دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں ہیں: صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ یورپ میں ممکنہ معاہدے پر دستخط کا عندیہ

اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
  • ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے 'پہلے سے کہیں زیادہ سخت' جواب دیا جائے گا۔
  • ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر حملے روکے گئے ہیں۔
  • امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بحرین میں ایرانی حملوں کے بعد نقصانات، ایک بچی زخمی، املاک کو بھی نقصان

    @moi_bahrain

    ،تصویر کا ذریعہ@moi_bahrain

    بحرین نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں ایک 11 سالہ بچی معمولی زخمی ہو گئی ہے جبکہ متعدد علاقوں میں املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

    بحرینی حکام کے مطابق زخمی بچی کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کر دی گئی اور اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

    @moi_bahrain

    ،تصویر کا ذریعہ@moi_bahrain

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو فضا میں تباہ کرنے کے دوران گرنے والے ملبے کے باعث حمد ٹاؤن اور دارالحکومت منامہ میں کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ کچھ رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس اور نیشنل ایمبولینس سروس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی اقدامات کو یقینی بنایا۔

  2. پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار، فریقین سے تحمل اور جنگ بندی کی اپیل

    Asim Munir

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں اور جنگ بندی کی طرف بڑھیں۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت باعثِ تشویش ہے اور پاکستان سمجھتا ہے کہ دشمنی پر مبنی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان بدستور سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ڈپلومیسی کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل صرف امن اور مذاکرات کے راستے میں ہی ممکن ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ حال ہی میں تہران کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے 28 مئی کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور پھر بعد میں انھوں نے ایران کے عباس عراقچی سمیت خطے کے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا اور صورتحال پر بات چیت کی۔

    طاہر اندرابی کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی، جو امریکی کوششوں سے ممکن ہوئی، ایک مثبت پیشرفت ہے اور پاکستان امید رکھتا ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے۔

    ترجمان نے کہا کہ لبنان کے آرمی چیف کی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات بھی ہوئی، جس کی تفصیلات آئی ایس پی آر پہلے ہی جاری کر چکا ہے۔

  3. کویت نے ایرانی حملوں کے بعد فضائی حدود دوبارہ کھول دی

    ایرانی حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کی گئی فضائی حدود کو کویت نے دوبارہ کھول دیا ہے، اور مرکزی ایئرپورٹ بھی اپنی معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے جا رہا ہے۔

    کویت نے جمعرات کی علی الصبح اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں اور پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

  4. ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    Strait of Harmus

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعرات کی صبح، ایشیائی منڈیوں نے امریکہ اور ایران کے نئے تنازع پر تیزی سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ شپنگ روٹ کی مکمل بندش کے اعلان اور بحری جہازوں پر ممکنہ حملے کی اطلاعات کے فوراً بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    برینٹ کروڈ آئل کی قیمت، جسے عالمی تیل کی قیمت انڈیکس کہا جاتا ہے، ایشیائی منڈیوں میں صبح کی تجارت میں تقریباً دو فیصد اضافے کے بعد 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

  5. بریکنگ, حملوں کے باعث کویت نے فضائی حدود بند کر دیں

    US war against Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کویت کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے ’ایرانی جارحیت‘ کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اتھارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کو منظور شدہ معاہدوں اور طریقہ کار کے تحت متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جائے گا۔

    کویت کے سرکاری کمیونیکیشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ’فضائی اہداف‘ کو کامیابی کے ساتھ روک کر تباہ کر دیا ہے۔

  6. اردن کے ایئر بیس پر امریکی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    Iran, Jordan, USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتہران سے جاری ایک ویڈیو کے اس سکرین شاٹ میں ایرانی میزائل داغے جاتے دکھائے گئے ہیں، جسے 10 جون 2026 کو جاری کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ان کارروائیوں میں اردن میں واقع امریکی اڈہ سمیت دیگر اہم تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر پر امریکی فوج کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق حملے میں امریکی فوج کے جدید لڑاکا طیارے، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔

    سینٹکام نے پاسداران انقلاب کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس نے ایران میں فوجی ذرائع سے امریکی جنگی جہاز پر حملے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے بارے میں سابقہ ​​رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے۔

  7. اقوامِ متحدہ کے سربراہ کا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر انتباہ

    اقوام متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ’تمام فریقوں کو سفارتی حل کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔ مزید حملے نہیں۔ مزید بہانے نہیں‘

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک گھمبیر بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ بحران میں مزید گہرائی کی طرف جا رہا ہے اور اس کے نتائج خطے سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس ہفتے مزید حملوں اور صورتحال میں بگاڑ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں جنگ بندی اب مکمل جنگ بندی کے بجائے محض کم شدت والی لڑائی بن کر رہ گئی ہے۔‘

    انھوں نے مزید خبردار کیا کہ ’ہمیں اس خطرے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ کم شدت والی لڑائی مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’تمام فریقوں کو سفارتی حل کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔ مزید حملے نہیں۔ مزید بہانے نہیں۔‘

  8. ایرانی ٹیم کی آمد کی خوشی ہے، اگر ضرورت پڑی تو قومی ٹیم کو خود بس میں لے جانے کو تیار ہوں: فیفا صدر

    FIFA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے ورلڈ کپ کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں ایرانی قومی ٹیم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے بارے میں کہتا چلوں کہ میں بہت خوش ہوں کیونکہ میں اس سال مارچ میں ایرانی ٹیم سے ملنے ترکی گیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ایران ورلڈ کپ میں لاؤں گا اور اگر مجھے خود بس کے ذریعے تہران جا کر یہاں لانا پڑا تو میں یہ کروں گا۔‘

    اس کے بعد انھوں نے امریکی سرزمین پر ٹیم کے میچوں کے انعقاد سمیت پابندیوں پر ایرانی حکام کے ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کا جواب تھا کہ اگر ضروری ہوا تو ہم بس میں سوار ہوں گے اور خود گاڑی چلائیں گے۔ ہم نے کوالیفائی کیا ہے اور ہم کھیلنا چاہتے ہیں، یہ فٹ بال کی روح ہے، چیلنجز ہیں اور حالات آسان نہیں ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کون اور کون اس بات کو یقینی بنا سکتا تھا کہ ایران ان حالات میں کھیلے اور ہم کون سے حالات میں کھیل سکتے۔‘

    فیفا کے صدر نے ایران کے آنے والے میچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ایران کھیلے گا تو سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ مثبت ماحول ہوگا، کیونکہ فٹبال کا مطلب ہے کہ لوگ اپنی زندگی کی حقیقتوں کو کچھ دیر کے لیے بھول جائیں اور ایک میچ اور ایک ٹیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم ایران کے لیے ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے حالات پیدا کرنے میں کامیاب رہے۔ مجھے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے۔‘

    تاہم، ایرانی قومی ٹیم کی امریکی سرزمین پر موجودگی اور ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے معاملے کو اب بھی بڑی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا وہ ایرانی جنھوں نے قومی ٹیم کے میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدے ہیں، انھیں امریکہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

  9. بحرین کی وزارت داخلہ کی شہریوں سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل

    بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں، بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں اور رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔

    جمعرات کی صبح امریکی حملوں کے ایک گھنٹہ بعد، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے ملک کی فوج کے حوالے سے کہا، ’بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ فوج کے ڈرون حملوں میں امریکی پانچویں بیڑے کے پیٹریاٹ سسٹم کے کمیونیکیشن انٹینا اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا کہ امریکی کارروائی کے جواب میں اس نے بحرین کے ایک ہوائی اڈے اور کویت میں دو دیگر اڈوں سمیت ’18 اہم اہداف‘ کو نشانہ بنایا۔

    اس سے قبل امریکہ ایران میں متعدد اہداف پر حملے کر چکا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور جوابی کارروائی کرے گا۔

  10. اس بار جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی: ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ’ہم ہارنے والوں سے لڑنے سے نہیں ڈرتے۔‘

    انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’(ایران جنگ میں) ہلاک یا زخمی ہونے والے امریکیوں کی تعداد ٹرمپ کے اعداد و شمار سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اور یہ تعداد مزید بڑھے گی۔‘

    انھوں نے لکھا کہ اس بار جنگ صرف اس علاقے (خلیج) تک محدود نہیں رہے گی ، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

    امریکہ اس سے قبل ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کر چکا ہے۔ ان حملوں کی آواز ایران میں کئی مقامات پر سنی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی حد واضح نہیں ہے۔

    لیکن ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا طاقت کا نہیں بلکہ مایوسی کا مظاہرہ ہے ۔

    امریکی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    امریکی حملوں کے بعد ایران نے بھی بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  11. امریکہ کے ایران پر تازہ حملے اور ایران کی خطے میں امریکی اڈوں پر کارروائی کا دعویٰ، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    • امریکی صدر کی جانب سے ایران پر سخت حملے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران پر مزید حملے کیے۔
    • امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کو ایران کی ’مسلسل اور بلا اشتعال جارحیت‘ کا ردِعمل قرار دیا۔ دریں اثنا مغربی تہران اور مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کی غیر سرکاری اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایران کے شہر کرج کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تازہ امریکی حملوں سے ایران میں کتنا نقصان ہوا۔
    • امریکی وزیرِ دفاع نے حملوں سے قبل اعلان کیا تھا کہ نئے حملوں میں ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
    • اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا۔
    • فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، آئی آر جی سی نیوی نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو آبنائے سے ’غیر قانونی طور پر گزرنے کا ارادہ‘ کر رہے تھے۔
    • بعدازاں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا کہ بحرین میں پانچویں امریکی بیڑے پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
    • امریکی صدر نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی ’درخواست‘ پر حملے روکے گئے، تاہم ایران نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی ’سخت جوابی کارروائی‘ کے بعد امریکہ حملے روکنے پر مجبور ہوا۔
  12. امریکی سینٹرل کمانڈ کا تازہ حملوں کے بعد ایران میں کارروائی ختم کرنے کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے نئے دور کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر قبل فاکس نیوز کو کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر حملے روک دیے جائیں گے۔ لیکن ایران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سخت ردعمل کے بعد امریکہ ایران پر حملے روکنے پر مجبور ہوا۔

    اس دوران ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

  13. ایران پر آج پھر سخت حملہ کریں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ روز بھی ایران پر ایک ’سخت حملہ‘ کیا تھا اور ’ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔‘

    بدھ کو اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے قریب ہیں لیکن تہران ’حیل و حجت سے کام لے رہا ہے۔‘

    ’وہ ہمیں بے قوم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مجھے شرمندگی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ماضی میں ان کا بےوقوف صدور سے پالا پڑتا رہا ہے۔‘

    علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سے قبل پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی

    صدر ٹرمپ نے آج ایک مرتبہ پھر ایران کو ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں ایران کے ساتھ کئی مہینوں سے کام کر رہا ہوں اور انھیں معاہدے پر دستخط کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔‘

    ’اس کے تحت انھیں جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ حقیقت میں ان پر کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی ہوگی۔‘

  14. قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی, سارہ حسن، صحافی

    بجٹ

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل پاکستان قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار فیصد اور مہنگائی میں اضافے کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1046 ارب روپے کی کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 126 ارب روپے کی کمی کے بعد اب 1000 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں نے اپنے ترقیاتی پروگرامز کے لیے مختص بجٹ میں 920 ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    کئی بار کی تاخیر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداوار بڑھے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت خطے میں جاری جیوپولیٹکل بحران کے باوجود بھی پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی شریک ہوئے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہو سکیں۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے اور وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔

    اجلاس کے بعد پلاننگ کمیشن کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئندہ مالی سال میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دفاعی سلامتی اور سکیورٹی کے لیے ضروری منصوبوں کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا جائے گا۔

    پلاننگ کمیشن کے مطابق پنجاب نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 749 ارب روپے، سندھ نے 706 ارب روپے اور خیبر پختوانخواہ نے 455 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 308 ارب روپے خرچ کرے گی۔

    تینوں صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پلان میں کمی کی ہے لیکن بلوچستان کے لیے مختص صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88.8 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کی لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

  15. ’سفارتکاری اور میدانِ جنگ الگ معاملات نہیں‘: ایران کا جنگ بندی کی ’خلاف ورزیوں‘ پر مذاکرات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ سفارت کاری اور میدانِ جنگ الگ معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

    خیال رہے ایران اور امریکہ کے درمیان بدھ کی صبح سے ہی کشیدگی جاری ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

    علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جہاں بھی مسلح افواج ضروری سمجھتی ہیں، وہ دشمن کو اپنے اختیارات اور طاقت کے ساتھ جواب دیتی ہیں اور گذشتہ رات کے واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایران کی بہادر مسلح افواج ملک کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔‘

    ’سفارتی محاذ پر بھی نظام کے تمام ستون مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جہاں ممکن ہوگا، وہ سفارت کاری کے ذریعے کام لیں گے اور جہاں ضروری ہوگا وہ ملک کے دفاع کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کریں گے۔‘

  16. ایرانی قوم بمباری، دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے ہار نہیں مانے گی: صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے ایرانی قوم کو ’بمباری، دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے ذریعے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا ناممکن ہے‘ اور وہ ’یقینی طور پر ہار نہیں مانے گی۔‘

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بدھ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ’دشمنوں‘ کا ایک مقصد تہران کے خلاف عرب دنیا اور مسلمان ممالک کو متحرک کرنا تھا لیکن سفارتکاری نے درست سمت میں کام کرتے ہوئے خطے کے ممالک کو امریکہ اور اسرائیل سے دور رکھا۔

    اپنی تقریر کے دوران ایرانی صدر نے ملک کو پابندیوں کے سبب درپیش مشکلات کو تسلیم کیا۔

    ’ہم پابندیوں کی زد میں ہیں، ہمارے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور ہمیں ایک امتحان کا سامنا ہے۔‘

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’جنگ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، لیکن اگر ہمارے وقار اور سرزمین کی خلاف ورزی کی جائے گی تو ہم جھکیں گے نہیں۔‘

  17. مظفر آباد میں فوجی ہیلی کاپٹر ’ایم آئی 17‘ گِر کر تباہ: ’زور دار دھماکے کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر کو پیش آئے حادثے کے بعد شہریوں نے بتایا ہے کہ جائے حادثہ سے اٹھتے ہوئے دھویں کے بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے۔

    اس واقعے کے بعد بی بی سی کو موصول ہونے والی تصاویر میں مظفر آباد کی فضا میں کالے دھویں کے بادل واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تیکنیکی خرابی کے باعث پیش آئے حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایم آئی 17

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    مظفر آباد انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر اُس وقت حادثے کا شکار ہوا تھا جب یہ مظفر آباد میں واقع نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اہلکار کے مطابق اس کے بعد شہر میں ایک زور دار دھماکہ سُنا گیا تھا۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں کریش کے بعد حادثے کے مقام پر پہنچ گئی تھیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر سوار کوئی شخص زندہ نہیں بچا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حادثے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  18. ایران نے معاہدہ کرنے میں ’بہت تاخیر‘ کر دی، ’قیمت چکانی پڑے گی‘: صدر ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے میں ’بہت تاخیر‘ کر دی ہے اور اب اسے اس کی ’قیمت چکانی پڑے گی‘۔

    بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ’مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے، وہ صرف باتیں کرتے ہیں اور عمل کچھ نہیں۔‘

    ’مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش اب ڈھے چکا ہے۔‘

    ’انھوں (ایران) نے ایک ایسا معاہدہ طے کرنے میں بہت تاخیر کر دی، جو ان کے لیے بہترین ہو سکتا تھا، اب انھیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    خیال رہے ایران اور امریکہ کے درمیان بدھ کی صبح سے ہی کشیدگی جاری ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

    خیال رہے علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ’ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔‘

    ارنا کے ایکس کے اکاؤنٹ پرشیئر کی گئی فوٹیج میں قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو خطے میں امریکی اہداف پر فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو بدھ کی صبح ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا تاہم بی بی سی آدادانہ طور پر اس فوٹیج کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

    سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔

  19. ’خدا کے حکم سے جیتیں گے‘: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو عام انتخابات میں حصہ لیں گے

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی لیکود پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر بیان میں لیکود پارٹی کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نہ صرف انتخابات میں حصہ لیں گے، بلکہ ’خدا کے حکم سے جیتیں گے بھی۔‘

    اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات اکتوبر میں ہونے ہیں۔

  20. مری ایکسپریس وے پر ٹریفک حادثہ: ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک, زبیر خان، صحافی

    سیاحتی مقام مری

    ،تصویر کا ذریعہCredit: Zubair Khan

    سیاحتی مقام مری میں ایکسپریس وے پر ایک ٹریفک حادثے میں 10 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے ہیں۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ملتان سے مری جانے والی ایک ہائی ایس وین موڑ کاٹتے ہوئے سڑک سے نیچے نالے میں جا گری۔

    ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق نالے میں گرتے ہی وین میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ گاڑی اس انداز میں الٹی کہ دروازے کھولنا ممکن نہ رہا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

    موٹروے پولیس نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی وین میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی اور کم از کم 10 بچے سوار تھے۔

    تمام لاشوں اور زخمیوں اور کو اسلام آباد میں پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    بی بی سی کو متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ یہ لوگ ملتان سے گذشتہ رات دس بجے نکلے تھے اور اور آج ایکسپریس وے پر حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔

    موقع پر موجود ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ یہ گاڑی تیز رفتاری سے چل رہی تھی کہ اچانک سمجھ میں نہیں آیا کہ کس طرح قریب نالے میں جاگری تھی۔

    ’گاڑی نالے میں گری تو دیکھا کہ لوگ دروازہ کھولنا چاہ رہے تھے مگر دروازہ پھنس چکا تھا۔ اس موقع پر کچھ لوگ مدد کے لیے قریب پہنچے تو ایک دم ہی وین میں آگ بھڑک اٹھی۔‘