یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے انٹرنیٹ کی سُست رفتار سے متعلق درخواست پر ہونے والی سماعت کے دوران کہا کہ ’عدالت میں اُس کو بلائیں گے جو اس معاملے کا علم رکھتا ہو اور عدالت کو بریف کر سکے۔ آج کل انٹرنیٹ سست ہو گیا ہے؟‘ اس پر عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیا جائے اور اُن سے اس بارے میں پوچھا جائے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے مقدمے میں 22 گواہوں کے نام منظرِعام پر آ گئے ہیں۔
عمران خان کے سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد کا نام بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہے۔ محمد احمد پاکستان فوج میں ترقی پانے کے بعد اب میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی سابق وزیراعظم کے احتساب کے مقدمے میں ان کے ملٹری سیکریٹری کو بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے میں مزید گواہان میں کیبنٹ ڈویژن میں توشہ خانہ کے سیکشن آفیسر، وزیراعظم ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر طلعت محمود، نیب ہیڈکوارٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر قیصر محمود اور وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فہیم کے نام بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ کا نام بھی گواہوں کی فہرست میں موجود ہے۔
خیال رہے انعام اللہ شاہ کا نام بشریٰ بی بی کی ایک مبینہ آڈیو لیک میں بھی آیا تھا، جس میں بشریٰ بی بی مبینہ طور پر مختلف ملکوں کے سربراہان مملکت کی طرف سے ملنے والے تحائف کی تصاویر کھینچنے پر برہمی کا اظہار کر رہی تھیں۔
مقدمے میں نیب کے ڈائریکٹر شفقت محمود اور تفتیشی افسر محمد محسن ہارون کے نام بھی بطور گواہ شامل کیے گئے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا دوسرا مقدمہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھنے پر دائر کیا گیا ہے۔
ریفرنس کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ بشریٰ بی بی کو 7 سے 10 مئی کے دوران سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دیا گیا تھا، جس میں ایک عدد انگوٹھی، ایک بریسلٹ، ایک ہار اور ایک جوڑی بالیوں کی شامل تھی۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ تحقیقات یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے غیرقانونی طور پر بلغاری کا سیٹ اپنے پاس رکھا۔
نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے مطابق بلغاری کمپنی نے سالوجنٹ ٹریڈنگ سعودی عربیہ نامی فرنچائز کو 25 مئی 2018 کو ہار تین لاکھ یورو جبکہ بالیاں 80 ہزار یورو میں فروخت کی تھیں۔
ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 مئی 2021 کو بلغاری جیولری سیٹ کی کُل قیمت سات کروڑ 56 لاکھ 61 ہزار 600 پاکستانی روپے بنتی تھی۔
نیب کے ریفرنس کے مطابق ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے 18 مئی 2021 کو سیکشن آفیسر توشہ خانہ کو قیمت کا تخمینہ لگانے اور تحفہ ڈکلیئر کرنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن جیولری سیٹ نہیں جمع کروایا گیا تھا۔
توشہ خانہ رولز کے مطابق 50 فیصد دے کر بلغاری جیولری سیٹ اپنے پاس رکھا جا سکتا تھا، جس کی قیمت تین کروڑ 57 لاکھ 65 ہزار 800 روپے بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMO
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو سپریم کورٹ کے اُس ایک فیصلے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کہ جس کے تحت ایک احمدی شہری کو ضمانت پررہا کیا گیا تھا۔
اجلاس کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اس مقدمے کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 17 اگست 2024 کو ایک اضافی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ اس مقدمے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث ہوئی اور یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے حوالے کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی وفاقی حکومت کو یہ ہدایت دے گی کہ اس مقدمے کے واقعاتی اور قانونی پہلوؤں اور علمائے کرام کی رائے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے درخواست دائر کی جائے۔
کابینہ کے اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق اٹارنی جنرل 22 اگست 2024 کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست کی سماعت میں پیش ہوں گے اور اپنی ٹیم کے ہمراہ علمائے کرام اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رائے کی روشنی میں دلائل دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
واضح رہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ایک ملزم کی درخواستِ ضمانت پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چھ فروری 2024 کو دیے گئے فیصلے کے بعد اچانک سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک منظم مہم کو جنم دیا تھا۔
اس مہم کے دوران جہاں چیف جسٹس کے فیصلے کو آئین اور دین سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے وہیں خود ان پر توہینِ مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا چُکے ہیں۔
واضح رہے کہ عدلیہ مخالف مہم کے بعد جہاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کا اردو متن اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا وہیں ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی غلط رپورٹنگ کی گئی جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور ایسا تاثر دیا گیا کہ جیسے سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم میں مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں بلوچستان کے ضلع مستونگ میں تین عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 اور 19 اگست کی درمیانی شب اس کارروائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے تین عسکریت پسند مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ڈی سی پنجگور کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کو خلاف آپریشن پر سیکورٹی فورسز کو سراہا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن کا کہنا تھا کہ ’مُلک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شد پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘
اسی کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مستونگ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں بی ایل اے کے 3 دہشتگردوں کی ہلاکت پر کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔‘
اس کارروائی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ جس میں انھوں نے مستونگ میں ’کامیاب انٹیلجنس بیسڈ آپریشن‘ پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ کے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف کی گئی کارروائی میں اہمکامیابی حاصل ہوئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروے کار لائے جارہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCredit Imran Baloch
اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم بی ایل اے سے ہے اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے لیکن تاحال آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
تاحال کسی تنظیم کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پنجگور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی جبکہ کالعدم بی ایل اے نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس نے ڈپٹی کمشنر پنجگور کے قتل کے واقعے کے حوالے سے لیویز فورس کھڈ کوچہ کے ایس ایچ او اویس خان اور تین دیگر اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا ہے۔
ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق چاروں اہلکاروں کے خلاف کارروائی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے اہلکاروں کی جانب سے غفلت اور اپنے فرض کی آدائیگی میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے 12 اگست کی شب ڈپٹی کمشنر پنجگور پر ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں حملہ کیا تھا۔
اس حملے میں ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ ہلاک اور چیئرمین ضلع کونسل عبدالمالک بلوچ زخمی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انٹرنیٹ کی سُست روی اور مبینہ فائر وال کی تنصیب پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر 26 اگست تک جواب طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرنیٹ کی سست رفتار اور مبینہ فائر وال کی تنصیب کے خلاف صحافی حامد میر کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر آج سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’اس سے پہلے کہ ہم کوئی آرڈر جاری کریں، یہ بتائیں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے؟‘
عدالت میں پٹیشنر یعنی حامد میر کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے صحافی حامد میر کی درخواست پر ریمارکس دیے کہ ’آج کل انٹرنیٹ سست ہو گیا ہے؟ کون سی وزارت اس سے متعلقہ ہے، پتہ چلے کہ انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی کی وجہ کیا ہے؟ اس متعلق پی ٹی اے سے پوچھیں یا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے؟ کیا اس متعلق پی ٹی اے سے پوچھیں یا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے؟‘
چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے اُٹھائے جانے والے ان سوالات کے جواب میں حامد میر کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والی ایڈووکیٹ ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی اے اس معاملے پر خاموش ہے۔‘
جس پر عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے کہ ’سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری میں سے کس کو بلائیں؟‘
ایمان مزاری کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیا جائے اور اُن سے انٹرنیٹ کی سُت رفتار اور مبینہ فائر وال تنصیب کے حوالے سے پوچھا جائے تاکہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت میں اُس کو بلائیں گے جو اس معاملے کا علم رکھتا ہو اور عدالت کو بریف کر سکے۔‘
عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئےپیر تک جواب طلب کرنے کے حکم کے ساتھ سماعت 26 اگست تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ انٹرنیٹ کے مبینہ غیر اعلانیہ خلل اور اس سے جڑے مسائل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی حامد میر کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ذریعۂ معاش کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق قرار دیا جائے اور ’شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔‘
حکومت کا انٹرنیٹ کی سُست رفتار کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
تاہم ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا تھا تاہم وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ پاکستان میں وی پی این کا بہت زیادہ استعمال ہے۔‘
اس سے قبل شزہ فاطمہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پوری دنیا میں حکومتیں سائبر سکیورٹی کے لیے فائر وال انسٹال کرتی ہیں۔ فائر وال سے پہلے ویب منیجمنٹ سسٹم تھا جسے حکومت اب اپڈیٹ کر رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ سہولت کاری کا نیٹ ورک پکڑے جانے والے معاملے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اس دوران مزید چھ جیل ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔
اہلکار کے مطابق حراست میں لیے گئے ملازمین میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ اہلکار کے مطابق حراست میں لیے گئے ملازمین میں ایک سویپر، دو لیڈی وارڈز اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کرنے والے تین اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حراست میں لیے گئے ملازمین کے موبائل فون قبضے میں لیے گئے ہیں جن کو فارنزک کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق خواتین سٹاف جیل میں بشریٰ بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے درمیان پیغام رسانی کرتا تھا۔ محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق ملازمین کو پہلے سے حراست میں ڈپٹی سپرٹنڈنٹ جیل محمد اکرم اور سسٹنٹ سپرٹنڈنٹ بلال سے تفتیش کے نتیجے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اہلکار نے دعویٰ کیا کہ حراست میں لیے گئے ملازمین سے سکیورٹی اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ جس میں ابھی تک کسی سویلین ادارے کے اہلکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق جیل میں نگرانی کے لیے افرادی قوت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈپٹی سپرٹنڈنٹ محمد اکرم چند روز پہلے مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ تاہم محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق مذکورہ جیل افسر سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور محمد اکرم سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر تعینات تھے۔
محمد اکرم کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے وزارت دفاع سے جواب طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے غزہ میں امریکی تجویز پر جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ انتونی بلنکن کے مطابق اب بات حماس پر آ گئی ہے کہ آیا وہ اس تجویز سے متفق ہیں یا نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے جسے نتن یاہو نے ایک مثبت ملاقات کہا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو نے امریکی پلان پر عملدرآمد پر یقین دہانی کرائی ہے جس کے تحت حماس کی حراست میں مغویوں کو رہا کیا جانا بھی شامل ہے۔
انتونی بلنکن نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بندی کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔ امریکہ کو یہ امید ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جائے گا۔ امریکی حکام کو یہ امید ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ ہفتے تک ہو جائے گا تاہم اس طرح کی امید اسرائیل یا حماس کی طرف سے سامنے نہیں آئی ہے۔
اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر ہٹ دھرمی اور جارحیت کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔
تل ابیب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے اور مغویوں کی رہائی کی طرف تیزی سے بڑھنے سے متعلق بات کی۔
انھوں نے کہا کہ ہم ہار نہیں مان رہے ہیں۔ جنگ بندی معاہدے میں مزید تاخیر کا مطلب ہے کہ مزید مغوی مر سکتے ہیں اور ایسے کسی معاہدے سے متعلق مزید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کی جنگ چھڑنے کے بعد یہ انتونی بلنکن کا اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا نواں دورہ ہے۔ وہ اپنے اس دوسرے کے اگلے مرحلے پر جنگ بندی معاہدے پر پیشرفت اور اسے یقینی بنانے کی کوشش کے سلسلے میں اب مصر اور دوحہ جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ وہ اس ہفتے میں قاہرہ میں جاری مصری، قطری اور امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں اپنی ٹیم بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مئی کے اواخر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا تھا۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
پیر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 اور 19 اگست کی درمیانی شب کچھ شدت پسند پاکستان، افغانستان کی سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور سکیورٹی فورسز نے ان کی نقل و حرکت کو ٹریس کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے اس کوشش کو ناکام بنایا اور ایک کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستانی فوج کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فوج نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت نائیک عنایت خان، لانس نائیک عمر حیات اور سپاہی وقار خان کے نام سے کی ہے۔
پاکستانی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں قائم عبوری حکومت پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی۔
اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں نے ایکسپریس چوک پر جاری احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا ہے۔
پیر کی شام کو مذہبی جماعتوں کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد پاکستانی دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی، جنھیں روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے تھے۔
پولیس کی کارروائی کے بعد مظاہرین ریڈ زون سے ایکسپریس چوک کی طرف چلے گئے تھے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ مظاہرین نے احتجاج کے لیے پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر میں نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتجاجی مظاہرین رُکاوٹیں ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے سپریم کورٹ کے باہر بھی احتجاج کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملہ کیا اور ٹریفک سگنلز کو بھی نقصان پہنچایا۔
بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ میں ایک وکیل نے کوٹہ مخالف تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور پابندی لگانے کی پٹیشن دائر کر دی ہے۔
ہائی کورٹ میں یہ پٹیشن سردا سوسائٹی نامی انسانی حقوق کی تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف الرحمان مراد نے دائر کی ہے۔ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ ملک میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سے منسوب اداروں کے نام بھی تبدیل کیے جائیں۔
عارف الرحمان مراد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ: ’متعدد ویڈیوز اور ثبوتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ (مظاہرین پر) فائرنگ کے باقاعدہ احکامات جاری کیے گئے تھے۔‘
’ہم نے ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے وہ پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کریں اور پابندی عائد کریں کیونکہ عوامی لیگ کی حکومت نے قتل و غارت گری کا حکم دیا تھا۔‘
خیال رہے بنگلہ دیش میں ہفتوں تک جاری رہنے والے پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ نے 5 اگست کو بطور وزیراعظم استعفیٰ دے دیا تھا اور انڈیا چلی گئی تھیں۔
عارف الرحمان مراد نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ عبوری حکومت کو ملک میں اصلاحات لانے کے لیے کم از کم تین برس کی مہلت دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پٹیشن پر شاید کل ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔
ملک بھر میں 12 شہروں کے میئرز تبدیل
بنگلہ دیش کی وزارت برائے لوکل گورنمنٹ نے ملک کے 12 شہروں میں موجود بلدیاتی اداروں کے میئرز کو ان کے منصب سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جنوبی ڈھاکہ، شمالی ڈھاکہ، چٹا گانگ، کُھلنا، راجشاہی، سلہٹ، بریشال، نارائن گنج، کمیلا، رنگپور، غازی پوری میمن سنگھ مِیں بلدیاتی اداروں کے میئرز کو ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ان میئرز کی جگہ پر حکومت نے 12 نئے منتظمین مقرر کر دیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حماس نے اسرائیلی شہر تل ابیب میں اتوار کی رات کو ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، اس حملے کے نتیجے میں ایک حملہ آور ہلاک اور ایک شہری زخمی ہوا تھا۔
عسکری گروہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ’فدائی آپریشن‘ فلسطینی اسلامک جہاد گروپ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے فلسطینیوں کا ’قتلِ عام‘ جاری رکھا تو مزید خودکش حملوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔
اسرائیلی پولیس اور داخلی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے شن بیت کا کہنا ہے کہ وہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ ایک دہشتگرد حملہ تھا جس کے لیے ایک طاقتور ڈیوائس کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ دھماکہ جنوبی تلِ ابیب میں ہوا تھا اور اس سے ایک گھنٹے قبل ہی امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل پہنچے تھے تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دھماکے سے پہلے ایک ادھیڑ عمر شخص کو کندھے پر ایک بیگ ٹانگے دُکان کے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیکل سروس کا کہنا ہے کہ انھیں اس مقام سے ایک شخص کی لاش ملی ہے جس کی عمر 50 کے پیٹے میں تھی۔ اس دھماکے میں ایک 33 سالہ راہگیر کو بھی سینے اور پسلیوں میں چوٹیں آئی ہیں۔
یروشلم پوسٹ کو ضلعی پولیس کمانڈر ہائم ببلل نے بتایا کہ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ یہ بم قریبی یہودی عبادت گاہ یا شاپنگ سینٹر میں نہیں پھٹا۔‘
حملہ آور کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی ہے، تاہم پولیس کو شک ہے کہ حملہ آور فلسطینی تھا۔
اتوار کو ایک علیحدہ واقعے میں مقبوضہ غربِ اردن کے علاقے قدومیم میں ایک فلسطینی شخص نے ایک اسرائیلی گارڈ کو ہلاک کردیا۔
اسرائیلی گارڈ گڈون پیری تین بچوں کے باپ تھے اور ان پر ایک مزدور نے ہتھوڑے سے حملہ کیا اور ان کی بندوق لے کر فرار ہوگیا۔
مقامی اسرائیلی کمانڈر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ’دہشتگرد حملہ‘ تھا اور فوجی اہلکار حملہ آور کے تعاقب میں ہیں۔
تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جیت کے علاقے میں آبادکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی شخص ہلاک ہوا ہے۔
اس موقع پر اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں اور گھروں کو بھی نذرِ آتش کیا جس کی مذمت اسرائیلی رہنماؤں نے بھی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہVideograb - Shakeel Qarar
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کے کارکنان ریڈ زون میں داخل ہو گئے ہیں اور سپریم کورٹ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق مذہبی جماعتوں کے کارکنان کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے احتجاج کے لیے پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔
اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے ایک اور عہدیدار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ کو کوئی درخواست موصول ہوئی تھی اور نہ ہی انھیں توقع تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتجاجی مظاہرین رُکاوٹیں ہٹا کر ریڈ زون میں شامل ہوئے اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، ڈنڈوں سے حملہ کیا اور ٹریفک سگنلز کو بھی نقصان پہنچایا۔
امن و امان بحال کرنے کے لیے ریڈ زون میں پولیس کی اضافی نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔
مظاہرین سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کے تحت ایک احمدی شہری کو ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ خیال رہے پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی شہری خود کو مسلمان نہیں قرار دے سکتے۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر راولپنڈی پولیس کے سربراہ کے علاوہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو بھی 21 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے مذکورہ سرکاری ملازم کی بازیابی سے متعلق وزارت دفاع کو بھی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد رضا قریشی نے یہ حکم ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ کی جانب سے اپنے شوہرکی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر دیا ہے۔
ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم اڈیالہ جیل میں اپنی تعیناتی کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی کے علاوہ ان کو عدالت میں پیش کرنے کی ڈیوٹی بھی ادا کرتے تھے۔
وہ گزشتہ چند روز سے مبینہ طور پر لاپتہ ہیں۔ اس ضمن میں کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ محمد اکرم سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں جو کہ اس الزام کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ نے جیل میں عمران خان کی مبینہ طور پر سہولت کاری کی۔
محمد اکرم کی اہلیہ کی درخواست کی سماعت کے دوران راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ محمد اکرم نہ تو ان کی تحویل میں ہیں اور نہ ہی ان کی گمشدگی کے بارے میں کوئی درخواست انھیں موصول ہوئی ہے۔
درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ نے خود تھانے میں جا کر اپنے شوہر کی بازیابی سے متعلق درخواست دی تھی، جس کی ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہے۔
اس کے بعد عدالت نے درخواست گزار کو ایک بار پھر اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے متعلقہ تھانے میں درخواست دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے محمد اکرم کی مبینہ گمشدگی سے متعلق اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور انھیں آئندہ سماعت پر ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق ریفرنس پر حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو اس مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹیو بورڈکی جانب سے اپریل 2020 میں اس ریفرنس کو بند کرنے کی سمری فراہم کرنے کی درخواست پر دیا ہے۔
پیر کو جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ نیب کے حکام سے متعدد بار ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس کی سمری فراہم کرنے کی تحریری استدعا کی گئی ہے، لیکن انھوں نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
درخواست گزار کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں انھوں نے متعقلہ احتساب عدالت میں بھی درخواست دی تھی جو کہ مسترد کردی گئی ہے۔
عمران خان کے وکیل کی جانب سے احتساب عدالتمیں چلنے والے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی کارروائی کو روکنے کی بھی استدعا کی گئی جو کہ مسترد کردی گئی۔
عدالت نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی کارروائی کا حصہ بنیں اور تاخیری حربے استعمال نہ کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 اگست تک ملتوی کردی ہے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 21 اگست کو ہی اس مقدمے کی سماعت ہے۔
احتساب عدالت میں اس مقدمے میں پراسیکیوشن کی جانب سے 35 گواہان پیش کیے گئے ہیں، جن میں سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال بھی شامل تھیں۔
یہ مقدمہ اب حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی افسران پر ملزمان کے وکلا کی جانب سے جرح مکمل ہونے کے بعد عمران خان اور ان کی اہلیہ کے وکیل اپنے حتمی دلائل دیں گے۔
نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک ملک ریاض کے علاوہ احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر اور دیگر کو بھی اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی اور ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی گفتگو اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیکس سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے اور عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 25 جون کو جاری کیے گئے احکامات بھی معطل کردیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کی جانب سے اس کیس کی گذشتہ دو سماعتوں کے درمیان جاری کیے گئے حکمناموں کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت پر دیے۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے بشریٰ بی بی اور نجم الثاقب کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ آڈیو لیکس کیس کا ریکارڈ طلب بھی کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 29 مئی اور 25 جون کا حکم اختیارات سے تجاوز ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس امین الدین نے وفاقی حکومت کی اس درخواست کی سماعت کی تو بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہوسکا اور اس ضمن میں تفتیش جاری ہے۔
بینچ میں موجود نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنا چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ سچ جاننے کے لیے انکوائری کمیشن بنا اسے سپریم کورٹ سے سٹے دے دیا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج تک دوبارہ آڈیو لیکس کیس مقرر ہی نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ برس پی ڈی ایم کی حکومت نے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں آڈیو لیکس کے معاملے کی چھان بین کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا تھا، جس میں اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی خوشدامن، خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر نقوی، اس وقت کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد زبیری اور پرویز الٰہی کی مبینہ آڈیو لیکس پر حکومت نے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا تاہم اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس انکوائری کمیشن کو کارروائی سے روکتے ہوئے حکم امتناع جاری کیا تھا۔
جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ نہ پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو پھر سچ کیسے سامنے آئے گا؟ جسٹس امین الدین نے سوال کیا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انھوں نے لیک کی ہو۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا اس پہلو کو دیکھا گیا یے؟ انھوں نے کہا کہ آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس سے بات کی جارہی ہو اسی نے ہی اس آڈیو کو لیک کیا ہو۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکمنامے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور آئی بی کو بھی فون ٹیپنگ سے روکا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شدت پسندوں کی نگرانی کرنے اور ان کے زیر استعمال نیٹ ورکنگ کو پکڑنے میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو فیصلوں میں یہ اصول طے ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار نے 25 جون کے فیصلے میں عدالت کو حقائق درست طریقے سے نہ بتانے پر پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کے چیئرمین اور ان کے ارکان کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کرتے ہوئے اس کیس کی سماعت چار ستمبر کو مقرر کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے 25 جون کے حکمنامے میں کہا تھا کہ قانون کے مطابق شہریوں کی کسی قسم کی بھی سرویلنس غیر قانونی عمل ہے اور ریاست کی زیر سرپرستی قانونی انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے لاکھوں شہریوں کی سرویلنس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے وزیر اعظم اور کابینہ ممبران اس ’ماس سرویلنس‘ کے اجتماعی اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہیں۔
جسٹس بابر ستار نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی کہا ہے کہ عدالت امید کرتی ہے کہ وزیر اعظم تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں سے رپورٹس طلب کرکے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے اور وزیر اعظم ’لافل مینجمنٹ سسٹم‘ سے متعلق چھ ہفتوں میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم بتائیں کہ کس قانون کے تحت شہریوں کی سرویلنس جاری ہے؟
اس کے علاوہ اس حکمنامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ٹیلی کام کمپنیاں ’لافل انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم‘ سے متعلق اپنی اپنی رپورٹس پانچ جولائی تک جمع کرائیں اور ٹیلی کام کمپنیاں اپنا ڈیٹا صرف مقدمات کی تفتیش کے لیے تحقیقاتی اداروں سے شیئر کرنا جاری رکھ سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/X
سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں نئے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی گرفتاری کا سارا ڈرامہ مجھے ملٹری کورٹ میں منتقل کیے جانے کے لیے کیا گیا ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ان سب کو معلوم ہے میرے خلاف باقی سارے کیسز فارغ ہو چکے ہیں۔ یہ اس لیے مجھے اب ملٹری کورٹس کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم نے گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ فیض حمید کو وعدہ معاف گواہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جنرل فیض سے کچھ نہ کچھ اگلوانا چاہتے ہیں اور یہ جنرل فیض سے کوئی نہ کوئی بیان دلوائیں گے کہ نو مئی سازش تھی۔ انھوں نے کہا کہ جو سازش کرتا ہے وہ جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ نہیں کرتا۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’رجیم چینج‘ ہمارے خلاف ہوا اور مجھے ہی جیل میں ڈال دیا گیا۔ انھوں نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں جنرل فیض ماسٹر مائنڈ تھا اور یہ بھی کہا فیض نے مجھے گرفتار کرایا۔
سابق وزیر اعظم نے کسی شئصت کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کو شرم نہیں آتی جو یہ کہہ رہے ہیں جنرل فیض بشریٰ بی بی کو ہدایات دیتا تھا۔
عمران خان نے کہا ان کو ڈر ہے کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائر ہو گئے تو الیکشن کی چوری کا معاملہ کھل جائے گا۔ اور یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ ’سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ‘ کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں مل رہی۔
انھوں نے کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’انھیں‘ خدشہ ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہی نہ ہو جائے۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ تو فیض حمید کے بڑے حمایتی تھے اور اب جب وہ گرفتار ہوگئے آپ کو کیوں خدشہ ہے وہ وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی فکر نہیں اگر وہ میرے خلاف کوئی گواہی دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میں جنرل فیض کی حد تک صرف یہ کہہ رہا ہوں وہ طالبان کے ساتھ تین سال تک مذاکرات کر رہے تھے ان کو ہٹانا نہیں بنتا تھا اور میں نے اسی لیے اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی کہا تھا ان کو نہ ہٹاؤ۔
عمران خان نے کہا کہ اگر حمود الرحمن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر عمل درآمد یا ایکشن ہو جاتا تو آج ملک میں موجودہ غیر اعلانیہ مارشل لا بھی نہ ہوتا اور تین مارشل لا جو لگے ہیں وہ بھی نہ لگتے۔
کمرہ عدالت میں موجود ایک اور صحافی نے سابق وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ کی ملٹری کورٹ میں منتقلی سے رابطے ختم ہو جائیں گے؟ اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی پارٹی پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، پارٹی کا کیا بنے گا ؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام نے آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ دے دیا ہے وہ اپنے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے جو یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کی جماعت ختم ہو جائے گی وہ احمق ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے احتساب عدالت کو ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا ہی نہیں کی گئی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی 36 روز تک اس مقدمے میں نیب کی تحویل میں رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے دوران جنگ بندی کے مذاکرات مغویوں کی رہائی کے لیے ’ممکنہ طور پر بہترین اور شاید آخری موقع‘ ہو سکتا ہے۔ انتونی بلنکن نے اکتوبر میں جنگ کے آغاز سے اب تک مشرق وسطیٰ کے اپنے نویں دورے کے دوران پیر کو اسرائیلی صدر اسحاق رابین سے ملاقات کے دوران یہ بات کی ہے۔
گذشتہ ہفتے قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے بہت امید کا اظہار کیا ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پیشرفت کی باتیں محض دھوکہ ہے۔ ان مذاکرات میں یہ بھی اختلاف ہے کہ آیا معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر انخلا کر دیں گی۔ تاہم یہ حماس کا ایک بنیادی مطالبہ ضرور ہے۔
انتونی بلنکن سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پیر کو اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات میں اس متعلق دباؤ ڈالیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی صدر کے ساتھ ملاقات میں یہ کہا ہے کہ ہم اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ مزید لڑائی نہ بڑھے، اس حوالے سے مزید کوئی ایسے حالات نہ پیدا ہوں جس سے تنازع میں اضافہ ہو اور نہ کوئی ایسا عمل ہو جس سے ہم اس جنگ بندی کے معاہدے میں ناکام ہو جائیں۔ یا اس معاملے میں تنازع مزید جگہوں تک نہ پھیلے اور نہ مزید شدت اختیار کر سکے۔
انھوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے یہ میرا اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا نواں دورہ ہے اور یہ بہت فیصلہ کن لمحات ہیں اور ممکنہ طور پر بہترین اور جنگ بندی کے معاہدے کے ذریعے سب کو اچھی راہ پر لانے اور دیرپا امن کے ساتھ شاید مغویوں کو گھر لانے کا آخری موقع ہو گا۔ اس وقت ہونے والے مذاکرات امریکہ کی طرف سے حماس اور اسرائیل میں دوریاں ختم کرنے کے لیے پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام کو یہ امید ہے کہ وہ آئندہ ہفتے تک جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
تاہم اس طرح کی امید کا اظہار حماس اور اسرائیل کی طرف سے سامنے نہیں آیا ہے۔ ہر دو فریق ایک دوسرے پر ہٹ دھرمی اور جنگ بندی معاہدے میں تعطل کے لیے الزامات عاید کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اگر اسرائیلی اخبارات میں چھپنے والی لیک شدہ خبروں پر یقین کیا جائے تو اسرائیل کے دفاعی چیف بھی وزیراعظم نیتن یاہو پر حماس کے ساتھ معاہدہ کر کے غزہ میں جنگ بندی کے لیے زور دے رہے ہیں۔
جب سے اسرائیل کے مذاکرات کاروں نے آخری بار مذاکرات کے لیے قطری دارالحکومت کا دورہ کیا تھا اس کے بعد سے معاہدے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا۔
اسرائیل میں یرغمالیوں کے رشتہ داروں اور لواحقین کا خیال ہے کہ یہ ان میں سے کچھ کو زندہ نکالنے کا آخری موقع ہے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اب 40 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
معاہدے میں سب کا فائدہ ہے اور ایسا کرنے کے لیے دباؤ کی بھی کمی نہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ غزہ میں جنگ بندی پورے خطے میں امن برقرار رکھنے میں مددگار ہو گی۔
بدھ کے روز لبنان کے دورے کے موقع پر امریکی سفارت کار آموس ہوسچین کا کہنا تھا کہ معاہدہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سرحدی تنازعے کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں سفارتی ذرائع سے اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ادھر امریکی صدر نے اس ہفتے نیو اورلینز میں صحافیوں کو بتایا ’معاہدہ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن میں ہار نہیں مان رہا۔‘
مئی کے اواخر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا تھا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے روس کا ایک اور سٹریٹجک یعنی انتہائی اہم پل تباہ کر دیا ہے۔ یہ ایک ہفتے میں دوسرا ایسا پل ہے جسے یوکرین کی فوج نے ہدف بنایا ہے۔ اس وقت یوکرین کی فوج روس کے سرحدی علاقے کرسک میں گذشتہ دو ہفتے سے حملے کر رہی ہے۔ یوکرین کی فوج نے سنیچر کو فضا سے بنائی جانے والی اس حملے کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ’زیوانوئے‘ کے مقام پر سیم دریا کے اوپر سے بنائی گئی ہے۔
اس حملے کے چند گھنٹے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کا روس کے کرسک علاقے کو ہدف بنانے کا مقصد روسی حملوں کو روکنے کے لیے یہاں ایک بفر زون بنانا ہے۔ روس نے جب فروری 2002 میں یوکرین پر حملہ کیا تو اس کے بعد یہ یوکرین کی طرف سے گذشتہ دو ہفتوں سے جاری ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یوکرین کے ایئرفورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مائیکولا اولیسچک نے اس حملے کی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ روس کا ’ایک اور پل بھی کم ہو گیا۔‘
ان کے مطابق یوکرین کی فضائیہ دشمن کی درست فضائی حملوں کے ذریعے اہم لاجسٹک صلاحیت یعنی زمینی رابطوں سے محروم کر رہی ہے۔‘
ویڈیو میں پل کے اوپر دھوئیں کے بادل کے بڑے ٹکڑے کو دکھایا گیا ہے اور میں اس پل کا ایک حصہ تباہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ کب کیا گیا ہے۔
چند روز قبل اس دریا پر گلوشکوف نامی قصبے کے قریب روس کے ایک پل کو تباہ کیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق عسکری تجزیہ نگار اس علاقے میں روس کے ایسے تین پل کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے روس کی افواج نقل و حرکت کرتی ہے۔ ان تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ پل یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا بہت زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔
یوکرین کے صدر نے سنیچر کو کہا کہ ان کی افواج کرسک کے علاقے میں اپنی پوزیشن بہتر کر رہے ہیں اور روس میں مزید پیش قدمی کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی افواج اب روس کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں اور ان کی معیشت کو زوال پذیر کر رہی ہیں۔ صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ یوکرین روس پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔
روس نے یوکرین کے اس حملے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اس حملے کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی کرے گا۔
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ روز ملک بھر میں بارشوں سے تین بچوں سمیت سات ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 30 افراد ان بارشوں سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان پنجاب میں ہوا، جہاں چھ ہلاکتیں ہوئیں اور 29 افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے ضلع ژوب میں بارش کی وجہ سے ایک بچے کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک فیکٹری کی چھت گرنے سے تین ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ سیالکوٹ میں دریا میں طغیانی سے دو بچوں سمیت تین افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں مکان کی چھتیں گرنے سے 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNDMA
این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 22 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ پانچ مویشی بھی مر گئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق یکم جولائی سے لے کر 17 اگست تک پاکستان میں بارشوں سے 195 افراد ہلاک جبکہ 362 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیش رفت کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں ان کا نواں دورہ ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی ترمیم شدہ تجاویز پیش کی گئی ہیں اور جس کا مقصد فریقین کے درمیان دیرینہ خلیج کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل گزشتہ ہفتے قطر میں مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے ایک معاہدے کے بارے میں پرامید ہیں تاہم عسکریت پسند تنظیم حماس کا الزام ہے کہ پیش رفت کی تجاویز ایک ’فریب‘ ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر انخلا کرنا ہو گا۔
حماس کے ایک ذرائع نے سعودی میڈیا کو بتایا ہے کہ ان تجاویز میں غزہ کی مصر کے ساتھ جنوبی سرحد کے ساتھ ایک تنگ پٹی، فلاڈیلفی کوریڈور کے ساتھ اسرائیلی افواج کی موجودگی کو کم کرنا شامل ہے۔
تاہم اسرائیلی ذرائع نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں سرحد کےعلاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بجائے دیگر تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کے لیے غزہ میں جنگ کا آغاز کیا۔
حماس کے جنگجؤوں نےاس دوران عام شہریوں سمیت تقریباً 1200 افراد کو ہلاک کیا اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد سے غزہ میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نومبر2023 میں ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا گیا جس میں حماس نے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بدلے میں 105 یرغمالیوں کو رہا کیا اور اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 240 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ 111 یرغمالی ابھی تک قید ہیں جن میں سے 39 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔