ارشد شریف قتل کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمیشن کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک صفحے پر مشتمل اس تحریری حکم نامے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ درخواست کی سماعت کے لیے نمبر لگایا جائے۔ دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن بات چیت تب ہو گی جب ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے گا اور جیلوں میں قید ہمارے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • بات ان ہی سے ہو گی، جو اس وقت پی ٹی آئی کے سب سے بڑے مخالف ہیں: عمران خان
  • راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی مسافر بس کو چلاس کے قریب حادثہ، کم از کم 20 افراد ہلاک
  • کسی بھی غیر ملک کو اڈے دینے کی باتیں بے بنیاد ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
  • ہم اپنی آئینی حدود جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں، آرمی چیف جنرل عاصم منیر
  • ٹیکس چوری روکنا اور ٹیکس سرکل کو بڑھانا آئی ایم ایف کے مطالبات ہیں: وفاقی وزیر قانون

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت آج ہو گی

    IK

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔ اس بینچ کی سربراہی عدالت کے چیف جسٹس عامر فاروق کر رہے ہیں جبکہ اس بینچ میں شامل دوسرے رکن جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ہیں۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ دلائل دیں گے۔

    سائفر مقدمے پر گذشتہ سماعت کا احوال

    دو دن قبل اس مقدمے کی سماعت کے دوران دو رکنی بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ایک سیاست دان ریلی میں جیب سے نکال کر ایک چیز دکھا رہا ہے تو ہم اسے سائفر کیسے مان لیں؟

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا سائفر کاپی اعظم خان تک آ گئی تو وزیراعظم کو بھی دی گئی ہو گی، بانی پی ٹی آئی نے کبھی سائفر کاپی موصول کرنے سے انکار نہیں کیا۔ اگر دستاویز دی گئی ہے تو ہی ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا۔

    ڈی مارش کا فیصلہ وزیراعظم کے سیکریٹری نے تو نہیں کیا ہو گا؟

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل میں کہا سابق وزیر اعظم نے سائفر کی کاپی وزرات خارجہ کو واپس نہیں کی اور اپنے پاس رکھ لی۔ سائفر دستاویز واپس کرنے کی ڈائریکشن پر عملدرآمد نہیں کیا۔

    Justice Amir Farooq

    ،تصویر کا ذریعہIHC

    میں ایک کاغذ اٹھاؤں اور کہوں کہ یہ ایک ایف آئی آر ہے تو آپ مان لیں گے؟: چیف جسٹس کا ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے سوال

    پراسیکیوٹر نے بتایا گواہ اعظم خان نے بیان دیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب سائفر کاپی پڑھی تو پُرجوش ہو گئے اور اسے پڑھنے کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔ کچھ دن بعد واپس مانگنے پر وزیراعظم نے کہا کہ سائفر کاپی گم ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے سٹاف اور ملٹری سیکریٹری کو سائفر کاپی ڈھونڈنے کا کہا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا سائفر دستاویز اعظم خان سے وزیراعظم جانے کی واحد گواہی صرف اعظم خان کا بیان ہے اور بانی پی ٹی آئی کے وکیل تو اعظم خان کے بیان پر ہی اعتراض کر رہے ہیں۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بانی پی ٹی آئی کی 27 مارچ کے جلسے میں تقریر پڑھ کر سنائی، جس پر چیف جسٹس نے کہا میں ایک کاغذ اٹھاؤں اور کہوں کہ یہ ایک ایف آئی آر ہے تو آپ مان لیں گے؟

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا میرے پاس ’مائی لارڈ‘ کی بات کو جھٹلانے کا بھی کوئی حق نہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہم کریمنل لا کے تحت سماعت کر رہے ہیں اور بہت سختی سے دیکھنا ہے، یہ ایک سیاست دان ایک ریلی میں بات کر رہا ہے، اس پر کیسے یقین کر لیں؟

    Justice Mian Gul Hassan Aurangzeb

    ،تصویر کا ذریعہIHC

    ’سیاستدان کا ریلی میں بیان سیاسی حمایت کے لیے ہوتا ہے‘: جسٹس میاں گل حسن کے ریمارکس

    سیاست دان کا ریلی میں بیان سپورٹ حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سیاست دان ریلی میں جیب سے نکال کر ایک چیز دکھا رہا ہے تو ہم اسے سائفر کیسے مان لیں؟

    انھوں نے کہا گواہ اعظم خان کے اغوا پر جو مقدمہ درج ہوا تھا اس پر کیا ہوا؟

    چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ مقدمہ میں چالان ہوا یا ڈسچارج کر دیا گیا۔ اگر مقدمہ زیرالتوا ہے تو اس کی بھی تفصیل عدالت میں پیش کریں، جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے دستخط ہونے چاہئیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سوال پر پراسیکیوٹر نے بتایا سائفر کے ذریعے آنے والی تمام معلومات خفیہ ہوتی ہیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا اگر کوئی بیرون ملک سے موسم کا حال بھیجے تو وہ بھی خفیہ دستاویز ہو گی؟ پراسیکیوٹر نے کہا سمجھنے کی بات ہے کوئی موسم کا حال کیوں بھیجے گا؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا جنگی حالات میں کوئی پاکستان سے متعلق نقشہ کسی کو دے وہ تو الگ معاملہ ہے، اگر کوئی تھریٹ کرے تو کیا یہ جاننا پبلک کا حق نہیں ہے؟

    ’وزیراعظم تو عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے۔‘

  2. ’اغوا ہونے والی سعودی خاتون کا پاسپورٹ اور سفری دستاویزات ملزم کے بھائی کے پاس ہیں‘: پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی خاتون کے اغوا کے مقدمے میں پولیس نے گرفتار کیے جانے والے ملزم عبدالاحد کے بڑے بھائی احمد حسن کو بھی نامزد کردیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے متعلقہ عدالت سے وارنٹ بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

    اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ احمد حسن کی اس مقدمے میں نامزدگی ملزم عبدالاحد سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں کی گئی ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم سے ہونے والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی خاتون کے مبینہ اغوا میں اس مقدمے کے مرکزی ملزم کو اپنے بھائی کی بھی حمایت حاصل تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ سعودی خاتون کے ساتھ ہونے والے نکاح کی دستاویزات اس خاتون کا پاسپورٹ اور سعودی ریال ان کے بھائی کے پاس ہیں جو کہ ملزم کے بقول صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے دیر میں رہائش پذیر ہیں۔

    اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اور اہلکار نے اس ضمن میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کرکے مزکورہ خاتون کے بارے میں معلومات لینے کی کوشش کی کہ وہ کہاں ہیں کیونکہ جب اس خاتون کا پاسپورٹ ملزم عبدالاحد کے پاس ہے تو وہ کیسے واپس سعودی عرب جا سکتی ہیں۔

    پولیس اہلکار کے بقول سفارت خانے کے حکام نے اس ضمن میں کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کے حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اغوا ہونے والی خاتون کو کراچی سے بازیاب کروا کر جمعے کے روز خصوصی پرواز پر سعودی عرب روانہ کردیا گیا تھا۔

    تفتیشی ٹیم کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم کے بیان کی روشنی میں ایک ٹیم جلد ہی دیر جائے گی۔ وہاں سے ملزم کے بیان کی روشنی میں سعودی خاتون کا پاسپورٹ اور دیگر اشیا برآمد کرنی ہیں۔

    اہلکار کے مطابق چونکہ اس ضمن میں کچھ قانونی تقاضے پورے کیے جانے ہیں کیونکہ اگر ایک صوبے کی پولیس کارروائی کے لیے دوسرے صوبے میں جاتی ہے تو اس متعلقہ حکام سے اجازت لینا ہوتی ہے۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مالی رکاوٹیں بھی ہیں، جن کے دور ہونے کے بعد ہی پولیس کی ٹیم دیر جائے گی۔

    اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے ملزم عبدالاحد کو دوبارہ مقامی عدالت میں پیش کردیا ہے اور تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔

    تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کا اصل نام عبدالاحد ہے جبکہ اس واقعہ سے متعلق درج ہونے والی ایف آئی آر میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے ملزم کا نام عبدالواحد لکھوایا گیا تھا۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی ضمنی میں ملزم کا نام عبدالاحد ہی لکھا گیا ہے۔

    اس مقدمے کی مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  3. تونسہ کی جھنگی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنایا گیا: پنجاب پولیس

    تونسہ کی جھنگی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ’ناکام بنایا گیا‘: پنجاب پولیس

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی جھنگی چیک پوسٹ پر 15 سے 20 دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے ناکام بنایا گیا مگر اس دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 15 سے 20 دہشت گردوں نے راکٹ لانچرز، ہینڈ گرینڈ، لیزر لائٹ گنز سمیت جدید اسلحہ سے حملہ کیا جسے انچارج چوکی جھنگی سب انسپکٹر محی الدین نے اپنی نفری کے ہمراہ چیک پوسٹ کا بہترین دفاع کرتے ہوے پسپا کیا۔‘

    ’آر پی او اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان حملہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے۔ حملے میں سات جوان بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے جنھیں علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔‘

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جھنگی پوسٹ پر تعینات تمام جوانوں کو ’50 ہزار روپے فی کس جبکہ زخمی اہلکاروں کو ایک لاکھ روپے فی کس نقد انعام دیا۔

    ’جھنگی چیک پوسٹ پر پولیس کی اضافی نفری, بکتر بند گاڑی اور جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جائے گا۔‘

    دریں اثنا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تونسہ شریف میں جھنگی چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام ہوا۔

    ’دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔‘

  4. حکومت مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کو یقینی بنائے گی: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو مزدور کو درپیش مسائل کا ادراک ہے اور آئندہ بجٹ میں مزدوروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    بدھ کو عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنی رہائش گاہ پر مزدوروں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مزدور کو جائز حق نہیں ملے گا تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ حکومت مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کو یقینی بنائے گی۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ وہ قومی معیشت میں مزدوروں اور محنت کشوں کی قدر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ’تاجر، سرمایہ کار، صنعت کار اور متمول طبقات مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کو ترجیح دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرے والد مرحوم بھی ایک مزدور تھے۔ میرے والد پاکستان بننے سے پہلے لاہور آئے، وہ 6 بھائیوں کے ساتھ لاہور کی فیکٹری میں مزدوری کرتے تھے۔ انھوں نے لاہور کے کالج میں داخلہ لیا، شام میں مزدوری کرتے تھے۔‘

    دریں اثنا وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات چیلنجنگ ہیں لیکن حکومت ملک کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ’سعودی عرب کا حالیہ دورہ امید کی کرن ثابت ہو گا اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ اس دورہ کے دوران میں نے مختلف وزرا سے تسلی بخش ملاقاتیں کی ہیں۔ چند دنوں میں سعودی کاروباری حضرات پاکستان آنے والے ہیں جس سے ملک میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور مہنگائی کم ہو گی-‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔ ’کھربوں روپے کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں۔ انھیں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج سفارش سکہ رائج الوقت ہے۔‘

    ’کرپشن کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ شاہ خرچیوں میں کمی لانے کی کوشش کریں گے۔‘

  5. حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد 288 روپے 49 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 42 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 281 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس حالیہ کمی سے قبل پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 293 روپے 94 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 290 روپے 38 پیسے فی لیٹر تھی۔

    اس کے علاوہ مٹی کا تیل 8 روپے 74 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل 5 روپے 63 پیسے فی لیٹر سستا کردیا گیا ہے۔

    وزارت خزانہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کے لیے رات 12 بجے سے ہوچُکا ہے۔

  6. ایف بی آر نے نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کر دیں

    ایف بی آر نے پانچ لاکھ چھ ہزار سے زائد نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کر دی ہیں۔

    قابل ٹیکس آمدنی پر ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کی سمز بلاک کی گئی ہیں۔

    فیڈرل بورڈ آف روینیو نے اس حوالے سے انکم ٹیکس جنرل آرڈر جاری کر دیا ہے اس کے علاوہ جن افراد کی سمز بلاک کی گئی ہیں ان کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔

  7. ’وقت آگیا ہے کہ تلخ حقائق سے نظر چرائے بغیر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے‘ بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کی رائے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے خفیہ اداروں کی عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت سے متعلق لکھے گئے خطوط کے معاملے پر بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کا کہنا ہے کہ ججز کے خط میں اٹھائے گئے نکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کو ہائی کورٹ میں ہی حل ہونا چاہیے تھا۔

    بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کا کہنا ہے کہ آئینی اور عدالتی تاریخ غیر آئینی ایڈوینچرز سے بھری پڑی ہے، وقت آگیا ہے کہ تلخ حقائق سے نظر چرائے بغیر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    بلوچستان ہائی کورٹ کے جواب میں ججز کو ایجنسیوں کی پسند نا پسند کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور مزید یہ کہ یہ سپریم کورٹ نے طے کرنا ہے کہ مداخلت پر کیسا ردعمل اپنانا چاہیے۔

  8. صدر آصف زرداری نے رانا ثنا اللہ کو وزیراعظم کا مشیر برائے سیاسی امور تعینات کر دیا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ خان کی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی اُمور تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی اُمور رانا ثناءاللہ خان کو وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہو گا۔

    صدر مملکت نے رانا ثنا اللہ خان کی تعیناتی کی منظوری وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 93 (ایک) کے تحت دی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گذشتہ روز نجی چینل جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے شو میں اس سوال کے جواب میں کہ پارٹی کا اصرار ہے کہ آپ بھی وفاق میں شامل ہوں، کیا یہ خبر درست ہے؟

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ خبر درست ہے اور اس حوالے سے میری وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی تھی مگر بہرحال ہمارا فیصلہ تھا کہ اس معاملے پر پارٹی لیڈر فیصلہ کریں، اور یہ معاملہ ان کے پاس ہے وہی اس پر فیصلہ کریں گے۔

  9. سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.1 ارب ڈالر موصول ہو گئے

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت دوسرا جائزہ مکمل کر لیا ہے اور پاکستان کے لیے 828 ملین ایس ڈی آر کی رقم منظور کرلی ہے۔

    سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے اپنے اکاؤنٹ میں 828 ملین ایس ڈی آر یا تقریباً 1.1 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق 3 مئی 2024 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر میں یہ رقم ظاہر ہو گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی شہر واشک میں اشیا خوردونوش کی قلت کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کیوں کی جا رہی ہے؟

    balochistan

    بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی شہر واشک میں ’خوراکی اشیا کی قلت‘ کے خلاف شٹرڈائون ہڑتال کی جا رہی ہے ۔ شٹرڈائون ہڑتال کی وجہ سے شہر میں تمام دکانیں بند ہیں۔

    شٹرڈائون ہڑتال ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے قائم اس احتجاجی کیمپ کے بعد کی جا رہی ہے جو کہ شہریوں کی جانب سے سیلاب کے باعث زمینی رابطے منقطع ہونے پر خوراکی اشیا کی قلت کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔

    ماشکیل سے تعلق رکھنے والے سابق کونسلر اور سماجی کارکن جیئند خان ریکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے دالبندین کی جانب سے ماشکیل کا زمینی رابطہ بلوچستان کے دیگر شہروں سے منقطع ہو گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ زمینی راستے کی بندش سے شہر میں خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے خوراکی اشیا کی قلت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور ان کا مطالبہ ہے کہ ایران کے ساتھ کاٹاگر زیرو پوائنٹ کو کھولا جائے تاکہ لوگ خوراکی اشیا حاصل کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں لوگوں کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر لوگوں نے آج سے شہر میں کاروباری مراکز بند کیے ہیں۔ ماشکیل سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما سردار مراد ریکی نے بتایا کہ ایران سے یہ کراسنگ پوائنٹ کورونا کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دالبندین سے رابطہ منقطع ہونے کے باعث اب لوگوں کے لیے ایران سے سستی خوراکی اشیا حاصل کرنے کا واحد آسان راستہ رہ گیا ہے اس لیے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کو کھول دیا جائے تاکہ وہاں سے خوراکی اشیا حاصل کی جائیں کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان کے بقول کوئی انسانی المیہ جنم نہیں لے سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ واشک سے ماشکیل کے لیے انتظامیہ کی جانب سے جس دوسرے راستے کی بات کی جا رہی ہے وہ نہ صرف طویل اور دشوار گزار ہے بلکہ امن و امان کی وجہ سے وہ غیر محفوظ بھی ہے۔

    ضلع واشک سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی میر زابد ریکی نے بتایا کہ بارش اور سیلاب کی صورت میں ماشکیل ایک جزیرہ بن جاتا ہے اور ایسی صورت میں ایران ہی لوگوں کے خوراک اور ایندھن حاصل کرنے کا واحد آپشن رہ جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ ایف سی والوں کو ایران سے زیروپوائنٹ دس پندرہ دن کھولنے کے لیے کہے تاکہ لوگ ایران سے خوراک اور ایندھن حاصل کریں۔

    انھوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے ان کی بات کی جانب بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ احتجاج اور ہڑتال پر مجبور ہوئے۔

    ماشکیل ضلع واشک کی تحصیل ہے اور یہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً سات سو کلومیٹر دور مغرب میں ایران سے متصل علاقہ ہے۔

    نہ صرف ماشکیل بلکہ پورا ضلع واشک کا شمار بلوچستان کے انتہائی پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ طویل مسافت اور دشوارگزار راستوں کی وجہ سے ماشکیل میں کوئٹہ اور دیگر شہروں کی بہ نسبت پاکستان سے جانے والی بنیادی اشیا صرف کی قیمتیں زیادہ ہیں۔

    رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر واشک منصور قاضی نے کہا کہ چونکہ ایران سے زیروپوائنٹ کو کھولنے کا معاملہ دو ممالک کے درمیان ہے اس لیے انھوں نے اس معاملے پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کو چٹی تحریر کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کی وجہ سے اگرچہ دالبندین سے راستہ بند ہے لیکن واشک اور پلنتاک کے راستے ماشکیل کے لیے خوراکی اشیا بھیجنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ خوراکی اشیا کے حوالے سے صورتحال سنگین نہیں ہے اور ضلعی انتظامیہ کی یہ کوشش ہے کہ وہاں خوراکی اشیا کی قلت پیدا نہ ہو۔

  11. دورانِ عدت نکاح کیس: خاور مانیکا کی کیس کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست مسترد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو عدت کیس میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا کی جانب سے اُن پر عدم اعتماد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر دلائل نہ دیے گئے تو وہ اپیلوں پر فیصلہ سُنا دیں گے۔

    یاد رہے کہ فروری 2024 میں اسلام آباد کی مقامی عدالت کے سینیئر سول جج قدرت اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو مجرم قرار دیتے ہوئے سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانہ کیا تھا۔

    سول کورٹ کی جانب سے دی گئی ان سزاؤں کے خلاف سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

    منگل کے روز ان اپیلوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں ہوئی۔ دوران سماعت بشری بی بی کے سابقہ شوہر اور اس کیس میں شکایت کنندہ خاور مانیکا عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جج اور خاور مانیکا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    اس گرما گرمی کے بعد خاور مانیکا نے عدالت سے درخواست کی کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ مجھے یہاں سے انصاف ملے گا۔ آپ یہ کیس کسی اور عدالت ٹرانسفر کر دیں۔‘

    اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے یہ کیسے سوچ لیا۔ کیا آپ کے پاس عدالت کی جانبداری کا کوئی ثبوت ہے۔ کیا آپ کے پاس ثبوت ہے کہ میں پی ٹی آئی کے لیے ہمدردی رکھتا ہوں؟‘

    دورانِ سماعت ناصرف جج کے ساتھ بلکہ خاور مانیکا اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    اس موقع پر جج شاہ رخ کا کہنا تھا کہ وہ کیس کو کافی حد تک سُن چکے ہیں اس لیے اسے کسی اور عدالت میں ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا۔

    ج ہونے والی سماعت کے بعد جج شاہ رخ ارجمند نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  12. ججوں کی تعیناتی کے لیے جب ہم خفیہ اداروں سے رپورٹس منگواتے ہیں تو ہم خود اُن کو مداخلت کا موقع دیتے ہیں: قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ نے عدلیہ کے معاملات میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہائیکورٹس کی جانب سے خفیہ اداروں کی مداخلت کو روکنے کے لیے دی گئی تجاویز پر وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو سے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کچھ لوگ خاموشی سے عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، مگر ایسے لوگ اب ختم ہو چکے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ججز کی تعیناتی کے لیے جب ہم خفیہ اداروں سے رپورٹس منگواتے ہیں تو ہم اُن کو مداخلت کا موقع خود دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ مانیٹرنگ جج لگوائیں گے اور جب جے آئی ٹیز میں اُن کو شامل کریں گے تو اُن کو مداخلت کا موقع ملے گا۔

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ ذاتی مفادات کے لیے آئینی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہیں۔

    دوران سماعت بینچ کے رکن جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں (اٹارنی جنرل) نے وزیراعظم اور چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کی اور الزام عائد کیا کہ (اسلام آباد ہائیکورٹ کے) چھ ججوں نے مس کنڈکٹ کیا ہے۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں اگر انھوں نے چھ ججز کے خط کو مس کنڈکٹ قرار دیا گیا تو یہ غلط تھا۔

  13. سپریم کورٹ کا ہائیکورٹ کی بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط اور ان پر دی جانے والی تجاویز پر ازخود نوٹس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جب ہر چیز ہی میڈیا پر چل رہی ہے تو ہم بھی پبلک کر دیتے ہیں، کیا جو نکات بتائے گئے ان پر آئین کے مطابق ہائیکورٹ خود اقدامات نہیں کر سکتی؟‘

    عدالت کے اس سوال پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ بالکل اس پر خود اقدامات کر سکتی ہے۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’جسٹس اعجاز اسحاق نے تجاویز کے ساتھ اضافی نوٹ بھی بھیجا ہے۔‘

    جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’آپ جسٹس اعجاز کا اضافی نوٹ بھی پڑھیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کون سے نکات ہیں جن پر ہائیکورٹ خود کارروائی نہیں کر سکتی؟‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’سب نکات پر خود ہائیکورٹ کارروائی کر سکتی ہے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’تو پھر کیا سپریم کورٹ ہائیکورٹس کو ہدایات دے سکتی ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’ہمیں ہائیکورٹ کی بھجوائی تجاویز کو سراہنا چاہیے، کوئی رسپانس نہیں ہو گا تو ججز بے خوف نہیں ہوں گے، ہمیں اس نکتے کو دیکھنا چاہئے جو ہائیکورٹ ججز اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جسٹس اعجاز کا نوٹ پڑھیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہمیں ہائیکورٹس کی تجاویز تک ہی محدود رہنا چاہیے ہر کسی کی بھیجی چیزوں پر نہیں۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’اٹارنی جنرل ججز کو سراہنے کیلئے اسے آن ریکارڈ پڑھ دیں، ججز جو کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مداخلت ایک مسلسل جاری معاملہ ہے۔‘

  14. ’جب فیض آباد دھرنا ہوا تو دُنیا کو پتا تھا کہ پاکستان کو کون چلا رہا ہے‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    اٹارنی جنرل نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پڑّیں ’تجاویز دی گئیں کہ اس میں کہا گیا کہ اگر فیض آباد دھرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہو جاتا تو عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت ختم ہو جاتی۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اس عدالتی فیصلے کے خلاف جو نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی گئیں وہ چار سال تک سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کی گئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس عدالتی فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں دائر کرنے والوں میں آئی ایس آئی کے علاوہ اس وقت کی حکومت اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے میں کہا تھا کہ فیض حمید اس کا ذمہ دار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ بعد میں تمام نے نظرثانی کی اپیلیں واپس لے لیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’فیض آباد دھرنا سے متعلق ذمہ داروں کے تعین سے متعلق ایک کمیشن بنایا حالانکہ وہ خود بھی کرسکتے تھے انھوں نے کہا کہ جب یہ دھرنا ہوا تو اس وقت دنیا کو معلوم تھا کہ پاکستان کو کون چلا رہا تھا۔‘

    بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’فیض آباد دھرنے سے متعلق جو تین رکنی کمیشن بنایا گیا تھا اس نے اپنی تجاویز سے اس عدالتی فیصلے کو ہی غیر موثر کردیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کمیشن نے قانون سازی کرنے کے بارے میں بھی کہا تھا لیکن ابھی تک حکومت نے کوئی قانون سازی نہیں کی۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’وہ پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر پارلیمان مضبوط نہیں ہوگی تو دوسری طاقتیں مضبوط ہو جائیں گی۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’سب کو معلوم ہے کہ سچ کیا ہے لیکن بولنے کی ہمت کوئی نہیں کررہا۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ’اگر کوئی جج دباؤ کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات نہیں ہے تو اس کو جج رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

    دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’جو سچ بولتا ہے اُس کے ساتھ وہی ہوتا ہے کہ جو آج اُن چھ ججز کے ساتھ ہو رہا ہے جنھوں نے آواز بلند کی۔‘

  15. ’اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور میں روک نہ سکوں تو مُجھے گھر چلے جانا چاہیے‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    SC

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا عدالت اس ضمن میں ہائی کورٹس کو کوئی اگر ہدایت دے تو کیا اس میں مداخلت ہوگی جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس کے پاس خود توہین عدالت کا نوٹس لینے کا اختیار ہے۔

    بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے اس ضمن میں کوئی تجاویز نہ آنے ہر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے کچھ نہ کہتے ہوئے سب کچھ کہہ دیا یعنی عدالتی معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے انھوں نے کہا کہ وہ بھی چار سال تک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں انھوں نے تو کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ’ان کے ریمارکس کا یہ مطلب نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ وہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں لیکن کسی نے بھی ان کے امور میں مداخلت کرنے کی جرات نہیں کی۔‘

    دورانِ سماعت بنچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’جب وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے تو ان کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مداخلت کہیں نا کہیں ضرور ہوتی ہے لیکن یہ کہنا کہ ہر جگہ مداخلت ہوتی ہے مناسب نہیں ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور میں روک نہ سکوں تو مُجھے گھر چلے جانا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز سماعت کر رہے ہیں۔

  16. ججوں کے خط پر سپریم کورٹ میں سماعت: ’جب ریاست ججز کو نشانہ بنائے تو معاملہ سنگین ہوجاتا ہے‘ جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے خفیہ اداروں کی عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت سے متعلق لکھے گئے خطوط پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’اس معاملے سے متعلق ہائی کورٹس کی طرف سے جو تجاویز آئی ہیں وہ صرف تجاویز ہی نہیں بلکہ چارج شیٹ ہے۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں چھے رکنی لارجر بینچ نے اس ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

    اس چھے رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’جب ریاست ججز کو نشانہ بنائے تو معاملہ سنگین ہوجاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بظاہر لگتا ہے کہ ریاست ججز کے خلاف احتجاج کرُرہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گزشتہ پچھتر سال سے یہ ہو رہا ہے کہ عدالتی امور میں مداخلت کی جارہی ہے اور ہائی کورٹس نے اپنی تجاویز میں اس کی تصدیق کی ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ان جج صاحب کا ذاتی بائیو ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈال دیا گیا کیونکہ وہ ایک آزاد خیال کے جج ہیں اور وہ دباؤ میں نہیں آتے۔‘

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ بہترین موقع ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے لائحۂ عمل بنایا جائے۔‘

  17. ججوں کے خط پر سپریم کورٹ میں سماعت: ’مداخلت تو آپ کے گھر، سوشل میڈیا آور آپ کے ساتھیوں کی جانب سے بھی ہو سکتی ہے‘ چیف جسٹس

    کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر ازخود نوٹس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    آج اس معاملے پر ہونے والی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز پڑھ کر سُنا رہے ہیں۔

    جس پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہر جج کا نقطہِ نظر اہم ہے، اس معاملے پر بنائی جانے والی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جو ججز اسلام آباد میں موجود ہیں اُنھیں عدالت بُلایا جائے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سماعت سے قبل ہی کُچھ چیزوں کی وضاحت کر دینا چاہتا ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دو ججز کی وجہ سے فل کورٹ نہیں بلایا جا سکا، میں نے نشاندہی کی تھی کہ شاید آئندہ سماعت پر فل کورٹ ہو۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی اپنی مرضی اس عدالت پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی مداخلت ہے، مداخلت اندر سے بھی ہو سکتی ہے اور باہر سے بھی۔‘

    ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’مداخلت حساس ادارو، آپ کے ساتھیوں، آپ کی فیملی، سوشل میڈیا اور کہیں سے بھی ہو سکتی ہے۔‘

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ سات رُکنی بینچ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین کو لکھے گئے ایک چونکا دینے والے خط کے بعد بنایا گیا، جس میں ججوں کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے بارے میں کہا گیا تھا۔

    اس خط پر ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان، ارباب محمد طاہر اور سمن رفعت امتیاز کے دستخط تھے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل، اطہر من اللہ، مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل سات رکنی بینچ بدھ سے مقدمے کی سماعت کرے گا۔

    خیال رہے کہ عدلیہ پر اس معاملے میں دباؤ میں اس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان بھر کے 300 سے زائد وکلا نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کو ایک خط میں زور دیا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت خفیہ اداروں کی طرف سے عدلیہ میں مداخلت کے الزامات کا نوٹس لے۔

    آج اس معاملے پر ہونے والی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پڑھ کر سُنائیں۔

  18. عامر خان اکیڈمی ’واگزار‘ کروانے پر پاکستانی فوج اور حکومت کے شکرگزار: ایک باکسنگ اکیڈمی ایف سی اہلکاروں کی قیام گاہ کیسے بنی؟

  19. پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراض کے معاملے پر سماعت ملتوی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراض کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے معاملے کی سماعت کی جس کے بعد معاملہ ملتوی کر دیا گیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور چیف فیڈرل الیکشن کمیشنر رئوف حسن آج الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ دوسری جانب سے ڈی جی پولیٹیکل فنانس الیکشن کمیشن مسعود اختر بھی پیش ہوئے۔

    الیکشن کمشن میں ڈی جی پولیٹیکل فنانس کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرائے، سپریم کورٹ کا 23 نومبر اور 22 دسمبر کا فیصلہ ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے۔‘

    جس پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کو جو بھی اعتراض ہے اس کا جواب دیں گے، ہمیں اعتراضات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔‘

    جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراضات کی تفصیلات پی ٹی آئی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی کمیشن کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو اعتراضات پر جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

    الیکشن کمیشن نے آج ہونے والی پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس سے متعلق سماعت ملتوی کردی۔

  20. بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت دو مئی تک ملتوی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت دو مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

    جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے اس کیس کی سماعت کی جہاں وکیل عثمان ریاض گِل آج پھر عدالت سے غیر حاضر تھے۔ جس پر جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ فریقین عدالت کے ساتھ سیاست کا کھیل کھیل رہی ہے جوکہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

    سٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان اس معاملے پر مزاکرات چل رہے ہیں جو جلد ہی حتمی مراحل میں داخل ہو جائیں گے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ایگیرمنٹ۔‘

    عدالت کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس درخواست کو التوا میں ڈالنے پر تشویش ہے۔ جس کے بعد درخواست کی سماعت دو مئی تک ملتوی کر دی گئی۔