آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عباس عراقچی کی پاکستان آمد: اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات متوقع نہیں، ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ اسلام آباد سے متعلق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایران کے مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران سے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد سنیچر کو اسلام آباد روانہ ہو گا۔ مگر پاکستانی اور ایرانی حکام کے مطابق عراقچی صرف پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ شیڈول کے مطابق عراقچی پاکستان کے بعد روس اور عمان کے دورے بھی کریں گے۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام کے مطابق ’دو طرفہ معاملات کا جائزہ لیں گے اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کریں گے‘
  • ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ملاقات کا منصوبہ نہیں بلکہ ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے‘
  • ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے سنیچر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے
  • وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ’یقینی طور پر ایران کی جانب سے پیش رفت‘ دیکھی ہے۔
  • امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ نے کہا ہے کہ امریکہ کا مشن اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ’ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے‘

لائیو کوریج

  1. میں جو بھی کہہ رہا ہوں یا کر رہا ہوں، اس کے نتائج بظاہر بہت اچھے آ رہے ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنی دھمکیوں کے بارے میں بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں جو کچھ بھی کر رہا ہوں، اس کے نتائج بظاہر بہت اچھے آ رہے ہیں۔‘

    بی بی سی کی نارتھ امریکہ ایڈیٹر سارہ سمتھ نے ایک مختصر فون کال میں صدر سے بات کی، جس میں انھوں نے اس ماہ کے اوائل میں ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی‘، اور پوچھا کہ آیا یہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی تھی۔

    ٹرمپ نے جواب دیا، ’دوسرا فریق معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس لیے میں جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں یا جو کچھ بھی کر رہا ہوں، اس کے نتائج بظاہر بہت اچھے آ رہے ہیں۔ بہت شکریہ۔‘

    نیٹو کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو ’ان کی بالکل ضرورت نہیں تھی‘، لیکن یہ کہ انھیں ’وہاں ہونا چاہیے تھا‘۔

    جب سمتھ نے پوچھا کہ پھر وہ کیوں چاہتے تھے کہ نیٹو جنگ میں شامل ہو، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ ’ہمیشہ سے‘ برطانیہ اور نیٹو کے حق میں رہا ہے، اور برطانیہ پر تنقید کی کہ اس نے ’کم از کم معمولی کوشش اور بہتر الفاظ‘ استعمال نہیں کیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں‘ نے ان کی انتظامیہ کو بتایا ہے کہ جنگ میں شامل نہ ہونے کا برطانیہ کا فیصلہ ’انتہائی برا فیصلہ‘ تھا (برطانیہ نے صرف امریکہ کو اپنی اڈے ’دفاعی‘ فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے)۔

    کال کے آغاز میں، ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ان کا تعلق ’بحال‘ ہو سکتا ہے، اگر وہ ’نارتھ سی کو کھول دیں‘ اور اگر ان کی ’امیگریشن پالیسیاں مضبوط ہو جائیں‘۔۔۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی موقع ہے۔‘

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان پر ابہام, ژیار گل - بی‌ بی‌ سی، اسلام آباد

    ہوٹل کی راہداریوں میں یا پاکستان کے ٹیلیوژن نیٹ ورکس پر، تجزیہ کار اور سابق عہدیدار کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے پاکستانی حکام اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر کس حد تک بھروسا کیا جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے پاکستانی حکام کو بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم نے یہ بات ایران کو بتائی۔ عباس عراقچی نے بھی فوراً ایک ٹویٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ناکہ بندی برقرار ہے اور ایک ایرانی جہاز کو امریکی میرینز نے ضبط کر لیا ہے۔ اس کے بعد خاتم‌الانبیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے۔

    اس صورتِ حال نے پاکستانیوں کو تشویش اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ انھوں نے اس مرحلے کے مذاکرات کی میزبانی اور ثالثی کے لیے سفارتی اور سکیورٹی کے حوالے سے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

    وہ کئی ہوٹل، جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ اس مرحلے کے مذاکرات کی میزبانی کریں گے، اب بھی سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں ہیں اور مسافر وہاں نہیں رہ سکتے۔ یہ شاید اس بات کی علامت ہو کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود اسلام آباد واپس آئیں گے۔

    کل بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کی ایک نامہ نگار کو دیے گئے انٹرویو میں، جو پاکستان میں موجود ہیں، کہا کہ مذاکرات جمعے تک دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

    ابھی تک کوئی بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا ہوگا یا نہیں، حتیٰ کہ پاکستانی بھی نہیں۔

  3. جرمنی میں رضا پہلوی پر سرخ مائع پھینکا گیا ہے

    رضا پہلوی، جو ایک پریس کانفرنس میں شرکت کرنے اور کچھ سیاسی شخصیات اور ایرانیوں سے ملاقات کے لیے جرمنی گئے تھے، برلن میں پریس کانفرنس کے مقام سے باہر نکلتے ہی ان پر سرخ مائع پھینکا گیا۔

    رضا پہلوی نے کل سوشل نیٹ ورک ایکس پر پوسٹ کیا: ’کل میں جرمن وفاقی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب عہدیداروں سے ملاقات کروں گا۔ میں میڈیا کے ساتھ بات چیت اور جرمنی میں مقیم ایرانیوں سے ملاقاتیں بھی کروں گا۔‘

    جرمن حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلوی نے ایک ’نجی دعوت‘ پر ملک کا دورہ کیا ہے اور ان کے اور جرمن حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں پہلوی نے کئی یورپی ممالک کا سفر کیا، متعدد سیاست دانوں اور میڈیا اداروں سے ملاقاتیں کیں، اور اسلامی جمہوریہ پر دباؤ بڑھانے اور ایرانی عوام کے احتجاج کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔

    پہلوی اور ان کے حامیوں کی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی حمایت نے بھی تنقید اور احتجاج کو جنم دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کے ایک گروپ نے بھی رضا پہلوی اور ان کے حامیوں کو ایران میں جنگ کے شکار شہریوں سے ہمدردی نہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

  4. تہران خلیج میں عالمی تجارت کے پورے ماڈل کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار

    ایران یا کسی بھی ملک کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے لازمی محصول وصول کرنے کا مطالبہ ہمسایہ خلیجی عرب ریاستوں اور عالمی بحری صنعت، دونوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

    1968 سے، جب اسے بین الاقوامی بحری تنظیم نے توثیق دی، ایک باقاعدہ اور سوچا سمجھا نظام نافذ ہے جس کے تحت جہاز خلیج کی بندرگاہوں اور ٹرمینلز سے اپنا کارگو لینے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔

    اس نظام کو ٹریفک سیپریشن سکیم (ٹی ایس ایس) کہا جاتا ہے۔

    ایران کے شمالی ساحل اور عمان کے جنوبی ساحل کے درمیان اس تنگ اور عموماً گنجان آبی راستے میں، آنے والے جہاز ایک سمت میں سفر کرتے ہیں اور روانہ ہونے والے جہاز مخالف سمت میں، جن کے درمیان دو میل کا بفر زون ہوتا ہے تاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔ یہ نظام مؤثر طور پر کام کرتا ہے۔

    لیکن اسلامی جمہوریہ، جو 39 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے مجموعی طور پر 20 ہزار سے زائد فضائی حملوں کے باوجود قائم رہنے میں کامیاب رہی ہے، اب خلیج میں عالمی تجارت کے پورے تصور کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

    پہلے سے موجود ٹی ایس ایس کے بجائے، وہ مطالبہ کر رہی ہے کہ جب آبنائے کھلی ہو، تمام بحری جہاز ایک مختلف راستے پر چلیں، جو پاسدارانِ انقلاب نیوی کی جانب سے مقرر کیا جائے، اور انھیں اس طرح مجبور کیا جائے کہ وہ اس کے لارق اور قشم کے جزیروں کے قریب سے گزریں۔

    ایران کا کہنا ہے کہ وہاں بحری افسران ان کی جانچ کریں گے اور کارگو کے حجم اور مالیت کے مطابق ایک فیس وصول کی جائے گی۔

  5. بریکنگ, ایرانیوں کو ’معلوم نہیں‘ کہ ان کا لیڈر کون ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو اس بات کا تعین کرنے میں ’بہت مشکل پیش آ رہی ہے کہ ان کا لیڈر کون ہے‘۔

    ٹرمپ نے لکھا، ’انھیں واقعی نہیں معلوم!‘ اور دعویٰ کیا کہ ملک میں ’سخت گیروں‘ اور ’اعتدال پسند‘ دھڑوں کے درمیان اندرونی اختلافات جاری ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے اور امریکی منظوری کے بغیر کوئی جہاز نہ داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی روانہ ہو سکتا ہے، یہ بات انھوں نے اس پوسٹ کے چند منٹ بعد کہی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے بحریہ کو ایران کے کسی بھی ایسے جہاز پر فائر کرنے کا حکم دیا ہے جو بارودی سرنگیں بچھا رہا ہو۔

    ایران کے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ‌ای، کے بارے میں معلوم ہے کہ تمام بڑے معاملات میں حتمی فیصلہ انھی کا ہوتا ہے۔ تاہم مارچ کے اوائل میں تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نہ تو نظر آئے ہیں اور نہ ہی حالیہ ویڈیوز یا تصاویر میں دکھائی دیے ہیں۔

    ایک سینئر ایرانی حکومتی اہلکار نے کہا کہ مذاکرات کار خامنہ‌ای کی ’ہدایت‘ کے تحت کام کرتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان سے منسوب حالیہ پیغامات میں امریکہ پر تنقید کی گئی ہے۔

    مذاکراتی ٹیم، پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزارتِ خارجہ کے اہلکار، جیسے عباس عراقچی، حالیہ ہفتوں میں زیادہ نمایاں نظر آئے ہیں۔

    قالیباف کے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ آئی آر جی سی کا اثر و رسوخ ایک روایتی فوجی کردار سے کہیں آگے تک ہے، خاص طور پر جنگ کے زمانے میں۔

    اگرچہ آئی آر جی سی نے کئی سینئر فوجی اہلکاروں کو کھو دیا ہے، لیکن یہ اب بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی قیادت والی حکومت کے متوازی ایک ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے۔ صدر پزشکیان بیانات جاری کر رہے ہیں، مگر یہ سوال موجود ہے کہ ان کے پاس درحقیقت کتنی طاقت ہے۔

  6. امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    پینٹاگون کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ اس کی افواج نے بحرِ ہند میں ایک اور جہاز کو روکا ہے، ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق تازہ ترین تفصیلات یہ ہیں:

    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اس نے 31 جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کا حکم دیا ہے
    • اس نے مزید بتایا کہ اس کارروائی میں 10 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے اور 17 جنگی بحری جہاز شامل ہیں
    • اتوار کے روز امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز توسکا کو روک لیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ رکنے کی وارننگ پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔ ایران نے اس کارروائی کو ’مسلح قزاقی‘ قرار دیا
    • منگل کے روز پینٹاگون نے کہا کہ امریکی افواج نے انڈو پیسیفک کمانڈ کے علاقے میں ایک ’پابندیوں کی زد میں آنے والے‘ آئل ٹینکر پر سوار ہو کر کارروائی کی، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کو مادی معاونت فراہم کر رہا تھا
    • بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر اس ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں، اور ان کے بقول یہ ایران کی معیشت کو ’مکمل طور پر جکڑ‘ رہی ہے
    • کل سینٹ کام نے میڈیا کی ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران سے منسلک کئی جہاز ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں
  7. بریکنگ, ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں ’بارودی سرنگیں بچھانے والی‘ کسی بھی کشتی کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کرنے کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے شبہ میں کسی بھی چھوٹی کشتی کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا جائے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ برتی جائے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 159 ایرانی بحری جہاز ’سب سمندر کی تہہ میں پہنچ چکے ہیں‘ اور کہا کہ امریکی مائن سویپنگ کارروائیاں اس وقت آبنائے ہرمز میں جاری ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق انھوں نے ان کارروائیوں کو موجودہ سطح سے تین گنا بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

  8. بریکنگ, امریکی افواج کی بحرِ ہند میں ایران سے تیل لیجانے والے جہاز پر سوار ہو کر تلاشی

    امریکی افواج نے ایک پابندیوں کی زد میں آنے والے جہاز، جو ایران سے تیل لے جا رہا تھا، کو روک لیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے ’امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے تیل لے جانے والے پابندیوں کے شکار جہاز ایم/ٹی مجیسٹک، جو کسی ریاست کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے، کو روکا اور اس پر سوار ہو کر تلاشی لی۔‘

    محمکے کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جہاز پر سمندری مداخلت اور حقِ تفتیش کے تحت سوار ہو کر کارروائی کی۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ان جہازوں کو روکنے کا عمل جاری رکھے گی جن پر ’ایران کو معاونت فراہم کرنے‘ کا شبہ ہو۔

    سمندری مداخلت سے مراد کسی بحریہ کی جانب سے ان جہازوں کو روکنا یا ان کا معائنہ کرنا ہے جن پر دشمنی یا قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو۔

    جب سے امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کی ہے، وہ درجنوں جہازوں کو روک چکا ہے۔ یہ جہاز ایران کے قریب نہیں بلکہ بحرِ ہند میں نسبتاً دور روکے جا رہے ہیں۔

  9. پاسدارانِ انقلاب کی تجارتی جہازوں پر قبضے کی ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟, پال براؤن

    بی بی سی ویریفائی نے ایک ویڈیو کی جانچ کی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کو کل آبنائے ہرمز میں دو مال بردار جہازوں کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ بظاہر اس وقت فلمائی گئی جب ان پر ابتدائی حملہ ہو چکا تھا۔

    دو منٹ کی یہ ویڈیو چھوٹی کشتیوں کو دکھاتی ہے جن میں مسلح افراد سوار ہیں، جو ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس کی طرف بڑھ رہے ہیں، دونوں جہازوں نے کل صبح ان پر فائرنگ کی اطلاع دی تھی۔

    اگرچہ مال بردار جہاز واضح طور پر شناخت کیے جا سکتے ہیں، فضائی مناظر بظاہر تقریباً 15:00 بی ایس ٹی (مقامی وقت 17:00) پر فلمائے گئے، کیونکہ ان کی سفر کی سمت اس وقت کے جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ ابتدائی طور پر رپورٹ کیے گئے حملے کے کئی گھنٹے بعد کا وقت ہے اور اس کے علاوہ بھی ایسے شواہد موجود ہیں کہ فوٹیج کے کچھ حصے کیمرے کے لیے ترتیب دیے گئے ہو سکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، وہ ہیچ جس کے ذریعے یہ افراد ایم ایس سی فرانسسکا پر سوار ہوتے ہیں، ایرانی کشتی کے پہنچنے سے پہلے ہی کھلا ہوا ہوتا ہے۔ ایم ایس سی فرانسسکا کے اندر فلمایا گیا ایک اور کلپ بھی ان کی آمد کو دکھاتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ریکارڈنگ کے لیے پہلے ہی کوئی شخص جہاز پر موجود تھا۔

    ایک مختلف منظر میں ایک کشتی کو یونان کی ملکیت والے ایپامینونڈاس کے پچھلے حصے کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ جہاز کے اندرونی حصے کی بعد ازاں سامنے آنے والی فوٹیج اسی پر فلمائی گئی تھی یا ایم ایس سی فرانسسکا پر۔

    یونانی حکام نے ایپامینونڈاس کی ضبطی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا کپتان بدستور کنٹرول میں ہے۔

    جہازوں سے متعلق ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایپامینونڈاس نے علاقہ چھوڑ کر شمال مغرب کی سمت قشم جزیرے کی طرف سفر شروع کیا، جس کے بعد اس کے ٹرانسپونڈرز بند کر دیے گئے۔ ایم ایس سی فرانسسکا کے ٹرانسپونڈرز بھی کل بند کر دیے گئے تھے، جبکہ نشریاتی معلومات کے مطابق جہاز حملے کے علاقے میں کئی گھنٹے تک موجود رہا۔

  10. ’ایرانی فوجیوں کے تجارتی بحری جہاز پر چھاپے کے مناظر‘

    ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایسی فوٹیج جاری کی ہے جس میں ان کے دعوے کے مطابق ایرانی فوجیوں کو تجارتی بحری جہازوں پر چھاپہ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  11. اس تنازع میں امریکہ کے برعکس ایرانیوں کے پاس ’زیادہ وقت‘ ہے

    سابق امریکی سفارتکار کا کہنا اس تنازع میں ایرانی زیادہ طویل وقت تک انتظار کر سکتے ہیں۔

    امریکہ کے سابق سفارتکار ڈیوڈ سیٹر فیلڈ، جنھوں نے بائیڈن انتظامیہ کو مشورہ دیا، کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ ’کس کے پاس وقت پہلے ختم ہوتا ہے‘۔

    انھوں نے یہ بات بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بتائی۔

    وہ کہتے ہیں، ’میرا اندازہ ہے کہ ایرانیوں کے پاس زیادہ وقت ہے‘، اور خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کو ’کشیدگی میں اضافے کے جال‘ میں پھنسنے کا خطرہ لاحق ہے۔

    سیٹر فیلڈ کے مطابق، اگر امریکہ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھاتا ہے تو خلیجی ریاستوں کے خلاف ردِعمل کی ایران کی صلاحیت ’اس وقت پہنچنے والے نقصان کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا امریکہ ایران کو پہنچا سکتا ہے‘۔

  12. ایران اور امریکہ دونوں اپنی اپنی جگہ اڑے ہوئے ہیں, لیز ڈوسیٹ - چیف انٹرنیشنل نامہ نگار، تہران

    سٹریٹیجک آبنائے ہرمز پر دو مخالف ناکہ بندیاں اب مذاکرات میں پیش رفت کو روک رہی ہیں۔

    نہ امریکہ اور نہ ہی ایران دونوں میں سےکوئی بھی پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے۔

    امریکہ کا خیال ہے کہ اس بندش کی سنگین معاشی قیمت تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور ان کے معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کرے گی۔

    ایران یقینی طور پر بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

    تہران میں لوگ ہمیں ملازمتوں کے ختم ہونے اور قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بتاتے ہیں۔۔۔ وہ آنے والے وقت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

    لیکن ایران کی قیادت ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ یہ اس نظام کی فطرت میں نہیں ہے۔

    ان کا یقین ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کر سکتے ہیں، اور یہ کہ امریکہ پہلے جھک جائے گا۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، جن میں مرکزی ثالث پاکستان بھی شامل ہے۔

    کل، ایران کے مرکزی مذاکرات کار باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، نیز ٹرمپ کی جانب سے ایران پر بمباری کی بار بار دی جانے والی دھمکیاں، جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں اور انھوں نے انھیں ’حقیقی مذاکرات‘ میں بنیادی رکاوٹیں قرار دیا۔

    نازک جنگ بندی کی شرائط کے تحت ایران پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس سمندری راہداری کو ’مکمل طور پر کھولا‘ جائے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ وہ ایسا صرف اپنی شرائط پر کرنے کے لیے ہی تیار ہوگا۔

  13. ہرمز ٹول ٹیکس سے پہلی آمدن مرکزی بینک میں جمع کرا دی گئی: ایران

    ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ یہ آمدنی کس طرح وصول کی گئی یا کس نے ادا کی، اور بی بی سی آزادانہ طور پر ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    موجودہ جنگ بندی سے قبل تہران نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو صرف ان ممالک تک محدود کر دیا ہے جنہیں وہ ’دوست‘ قرار دیتا ہے، اور اس دوران اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی بات بھی کی جا رہی تھی۔

    تاہم اس وقت یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ایران گزرنے کے لیے کتنا ٹول وصول کر رہا ہے یا آیا وہ واقعی کوئی فیس لے بھی رہا ہے یا نہیں۔

    مثال کے طور پر، مارچ کے آخر میں انڈیا میں ایران کے سفارت خانے نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے دو ملین ڈالر (15 لاکھ پاؤنڈ) وصول کر رہا ہے۔

    آج ایران کے ایک اور سینئر رکنِ پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے تسنیم سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں نے قابل اعتماد ذرائع سے سنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہر جہاز سے وصول کی جانے والی رقم اور فیس کی مقدار کارگو کی نوعیت، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اور ایران خود طے کرتا ہے کہ یہ فیس کیسے اور کس حد تک وصول کی جائے۔ ہم قواعد طے کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی ان جہازوں کو دھمکی دے چکے ہیں جو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں۔

  14. ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندیوں اور مذاکرات کی ٹائم لائن پر ایک نظر

    8 اپریل: ثالث کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ اس شرط پر طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس میں شامل ہے۔ ایران اس پر اتفاق کرتا ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل اس کی تردید کرتے ہیں۔

    9 اپریل: ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ لبنان میں بھی جنگ بندی ہونی چاہیے، اور خبردار کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو ’نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا‘۔

    11 اپریل: نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام پاکستان میں ملاقات کرتے ہیں۔ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد بھی دونوں فریق ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر رہتے ہیں۔

    12 اپریل: ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

    17 اپریل: اسرائیل اور لبنان کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران مختصر طور پر آبنائے ہرمز کھول دیتا ہے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد وہ ایک بار پھر اس بحری راستے کو بند کر دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا یہ بند ہی رہے گا۔

    19 اپریل: ٹرمپ کہتے ہیں کہ ان کے نمائندے بات چیت کے لیے پاکستان واپس آئیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی شرکت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    21 اپریل: ٹرمپ غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی میں توسیع پر رضامند ہو جاتے ہیں تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔

  15. ایران میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    یہ ایران کے موجودہ حکومتی نظام کی ساخت اور ملک میں طاقت کہاں مرکوز ہے، اس پر ایک نظر ہے۔

    ایران کے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ‌ای، کے بارے میں معلوم ہے کہ تمام بڑے معاملات میں حتمی فیصلہ انھی کا ہوتا ہے۔ تاہم مارچ کے اوائل میں تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نہ تو نظر آئے ہیں اور نہ ہی حالیہ ویڈیوز یا تصاویر میں دکھائی دیے ہیں۔

    ایک سینئر ایرانی حکومتی اہلکار نے کہا کہ مذاکرات کار خامنہ‌ای کی ’ہدایت‘ کے تحت کام کرتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان سے منسوب حالیہ پیغامات میں امریکہ پر تنقید کی گئی ہے۔

    مذاکراتی ٹیم، پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزارتِ خارجہ کے اہلکار، جیسے عباس عراقچی، حالیہ ہفتوں میں زیادہ نمایاں نظر آئے ہیں۔

    قالیباف کے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ آئی آر جی سی کا اثر و رسوخ ایک روایتی فوجی کردار سے کہیں آگے تک ہے، خاص طور پر جنگ کے زمانے میں۔

    اگرچہ آئی آر جی سی نے کئی سینئر فوجی اہلکاروں کو کھو دیا ہے، لیکن یہ اب بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی قیادت والی حکومت کے متوازی ایک ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے۔ صدر پزشکیان بیانات جاری کر رہے ہیں، مگر یہ سوال موجود ہے کہ ان کے پاس درحقیقت کتنی طاقت ہے۔

  16. بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک مائننگ کمپنی کے سائٹ پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

    بدھ کی شام ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ہونے والے اس حملے کی کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی تاہم اس واقعے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا لیا تھا۔

    حملہ کس کمپنی کی سائٹ پر ہوا؟

    بدھ کے روز حملہ ضلع چاغی میں نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ کی سائٹ پر کیا گیا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 22 اپریل 2026 کو تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی میں داریگوان کے علاقے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

    بیان کے مطابق فرنٹیئر کور سمیت سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت اور سلامتی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

    این آر ایل کوئٹہ میں رجسٹرڈ ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کے درمیان قائم ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق این آر ایل کے پاس بلوچستان میں 500 مربع کلومیٹر میں سونے اور تانبے کی تلاش کا لائسنس ہے۔

    اس حملے کے بارے میں سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    جب اس حملے کے حوالے سے کوئٹہ میں بلوچستان کے سرکاری حکام سے رابطہ کیا گیا تو ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں مزدوروں اور کارکنوں کے علاوہ دو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ مزدوروں کی ہلاکت حملے کے دوران ایک ٹینک کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

    ہلاک ہونے افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دالبندین منتقل کی گئیں۔

    ہسپتال کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں ترکی شہری بھی شامل ہے جو وہاں ڈرلنگ کا کام کرتا تھا۔

    تاہم سرکاری حکام نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے سائیٹ پر کمپنی کی مشنری کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ جب سینیئر سرکاری اہلکار سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

    داریگوان ضلع چاغی میں کہاں واقع ہے؟

    ضلع چاغی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ دالبندین سے اس کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔

    ضلع چاغی نہ صرف معدنی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ایک سرحدی ضلع ہونے کے باعث سٹریٹیجیک اہمیت کا بھی حامل علاقہ ہے۔ اس ضلع کی سرحدیں شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔

    بلوچستان کے دو دیگر بڑے معدنی منصوبے ریکوڈک اور سائندک بھی اسی ضلع میں واقع ہیں جبکہ معدنیات کے کئی اقسام پائے جانے کی وجہ سے اس ضلع کو منرل میوزیم بھی کہا جاتا ہے۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم شورش سے زیادہ متائثر ہونے والے علاقوں کے مقابلے میں یہاں ایسے حملوں کی تعداد کم رہی ہے۔

    گذشتہ سال ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔

    دریگوران میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ضلع چاغی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے اور کالعدم بی ایل ایف کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

  17. ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘: ٹرمپ

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میزبان مارٹھا میکالَم کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘۔

    مارٹھا میکالَم کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں انھیں بتایا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے ’کسی عجلت میں نہیں‘ اور وہ ’ایک بہترین معاہدہ‘ چاہتے ہیں۔

    اس سے قبل بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘

    لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔

    ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘

  18. آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے پیمانے کے طور پر استعمال ہونے والا برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔

    منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ توسیع کا مقصد ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔

  19. خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکی اور اسرائیلی ’جارحیت‘ ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ ہے۔

    ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے تہران میں جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ان حملوں کی مذمت میں واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں‘۔

    بیان کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کہ ایران نے اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اقدامات کیے ہیں، اور کسی بھی ممکنہ نتائج کی ’ذمے داری جارح فریقوں پر عائد ہوتی ہے‘۔

    یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو جہاز ’تحویل میں لے لیے‘ ہیں، جبکہ ایک تیسرے مال بردار جہاز پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

  20. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور سے ملاقات: ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے، محسن نقوی

    پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے حوالے سے سفارتی کاوشوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو سراہا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع خوش آئند ہے۔ انھوں نے اسے کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    ’امید ہے کہ فریقین سفارتی اور پر امن حل کو موقع دیں گے۔‘

    نیٹلی بیکر نے خطے میں قیام امن اور تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔