر مشکل وقت ایک ایسے ملک کی وجہ سے آرہا ہے جس پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا پر مشکل وقت ایک ایسے ملک کی وجہ سے آرہا ہے جس پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    مارک کارنی کب وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے؟

    اتوار کے روز ہونے والی رائے شماری کے بعد مارک کارنی لبرل پارٹی کے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں اور کیونکہ لبرل پارٹی اس وقت بر سرِ اقتدار ہے تو نتیجتاً کارنی کینیڈا کے نئے وزیرِ اعظم بھی منتخب ہو گئے ہیں۔

    تاہم کارنی کی جانب سے وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل جسٹن ٹروڈو کو اپنے عہدے سے باضابطہ طور پر استعفیٰ دینا ہو گا۔

    ٹروڈو کے استعفے کے بعد کینیڈا کے گورنر جنرل کارنی سے وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف لیں گے اور انھیں حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

    تاہم 20 اکتوبر سے قبل کینیڈا میں عام انتخابات کروانے ضروری ہیں۔ اس لیے توقع نہیں کی جارہی کہ نیا وزیر اعظم زیادہ دیر تک اس عہدے پر فائز رہے گا۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • انڈیا نے نیوزی لینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے کر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 جیت لی ہے۔
    • امریکہ اور اقوام متحدہ کے مطالبات کے بعد شام کی عبوری حکومت نے ملک میں عام شہریوں اور اقلیتوں کے مبینہ قتل عام کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ایک سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
    • برطانیہ میں کام کرنے والے ایک انسانی حقوق کے ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز نے ملک کی اقلیتی علوی گروپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کا قتل عام کیا ہے۔
    • امریکہ کی سیکرٹ سروس نے اتوار کی صبح وائٹ ہاؤس کے باہر ایک مسلح تصادم کے بعد ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا ہے۔
    • حماس کے وفد نے مصری جنرل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ سے ملاقات میں غزہ کی پٹی میں عارضی جنگ بندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے.
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔