صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ میں داخل ہونے والا مسلح شخص ہلاک، امریکی صدر اور خاندان محفوظ ہیں: حکام

سیکرٹ سروس کے مطابق ایک شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے محفوظ حصے میں داخل ہوا۔ عوامی شیڈول کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔

خلاصہ

  • پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: پاکستان
  • افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
  • 'مناسب وقت' پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا: افغان وزارتِ دفاع
  • ننگرہار میں گھر پر حملے میں 11 بچوں سمیت 17 افراد مارے گئے ہیں: طالبان حکام

لائیو کوریج

  1. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ َٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

    جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے ہونے والی بات چیت کے اختتام پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا، ’ کیا آپ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟‘

    اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کچھ لمحوں کا وقفہ لیا اور کہا ’میرے خیال میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کے ایسا سوچ رہا ہوں۔‘

    اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی میں محدود پیمانے پر فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر تہران معاہدے کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو بعد میں حملوں کو وسعت دی جائے گی جس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہو گا۔

    تاہم وال سٹریٹ جنرل کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ ایک مختصر مدت کی مہم سے لے کر ایرانی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی مہم تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب جمعہ کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایک ’ممکنہ معاہدے کے مسودے‘ پر کام کر رہا ہے اور اگلے چند دنوں میں اسے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    ایک طرف جہاں جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ مذاکرات ہو رہے ہیں وہیں امریکہ نے ایران کے اطراف میں اپنی افواج کی تعیناتی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

    اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل ہے جو رفتہ رفتہ خطے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

  2. سربیا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    سربیا کی حکومت نے ایران میں موجود اپنے تمام شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، سربیا کی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائت ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ہدایت کی وجہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ، جرمنی، پولینڈ اور بیلجیئم سمیت متعدد یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا کہا تھا۔

    جمعرات کے روز، امریکی صدر نے ایران کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بامعنی معاہدے‘ تک پہنچنے زیادہ سے زیادہ 15 دن کا وقت دیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران ’بری چیزوں‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

    اسی تناظر میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔

    اس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’فوجی جارحیت‘ کا جواب دے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ تصادم کی صورت میں خطے میں ’دشمن طاقت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔

  3. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینیئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد ہلاک

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمشرقی لبنان میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے پر حزب اللہ کا پرچم لگا دیا گیا ہے۔

    جمعہ کے روز مشرقی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک سینیئر حزب اللہ رہنما سمیت کم از کم 12 افراد مارے گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تداد 10 ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ اور اس کے فلسطینی اتحادی حماس کو نشانہ بنایا ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں مشرقی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں اپنے ایک رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ گروپ نے حملے میں مارے جانے والے رہنما کی شناخت محمد ياغی صادق کے نام سے کی ہے۔

    دوسری جانب لبنانی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ’وادی بیکا میں متعدد مقامات پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہوئے ہیں‘۔ وزارت صحت کے مطابق، زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق، یہ حملے ملک کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  4. ’ایران کے حوالے سے تمام تر صورتحال سے آگاہ ہیں‘: اسرائیلی فوج اپنے دفاع کے لیے الرٹ ہے، ترجمان

    اسرائیلی فوج کا ترجمان

    ،تصویر کا ذریعہx/IDF

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ’دفاعی الرٹ‘ کی پوزیشن پر ہے تاہم شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈفرین کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے، ’ہم خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایران کے حوالے سے تمام صورتحال سے آگاہ ہیں۔ اسرائیلی فوج دفاعی الرٹ کی پوزیشن پر ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ’پہلے سے کہیں زیادہ، آپریشنل صورتحال میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا جواب دینے کے لیے ہماری انگلی ٹریگر پر ہے۔‘

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں فی الحال شہریوں کے لیے کوئی نئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  5. ایران میں مظاہرین کی ہلاکت: مختصر وقت میں 32 ہزار افراد مارے گئے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    ایران مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قلیل عرصے میں 32,000 افراد مارے گئے تھے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک بہتر معاہدے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے لیڈروں سے بہت مختلف ہیں۔ ’یہ ایک بہت، بہت، بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ مختصر عرصے میں، 32,000 لوگ مارے گئے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ ’وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اس ہی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے، ’وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔‘

  6. عالمی ٹیرف برقرار مگر کمپنیوں کے لیے امید کی کرن, نیٹلی شرمین، نیو یارک بزنس رپورٹر/بی بی سی

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    کئی کاروبار ٹیرف ادا کرنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن کئی کمپنیوں کے لیے اتنی ہی پریشان کن بات یہ تھی کہ انھوں نے گذشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے عالمی ٹیرف عائد کیے جانے کی توقع نہیں کی تھی۔

    اب جبکہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ٹیرف برقرار رہیں گے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 150 روز تک نئے قانون کے ذریعے ٹیرف عائد کریں گے۔ اس قانون میں صرف 150 دنوں کی گنجائش ہے جس کے بعد کانگریس مداخلت کر سکتی ہے۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ کے پاس جو متبادل راستے ہیں ان میں کئی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں، جیسے تحقیقات، نوٹس، جواب مانگنے کا مرحلہ وغیرہ۔

    یوں کمپنیوں کو منصوبہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے اور یہی ان کے لیے امید کی کرن ہے۔

  7. سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ٹیرف کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کے لیے سچ کا ساتھ دے سکیں۔‘

    خیال رہے کہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔

    ٹرمپ نے ان ججز کی تعریف کی ہے جنھوں نے اختلافی رائے دی ہے۔

    امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔

    انھوں نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ’کسی بھی ملک سے ایک ڈالر بھی وصول کرنے سے روکا ہے۔۔۔ (یعنی) میں تجارت تباہ کر سکتا ہوں، ملک تباہ کر سکتا ہوں۔ لیکن ان سے فیس وصول نہیں کر سکتا۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ٹیرف عائد کرنے کو کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاوورز ایکٹ کے استعمال سے متعلق فیصلہ دیا ہے، یعنی سپریم کورٹ نے انھیں اس ایکٹ کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے سے روکا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ملک کو تحفظ دینے کے لیے‘ وہ پھر بھی عالمی ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ جاری رکھیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک صدارتی حکمنامے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    اس سوال پر کہ کیا جو اب تک ٹیرف سے آمدن حاصل کی گئی ہے اسے واپس کیا جائے گا، ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’اس بارے میں بات نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ کئی برسوں تک عدالت میں چلے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم شاید اگلے پانچ سال تک عدالت میں رہیں گے۔‘

  8. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تہران سے ’اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام کو روکنے کے لیے نہیں کہا۔‘
    • پاکستان میں غربت کی شرح میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
    • جمعہ کی شب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    • ناروے کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت نے سلامتی کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اپنے تقریباً 60 فوجی اہلکاروں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔