آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی وزیر داخلہ سے گفتگو

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ قطر نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا میں پولیس کریک ڈاؤن کے ایک دن بعد بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 12 افراد ہلاک، 18 زخمی
  • پاکستان اور ایران میں تجارت بڑھا کر 10 ارب ڈالرز تک لے جانی چاہیے: ایرانی وزیر داخلہ
  • نئے برطانوی وزیر اعظم سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر بات کی: ٹرمپ
  • امریکہ کا ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکہ کے میزائل نظام اور متعدد ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کر دیا ہے
  • اس ماہ ایرانی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے: پینٹاگون

لائیو کوریج

  1. کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر موجود مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی تصویری جھلکیاں

    دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے مقام کو پولیس نے خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس اس مقام کو خالی کرا رہی ہے جہاں کاکروچ جنتا پارٹی جون سے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھی تھی۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر دی گئی احتجاجی کال پر وسطی دہلی میں ہزاروں افراد جمع ہوئے تھے۔

  2. کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج: پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، جنتر منتر پر کیا ہوتا رہا؟

    نئی دہلی سے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے جاری کارروائی سے متعلق بتایا ہے کہ ’مظاہرین اور پولیس کے درمیان حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔

    گیتا پانڈے نے بتایا ہے کہ ’ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والے حفاظتی لباس میں موجود پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان اب بھی مختلف مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔‘

    تاہم اب سے کُچھ دیر قبل انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں اور دارالحکومت میں ’معمول کے حالات‘ بحال کرنے میں مدد کریں۔

    فریقوں کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری دکھائی دے رہی ہیں، تاہم اس دوران ہجوم کی جانب سے نعرے بازی بھی مسلسل جاری ہے۔

    تقریباً ایک گھنٹہ قبل پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کے استعمال کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

  3. وزیرِ صحت کی مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل: ’ہم اُس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے‘، سی جے پی

    انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں اور دارالحکومت میں ’معمول کے حالات‘ بحال کرنے میں مدد کریں۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیرِ صحت نے کہا کہ احتجاج میں شامل تنظیم کے نمائندوں نے آج صبح پہلی بار حکومت سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جبکہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے مظاہرین نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک تحریری درخواست بھی پیش کی۔‘

    نڈا نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ احتجاج ختم کر کے دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی کی بحالی میں تعاون کریں۔

    تاہم اب سے کُچھ دیر قبل دلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے منسلک دو رہنماؤں نے آج وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے مختصر ملاقات کی تصدیق کی۔

    ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ایک ترجمان سورَو داس نے کچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انھوں نے وزیرِ صحت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں، جن میں ’دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے یا برطرفی‘ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

    سورَو داس نے لکھا کہ ’وزیر کی جانب سے ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر مناسب سطح پر بات کریں گے، تاہم اب تک کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ پُرامن مظاہرین اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا۔‘

    جے پی نڈا نے تاحال اس ملاقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے بھی آج کے احتجاج پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایک انٹرویو میں دھرمیندر پردھان نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو ’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘ قرار دیا تھا۔

  4. ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے جنتر منتر کے مقام پر بنے سٹیج کو ہٹا دیا گیا

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر نامی ایک اہم سڑک پر موجود ہزاروں مظاہرین کو اس مقام سے ہٹایا جا رہا ہے۔

    پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے اور سڑک کو خالی کرنے کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    اب سے کُچھ دیر قبل احتجاج کے مقام پر موجود بی بی سی ہندی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کو پولیس کی جانب سے محفوظ مقام کی جانب جانے کو کہا گیا۔

    گیتا پانڈے کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب مسلسل طلبہ کو احتجاج کے مقام کو خالی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

    اس دوران عارضی طور پر بنائے جانے والے سٹیج کو بھی مظاہرین سے خالی کروانے کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ وہی سٹیج تھا کہ جہاں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کی تھی اور جہاں سے احتجاج کے منتظمین تقاریر کر رہے تھے۔

  5. ایران نے ملک کے ائیر نیویگیشن سسٹم کو نشانہ بنایا ہے: سول ایوی ایشن اتھارٹی بحرین

    بحرین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے مُلک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بحرین کے ائیر نیویگیشن سسٹم پر حملہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس حملے کے باوجود ائیر نیویگیشن سسٹم کا کام متاثر نہیں ہوا اور یہ معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی میڈیا نے بحرین میں دھماکوں کی اطلاعات نشر کی تھیں۔

    حالیہ دنوں میں ایران نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوج کی تنصیبات کو متعدد بار نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

  6. نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، تازہ صورتحال کی چند تصاویر

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر پر اب بھی ہزاروں افراد موجود ہیں، جہاں گزشتہ چند منٹوں کے دوران پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والے حفاظتی لباس میں پہنچے اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مظاہرین کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی۔

    واضح رہے کہ اس مقام پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں دسیوں ہزار طلبہ، نوجوان اور سماجی کارکن پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ایک مخصوص مقام سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔

    اب تک اس احتجاج سے سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ بعض مقامات پر پولیں کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھیاں بھی برسائی گئی ہیں اور مظاہرین اور پولیں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

    نئی دہلی میں جنتر منتر نامی اس اہم سمجھی جانے والی سڑک پر سے سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کی بڑی تعداد اور حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

  7. کاکروچ جنتا پارٹی کیا ہے؟

    ایک آن لائن مہم کے طور پر شروع ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا میں نوجوانوں کی نمایاں احتجاجی تحریک بن گئی ہے۔

    نام کے برعکس ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک عوامی اور سماجی تحریک ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈین سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریہ کانت نے ایک سماعت کے دوران بعض بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی۔

    اس تشبیہ کو مسترد کرنے کے بجائے، بے روزگاری اور مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر برہم نوجوانوں نے اسی لقب کو اپنی شناخت بنا لیا اور کاکروچ کو مزاحمت کی علامت میں تبدیل کر دیا۔

    انٹرنیٹ پر اس کے نام سے ایک ویب سائٹ بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر بھی کر لیا۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اس کے بانی اور کنوینر کی معلومات دی گئی ہیں اور ان کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔

    ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ انڈیا کے تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کی جائیں، امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے، جبکہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔

    دوسری جانب وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے سی جے پی اور اس کے حامیوں کو ’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے تحریک کو مسترد کر دیا ہے۔

  8. نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج: ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کا تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں دسیوں ہزار طلبہ، نوجوان اور سماجی کارکن پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز نے راستوں پر سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

    احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی، مذاکرات کی کوششوں اور معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے اس تحریک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انڈین پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب جمع ہونے والے بعض مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے۔

    تاہم پولیس نے ان مخصوص الزامات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ البتہ اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں پولیس نے جنتر منتر میں ’وقفے وقفے سے تشدد یا حراست میں لینے‘ سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

    انڈیا میں ہزاروں طلبہ کے احتجاجی مارچ میں شرکت کی تیاریوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں مظاہرین نے موسیقی کے کسی بڑے فیسٹیول کی طرح سامان کی فہرستیں، حفاظتی ہدایات اور ملاقات کے منصوبے ایک دوسرے سے شیئر کیے۔

    اس کے علاوہ مظاہرین کے اجتماع کے مقامات کے نقشے، قانونی معاونت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز اور گرفتاری کی صورت میں اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعلق معلومات بھی شیئر کی گئیں۔

    کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی شرکا کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے مارچ کو پُرامن رکھنے، صرف انڈین قومی پرچم ساتھ لانے اور پولیس کے ساتھ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت نے احتجاجی تحریک سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں ان کا مطالبہ ہے کہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو دوبارہ احتجاجی مقام پر واپس لایا جائے۔

    واضح رہے کہ سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال کے اکیسویں روز پولیس نے زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا تھا، تاہم ان کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ اسپتال میں بھی اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  9. کشیدگی میں کمی کے لیے ایران کو ثالثوں کی تجاویز موصول: سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھیں گے، اسماعیل بقائی

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف ثالثوں کی جانب سے تجاویز ہوئی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ فوجی ردِ عمل بھی جاری رکھے گا۔

    پیر کو دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے قطر کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی تجاویز بشمول تہران اور واشنگٹن کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے متعلق سوال کیا۔

    ارنا کی جانب سے پوچھے گئے سوال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ قطر کا حوالہ بھی دیا گیا۔

    سوال کے جواب میں بقائی کا کہنا تھا یہ بات واضح ہے کہ ثالث مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔

    ’اسی دوران ایران امریکہ کے جرائم کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ایران کی مسلح افواج پوری قوت کے ساتھ امریکی جارحیت کا جواب دے رہی ہے وہیں ملک کا سفارتی نظام بھی مکمل طور پر متحرک ہے۔

    اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ثالثوں کے ذریعے پیش کی جانے والی تجاویز تہران کو موصول ہو چکی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الوقت ان کی تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

  10. خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے تین افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں سیلابی ریلے ایک ویگن اور ایک کار بہہ گئی تھی۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق گاڑی سے ایک خاتون اور ایک مرد کی لاش جمرود جبہ خوڑ قدم سے ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیموں اور مقامی افراد نے مشترکہ کاوشوں سے نکال لیں جبکہ ایک بچے کی لاش ریسکیو 1122 کی ٹیم نے پڑانگ سنگ کے مقام پر مقامی افراد سے نکالی۔

    بیان کے مطابق پاک افغان شاہراہ پر ویگن اور کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی جس کے بعد 12 سے زائد بچوں کو سیلابی پانی سے بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

    ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ آٹھ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ضلع خیبر میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکیں متاثر ہیں جبکہ متعدد کچے مکانات کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

  11. ایرانی حکام کی امریکی حملوں میں کم از کم ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے امریکی حملوں میں اب تک کم از کم ایک شخص کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان کے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے ذمہ دار محکمے کا کہنا ہے کہ شمال مغربی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    محکمے کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 2 بج کر 35 منٹ پر تبریز کے جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی علاقے پر امریکی حملے میں ایک شخص ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    ادھر مغربی آذربائیجان کے محکمہ کرائسس مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل حامد سفری کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ارومیہ کے ضلع سلوانا کے قریب ایک مقام کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے حامد سفری کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایران کے صوبہ بوشہر کے گورنر محمد مظفری کا کہنا ہے کہ کچھ دیر قبل ایرانی شہر بوشہر پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک اس حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    یہ حملہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران پر حملوں کے نویں مرحلے کی تکمیل کے کئی گھنٹوں بعد ہوا ہے۔

    حملے کے بارے میں تاحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  12. زیرِ تعمیر نیوکلیئر پاورت پلانٹ پر امریکی حملہ: عدم استحکام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، ایران

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ ایران کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک خطرناک حملہ ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی بدامنی اور عدم استحکام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری مکمل طور پر امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اس جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔

    گذشتہ روز بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ حملے کی رپورٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

    ایجنسی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ تنصیب ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آئی اے ای اے کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا۔‘

    آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ کہ ’مبینہ حملے سے تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے۔‘ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے اطراف فوجی کارروائیوں میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔

  13. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کویت میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں ’ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم‘ بھی شامل ہے۔

    پیر کے روز پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے میں ریڈار سسٹم ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو گیا ہے۔

    بیان میں پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا ہے کہ ’علی السالم اڈے پر امریکی ایم کیو 9 ڈرونز کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور پرزہ جات کے شیڈ اور ایک ہینگر‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ امریکہ کی جانب سے بارہا حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    کویتی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ایرانی ڈرونز کو روکنے میں مصروف ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ ملک میں سنائی دی جانے والی دھماکوں کی آوازیں ایرانی ڈرونز کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

    دوسری جانب بحرین میں خطرے کے سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے لوگوں سے پر سکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے انھیں قریبی محفوظ مقامات پر جانے کا مشورہ دیا ہے۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے بعد سے ایران متعدد بار کویت اور بحرین میں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کا اعلان کر چکا ہے۔

  14. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات: سرکاری ملازمین آج اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں آج سرکاری ملازمین اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    پولنگ کا عمل آٹھ اضلاع میں ہوگا جبکہ راولاکوٹ اور سدنوتی ضلعے میں امن وامان کی صورت حال کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوگی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق کشمیر میں ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب سرکاری ملازمین ہیں مختلف محکموں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

    راولاکوٹ میں قانون ساز اسمبلی کی پانچ نشستیں ہیں تاہم امن و امان کی صورت حال اور کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری احتجاج کے باعث امیدوار اپنی انتخابی مہم مکمل آزادی کے ساتھ نہیں چلا سکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک انھیں کسی امیدوار کی جانب سے اس ضمن میں کوئی شکائت موصول نہیں ہوئی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو طے ہیں جبکہ انتخابی مہم 25 جولائی رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔

  15. پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں امریکی فوج کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن نصر-2 کی 21ویں لہر کے تحت اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود ’جارح امریکی فوج‘ کے سی-17 ٹرانسپورٹ طیارے اور پی-8 کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کی ’عوام اور فوج‘ سے حاصل ہونے والی درست معلومات کی بنیاد پر الأزرق کے علاقے میں واقع 20 ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا جن میں امریکی فوجی موجود تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس حملے میں ’امریکی فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک‘ ہوئے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

  16. آبنائے ہرمز کے جنوب میں دو آئل ٹینکرز میں ’دھماکے‘ ہوئے ہیں: پاسداران انقلاب

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں دو آئل ٹینکرز میں ’دھماکے‘ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل خلیج فارس میں عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع غیر محفوظ اور خطرناک راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے والے دو آئل ٹینکرز میں ’دھماکے ہوئے ہیں اور وہ اپنی نقل و حرکت جاری نہ رکھ سکے۔‘ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان ٹینکروں کو امریکہ نے یہ غیر محفوظ راستہ اپنانے پر ’اکسایا اور مجبور کیا تھا‘۔

    پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ جب تک ’خطے میں امریکی شر انگیزیاں‘ جاری رہیں گی، ’یہ گزرگاہ کیمیائی کھادوں اور حتیٰ کہ تیل اور گیس کے ایک قطرے کی ترسیل کے لیے بھی محفوظ نہیں ہو گی۔‘

    عمان نے 23 جون کو اعلان کیا تھا کہ اس نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے تعاون سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک عارضی راہداری قائم کی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ یہ راستہ اس کے لیے قابلِ قبول نہیں اور تمام جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے ساتھ پیشگی رابطہ کرنا اور ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

    اس سے قبل پیر کی علی الصبح برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا تھا کہ اسے عمان کے نزدیک خلیج فارس کے ساحل پر واقع بندرگاہ کمزار سے آٹھ سمندری میل کے فاصلے پر ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

  17. مسلسل نویں رات امریکہ کے ایران پر حملے: تبریز، چابہار اور بوشہر سمیت مختلف علاقوں سے دھماکوں کی اطلاعات

    پیر کی صبح امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے مسلسل نویں روز ایران پر حملوں کے دعوے کے ساتھ ہی ایران کے مختلف علاقوں بشمول تبریز، صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک، چابہار اور بوشہر سے میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے تبریز سے خبر دی ہے کہ شہر کے مغربی حصے کی جانب سے تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہے۔

    تبریز سے ہولناک آتش زدگی کے مناظر کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اب تک اس واقعے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بعض غیر سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تبریز میں میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اڈوں کو اس سے پہلے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے گذشتہ مرحلے میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

    دوسری جانب سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مقامی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چابہار اور کنارک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    وحید آن لائن نامی ایک بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ صوبہ بوشہر کے شہر خورموج میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کی جانب سے ان حملوں کے مقامات کے بارے میں نے تاحال کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

  18. گذشتہ رات ایران پر کیے جانے والے حملے ہمارے تین فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    آمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات ایران پر کیے جانے والے حملے ہمارے تین فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ تھے۔

    فیفا ورلڈ کپ فائنل کے بعد واشنگٹن ڈی سی روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ’عسکری لحاظ سے انھوں نے تقریباً سب کچھ کھو دیا ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، ان کے پاس کچھ ڈرون ہیں، ان کے پاس کچھ پیداواری صلاحیت موجود ہے، لیکن یہ زیادہ نہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر اب امریکہ کا کنٹرول ہے۔ امریکی صدر نے ایران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کسی چیز پر کنٹرول نہیں رکھتے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے آج رات پھر انھیں بہت سخت نشانہ بنایا، اور ہم نے یہ ہلاک ہونے والے تین امریکی فوجیوں کے اعزاز میں کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم اس وقت جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ان کے جوہری میزائل حاصل کرنے کے کسی بھی امکان کا خاتمہ کر رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام سات بجے (پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح چار بجے) ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، اور یہ مسلسل نویں رات ہے جب یہ حملے کیے جا رہے ہیں۔‘

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی اُن عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے جاری رہیں گے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

  19. عراق میں ایرانی حملے کے بعد ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک، ایک زخمی

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز شمالی عراق میں ایرانی حملے کے بعد ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور ایک کے لاپتا ہونے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی حملہ آور ڈرون کے ملبے سے ملنے والے ایک نہ پھٹے ہوئے دھماکا خیز مواد کو ’کنٹرولڈ دھماکے‘ کے ذریعے ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہوا۔ اس واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے حملے کی جگہ کی تلاشی کے دوران ’نامعلوم انسانی باقیات‘ ملی ہیں۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان باقیات کی شناخت کے لیے جانچ کا عمل جاری ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

    حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں پر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    امریکی فوج نے کہا کہ اس کے تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اردن حملے میں ملوث پاسدارانِ انقلاب کی ان فورسز کو ’فوری سزا‘ دینا تھا۔

    اردن میں واقع اڈے سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ ویڈیو میں کم از کم دو حملوں کے اثرات اور ایک دھماکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس ماہ کے آغاز میں لاپتا ہونے والے امریکی بحریہ کے ایک پائلٹ کو مردہ قرار دیے جانے کے بعد اس تنازع میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

  20. قطری امیر اور عراقی وزیراعظم کی ملاقات، امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا مطالبہ

    قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اتوار کے روز دوحہ میں عراق کے وزیراعظم علی زیدی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    قطری امیر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کی پاسداری کریں اور امریکہ و ایران کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

    ملاقات میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔