عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت آج ہو گی

،تصویر کا ذریعہTwitter
سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔ اس بینچ کی سربراہی عدالت کے چیف جسٹس عامر فاروق کر رہے ہیں جبکہ اس بینچ میں شامل دوسرے رکن جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ دلائل دیں گے۔
سائفر مقدمے پر گذشتہ سماعت کا احوال
دو دن قبل اس مقدمے کی سماعت کے دوران دو رکنی بینچ میں شامل جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ایک سیاست دان ریلی میں جیب سے نکال کر ایک چیز دکھا رہا ہے تو ہم اسے سائفر کیسے مان لیں؟
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا سائفر کاپی اعظم خان تک آ گئی تو وزیراعظم کو بھی دی گئی ہو گی، بانی پی ٹی آئی نے کبھی سائفر کاپی موصول کرنے سے انکار نہیں کیا۔ اگر دستاویز دی گئی ہے تو ہی ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا۔
ڈی مارش کا فیصلہ وزیراعظم کے سیکریٹری نے تو نہیں کیا ہو گا؟
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل میں کہا سابق وزیر اعظم نے سائفر کی کاپی وزرات خارجہ کو واپس نہیں کی اور اپنے پاس رکھ لی۔ سائفر دستاویز واپس کرنے کی ڈائریکشن پر عملدرآمد نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہIHC
میں ایک کاغذ اٹھاؤں اور کہوں کہ یہ ایک ایف آئی آر ہے تو آپ مان لیں گے؟: چیف جسٹس کا ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے سوال
پراسیکیوٹر نے بتایا گواہ اعظم خان نے بیان دیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب سائفر کاپی پڑھی تو پُرجوش ہو گئے اور اسے پڑھنے کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔ کچھ دن بعد واپس مانگنے پر وزیراعظم نے کہا کہ سائفر کاپی گم ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے سٹاف اور ملٹری سیکریٹری کو سائفر کاپی ڈھونڈنے کا کہا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا سائفر دستاویز اعظم خان سے وزیراعظم جانے کی واحد گواہی صرف اعظم خان کا بیان ہے اور بانی پی ٹی آئی کے وکیل تو اعظم خان کے بیان پر ہی اعتراض کر رہے ہیں۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بانی پی ٹی آئی کی 27 مارچ کے جلسے میں تقریر پڑھ کر سنائی، جس پر چیف جسٹس نے کہا میں ایک کاغذ اٹھاؤں اور کہوں کہ یہ ایک ایف آئی آر ہے تو آپ مان لیں گے؟
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا میرے پاس ’مائی لارڈ‘ کی بات کو جھٹلانے کا بھی کوئی حق نہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہم کریمنل لا کے تحت سماعت کر رہے ہیں اور بہت سختی سے دیکھنا ہے، یہ ایک سیاست دان ایک ریلی میں بات کر رہا ہے، اس پر کیسے یقین کر لیں؟

،تصویر کا ذریعہIHC
’سیاستدان کا ریلی میں بیان سیاسی حمایت کے لیے ہوتا ہے‘: جسٹس میاں گل حسن کے ریمارکس
سیاست دان کا ریلی میں بیان سپورٹ حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ سیاست دان ریلی میں جیب سے نکال کر ایک چیز دکھا رہا ہے تو ہم اسے سائفر کیسے مان لیں؟
انھوں نے کہا گواہ اعظم خان کے اغوا پر جو مقدمہ درج ہوا تھا اس پر کیا ہوا؟
چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ مقدمہ میں چالان ہوا یا ڈسچارج کر دیا گیا۔ اگر مقدمہ زیرالتوا ہے تو اس کی بھی تفصیل عدالت میں پیش کریں، جس پر ایڈوکیٹ جنرل کے دستخط ہونے چاہئیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے سوال پر پراسیکیوٹر نے بتایا سائفر کے ذریعے آنے والی تمام معلومات خفیہ ہوتی ہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا اگر کوئی بیرون ملک سے موسم کا حال بھیجے تو وہ بھی خفیہ دستاویز ہو گی؟ پراسیکیوٹر نے کہا سمجھنے کی بات ہے کوئی موسم کا حال کیوں بھیجے گا؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا جنگی حالات میں کوئی پاکستان سے متعلق نقشہ کسی کو دے وہ تو الگ معاملہ ہے، اگر کوئی تھریٹ کرے تو کیا یہ جاننا پبلک کا حق نہیں ہے؟
’وزیراعظم تو عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے۔‘








