تہران میں ایک روشن بہار کے دن، سنیعی غزنوی سٹریٹ، جہاں کریانے اور گھریلو سامان بیچنے والی دکانیں فاسٹ فوڈ اور پھولوں سے بھری ہیں، ایک معمول کی جگہ دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ملک میں جہاں زندگیاں طویل عرصے سے بحرانوں کی زد میں رہی ہیں، یہ اس عوام کی ایک جھلک ہے جو محض دن گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کا مستقبل ان قوتوں کے ہاتھ میں ہے جو ان کے قابو سے باہر ہیں۔
محمد کے لیے، جو ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس ہیں، اپنے خاندان کی جوتوں کی دکان کا دھاری دار سائبان اوپر اٹھانا بھی امید کا ایک عمل ہے۔
جب ہم ان کی چھوٹی سی دکان میں داخل ہوتے ہیں جہاں فرش سے چھت تک بڑے اور چھوٹے سپورٹس جوتوں کی شیلفیں لگی ہیں، وہ ہمیں بتاتے ہیں ’یہاں ہونا مجھے خوشی دیتا ہے۔ اتنے زیادہ لوگوں نے اپنی نوکریاں کھو دی ہیں اور کام نہیں کر رہے۔‘
ان کے والد مصطفیٰ افسردگی سے شکوہ کرتے ہیں، ’پہلے ہمارے پاس بہت سے گاہک ہوتے تھے‘ اور فخر سے بتاتے ہیں کہ یہ کاروبار چالیس برس سے ان کے خاندان میں ہے۔
ایک ایرانی ویب سائٹ، عصرِ ایران، نے حال ہی میں ایک غیر سرکاری اندازے کا حوالہ دیا جس کے مطابق جنگ اور حکومت کی جانب سے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش کے مشترکہ اثر سے چالیس لاکھ تک نوکریاں ختم ہو چکی ہیں یا متاثر ہوئی ہیں۔
قریبی کونے کی دکان کے باہر، شہلا، ایک معمر خاتون جو ہلکے رنگ کا سکارف پہنے ہوئے ہیں، خریداری کی فہرست کو تھامنے والے کلپ بورڈ پر روٹی کا تھیلا رکھے ہوئے ہیں، جس کے ساتھ نوٹوں کی ایک گڈی بھی رکھی ہے۔
وہ ہمیں گزرتے دیکھ کر ٹھٹھک جاتی ہیں اور اپنی رائے پیش کرتی ہیں۔
وہ شکوہ کرتی ہیں، ’اب لوگ ایک روٹی کے لیے تین گنا زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں، لوگ صرف روٹی خریدنے کے لیے جہنم سے گزر رہے ہیں۔‘
شہلا واضح کرتی ہیں، ’جو لوگ خوشحال ہیں، ان کے لیے تو ٹھیک ہے، لیکن کم آمدنی والوں کے لیے حالات بہت مشکل ہیں۔‘
جب میں ان سے مذاکرات کاروں کے لیے پیغام پوچھا تو وہ کہتی ہیں: ’بس اب بہت ہو گیا۔ اسے روک دیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے ہمارے لیے کچھ اچھا نکلے گا، کیونکہ ٹرمپ تو بس لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘