انڈیا نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان سے تقریباً ستر برس پرانے سندھ طاس معاہدے کو فوری طور پرمعطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سلامتی سے متعلق کابینہ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اس میں کیے گے۔ فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے کہا کہ اٹاری واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو سارک معاہدے کے تحت جو ویزا دیا جاتا تھا اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے اور جو پاکستانی شہری اس وقت انڈیا میں ہیں انھیں 48 گھنٹے کے اندر ملک سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
وکرم مسری نے کہا کہ دلی میں واقع کئی پاکستانی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک سے چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن سے اپنے سفارتی عملے کی تعد اد 55 سے کم کر کے 30 کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
انڈیا نے اسلام اباد میں واقع ڈیفنس، نیوی اور ایئر ایڈوئزر اور پانچ سپورٹ عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
خارجہ سیکریٹری کی یہ نیوز کانفرنس کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد رکھی تھی اور اس میں صحافیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ خارجہ سیکریٹری کے بیان کے بعد سوال نہیں کر سکیں گے۔
سلامتی سے متعلق کابینہ کی ہائی پاورڈ کمیٹی کی میٹنگ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر شام چھ بجے شروع ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔
اس اجلاس کی صدارت انڈیا کے وزیر اعظم مودی نے کی۔
اس میں پہلگام حملے اور ممکنہ جوابی کارروائی کے تمام پہلوؤں پر غور کیا۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اے کے ڈوبال، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار اور دیگر اعلیٰ اہلکار شریک ہوئے۔
قومی سلامتی کے کسی بڑے مسلے پر یہی کمیٹی کوئی فیصلہ کرتی ہے۔ اس سے پہلے انڈیا کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے انڈین فضائیہ کی ایک تفریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت پہلگام حملے کے صرف مرتکبین کو ہی نہیں انھیں بھی نہیں بخشے گی جو اس سازش کے پیچھے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں بہت جلد بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا جمعرات کی شام ایک اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کے بارے میں انھیں آگاہ کیا جائے گا۔
انڈیا کے زیر انتطام کشمیر میں پہلے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں لیکن ان واقعات میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں۔
منگل کو پہلگام میں جو حملہ ہوا ہے اس میں بڑی تعداد میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں 25 انڈین اور ایک نیپالی شہری ہلاک ہوا۔
سیاحوں کی ہلاکت پر کشمیر سمیت پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انڈین میڈیا میں پہلگام کے حملے کے لیے پاکستان کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین مختلف ٹی وی چینلز پر بحث ومباحثے میں پاکستان کے خلاف کارروائی کی باتیں کر رہے ہیں۔
ایک موثر اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کے لیے حکومت پر دباؤ بہت زیادہ ہے۔ میڈیا کی طرح طرح کی قیاس آرائیوں کے درمیان ملک کی فضا میں کشیدگی اور بے چینی کے آثار محسوس کیے جا رہے ہیں۔