عباس عراقچی کی پاکستان آمد: اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات متوقع نہیں، ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد سنیچر کو اسلام آباد روانہ ہو گا۔ مگر پاکستانی اور ایرانی حکام کے مطابق عراقچی صرف پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ شیڈول کے مطابق عراقچی پاکستان کے بعد روس اور عمان کے دورے بھی کریں گے۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام کے مطابق ’دو طرفہ معاملات کا جائزہ لیں گے اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کریں گے‘
  • ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ملاقات کا منصوبہ نہیں بلکہ ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے‘
  • ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے سنیچر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے
  • وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ’یقینی طور پر ایران کی جانب سے پیش رفت‘ دیکھی ہے۔
  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ نے کہا ہے کہ امریکہ کا مشن اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے‘

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد میں ریڈ زون اور توسیع ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جمعے کو ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گا جبکہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں کسی بھی جانب یا کسی بھی شاہراہ سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔

    ہیوی ٹریفک مالکان سے گزارش ہے کہ ان دنوں میں دقت سے بچنے کے لیے اسلام آباد کی طرف ہرگز سفر نہ کریں۔ اسلام آباد کے رہائشی مختلف سڑکیں بند ہونے کی صورت میں ذیل متبادل ٹریفک پلان پر عمل درآمد کریں۔

    جی5، جی 6 اور جی 7 ، ایف 6، ایف 7 کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ سے 9th ایونیو استعمال کریں۔

    فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے جانے والی ٹریفک 9th ایونیو کی طرف موڑ دی جائے گی۔

    زیرو پوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں سری نگر ہائی وے سے 9th ایونیو استعمال کرتے ہوئے سٹیڈیم روڈ کے ذریعے مری روڈ چاندنی چوک سے راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جا سکتے ہیں۔

    پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑ دی جائے گی۔

    بھارہ کہو سے راولپنڈی آنے جانے والے شہری کورنگ روڈ، بنی گالہ، لہتراڑ روڈ استعمال کریں۔

    راولپنڈی صدر سے اسلام آباد آنے جانے والے شہری کرنل شیرخان روڈ سے فقیر ایپی روڈ یا 9th ایونیو میں سے کوئی بھی شاہراہ استعمال کریں۔

    جی ٹی روڈ پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک ٹیکسلا سے موٹروے، چکری انٹرچینج، چک بیلی روڈ سے روات جی ٹی روڈ استعمال کریں۔

    جی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والی ہیوی ٹریفک جی ٹی روڈ روات سے چک بیلی روڈسے چکری انٹر چینج استعمال کرتے ہوئے براستہ موٹروے ،ٹیکسلا کی جانب سفر کریں۔

  2. ناکہ بندی کے باوجود امریکی پابندی کا شکار دو بحری جہازوں کا آبنائے ہرمز میں سفر

    MarineTraffic

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    ہم آج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن دو بحری جہازوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن پر ایران سے تعلقات کے باعث امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

    میرین ٹریفک کے جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق خام تیل کا ٹینکر ’یوری‘ رات کے وقت آبنائے ہرمز میں داخل ہوا اور بعد ازاں جزیرہ لارک کے مشرق میں رک گیا، جہاں وہ آج بھر موجود رہا۔

    ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق جہاز کارگو سے لدا ہوا ہے اور اس سے قبل اس نے ایران کی مرکزی تیل برآمدی بندرگاہ، جزیرہ خارک کے قریب اپنی موجودگی ظاہر کی تھی۔ تاہم اس کی موجودہ منزل تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

    دوسرا جہاز، کیمیکل ٹینکر ’ایوَن‘ آج صبح سویرے آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ جہاز رواں ماہ کے بیشتر حصے میں متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کھڑا رہا تھا اور جہازرانی کے ڈیٹا کے مطابق یہ بھی کارگو سے بھرا ہوا ہے۔ اب یہ بظاہر خلیجِ عمان کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں امریکہ نے گذشتہ ہفتے ایک ’بلاکیڈ لائن‘ نافذ کی تھی۔

    امریکہ بلاکیڈ کے نفاذ کے بعد متعدد جہازوں کو روک چکا ہے۔ ان میں وہ جہاز شامل تھے جو یا تو ایرانی بندرگاہوں سے آ رہے تھے یا جن پر ایران سے روابط کے باعث پہلے ہی امریکی پابندیاں عائد تھیں۔ ہم ان دونوں جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ امریکی بلاکیڈ لائن کے قریب پہنچتے ہیں یا نہیں۔

  3. معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران پر پابندیاں نرم کرنے کے لیے تیار ہیں، یورپی یونین

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    یورپی یونین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران پر عائد پابندیاں بتدریج نرم کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں پابندیاں کم کرنا اُس عمل کو آگے بڑھانے میں یورپی یونین کا ممکنہ کردار ہو سکتا ہے، جس سے بالآخر مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔ مرز کا کہنا تھا کہ یہ ’اس عمل میں ہمارا ایک عملی تعاون‘ ہو سکتا ہے۔

    یہ بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپی یونین کے رہنما قبرص میں مصر، شام اور لبنان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔

    ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ’فوری طور پر، بغیر کسی پابندی اور بغیر کسی محصول کے دوبارہ کھولا جانا چاہیے‘ کیونکہ یہ ’پوری دنیا کے لیے نہایت اہم‘ ہے۔

    اجلاس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے جتنا مضبوط نتیجہ دینے میں ناکام رہے، جس سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں دستبرداری اختیار کی تھی، تو دنیا کو ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  4. ’ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں‘، ایرانی وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورے سے قبل بیان

    ُعباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’ان دوروں کا مقصد دو طرفہ امور پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ اور ہم آہنگی کرنا، اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔ ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں۔‘

  5. اسرائیلی فوج کا ایک ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ، لبنان کے لیے نئی انخلا ہدایات جاری

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے آج دوپہر ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ایک ڈرون کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا۔ یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجے۔

    آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کے قریب ایک ’مشتبہ فضائی ہدف‘ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

    ایک علیحدہ بیان میں آئی ڈی ایف نے لبنان کے گاؤں دیر عمار کے رہائشیوں کے لیے نئی انخلا کی ہدایات جاری کیں۔

    آئی ڈی ایف کے ترجمان آویخائے ادرعی نے کہا کہ حزب اللہ اس علاقے میں سرگرمیاں انجام دے رہی ہے، اس لیے مقامی آبادی فوری طور پر علاقے کو خالی کر دے۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گاؤں سے کم از کم ایک ہزار میٹر کے فاصلے پر رہیں۔

  6. رکن ممالک کو معطل یا خارج کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں: نیٹو

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو کا کہنا ہے کہ فوجی اتحاد سے کسی رکن ملک کو معطل یا خارج کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایران جنگ سے متعلق مؤقف پر امریکہ سپین کی رکنیت معطل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل میں ایسے اتحادیوں کو سزا دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے امریکی فوجی مہم کی حمایت نہیں کی۔

    اس ای میل میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع فاک لینڈ جزائر، جن پر برطانیہ کا دعویٰ ہے اور جن پر ارجنٹینا بھی حق جتاتا ہے، کے حوالے سے برطانیہ کی حمایت پر بھی نظرِ ثانی کی جائے۔

    نیٹو کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتحاد کے قیام کے بنیادی معاہدے میں ’نیٹو کی رکنیت معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں‘۔

    سپین کے وزیرِاعظم نے بھی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔ بی بی سی نے اس حوالے سے پینٹاگون اور برطانوی حکومت سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بارہا نیٹو اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے سے جہازرانی محدود کر دی۔

    سپین نے ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین پر واقع فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سپین میں امریکہ کے دو فوجی اڈے ہیں۔

    سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ای میلز کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتے۔ ہم سرکاری دستاویزات اور امریکی حکومت کے باضابطہ مؤقف کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ سپین ’بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون‘ کا حامی ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شمولیت یا ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔ تاہم، برطانیہ نے امریکی افواج کو ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، اور رائل ایئر فورس کے طیاروں نے ایرانی ڈرون مار گرانے کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

    برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی یا جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے تیار ہوں گے۔

    گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے متعلق کہا تھا کہ ’ہم ان کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘

    جمعے کے روز اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیٹو ’طاقت کا ذریعہ‘ ہے۔

    قبرص میں یورپی یونین کے اجلاس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ہمیں نیٹو کے یورپی ستون کو مضبوط بنانا ہوگا، جو امریکی کردار کی تکمیل کرے، اس کا متبادل نہیں۔‘

    جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سپین کی نیٹو رکنیت پر کوئی سوال نہیں۔ انھوں نے برلن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سپین نیٹو کا رکن ہے، اور مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہ تبدیل ہو۔‘

  7. امریکہ کو آئندہ مذاکرات میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا: ایرانی سفیر

    IRAN

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے سفیر علی بحرینی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے ہیں تو امریکہ کو ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔

    بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ورلڈ ایٹ ون سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی ایک ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے، اور جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو امریکہ کی جانب سے ’حقیقت پسندانہ رویہ‘ درکار ہوگا، جس میں ایران کے حقوق اور اس کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس لیے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا کہ ’دوسری طرف (امریکہ-اسرائیل) کو ایران پر مزید حملے کی تیاری کا موقع ملے‘۔

    ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر حکم دیا گیا تو امریکی فوجی دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    علی بحرینی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں آئندہ لائحۂ عمل پر کوئی اختلاف ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ امریکہ ہے، جو ’تضادات اور اندرونی تقسیم‘ کا شکار ہے۔

  8. وزیر خارجہ عباس عراقچی آج شام اسلام آباد سمیت تین ملکی دورے پر روانہ ہوں گے: ایرانی میڈیا

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی جمعہ 24 اپریل کی شام سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے کا آغاز کریں گے۔

    ارنا کے مطابق اس دورے کا مقصد متعلقہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ مشاورت، ملاقاتیں اور مذاکرات کرنا ہے، جن میں خطے کی موجودہ صورتحال، تازہ ترین پیش رفت اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے موجودہ حالات زیرِ بحث آئیں گے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دورہ وزیرِ خارجہ کے معمول کے سفارتی رابطوں کا حصہ ہے، تاہم اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    دورے کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ کی پاکستان، عمان اور روس کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں علاقائی امن و سلامتی، سفارتی کوششوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

  9. اسحاق ڈار کا روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کو فون، ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، عالمی سطح پر تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے امور زیرِ بحث آئے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ کثیر الجہتی فورمز پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے تعاون پر بات چیت کی۔

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے میں پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے سفارتی رابطوں کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئندہ بھی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کے لیے بات چیت اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مجوزہ دورہٴ روس کو باہمی طور پر موزوں تاریخ پر دوبارہ طے کرنے پر بھی گفتگو کی۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر روسی وزیرِ خارجہ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔

    یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اور پاکستان ان کوششوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  10. ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے‘: امریکی وزیر دفاع

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کے مطابق امریکہ کا مشن اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے‘۔ پیٹ ہیگسِتھ نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس ’وقت کی کوئی کمی نہیں‘۔ اور وہ کسی معاہدے کے لیے بے چین نہیں ہے۔

    ان کے بقول ایران جانتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی ’دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع موجود ہے‘ اور اسے صرف یہ کرنا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ بامعنی اور قابلِ تصدیق طریقے سے ترک کرے۔‘

    پیٹ ہیگسِتھ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں ’صرف چند ہفتوں میں فیصلہ کن عسکری نتیجہ حاصل کر لیا ہے‘ اور اس کا تقابل ویتنام اور عراق جیسی دہائیوں پر محیط جنگوں سے کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’بالآخر ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے‘ اور انھوں نے اس مشن کو ’دنیا کے لیے ایک تحفہ‘ قرار دیا۔

    انھوں نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی جانب سے نافذ کی گئی ’ناقابلِ توڑ‘ ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناکہ بندی ’ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے‘۔

    امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جن دو بحری جہازوں پر ایران نے فائرنگ کی اور جنھیں ضبط کیا گیا، وہ ’عام یا بے ترتیب جہاز تھے‘ اور نہ تو امریکی تھے اور نہ ہی اسرائیلی۔

    انھوں نے کہا ’کوئی بھی شخص جس کے پاس سپیڈ بوٹ، بندوق اور غلط ارادے ہوں، ایسا کر سکتا ہے۔‘

    آخر میں ہیگسِتھ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو اختیار دے دیا ہے کہ اگر کوئی ایرانی تیز رفتار کشتیاں سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا آبنائے ہرمز میں آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں تو ’انھیں تباہ کر دیا جائے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تباہ کرنے کے لیے فائر کریں گے، کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی۔‘

  11. بریکنگ, وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع, روحان احمد، بی بی سی اردو

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستانی اور ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی رات کو ایک ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

    حکومتی ذرائع نے تصدیق کی کہ انھیں ایک ایرانی وفد کی آمد کے حوالے سے اطلاع دی گئی ہے اور ’اسلام آباد میں کئی تہوں پر مشتمل سکیورٹی کے انتظامات پہلے سے ہی موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ’یہ اسلام آباد ٹاکس کے لیول والے انتظامات ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ہم تیار ہیں۔‘

    ایک اور حکومتی ذریعے کا کہنا ہے کہ اس ایرانی وفد کی قیادت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ دوسری طرف ایران کے سرکاری میڈیا سے منسلک ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ’عباس عراقچی کا دورہ طے پا چکا ہے۔‘

    تاہم ابھی تک ایران اور پاکستان کی طرف سے سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق امریکہ کی لاجسٹک اور سکیورٹی ٹیم بھی مذاکراتی عمل کے لیے اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسحاق ڈار اور عاصم منیر کو ٹیلیفون کیا اور جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس گفتگو کے دوران اسلام آباد کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین رابطوں اور سفارتی عمل کے تناظر میں کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر زور دیا کہ بقایا امور کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو جلد از جلد فروغ دیا جا سکے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کار کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔

  12. کویت کی سرزمین پر عراق سے ڈرون حملے کی اطلاع

    کویت

    ،تصویر کا ذریعہUS CENTCOM

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    کویت کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز عراق سے لانچ کیے گئے دو ڈرونز نے ملک کے شمالی علاقے میں واقع دو سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان بھی ہوا۔

    کویتی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’آج صبح شمالی کویت میں واقع زمینی سرحدی چوکیوں کو ایک جارحانہ اور مجرمانہ کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، جس میں عراق کی جانب سے آنے والے دو بارودی ڈرون استعمال کیے گئے، جو فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا رہے تھے۔ اس حملے میں مادی نقصان ہوا، تاہم کسی قسم جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

  13. اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش چھٹے روز میں داخل، ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کو آج چھٹا دن ہو گیا ہے اور تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ پابندیاں کب ختم ہوں گی۔

    پاکستانی دارالحکومت امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، تاہم اب تک کسی بھی فریق نے مذاکرات کے دوسرے دور کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    بھاری مال بردار گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، جس کے باعث تازہ اشیائے خورد و نوش کی ترسیل سست ہو گئی ہے۔

    فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ٹریڈر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر آغا سراج کا کہنا ہے کہ ’سبزیاں اور پھل شہر میں داخلے کی اجازت کے انتظار میں خراب ہو رہے ہیں۔‘

    مقامی مارکیٹوں کا دورہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسد میں کمی کے باعث اشیائے خوراک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

    جب یہ شکایات سامنے آئیں کہ ایندھن کی ترسیل بھی شہر تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کے باعث بعض پیٹرول پمپس خشک ہو گئے، تو اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے کہا ہے کہ تیل کی ترسیل کی اجازت تو دی گئی ہے، لیکن مکمل پیمانے پر نہیں۔ تازہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

    سفارتی زون میں واقع اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کئی مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے کیونکہ وکلا عدالت نہیں پہنچ پا رہے۔ درست تعداد معلوم نہیں، تاہم کاز لسٹس کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد سینکڑوں میں ہونے کا امکان ہے۔

    یہ تمام صورتحال اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے انتظار میں اسلام آباد کو کب تک مسلسل ہائی الرٹ اور تیاری کی حالت میں رکھا جا سکتا ہے۔

  14. ایرانی قیادت کا اتحاد کا پیغام، اہم معاملات پر ان کی سرخ لکیریں بالکل واضح, ایران میں موجود بی بی سی نیوز کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی نئی قیادت کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا پر تنقید کر رہے ہیں، اور انھیں ’ابتری کا شکار‘ اور ’شدید طور پر منقسم‘ قرار دے رہے ہیں۔

    تہران میں، آدھی رات کے فوراً بعد، مقامی ایرانی موبائل نیٹ ورکس کے تمام صارفین کو ایک پیغام موصول ہوا۔

    یہ پیغام صدر، پارلیمنٹ کے سپیکر، چیف جسٹس اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک ’متفقہ پیغام‘ تھا، جسے صدر ٹرمپ کی جانب سے ’تقسیم پیدا کرنے‘ کی کوششوں کا جواب کہا گیا۔

    پیغام میں کہا گیا کہ ’ایران میں نہ کوئی سخت گیر ہے اور نہ ہی کوئی اعتدال پسند۔ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔۔۔ ایک قوم، ایک راستہ۔‘

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بعض چھوٹے تزویراتی معاملات پر اختلافات کے آثار ضرور نظر آئے، جو مختلف اداروں سے منسلک ایرانی میڈیا میں سامنے آئے، جن میں پاسداران انقلاب سے وابستہ ذرائع بھی شامل ہیں۔

    یہاں ہم نے ایرانی قیادت کے حامیوں اور ناقدین دونوں سے ملاقات کی ہے۔

    یہ پیغام اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے تھا کہ اعلیٰ سطح پر، خاص طور پر ان بڑے فیصلوں پر جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اہمیت رکھتے ہیں، مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔

    ایران پر نظر رکھنے والے بہت سے مبصرین بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنگ کے کئی ہفتوں اور سینیئر علما اور کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد جو نظام ابھرا ہے، اس میں یہی صورتحال ہے۔

    اس وقت فیصلہ سازی میں شامل افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ بعض کو زیادہ عملی سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، جبکہ کچھ کو زیادہ سخت گیر۔

    لیکن جوہری پروگرام سے لے کر آبنائے ہرمز تک، اہم معاملات پر ان کی سرخ لکیریں بالکل واضح ہیں۔

  15. اسرائیل میں سفارت کاری کے نتائج پر شکوک و شبہات برقرار, یولانڈ نیل، بی بی سی نیوز

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل میں لبنان کے برعکس دوطرفہ سفارتی رابطوں کے تصور پر گہری سیاسی تقسیم دکھائی نہیں دیتی، تاہم اس بارے میں شکوک و شبہات خاصے نمایاں ہیں کہ آیا یہ کوششیں عملی نتائج دے سکیں گی یا نہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے ایک سرحدی قصبے پر راکٹوں کی بوچھاڑ کی۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اسرائیل کے شمالی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

    کریات شمونہ کے سابق نائب میئر اوفیر یہزقیلی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جنگ بندی کے بارے میں سنجیدہ شکوک ہیں۔ ہم وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کو معمول بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

    کفر گلیڈی کے رہائشی نِسّان زیوی کے مطابق، مقامی آبادی میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ ’یہ شاید محض ایک عوامی تعلقات کی مشق ہو، جبکہ حزب اللہ خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے، اسلحہ جمع کر رہی ہے اور لبنان پر کنٹرول اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے اپنے عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    لبنان سے متصل اسرائیلی سرحدی قصبے میٹولا میں رہنے والی لیات کوہن رویو کہتی ہیں کہ ’یہاں کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ بندی کے ساتھ زمینی سطح پر سکیورٹی کی صورتحال میں حقیقی تبدیلی نہ آئی یعنی خطرے کا عملی خاتمہ اور عام شہری زندگی کی بحالی ممکن نہ ہو سکی تو یہ کوئی حل نہیں، بلکہ صرف ایک تاخیر ہے۔‘

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل میں پایا جانے والا یہ شک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شمالی محاذ پر پائیدار امن کے بارے میں خدشات بدستور موجود ہیں۔

  16. لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خدشات برقرار, ہیوگو باچیگا، بی بی سی نیوز

    Ceasefire

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی حکومت کے لیے فوری ترجیح اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث جاری خونریزی کو روکنا تھی، جو ایک ہفتہ قبل نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر کم ہوئی ہے۔ اس جنگ بندی میں بعد ازاں تین ہفتوں کی توسیع بھی کر دی گئی ہے۔

    تاہم لبنان میں متعدد حلقے اس معاہدے کو ناکافی قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ مکمل طور پر نہیں رکی۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق اسرائیل کو مبینہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر لبنان میں حملے جاری رکھنے کی گنجائش حاصل ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حالیہ فضائی حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔ حزب اللہ، جو ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم اور سیاسی جماعت ہے، پر الزام ہے کہ وہ مسلسل راکٹ اور ڈرون حملوں میں ملوث ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اہداف پر اس کے حملے اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں ہیں۔

    لبنانی حکومت کو اس صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، تو دوسری جانب ملک کے اندر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی سیاسی اور عملی صلاحیت اس کے پاس نہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جنگ بندی نے اگرچہ وقتی ریلیف فراہم کیا ہے، لیکن جب تک بنیادی تنازع اور مسلح گروہوں کا کردار حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے۔

  17. عباس عراقچی کا اسحاق ڈار اور عاصم منیر کو ٹیلیفون، جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگو : ایرانی میڈیا

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سے کی ٹیلیفونک گفتگو میں جنگ بندی سمیت دیگر امور پر گفتگو کی ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی فون کیا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران اسلام آباد کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین رابطوں اور سفارتی عمل کے تناظر میں کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے اس موقع پر زور دیا کہ بقایا امور کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو جلد از جلد فروغ دیا جا سکے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کار کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔

    ارنا کے مطابق گفتگو میں علاقائی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پرگفتگو کی گئی۔

  18. جوہری ماہرین کو امن مذاکرات میں شامل نہ کیا گیا تو خطرات ’میں اضافہ ہو سکتا ہے: یورپی یونین

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ

    یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری ماہرین کو امن مذاکرات میں شامل نہ کیا گیا تو ایران سے لاحق خطرات ’مزید خطرناک‘ ہو سکتے ہیں۔

    قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ مشترکہ جامع منصوبہ برائے عمل (JCPOA) سے کمزور ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ ایران کا 2015 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں طے پانے والا جوہری معاہدہ تھا جس سے صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

    اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ملک میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بدلے اقتصادی پابندیاں واپس لی جانی تھیں۔

    کالاس کے مطابق اگر مذاکرات صرف جوہری (پروگرام) تک محدود ہوں اور مذاکرات کی میز پر جوہری ماہرین موجود نہ ہوں، تو ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچ جائیں گے جو پچھلے معاہدے سے بھی کمزور ہو گا۔‘

    وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر خطے کے مسائل، میزائل پروگرام، پراکسی گروہوں کی حمایت، نیز یورپ میں ہائبرڈ اور سائبر سرگرمیوں کا حل تلاش نہ کیا گیا تو ہم ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کریں گے۔‘

  19. جنگ بندی حکومت کی درخواست پر کی گئی، لبنانی وزیر اطلاعات

    لبنان میں جنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی میں اہم اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے اسرائیلی افواج کا ملک سے انخلا ضروری ہو گا۔

    وزیر اطلاعات پال مورکوس نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے کو بتایا کہ تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی تھی اور اس میں بنیادی مطالبہ ’لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ تھا، چاہے وہ فضائی ہوں، بحری ہوں یا زمینی۔‘

    جنگ بندی کے تحت، بیروت کو’معنی خیز اقدامات‘ کرنے ہوں گے تاکہ حزب اللہ اور دیگر تمام ’باغی غیر ریاستی مسلح گروہوں‘ کو اسرائیلی اہداف پر حملے کرنے سے روکا جا سکے۔

    مورکوس کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی لبنانی فوج کی تعیناتی کے لیے ’اہم اقدامات‘ کر چکی ہے اور اس سمت میں کام کر رہی ہے کہ فوج کو ’لبنان میں اسلحے پر مکمل اجارہ داری‘ حاصل ہو۔

    تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی قبضہ اور حملے اس بہتری کی راہ میں ’رکاوٹ‘ بنے رہے جن پر حکومت اس جنگ کے آغاز سے قبل کام کر رہی تھی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم دوبارہ ان اہم اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں تاکہ لبنانی فوج کو ایک بار پھر سرحدوں پر تعینات کیا جا سکے۔‘

  20. اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

    واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ روز واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اس میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ابتدا میں 16 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس وقت فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق، معاہدے میں درج ذیل نکات شامل تھے

    • اسرائیل کو یہ ’حق حاصل رہے گا کہ وہ اپنے دفاع میں، کسی بھی وقت، منصوبہ بند، فوری یا جاری حملوں کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرے۔‘
    • لبنان کے لیے لازم ہو گا کہ وہ حزب اللہ اور دیگر تمام ’غیر ریاستی مسلح گروہوں‘ کو اسرائیلی اہداف کے خلاف حملے کرنے سے روکنے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔
    • فریقین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ لبنان کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری لبنان کی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے
    • اسرائیل اور لبنان نے امریکہ سے درخواست کی کہ وہ ’تمام باقی مسائل کے حل‘ کے مقصد سے براہِ راست مذاکرات کو ممکن بنانے کا عمل جاری رکھے
    • بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے ’نیک نیتی کے اظہار‘ کے طور پر ہے، جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان ’مستقل سلامتی اور امن کے معاہدے کی جانب نیک نیتی سے مذاکرات‘ کو ممکن بنانا ہے

    دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں اور اس ماہ ہونے والے مذاکرات سے قبل ان کے درمیان آخری براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت 1993 میں ہوئی تھی۔

    لبنان پر اسرائیلی حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن8 اپریل کو اسرائیلی فضائی حملوں میں عین المریسہ کے علاقے میں ایک عمارت کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی

    حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد جمعے کی صبح اسرائیلی دفاعی افواج اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کا دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اس نے لبنان سے داغے گئے کئی گولوں کو روک لیا ہے۔ حزب اللہ نے ٹیلی گرام پر کہا کہ اس نے راکٹ حملے میں شٹولا کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے تین افراد کو ہلاک کیا ہے جنو اس کے بقول ’حزب اللہ کے دہشت گرد‘ تھے۔

    اسرائیلی فوج نے ان پر اسرائیلی فضائیہ کے ایک طیارے کی جانب ’ناکام‘ میزائل داغنے کا الزام عائد کیا تھا۔

    آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ دو الگ الگ واقعات میں حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب راکٹ داغے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’یہ کارروائیاں جنگ بندی کی مفاہمت کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔‘

    جمعرات کی شام حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے اسرائیل کی جانب سے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے۔

    لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے آج صبح ملک کے جنوب میں واقع شہر صور میں حملے کیے۔