سقوط ڈھاکہ سے متعلق بیان کے بعد عمران خان کے خلاف مہم کو مسترد کرتے ہیں: تحریک انصاف
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیاسی نظریے سے 1971 کے دوران سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیا جس کا مقصد فوج پر تنقید نہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان سے منسوب اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ 1971 میں بھی ایک پارٹی نے اکثریت حاصل کی مگر اس کا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔
تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہم نہ تو عوامی لیگ ہیں اور نہ ہی خان صاحب شیخ مجیب الرحمان۔ انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان ٹویٹ میں ہر لفظ خود نہیں لکھتے۔
جبکہ ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے عمران خان کے خلاف ’سقوط ڈھاکہ کے واقعات کی بنیاد پر زہریلے پراپیگنڈے‘ کو مسترد کیا ہے۔
پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 1971 کے افسوسناک واقعات کے قصوروار ’عمران خان یا تحریک انصاف نہیں بلکہ بھٹو ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے 70 کی دہائی کے واقعات کا اس لیے حوالہ دیا کہ اس تاریخ کو دہرایا نہ جائے جس نے پاکستان کو تقسیم کیا۔ اگر عمران خان محب وطن نہیں تو اس ملک میں کوئی محب وطن نہیں۔‘
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مئی کو ایکس پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن۔‘
کئی حریف سیاستدانوں نے اس بیان کے بعد عمران خان پر تنقید کی تھی۔ جیسے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ’عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جس طرح کی بیان بازی کی جاری ہے، وہ تشویشناک ہے۔ عمران خان کس طرح کا پیغام دے رہے؟ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟ عمران خان 'میں نہیں تو ملک نہیں' کی سیاست نہ کریں۔‘