آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مظفرآباد پولیس نے شاعر احمد فرہاد کی فیملی سے ملاقات کروا دی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت گرفتار شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ایک مقدمے میں مظفر آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔

خلاصہ

  • واشک: پاکستان، ایران سرحدی گزرگاہ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چار پاکستانی ہلاک، دو زخمی
  • 17 مئی کو لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کو اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں مظفر آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا
  • اسلام آباد کی مقامی عدالت کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دائر عدت کیس میں فیصلہ سنانے سے معذرت، معاملہ دوسری عدالت کو بھیجنے کی درخواست
  • آڈیو لیکس کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلی کام کمپنیوں کو سرویلینس (نگرانی) کے لیے فون کال ڈیٹا کے استعمال سے روک دیا
  • بلوچستان کے ضلع واشک میں مسافر بس حادثے کا شکار: 26 افراد ہلاک، متعدد زخمی

لائیو کوریج

  1. سقوط ڈھاکہ سے متعلق بیان کے بعد عمران خان کے خلاف مہم کو مسترد کرتے ہیں: تحریک انصاف

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیاسی نظریے سے 1971 کے دوران سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیا جس کا مقصد فوج پر تنقید نہیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان سے منسوب اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ 1971 میں بھی ایک پارٹی نے اکثریت حاصل کی مگر اس کا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔

    تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہم نہ تو عوامی لیگ ہیں اور نہ ہی خان صاحب شیخ مجیب الرحمان۔ انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان ٹویٹ میں ہر لفظ خود نہیں لکھتے۔

    جبکہ ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے عمران خان کے خلاف ’سقوط ڈھاکہ کے واقعات کی بنیاد پر زہریلے پراپیگنڈے‘ کو مسترد کیا ہے۔

    پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 1971 کے افسوسناک واقعات کے قصوروار ’عمران خان یا تحریک انصاف نہیں بلکہ بھٹو ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے 70 کی دہائی کے واقعات کا اس لیے حوالہ دیا کہ اس تاریخ کو دہرایا نہ جائے جس نے پاکستان کو تقسیم کیا۔ اگر عمران خان محب وطن نہیں تو اس ملک میں کوئی محب وطن نہیں۔‘

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مئی کو ایکس پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن۔‘

    کئی حریف سیاستدانوں نے اس بیان کے بعد عمران خان پر تنقید کی تھی۔ جیسے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ’عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جس طرح کی بیان بازی کی جاری ہے، وہ تشویشناک ہے۔ عمران خان کس طرح کا پیغام دے رہے؟ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟ عمران خان 'میں نہیں تو ملک نہیں' کی سیاست نہ کریں۔‘

  2. ’آج مخالفین بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی‘: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت دوبارہ ملنا عوام کی خدمت کا صلہ ہے۔

    لاہور میں مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور یہ مجمع نواز شریف کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔ یہ اللہ کا کرم اور آپ کی نیت نیتی، اور پاکستان کی خدمت کا صلہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جو ذمہ داری پارٹی نے مجھے دی تو آج وہ امانت پارٹی نے آپ کے حوالے کردی، میں یہاں موجود سب کو مبارکباد دیتا ہوں، آج وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی اہل قیادت اور نواز شریف کی نگرانی میں خدمت کر رہی ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو 2017 میں زبردستی نکالا گیا اس جرم میں انھوں نے پاکستان کی خدمت کی، اس کو ایٹمی طاقت بنایا، پاکستان کی معیشت ترقی کرنے لگی تھی۔

    شہباز شریف کے مطابق ’پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات راس نہیں آئی اور فراڈ کے زریعے نواز شریف کی خدمات کو پوری دنیا میں رسوا کرنے کی کوشش کی گئی مگر آج ان کے منہ کالے ہوگئے اور نواز شریف سرخرو ہوگئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وقت نواز شریف کو جھوٹے کیس میں سزا دی گئی، اس کا کوئی جواز نہیں تھا، آج مخالفین بھی کہتے ہیں کہ اس وقت نواز شریف کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فوج نے قربانیاں دی ہیں اور بانی پی ٹی آئی ان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔

    ’میں عدلیہ سے کہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں ترقی واپس نا آئی تو نا جج ہوں گے نا کچھ اور۔ مجھے امید ہے کہ ججز پاکستان کی خوشحالی کے لیے متفق ہیں۔‘

  3. ’جنرل ظہیر الاسلام نے کہا کہ تیسری قوت ڈیلیور کر سکتی ہے،عمران خان بتائیں کہ کیا تیسری فورس کا اشارہ آپ کی طرف نہیں تھا‘

    مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی بتائیں کہ جس تیسری قوت کا آپ ذکر کرتے تھے انھی لوگوں نے آپ کی سیاسی بنیاد نہیں رکھی۔ آپ جس انگلی کی طرف اشارہ کرتے تھے یہ وہی ایمپائر تھا۔‘

    نواز شریف نے جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد خطاب میں کہا کہ’جنرل ظہیر الاسلام نے کہا کہ تیسری قوت ڈیلیور کر سکتی ہے۔ عمران خان آپ بتائیں کہ کیا تیسری فورس کا اشارہ آپ کی طرف نہیں تھا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگر بانی پی ٹی آئی یہ کہہ دیں کہ تیسری قوت وہ نہیں تھے تو میں سیاسیت چھوڑ دوں گا۔‘

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جھوٹے مقدمات پر سزائیں دی گئیں۔ بتایا جائے کہ ہمارے خلاف جھوٹے کیسز کیوں بنائے گئے۔ ہم 28 مئی والے ہیں نومئی والے نہیں۔‘

    نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ آج عمران خان کے خلاف تمام کیسز سچے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں خود چل کر بانی تحریک انصاف کے پاس گیا اور مل کر ساتھ چلنے کو کہا۔ انھوں نے کہا کہ سڑک بنوا دیں وہ ہم نے بنوا دی مگر اس کے بعد بانی پی ٹی آئی لندن چلے گئے اور وہاں لندن پلان بنا کہ نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنا ہے۔

    ’دھرنوں کے دوران مجھ سے کہا گیا کے استعفی دیں، ورنہ وہ سلوک ہو گا جس کے لیے آپ تیار نہیں ہوں گے اور یاد رکھیں گے۔ میں نے کہا کہ میں نے کبھی استعفی نہیں دیا۔ جو چاہے آپ سلوک کر لیں۔‘

  4. ’کئی لوگوں نے میرے اور شہباز شریف کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ جھکے نہ ڈرے‘

    نواز شریف نے کہا ہے کہ ’کئی لوگوں نے میرے اور شہباز شریف کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن شہباز شریف نہ جھکے نہ ڈرے۔ ‘

    پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’شہباز شریف کو پیشکش کی گئی کہ آپ نواز شریف کو چھوڑیں اور وزارت عظمی کا عہدہ لیں لیکن شہباز شریف نے ایسی وزارت عظمی کو ٹھوکر ماری جو بھائی سے بے وفائی پر مل رہی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج شہباز شریف نے دوبارہ وہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی۔ شہباز شریف نے کبھی اپنے بھائی سے بے وفائی نہیں کی اور جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی وہ انھوں نے پوری کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے پارٹی کو متحرک بھی رکھا اور جیلیں بھی کاٹیں اور ہر امتحان میں پورا اتری ہیں۔ مریم نواز کو میرے سامنے ہتھکڑی لگا کر جیل لے جایا گیا۔

  5. بریکنگ, ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا: نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر صدارت سے ہٹا دیا تھا اب کارکن مجھے واپس لائے ہیں تو انکو خوشی منانے دیں۔‘

    پارٹی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے پہلا خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو خوشی اس لیے نہیں منانی کہ نواز شریف دوبارہ صدر بنا ہے بلکہ اس لیے خوشی منائیں کہ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر صدارت سے ہٹا دیا تھا اب کارکن مجھے واپس لائے ہیں تو انکو خوشی منانے دیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج نواز شریف پھر آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ فیصلہ کس لیے کیا کہ نواز شریف تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ میں نے تمھارے بیٹے سے تنخواہ نہیں مانگی تھی۔‘

    انھوں نے کاکنوں سے خطاب میں کہا کہ بلائیں ثاقب نثار کو اور ان کو دکھائیں کہ کارکنوں کا فیصلہ کیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج نواز شریف پھر آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ فیصلہ کس لیے کیا کہ نواز شریف تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ میں نے تمھارے بیٹے سے تنخواہ نہیں مانگی تھی۔‘

    انھوں نے کاکنوں سے خطاب میں کہا کہ بلائیں ثاقب نثار کو اور ان کو دکھائیں کہ کارکنوں کا فیصلہ کیا تھا۔

  6. بریکنگ, نواز شریف بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سات سال کے وقفے کے بعد اپنی پارٹی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ ن کے جنرل کونسل کے اجلاس نے نواز شریف کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر مسلم لیگ ن رانا ثنااللہ کی جانب سے جنرل کونسل کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم کے بلامقابلہ پارٹی صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا۔

    نواز شریف کے مدمقابل پارٹی صدارت کے عہدے کے لیے کسی لیگی رہنما نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔ یاد رہے کہ نواز شریف سات سال کے بعد دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ سنہ 2017 میں مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد ان کو پارٹی صدارت کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

    جنرل کونسل کے لاہور میں ہونے والے اجلاس کے دوران قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ’جھوٹے کیسز میں نواز شریف کو نشانہ بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

    جنرل کونسل کے اجلاس میں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

  7. وزیر اعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی

    پاکستان کے وزیر اعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے فیصلوں پر جلد عملدرآمد کے لیے کابینہ تشکیل دے دی ہے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کابینہ کمیٹی کے چیئرمین وزیراعظم شہبازشریف خود ہوں گے۔ جبکہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور صوبائی وزرائے اعلیٰ بھی کابینہ کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

    ایس آئی ایف سی کی کابینہ کمیٹی رولز آف بزنس 1973 کے تحت قائم کی گئی ہے۔ کابینہ کمیٹی میں 12 کابینہ اراکین اور چھ اراکین باہر سے شامل ہوں گے جن میں دفاع، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات، آئی ٹی, فوڈ سکیورٹی، پانی و بجلی، قانون و انصاف، سرمایہ کاری، صنعت و پیداوار اور پیٹرولیم کے وزراء شامل ہوں گے۔

    کابینہ کمیٹی کے فیصلے وفاقی کابینہ میں پیش ہوں گے۔ کابینہ کمیٹی کا سیکرٹریٹ ایس آئی ایف سی کے آفس میں ہو گا۔

  8. بلوچستان: ماشکیل سے شروع ہونے والا لانگ مارچ ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین پہنچ گیا, محمد کاظم، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع واشک کے ایران سے متصل سرحدی شہر ماشکیل سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین پہنچ گئے ہیں۔

    ماشکیل شہر میں خوراکی اشیا کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسئلے کے بعد کوئٹہ تک اندازاً 650 کلومیٹر یہ طویل لانگ مارچ 24 مئی کو شروع کیا گیا تھا۔

    مارچ میں شریک جیئند بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث ماشکیل کا راستہ ضلع چاغی میں نوکنڈی کی جانب سے بند ہوگیا جس کے باعث ماشکیل شہر اور اس متصل علاقوں میں خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ خوراکی اشیا کی قلت کو دور کرنے کے لیے ماشکیل کے لوگ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو کھولا جائے تاکہ لوگ وہاں سے آسانی کے ساتھ خوراک اور ایندھن حاصل کرسکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کراسنگ پوائنٹ کرونا کے باعث بند کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد اس کو نہیں کھولا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ مزہ سر کرانسگ پوائنٹ کو کھولنے کے لیے ماشکیل میں احتجاجی کیمپ قائم کرنے کے علاوہ متعدد بار شٹرڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی لیکن حکومت کی جانب سے تاحال اس کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے کے لیے اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس مطالبے سمیت بعض دیگر مطالبات کو منوانے کے لیے اس شدید گرمی میں ہم طویل لانگ مارچ شروع کرنے پر مجبور ہوئے۔

    دیگر مطالبات میں خاران اور نوکنڈی کے درمیان سی پیک روڈ کے منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ پہنچنے پر ہم اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کریں گے اور اگر یہ نہیں مانے گئے تو پھر مارچ کے شرکا بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

    جب لانگ مارچ کے شرکا کے ایران کے ساتھ کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے کے مطالبے کے حوالے سے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بارڈر سے متعلق مسائل وفاقی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ چمن ہو یا ماشکیل بین الاقوامی سرحدوں سے آمدورفت ڈاکومینٹیشن کے ذریعے ہو گی۔

  9. پاکستان حکومت کا 28 مئی کو سرکاری چھٹی کا اعلان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر ملک بھر میں 28 مئی کو سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یوم تکبیر پاکستانی قوم کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اتحاد کی یاد دلاتا ہے۔

    1998 میں انڈیا کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی کو پاکستان نے بلوچستان کے پہاڑی علاقے چاغی میں ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ ان دھماکوں کی یاد میں ہر سال 28 مئی کو یومِ تکبیر منایا جاتا ہے۔

  10. پاکستانی اداروں کی مشترکہ کارروائی، 10 ارب مالیت کی 675 کلو آئس برآمد کرنے کا دعویٰ

    پاکستان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انٹیلی جنس، کراچی کا کہنا ہے کہ 23 مئی کو بحیرہ عرب میں مشترکہ آپریشن کے دوران ایک کشتی سے 675 کلوگرام آئس برآمد کی گئی ہے۔

    میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، منشیات کشتی کے مختلف حصوں میں چھپائی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران کشتی کے عملے کے07 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ضبط شدہ منشیات کی قیمت 37 ملین امریکی ڈالرز یا 10 ارب روپے ہے۔

    گرفتار سمگلرز اور ضبط شدہ منشیات کو قانونی کارروائی کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  11. 28 مئی سے ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی لہر میں کمی کا امکان: محکمہ موسمیات

    پاکستان میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جس سے ملک بھر میں معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

    تاہم، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 28 مئی سے ملک کے کئی حصوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جس کے بعد ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی لہر میں کمی آسکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 مئی سے کمزور مغربی ہوائیں ملک کے بالائی حصے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 مئی سے پہلی جون تک خیبر پختونخوا اور اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں کئی مقامات پر آندھی چلنے اور وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔

    اس ہی دوران، گلگت بلتستان اور کشمیر کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    جبکہ 27 مئی کی رات سے بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، ژوب، زیارت، زیرانی اور بارکھان میں آندھی اور گرج چمک کا امکان ہے۔ سندھ میں کراچی، ٹھٹہ، بدین اور حیدرآباد میں 28 اور 29 مئی کو آندھی چل سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں ہیٹ ویو جیسی صورتحال جاری رہے گی اور دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے تین سے چار ڈگری زیادہ رہے گا۔

    ایسے میں جب ملک کے طول و عرض میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور مجموعی درجہ حرارت میں چارسے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ سامنے آ رہا ہے، ایسے میں اگر آپ کا بچہ چرچڑا ہو جائے یا سر درد کی شکایت کرے تو اس بات کو ہرگز ہلکا نہ لیں کیونکہ یہ اس بات کی پہلی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کا بچہ ’گرمی کی تھکاوٹ‘ (Heat Exhaustion) کا شکار ہو گیا ہے۔

  12. خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، ’23 شدت پسند اور ایک کپتان سمیت سات فوجی ہلاک‘

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اتوار اور پیر کو سکیورٹی فورسز کی تین مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 23 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ان کارروائیوں کے دوران ایک کپتان سمیت سات فوجی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستانی فوج کے ایک نائیک، ایک لانس نائیک اور تین سپاہی پیر کو ضلع خیبر کے علاقے باغ میں ہونے والی جھڑپ میں مارے گئے جبکہ اس دوران سات شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

    فوج کی جانب سے ہی پیر کو ہی ضلع ٹانک میں ہونے والی کارروائی میں دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق تیسری کارروائی اتوار کو پاشور کے علاقے حسن خیل میں کی گئی تھی جس میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کپتان اور ایک حوالدار کی جان گئی تھی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے اور ایسی کارروائیوں کا مقصد ان علاقوں سے شدت پسندی کا خاتمہ ہے۔

  13. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی ضمانت منظور

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے خلاف ڈپلومیٹک پاسپورٹ استعمال رنے کے مقدمے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے سردار تنویر الیاس کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران سردار تنویر الیاس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف درج دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے اور ملزم کو ضمانت ملنی چاہیے، وکیل سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ بھی واپس کر دیا گیا ہے۔

    تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام نے ریکارڈ عدالت پیش کرتے ہوئے ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے سردار تنویر الیاس کی ضمانت کی مخالفت کی۔

    یاد رہے کہ سردار تنویر الیاس جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔

  14. بریکنگ, لاپتا بلوچ طلبا کے مقدمے کا فیصلہ: ہر لاپتا فرد اپنے خاندان کے پاس ضرور پہنچے گا، اٹارنی جنرل کی یقین دہانی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا بلوچ طلبہ کے مقدمے کے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ہر وہ فرد جس کے حوالے سے لاپتا ہونے کا الزام ہے وہ اپنے خاندان کے پاس ضرور پہنچے گا، لاپتا افراد کا مسئلہ سیاسی حل کا تقاضا کرتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتا بلوچ طلبہ کے کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے تحریر کردہ چار صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ہر وہ فرد جس کے حوالے سے لاپتا ہونے کا الزام ہے وہ اپنے خاندان کے پاس ضرور پہنچے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتا افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ اعلیٰ سطح پر بات کی گئی ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق وزرا پر مشتمل کمیٹی نے سفارشات تیار کرلیں، کابینہ سے منظوری کے بعد سفارشات عدالت میں پیش کی جائیں گی۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے۔

    حکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل کا مؤقف ہے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ سیاسی حل کا تقاضا کرتا ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ جبری گمشدہ افراد سے متعلق خفیہ اداروں کے ڈی جیز پر مشتمل کمیٹی کے پرانے حکم میں ترمیم کی جارہی ہے، آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی اپنے سیکنڈ ہائی لیول افسران کو کمیٹی کا ممبر بنا سکتے ہیں جب کہ ایف آئی اے اور سی ٹی ڈی کے حکام کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

    حکم نامے کے مطابق درخواست گزار وکیل ایمان مزاری نے لاپتا تین طلبہ کی فہرست اٹارنی جنرل کو دی ہے، توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ سماعت پر ان تین لاپتا افراد سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

  15. پریشر ککر کسی بھی دن پھٹ جائے گا اور اقتدار پر جھوٹے قبضے والوں کو جھلسا کر رکھ دے گا، عارف علوی

    پاکستان کے سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ پریشر کُکر کسی بھی دن پھٹ جائے گا اور اُن لوگوں کو جن کا اقتدار پر جھوٹا، غاصبانہ اور ظالمانہ قبضہ ہے جھلسا کر رکھ دے گا۔

    سابق صدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پریشر ککر کسی بھی دن پھٹ جائے گا مگر نقصان کس کو پہنچے گا؟

    ان کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’بھاگنے والے راہ فرار اختیار کریں گے، وہ جنھوں نے بیرون ملک راستے ہموار کیے ہوئے ہیں اور ہمارا لوٹا ہوا مال و دولت سب باہر رکھا ہوا ہے۔ہم وفادار پاکستانی جنھوں نے اپنے ملک میں جینے اور مرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، ہم بھی دیکھیں گے کہاں جایئں گے۔ اللہ ایسے لوگوں پر دنیا بھی تنگ کرتا ہے۔

    مافیا یہ سمجھ لے اور ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ ہم بچائیں گے پاکستان کو۔ قوموں کی برادری میں عزت کے ساتھ کھڑا کریں گے اور ترقی کریں گے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس جھوٹی، سفاک، غیر قانونی اور جابر حکومت کے تحت جاری لوٹ مار کی راکھ پر بھی تعمیر کر دیں گے اپنے وطن کو۔

    یہ سب اللہ کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہو گا۔ اس مٹی کے کا ایک انتہائی بہادر، دلیر، قابل فخر فرزند، محنت کش عوام کے دلوں کا سپریم کمانڈر عمران خان کھڑا ہے، قیادت کر رہا ہے اور منزل تک پہنچا کر ہی دم لے گا۔‘

  16. شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں دوبارہ گرفتار، کسی بھی مقدّمے میں ان کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں: پی ٹی آئی

    لاہور پولیس نے اتوار کو اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مزید آٹھ مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ اب پولیس جیل میں ہی ان سے تفتیش کرے گی۔

    پولیس نے شاہ محمود قریشی سے جیل میں تفتیش کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس پر لاہور کی انسداد دہشت گردی کی نے پولیس کو نو مئی کے مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما سے تفتیش کی اجازت دے دی۔

    لاہور پولیس کی خصوصی ٹیم شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے اڈیالہ جیل پہنچی اور تفتیشی ٹیم نے عدالت سے شاہ محمود قریشی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت مانگی لیکن عدالت نے سکیورٹی خدشات کے باعث شاہ محمود کو لاہور منتقل کرنے سے منع کردیا۔

    تفتیشی ٹیم کی استدعا پر عدالت نے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔لاہورپولیس کی ٹیم نے ملزم شاہ محمود قریشی سےاڈیالہ جیل میں ہی بیان ریکارڈ کیا۔

    شاہ محمود قریشی ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی کسی بھی مقدّمے میں گرفتاری کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق جن مقدمات میں شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈالی گئی ان تمام مقدمات میں عدالت نے انھیں ضمانت دے رکھی ہے۔

    ترجمان کے مطابق شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے نظریے پر جم کر کھڑا رہنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں برس مارچ میں خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں چینی انجینیئرز پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت کے احکامات پر ہوا تھا۔ اتوار کو پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے کوآرڈینیٹر رائے طاہر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چینی انجینیئر پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی افغانستان میں تیار کی گئی تھی۔ خیال رہے رواں برس 26 مارچ کو بشام کے قریب ہونے والے خودکش کار حملے میں پانچ چینی شہری اور ان کا پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوا تھا۔
    • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس نے مبینہ توہینِ مذہب کے معاملے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور پُرتشدد مظاہرے میں ملوث ہونے کے الزام میں 16 نامزد اور 500 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اتوار کو پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں اقدامِ قتل، انسداد دہشتگردی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق توہینِ مذہب کے الزام میں ایک مسیحی شخص کو بھی گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں ٹرک اور وین میں تصادم کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔ ملتان سے بھکر جانے والی مسافر وین کو حادثہ کوٹ ادو میں چوک سرور شہید اڈا محمد والا سٹاپ کے قریب پیش آیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق مسافر وین میں سوار افراد کا تعلق ملتان کی بستی لاڑ سے تھا اور وہ بھکر میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جارہے تھے۔ مرنے والے افراد میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔لاشوں اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!پاکستان کی سیاست، سیکورٹی، عدلیہ، معیشت اور دیگر امور سے متعلق خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    گذشتہ دونوں کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں