27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور، قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہو گا
پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کو منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
خلاصہ
27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور، منگل کو قومی اسمبلی سے منظوری کا امکان
پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہو گئی ہے
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے 27ویں آئینی ترمیم کی بعض شقوں کی مذمت کی ہے۔ ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جلد بازی سے ’ترمیم کے پیچھے موجود نیت پر سوال اٹھتا ہے‘
وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کی کوشش، دو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
لائیو کوریج
امریکی سینیٹ سے حکومتی فنڈنگ کا معاہدہ منظور، شٹ ڈاؤن ختم ہونے کی امید: ’اس ووٹ سے ٹرمپ خوش اور ڈیموکریٹس میں تقسیم کا امکان ہے‘, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی سینیٹ نے حکومتی
فنڈنگ کے متعلق ایک معاہدہ منظور کر لیا ہے جس کے بعد امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ
ڈاؤن ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹرز کے
ایک گروپ کی جانب سے سینیٹ میں اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیے جانے کے بعد یہ ممکن ہوا ہے اور 40 دن سے جاری تعطل
کے بعد یہ کسی پیش رفت کی پہلی علامت ہے۔
تاہم اس معاہدے کی ابھی
بھی ایوان سے منظوری باقی ہے اور سینیٹ میں اس کی مخالفت کرنے والے ڈیموکریٹ ارکان
اس عمل میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔
شٹ ڈاؤن کی وجہ سے حالیہ
ہفتوں میں لاکھوں سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں جبکہ حکومتی امور میں
بھی خلل پڑ رہا ہے۔
سینیٹ میں کچھ سینٹرسٹ
ڈیموکریٹس کے اس مسئلے سے پیچھے ہٹنے کی دیر تھی اور 40 دن کے شٹ ڈاؤن کے خاتمے کا
راستہ کھل گیا۔
پارٹی کے رہنماؤں نے
کہا تھا کہ وہ حکومتی امور کے لیے نئی فنڈنگ کی اس وقت حمایت نہیں کریں گے جب تک کہ
کانگریس اس سبسڈی پر بات نہیں کرتی جس سے کروڑوں امریکیوں کو ہیلتھ انشورنس
کی ادائیگیوں میں مدد ملتی ہے۔
آخر میں ڈیموکریٹ اراکین کو اس ساری جدوجہد سے ملا
تو صرف ایک وعدہ: کہ اس معاملے پر توسیع کے لیے سینیٹ میں ووٹنگ کروائی جائے گی – لیکن اس
بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ریپبلکن کے زیر کنٹرول ایوان، جس کی حمایت بھی اس توسیع کے
لیے ضروری ہے، بھی ایسا ہی کرے گا۔
سینیٹ میں ہونے
والی اس ڈیل کے نتیجے میں اگلے سال اگست تک امریکی فوج کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت اور
قانون سازی کے امور کے لیے مکمل طور پر فنڈز دستیاب ہوں گے۔ یہ معاہدہ جنوری تک تمام
دیگر سرکاری پروگراموں کو بھی عارضی طور پر فنڈ فراہم کرے گا۔
یہ اگلے سال کے اوائل
میں ایک اور حکومتی شٹ ڈاؤن کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، یہ اگلے سال کی جنگ ہے۔ ابھی
کے لیے، سرکاری ملازمین کو ایک بار پھر تنخواہ کے چیک موصول ہونا شروع ہو جائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت
تمام ریپبلکن آج کے نتائج سے خوش ہوں گے جس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر طویل مدتی
قانون سازی کے منصوبوں پر دوبارہ کام کرنا شروع کر سکیں گے۔
ڈیموکریٹس میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ انشورنس سبسڈی
کے مسئلے کو حل کیے بغیر آگے بڑھنے کے عمل کو بہت سے لوگ ایک غیر ضروری پسپائی کے طور
پر دیکھیں گے۔
27ویں آئینی ترمیم منظوری کے لیے آج سینٹ میں پیش کی جائے گی
،تصویر کا ذریعہsenate.gov.pk
سینیٹ سیکریٹیریٹ
کی جانب سے جاری ایجنڈے کے مطابق، پیر کے روز صبح گیارہ بجے سینٹ کا اجلاس کا منعقد
ہو گا جس میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ایجنڈے کے مطابق، سینیٹ
کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک اس ترمیم کے متعلق
قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے۔
ریڈیو پاکستان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس
بھی آج شام ساڑھے چار بجے ہو گا اور 27ویں آئینی ترمیم کے بل کا مسودہ بحث کے لیے پیش
کیے جانے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز سینیٹ
اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے 27ویں آئینی
ترمیم کے بنیادی مسودہ کی منظور دے دی تھی۔
27ویں آئینی ترمیم میں مسلح افواج سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں ردوبدل، آئینی عدالت کے قیام اور ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔
اتوار کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا۔ اس دوران، وزیر اعظم نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں جنھوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لیے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ہم سب نے مل کر کوشش کی۔
ٹرمپ پر بننے والی دستاویزی فلم کی ایڈیٹنگ کا تنازع: بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور نیوز سی ای او مستعفیٰ
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنَس اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر بننے والی بی بی سی پینوراما کی ایک دستاویزی فلم کے متعلق انھیں اِس تنقید کا سامنا تھا کہ ڈاکیومینٹری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں ایڈیٹنگ کر کے ناظرین کو گمراہ کیا گیا۔
ٹم ڈیوی جو کہ بی بی
سی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر پانچ سال سے فائز تھے انھیں بی بی سی پر متعصبانہ
رویے کے الزامات اور کئی تنازعات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا۔
برطانوی اخبار ٹیلی
گراف نے گذشتہ ہفتے بی بی سی کے ایک اندرونی میمو کی تفصیلات شائع کی تھیں جس میں بظاہر
کہا گیا تھا کہ پینوراما پروگرام نے امریکی صدر کی تقریر کے دو حصوں کو ایک ساتھ ایڈٹ
کیا ہے تاکہ انھیں واضح طور پر جنوری 2021 کے کیپٹل ہل فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے دکھایا جا سکے۔
برطانوی سیاسی رہنماؤں
کو امید ہے کہ ان استعفوں سے تبدیلی آئے گی، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا خیر
مقدم کیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل اور بی
بی سی نیوز کے سربراہ دونوں کے ایک ہی روز مستعفی ہونے کی مثال
نہیں ملتی ہے۔
اتوار کی شام اپنے
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے، ٹم ڈیوی نے کہا کہ دیگر عوامی اداروں کی طرح، بی بی سی بھی
غلطیوں سے مبرا نہیں اور ہمیں ہمیشہ شفاف اور جوابدہ ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ تنازع ان کے استعفیٰ کی واحد وجہ
نہیں تاہم اس نے بھی ان کے سوچے سمجھے فیصلے پر اثر ڈالا ہے۔
’مجموعی طور پر بی بی
سی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن کچھ غلطیاں ہوئی ہیں اور بطور ڈائریکٹر
جنرل مجھے حتمی ذمہ داری قبول کرنی ہو گی۔‘
ٹرنَس نے اتوار کی
شام جاری اپنے بیان میں کہا کہ پینوراما تنازعہ ’اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں یہ بی
بی سی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کی حتمی ذمہ داری ان پر عائد
ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’عوامی
زندگی میں رہنماؤں کو مکمل طور پر جوابدہ ہونا چاہیے اور اسی وجہ سے میں اس عہدے
سے مستعفیٰ ہو رہی ہوں۔‘
انھوں نے اعتراف
کیا کہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں تاہم یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بی بی سی نیوز ادارہ جاتی
طور پر متعصب ہے۔
وہ گذشتہ تین سالوں
سے بی بی سی نیوز اور کرنٹ افیئرز کی سی ای او تھیں۔
ٹیلی گراف کی طرف سے
شائع کردہ میمو میں بی بی سی عربی کی اسرائیل-غزہ جنگ کی کوریج میں تعصب کے مسائل پر اقدامات کے فقدان کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 جنوری
2021 کو واشنگٹن ڈی سی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ’ہم کیپیٹل جا رہے ہیں، اور ہم اپنے بہادر سینیٹرز اور
کانگریس کے ارکان کا حوصلہ بڑھائیں گے۔‘
تاہم، پینوراما کی ڈاکومینٹری
ایڈٹ میں انھیں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا: ’ہم کیپیٹل جا رہے ہیں... اور وہاں میں
آپ کے ساتھ ہوں گا۔ اور ہم لڑیں گے۔ ہم بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔‘
اس دستاویزی فلم
میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے ایسے دو حصوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دکھایا گیا تھا جن کے
درمیان اصل میں 50 منٹ سے زیادہ کا فاصلہ تھا۔
اندرونی میمو کی اشاعت
کی بعد بی بی سی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور وائٹ ہاؤس نے کارپوریشن کو ’100
فیصد فیک نیوز‘ قرار دیا۔
اتوار کے روز استعفوں
پر ردِ عمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بی بی سی کی قیادت استعفی دے رہی ہے
یا برطرف کیے جا رہی ہے ’کیونکہ وہ میری چھ جنوری کی بہت اچھی (پرفیکٹ!) تقریر کو ’ڈاکٹرنگ‘
کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔‘
ڈائریکٹر جنرل اور
سی ای او کے استعفے پیر کو بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی
کے سامنے پیش کیے جانے والے اس بیان سے پہلے سامنے آئے ہیں جس میں ان سے ڈونلڈ ٹرمپ
کی تقریر ایڈٹ کیے جانے کے متعلق معافی مانگنے جانے کی توقع ہے۔
حماس نے 2014 میں مارے گئے اسرائیلی فوجی کی باقیات واپس کر دیں
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنلیفٹیننٹ ہڈار گولڈِن 2014 میں حماس کے حملے میں مارے گئے تھے اور تب سے ان کی لاش غزہ میں رکھی ہوئی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے
کہ انھیں حماس کی جانب سے لیفٹیننٹ ہیڈر گولڈِن کی لاش موصول ہو گئی ہے جو 2014 میں
حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔ تقریباً 11 سال سے ان کی لاش غزہ میں رکھی ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا
ہے کہ لیفٹیننٹ گولڈِن کی لاش کی باقاعدہ شناخت ہو گئی ہے اور اب انھیں دفن کر دیا جائے
گا۔ ہلاکت کے وقت لیفٹیننٹ گولڈِن کی عمر 23 سال تھی۔ ان کے لواحقین میں والدین، ایک
بہن، دو بھائی اور ایک منگیتر ہیں۔
اتوار کے روز حماس کے
مسلح ونگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے تحت لیفٹیننٹ گولڈن کی لاش حوالے
کرے گا۔
اب تک حماس غزہ جنگ
بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت تمام 20 زندہ یرغمالیوں اور 28 مقتولین میں سے
24 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں۔
ایچ آر سی پی کی 27ویں آئینی ترمیم کو پیش کرنے کے طریقہ کار کی مذمت: ’حکومت کی جلد بازی سے اس ترمیم کے پیچھے موجود نیت پر سوال اٹھتا ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے آئین میں 27ویں ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے طریقہ کار کی مذمت کی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت کی جلد بازی سے اس ترمیمی بل کو پیش کرنے کے پیچھے موجود نیت پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے جس میں حزب اختلاف میں موجود جماعتوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ساتھ بامعنی مشاورت کا فقدان تھا۔‘
،تصویر کا ذریعہ@HRCP87
پیغام میں کہا گیا کہ ’رپورٹ کی گئی اس ترمیم کے متن کے مطابق اس کے ذریعے عدالتی نظام کی تشکیل نو کے لیے متعدد تبدیلیاں شامل ہیں جن میں مخصوص عہدوں کے اختیارات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ سول اداروں کے محدود اختیارات میں اضافہ اور بعض ریاستی عہدوں کو تاحیات استثنیٰ دینے جیسے نکات شامل ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’ان ترامیم نے آئینی اور قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے تحفظ کے حامیوں اور ان تمام افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو عدلیہ کی آزادی اور جمہوری نظام میں سول بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔‘
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی اس تشویش کے پیش نظر ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ گس اجلاس میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے فریقین کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مجوزہ ترمیم کے ملک کے سیاسی و سماجی ڈھانچے پر دور رس اثرات کا مفصل جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستانی فوج کے جنرل ساحر شمشاد مرزا کا دورہ سعودی عرب، ’دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اپنے دورے پر سعودی مسلح افواج کے سربراہ جنرل فیاض بن حامد الروویلی سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی ماحول اور دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
عسکری قیادت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب سے تعلقات بالخصوص عسکری تعلقات کو فروغ دینے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ساحر شمشاد کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر آف دی ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا گیا۔
سعودی عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور ان کی قربانیوں کو سراہا۔
افغان طالبان نے شدت پسندوں کی حوالگی کا مطالبہ نہیں مانا، شدت پسندوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے: پاکستان
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے وزارت خارجہ نے اتوار کو یہ کہا ہے کہ افغان طالبان عبوری حکومت میں ایک پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے مگر کسی صورت مسلح شدت پسندوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے طالبان حکومت سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن طالبان حکومت نے بارہا انکار کیا ہے، یہ کہہ کر کہ وہ عناصر ان کے قابو میں نہیں ہیں۔ پاکستان کے مطابق ’اب یہ معاملہ صلاحیت سے زیادہ نیت کا بن چکا ہے۔‘
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کے کھوکھلے وعدے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اب ٹھوس اور حتمی اقدامات ضروری ہیں۔
’طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کو پناہ گزین ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ انسانی یا پناہ گزینوں کا معاملہ نہیں، بلکہ ’دہشت گردوں‘ کو پناہ گزین بنا کر پیش کرنے کا ایک فریب ہے۔‘
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان ہر اس پاکستانی کو واپس لینے کے لیے تیار ہے جو افغانستان میں مقیم ہے، بشرطیکہ انھیں طورخم یا چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر باضابطہ طور پر حوالے کیا جائے، نہ کہ انھیں جدید ہتھیاروں سے لیس کر سرحد کے اُس پار دھکیلا جائے۔‘
پاکستان نے کبھی کابل میں کسی حکومت کے ساتھ بات چیت سے انکار نہیں کیا، تاہم پاکستان کسی شدت پسند تنظیم خواہ وہ ٹی ٹی پی یا بی ایل اے ہو کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ اگست 2021 کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافے کے ٹھوس اور مستند شواہد کے پیشِ نظر طالبان حکومت نہ تو اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتی ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ’پاکستان نے بارہا طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت بند کرے۔‘
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان دوطرفہ اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کا پابند ہے۔ تاہم، پاکستان کا بنیادی تحفظاتی مسئلہ، یعنی افغانستان سے آنے والی دہشت گردی، سب سے پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج اور عوام اپنے عزم میں متحد ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور اس کے سہولت کاروں، معاونین اور مالی مددگاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
مذاکرات سے متعلق تفصیلات
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں 7 نومبر 2025 کو استنبول میں مکمل ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ترکی اور قطر کی ان مخلصانہ کوششوں کی دل سے قدر کرتا ہے، جو انھوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے اُس بنیادی مسئلے پر ثالثی کے لیے کیں، جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری ہے۔‘
بیان کے مطابق گذشتہ چار برسوں سے، جب سے افغانستان میں طالبان حکومت برسر اقتدار آئی، افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان برسوں کے دوران پاکستان نے فوجی اور شہری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا۔
پاکستان کی توقع تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ طالبان حکومت ان حملوں پر قابو پا لے گی اور افغان سرزمین پر موجود شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس عرصے میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنے کی کوشش بھی کی، جس کے تحت دوطرفہ تجارت میں سہولتیں فراہم کی گئیں اور انسانی بنیادوں پر امداد دی گئی۔ پاکستان کی نیت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ افغانستان ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال ملک بنے جو اپنے اندر اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے۔
،تصویر کا ذریعہMOFA
پاکستانی دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی جانب سے تجارت، انسانی امداد، تعلیمی و طبی ویزوں میں سہولت، اور بین الاقوامی فورمز پر طالبان حکومت کے ساتھ مثبت رابطے کی ترغیب دینے کے باوجود، طالبان حکومت کی جانب سے محض کھوکھلے وعدے اور عدمِ عمل کے سوا کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی توقع، کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، پر عمل کرنے کے بجائے طالبان حکومت ہمیشہ ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے گریز کرتی رہی ہے۔
بیان کے مطابق اس کے برعکس وہ اصل مسئلے یعنی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر متعلقہ اور فرضی معاملات کو سامنے لاتی رہی ہے۔ اس طرح طالبان حکومت ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتی رہی ہے جو اسے بین الاقوامی برادری اور اپنے عوام کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ظاہر کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان سے مسلسل ہونے والے حملوں کے جواب میں اکتوبر 2025 میں پاکستان کی کارروائی اس عزم اور ارادے کی عکاس تھی کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن قرار دیے جا چکے ہیں۔ جو کوئی بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی اعانت کرے، وہ پاکستان اور اس کے عوام کا خیر خواہ نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان اپنے مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسی کے ساتھ پاکستان امن اور سفارت کاری کا بھی مضبوط حامی ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اسی جذبے کے تحت، اور برادر ممالک ترکی اور قطر کے مخلصانہ مشورے پر عمل کرتے ہوئے، پاکستان نے مخلص دوستوں کی ثالثی میں پاکستان-افغانستان امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
ان مذاکرات کے پہلے دور میں دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ذمہ داری کے چند اصولوں پر اتفاق ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دوسرا دور استنبول میں ہوا، جس کا مقصد دوحہ میں طے پانے والے اقدامات کے نفاذ کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کے نمائندوں نے عملی اقدامات سے گریز کیا اور اپنے کیے ہوئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اشتعال انگیز اور الزام تراش میڈیا بیانات کے ذریعے ماحول کو بھی خراب کیا۔ پاکستان نے اپنے بنیادی مطالبے، یعنی افغان سرزمین پر موجود شدت پسند عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی، پر سختی سے مؤقف برقرار رکھا۔
بیان کے مطابق تیسرے دور میں بھی پاکستان نے تعمیری رویہ اپنایا اور ایک مؤثر مانیٹرنگ میکانزم کے قیام پر توجہ مرکوز رکھی۔ لیکن افغان فریق نے دہشت گردی کے بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے اور غیر متعلقہ و بے بنیاد الزامات کے ذریعے مذاکرات کے دائرہ کار کو پھیلانے کی کوشش کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جو کوئی بھی ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لے، وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ طالبان حکومت کا اصل مقصد صرف عارضی جنگ بندی کو طول دینا تھا، بغیر اس کے کہ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرتی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس کے برعکس، افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے مذاکرات کو طول دیا اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
ساتھ ہی طالبان حکومت افغانستان میں موجود پاکستانی دہشتگردی کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سنہ 2015 میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد، ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغانستان فرار ہو گئے تھے۔ انھوں نے افغان طالبان کی اس وقت عالمی افواج اور افغان حکومت کے خلاف جنگ میں مدد کی تھی۔
اب طالبان حکومت ان شدت پسندوں اور ان کے خاندانوں کو اپنے پاس پناہ دے رہی ہے۔ یہی دہشت گرد اب افغانستان میں تربیتی کیمپ چلا کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔
’افغان طالبان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، مگر ایک مضبوط گروہ، جو بیرونی عناصر کی مالی مدد سے سرگرم ہے، کشیدگی بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اپنی حکومت کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے اور جائز حیثیت حاصل کرنے کی کوشش میں، طالبان حکومت کے بعض عناصر اور پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کو مفید سمجھتے ہیں۔
ان کے بیانات اور الزامات پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے وہ پاکستان میں موجود اپنی باقی ماندہ نیک نیتی بھی کھو رہے ہیں۔
بیان کے مطابق طالبان حکومت کے کچھ عناصر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں افغان پالیسی پر اختلافات ہیں، لیکن یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستانی عوام میں اس معاملے پر مکمل اتفاق ہے کہ افغانستان میں چھپے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے متاثرین خود پاکستانی عوام ہیں۔‘
بیان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ پاکستان کے مفادات اور عوام کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان دہشت گردی کو پاکستان کا ’اندرونی مسئلہ‘ قرار دیتے ہیں مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ افغانستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے جواز میں فتوے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں اب بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔‘
’سپر ٹائفون‘: فلپائن میں سمندری طوفان کا خطرہ، تقریباً دس لاکھ افراد کا انخلا
فلپائن میں سمندری طوفان ’فنگ وونگ‘ کے خطرے کے پیش نظر نو لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
طوفان، جس کا اتوار کی شام کو ساحل سے ٹکرانے کی توقع کی جا رہی ہے، کو 185 کلومیٹر فی گھنٹہ (115 میل فی گھنٹہ) اور 230 کلومیٹر فی گھنٹہ (143 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ سپر ٹائفون میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ملک کے محکممہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ فلپائن کے سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے لوزون کی طرف شمال مغربی سمت میں بڑھتے ہوئے طوفان کے ساتھ تین میٹر سے زیادہ بلندی اختیار کرنے پر ’جان لیوا اور نقصان دہ طوفان کا خطرہ‘ ہے۔
فنگ وونگ، جو مقامی طور پر یووان کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک پہلے آنے والے طوفان ’کلمائیگی‘ کے بعد آیا ہے، جس کی تباہی سے تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انڈیا میں ’ڈیجیٹل گولڈ‘ یا ’ای گولڈ‘ میں سرمایہ کاری سے متعلق وارننگ کیوں جاری کی گئی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کے روز انڈیا میں مارکیٹس ریگولیٹر سکیورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) نے سرمایہ کاروں کو ڈیجیٹل یا ای گولڈ مصنوعات میں سرمایہ کاری کرنے سے خبردار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ایس ای بی آئی نے کہا کہ اس طرح کے آلات اس کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نہیں آتے اور ان میں بہت بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایس ای بی آئی نے مشاہدہ کیا کہ کچھ آن لائن پلیٹ فارمز ’ڈیجیٹل گولڈ‘ یا ’ای-گولڈ‘ کو فزیکل گولڈ میں سرمایہ کاری کے آسان متبادل کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔
ایس ای بی آئی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس تناظر میں یہ کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ڈیجیٹل گولڈ پروڈکٹس ایس ای بی آئی کے ریگولیٹڈ گولڈ پروڈکٹس سے مختلف ہیں کیونکہ انھیں نہ تو سیکیورٹیز کے طور پر مطلع کیا جاتا ہے اور نہ ہی کموڈٹی ڈیریویٹوز کے طور پر ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایس ای بی آئی کے دائرہ کار سے باہر کام کرتے ہیں۔‘
’وزیراعظم کو جوابدہ رہنا چاہیے‘، شہباز شریف کی استثنیٰ سے متعلق شق واپس لینے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 ویں ترمیم میں وزیراعظم کو استثنیٰ دینے کی ن لیگ کی مجوزہ شق واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔
اتوار کو ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ ہماری جماعت کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کو استثنیٰ دینے سے متعلق ایک ترمیم جمع کرائی ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں ان کے نیک ارادے کا احترام کرتا ہوں، مگر یہ تجویز کابینہ سے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں تھی، میں نے اسے فوراً واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے‘۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’اصولی طور پر ایک منتخب وزیراعظم کو عدالتِ قانون اور عوام دونوں کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ رہنا چاہیے‘۔
واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیا گیا ہے جس میں مسلح افواج سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں ردوبدل، آئینی عدالت کے قیام اور ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تجاویز پر مبنی ہے اور جب تک پارلیمان کی دو تہائی اکثریت اس کی حمایت نہیں کرے گی تب تک یہ آئین کا حصہ نہیں بنے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے بارے میں آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفینس فورسز بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے آئین کی 40 شقوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر علی ظفر نے 27ویں آئینی ترمیم پیش کیے جانے کی مخالفت کی۔
سینیٹ اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کو بل منظور کروانے کی جلدی ہے مگر وہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بغیر 27ویں ترمیم پر بحث میں حصہ نہیں لے سکتے۔
خشک سالی کے باعث بلوچستان میں جنگلی حیات کو خطرہ، محکمہ جنگلات نے جانوروں کے لیے خوراک اور پانی کی فراہمی شروع کر دی, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ
بلوچستان میں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو
گیا ہے جس کے باعث دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی پہاڑوں میں جنگلی حیات کے لیے پانی اور
خوراک کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر
کوئٹہ کے ساتھ چلتن کے پہاڑی علاقے کے علاوہ قریبی واقع تکتو میں جنگلی حیات کی بقا
کے لیے محکمہ جنگلات کی جانب سے خوراک اور پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا
ہے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی
حیات کی جانب سے جاری ہونے والے دو الگ الگ سرکاری اعلامیوں میں ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ
راجہ آصف کھوسہ کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث چلتن کے پہاڑی علاقے
میں پانی اور خوراک کی قلت کے اثرات نمایاں ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس
صورتحال کے پیشِ نظر محکمے کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر پارک کے مختلف حصوں میں فیڈ
ڈالنے اور عارضی واٹر پوائنٹس قائم کرنے میں مصروف ہے تاکہ جنگلی حیات کو سہارا فراہم
کیا جا سکے۔
چیف کنزرویٹر وائلڈ
لائف شریف الدین بلوچ کے مطابق، ہزارگنجی نیشنل پارک کے مختلف حصوں میں چکور، سِسّی
اور دیگر جنگلی پرندوں کے لیے 650 کلوگرام فیڈ ڈالی گئی تاکہ پرندوں کی خوراک کی کمی
سے درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ تکتو
نیشنل پارک میں مارخوروں کے لیے پانی کا انتطام کیا جا رہا ہے۔
چیف کنزرویٹر شریف الدین
بلوچ کے مطابق کوئٹہ میں گذشتہ دو سال کے دوران معمول سے کم بارشوں کے باعث نواحی علاقے
تکتو میں واقع نیشنل پارک میں قدرتی آبی ذخائر خشک ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہاں پائے
جانے والے 500 سے زائد مارخور اور دیگر نایاب جنگلی حیات کے لیے پینے کے پانی کی شدید
قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خشک
سالی کی صورتحال کے پیش نظر تکتو نیشنل پارک میں خصوصی اقدامات کے تحت جنگلی حیات کے
لیے پینے کے پانی کا بندوبست کیا جا رہا ہے اور پارک میں پانی کو قدرتی گڑھوں اور دیگر
مقامات پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جنگلی
حیات کے لیے پینے کا پانی محکمے کے اہلکار کندھوں اور گدھوں پر لاد کر پہنچا رہے ہیں،
تکتو نیشنل پارک میں نایاب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل کی فوری ضرورت
ہے۔
شریف الدین بلوچ کا
مزید کہنا ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں
تاکہ قدرتی ماحولیاتی توازن برقرار رہے۔
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ہزار گنجی نیشنل پارک اور تکتو نیشنل پارک کہاں واقع ہیں؟
ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک بلوچستان کا ایک منفرد قدرتی ورثہ ہے جو کوئٹہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
1980 میں نیشنل پارک قرار دیے جانے والا یہ علاقہ تقریباً 27 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور اپنی حیاتیاتی تنوع، نایاب نسلوں اور خوبصورت مناظر کے باعث عالمی اہمیت کا حامل ہے۔
ڈپٹی کنزرویٹر فاریسٹ راجہ آصف کھوسہ کے مطابق یہ پارک دنیا میں صرف اسی خطے میں پائی جانے والی چلتن مارخور کی نسل کی قدرتی جائے رہائش ہے۔ اس کے علاوہ یہاں چکور، سِسّی، تیتر، جنگلی خرگوش اور درجنوں اقسام کے چرند پرند بھی موجود ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہاں پائے جانے والے نباتات میں جنگلی پستہ جسے حرفِ عام میں شنے/گون کے نام سے جانا جاتا ہے، زیتون، جنگلی انجیر اور مختلف اقسام کی صحرائی جھاڑیاں شامل ہیں۔
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف شریف الدین کے مطابق، تکتو نیشنل پارک کوئٹہ اور پشین کے علاقے بوستان میں 33ہزار421 ایکڑ رقبے پر محیط ہے جس میں نایاب نسل کے مارخور پائے جاتے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق، کوئٹہ کی طرح بلوچستان کے رخشاں اور مکران ڈویژن بھی بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
بارشیں نہ ہونے کہ وجہ سے ساحلی شہر گوادر میں پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہر میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد پر مبینہ مظالم کے خلاف جی20 کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد پر ہونے والے مبینہ
مظالم کے خلاف احتجاج کے طور جوہانسبرگ میں ہونے والے جی 20 کے اجلاس میں شرکت
نہیں کریں گے۔
امریکی صدر کا کہنا
ہے کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ جنوبی افریقہ جی 20 اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے رہنما اس ماہ کے آخر میں جوہانسبرگ میں جمع
ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کی وزارت
خارجہ نے وائٹ ہاؤس کے فیصلے کو ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان
کرسپین فیری نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ جی20 سربراہی اجلاس کی کامیابی کسی ’ایک
رکن ریاست کی شمولیت پر منحصر نہیں۔‘
جنوبی افریقہ کی کسی
سیاسی جماعت نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔ اس میں
وہ جماعتیں شامل ہیں جو افریکانرز اور سفید فام کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
بی بی سی کے پروگرام
نیوز آور سے بات کرتے ہوئے کرسپین فیری کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جنوبی افریقہ کے نوآبادیاتی
ماضی کی دردناک تاریخ کو استعمال کرتے ہوئے ’ایک خیالی بحران کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی
افریقہ میں سفید فام افراد پر مظالم کا کوئی ثبوت نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’جنوبی
افریقہ کے مسائل ہیں اور ہم ان سے نمٹ رہے ہیں۔ میرے خیال میں جرئم سے ہر کوئی متاثر ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو۔‘
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ جی20 کانفرنس جنوبی افریقہ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا
کہ افریکانرز (وہ افراد جو ڈچ آباد کاروں اور فرانسیسی اور جرمن تارکین وطن کی نسل
سے ہیں) کو قتل اور ذبح کیا جا رہا ہے، اور ان کی زمینوں اور کھیتوں پر غیر قانونی
طور پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔‘
’جب تک انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں جاری
رہیں گی، کوئی امریکی
سرکاری اہلکار شرکت نہیں کرے گا۔‘
امریکہ میں حکومت کے شٹ ڈاؤن کے باعث پروازوں کے متاثر ہونے کا سلسلہ جاری، 1400 سے زائد فلائٹس منسوخ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسنیچر کے روز امریکہ بھر میں 1,400 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔
رواں ہفتے امریکی
حکومت کی جانب سے شٹ ڈاؤن کے باعث ایئر لائنز کو ہوائی ٹریفک کم کرنے کے حکم کے باعث
پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور سنیچر کے روز 1,400 سے زیادہ پروازیں منسوخ
کر دی گئیں۔
پروازوں کی آمدورفت
پر نظر رکھنے والے فلائٹ ٹریکر ’فلائیٹ اویر‘ کے مطابق، تقریباً 6,000 پروازیں تاخیر کا
بھی شکار ہوئیں۔ جمعہ کو تقریباً 7,000 سے زائد پروازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا
پڑا تھا۔
امریکی فیڈرل ایوی
ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے گذشتہ ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ ملک کے
مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے 40 پر ہوائی سفر کی صلاحیت کو 10 فیصد تک کم کر دی
جائیں گی۔ ایف اے اے کا کہنا تھا کہ شٹ ڈاؤن کے دوران بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ایئر
ٹریفک کنٹرولرز تھکاوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ریپبلکن اور ڈیموکریٹ
کانگریس اراکین میں تقسیم کے باعث یکم اکتوبر سے شروع ہونے والا حکومتی شٹ ڈاؤن اب
تک جاری ہے۔
روس کا یوکرین پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ، چھ افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
روس کی جانب سے
یوکرین میں توانائی کے انفراسترکچر اور رہائشی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں
کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ڈنیپرو شہر میں ایک
اپارٹمنٹ کی عمارت پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے جبکہ زپوریزہیا میں
تین افراد ہلاک ہوئے۔
مجموعی طور پر، روس
کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کئیو سمیت 25 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملے
کے بعد بہت سے علاقے بجلی اور حرارتی نظام سے محروم ہو گئے ہیں۔
یوکرینی فضائیہ نے
دعویٰ کیا ہے کہ روس نے 450 سے زیادہ دھماکہ خیز بمبار ڈرون اور 45 میزائل داغے تھے
جن میں سے اطلاعات کے مطابق نو میزائلوں اور 406 ڈرون کو مار گرایا گیا تھا۔
یوکرین کے وزیر اعظم
یولیا سویریڈینکو نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں پولٹاوا، خرکیف اور
کئیو کے علاقوں میں توانائی کی بڑی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے، اور بجلی کی بحالی کے
لیے کام جاری ہے۔
دوسری جانب، روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے گذشتہ
رات 79 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں۔
احمد الشراع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناحمد الشراع اور ڈونلڈ ٹرمپ کی رواں سال مئی کے آخر میں ریاض میں ملاقات کے دوران لی گئی تصویر۔
شام کے صدر احمد الشراع
وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچ گئے ہیں۔
احمد الشراع ایک اسلامی
شدت پسند گروہ کے سابق رہنما تھے اور ان کے سر پر امریکہ نے ایک کروڑ ڈالر کا انعام
رکھا تھا۔
خیال کیا جا رہا
ہے کہ احمد الشراع کی قیادت میں شام داعش کے خلاف امریکی اتحاد میں شامل ہونے جا
رہا ہے۔
پیر کے روز ہونے
والی ملاقات کے دوران شام اور امریکہ کے صدور برسوں کی خانہ جنگی کے بعد شام کی تعمیر
نو پر بھی بات کریں گے۔
دوسری جانب، احمد الشراع کی امریکہ آمد سے قبل، شام کی وزارت داخلہ نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) کے ٹھکانوں پر حملوں کا اعلان کیا ہے۔
شام کی وزارت داخلہ
کے مطابق، سرکاری فوج نے ملک کے کئی صوبوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت داخلہ کی
جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کے 61 ٹھکانوں پر چھاپوں کے نتیجے میں
70 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں
لیا گیا ہے۔
اس سے قبل احمد الشراع اور ڈونلڈ ٹرمپ کی رواں سال مئی کے آخر میں ریاض میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے
دوران صدر ٹرمپ نے شامی صدر سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو کہا
تھا جبکہ شام پر عائد امریکی پابندیاں ہٹانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
ٹرمپ اور احمد الشراع کی ملاقات کے بعد رواں سال جولائی میں واشنگٹن نے شدت پسند گروہ حیات تحریر الشام
جو کہ پہلے القاعدہ سے وابستہ تھا کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔
احمد الشراع کی واشنگٹن
میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے قبل امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل
میں قرارداد پیش کی جس کے بعد سکیورٹی کونسل نے شامی صدر پر عائد پابندیاں اٹھا لیں۔
یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی اس کی پیروی کرے گی۔
برطانوی حکومت نے بھی
اعلان کیا ہے کہ وہ بھی احمد الشراع اور شام کے وزیر داخلہ انس خطاب کے خلاف پابندیاں اٹھا لے
گی۔
احمد الشراع اور انس
خطاب دونوں پر داعش اور القاعدہ نیٹ ورک سے وابستگی کے الزام پر پابندیوں عائد
تھیں۔
احمد الشراع ایک زمانے
میں حیات تحریر الشام گروپ کے رہنما تھے اور اس سے قبل وہ القاعدہ سے بھی وابستہ تھے۔
دوسری جانب، انس خطاب النصرہ فرنٹ کے بانی اور رہنما تھے۔
اقوام متحدہ نے
2014 میں دونوں افراد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
احمد الشراع پہلے ابو
محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انھوں نے گیارہ ماہ قبل 8 دسمبر 2024 کو شامی
صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد وہ شام کی عبوری حکومت کے
سربراہ بن گئے تھے۔
بشار الاسد اور ان
کے والد حافظ الاسد نے نصف صدی سے زائد عرصے تک شام پر حکومت کی تھی۔
پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران، شام کے نئے
رہنماؤں نے خود کو اپنے شدت پسند ماضی سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف دی آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
بلوچستان کے ضلع قلات اور پنجگور میں تشدد کے مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہو گئےہیں۔
پاکستان کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد سنیچر کے روز 27 ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ آف پاکستان میں پیش کر دیا گیا۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔