انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے
مبینہ لیک ہونے، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے
استعفے کے مطالبے پر شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں دسیوں ہزار طلبہ،
نوجوان اور سماجی کارکن پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے
راستوں پر سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان
کشیدگی، مذاکرات کی کوششوں اور معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے اس
تحریک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا
ہے کہ انڈین پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب جمع ہونے والے بعض مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی
چارج کیا ہے۔
تاہم پولیس نے ان مخصوص الزامات پر تاحال کوئی
ردِعمل نہیں دیا۔ البتہ اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں پولیس نے جنتر منتر
میں ’وقفے وقفے سے تشدد یا حراست میں لینے‘ سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد
قرار دیا تھا۔
انڈیا میں ہزاروں طلبہ کے احتجاجی مارچ میں شرکت کی تیاریوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں مظاہرین نے موسیقی کے کسی بڑے فیسٹیول کی طرح سامان کی فہرستیں، حفاظتی ہدایات اور ملاقات کے منصوبے ایک دوسرے سے شیئر کیے۔
اس کے علاوہ مظاہرین کے اجتماع کے مقامات کے نقشے، قانونی معاونت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز اور گرفتاری کی صورت میں اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعلق معلومات بھی شیئر کی گئیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی شرکا کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے مارچ کو پُرامن رکھنے، صرف انڈین قومی پرچم ساتھ لانے اور پولیس کے ساتھ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت نے احتجاجی تحریک سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں ان کا مطالبہ ہے کہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو دوبارہ احتجاجی مقام پر واپس لایا جائے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال کے اکیسویں روز پولیس نے زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا تھا، تاہم ان کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ اسپتال میں بھی اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔