انڈین عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں: وزیراعلیٰ عمرعبداللہ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر
پہلگام حملے کے بعد انڈیا کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی ہراسانی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جس کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں ملک کے عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جموں کشمیر لوگ امن کے دشمن نہیں، جو کچھ بھی ہوا وہ ہماری خواہش سے نہیں ہوا، ہمیں اس سے باہر آنا ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مقامی شہری نے ہمارے مہمانوں یا سیاحوں کی حفاظت کے لیے گولیاں کھائیں جو یہاں چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔‘
وادی سے باہر کشمیری طلبہ اور تاجروں پر حملوں کی خبروں کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو دوسری ریاستوں میں کشمیر کے لوگوں کو نشانہ بنانا بند کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ہندوستان کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا دشمن نہ سمجھیں۔ اگر مرکز یہ کہہ رہا ہے کہ حملہ پاکستان نے کیا ہے، تو پھر جموں و کشمیر کے نوجوانوں اور طلبہ کو باہر کی ریاستوں میں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے روکا جانا چاہیے۔‘
سی این آئی کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں سے یہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ وہاں زیر تعلیم کشمیر ی طلبہ کو ہراساں کرنے کے علاوہ انھیں دھمکایا جا رہا ہے۔
عمر عبد اللہ نے ایکس پر لکھا کہ ’جموں و کشمیر کی حکومت ان ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے جہاں سے ایسی رپورٹس آرہی رہی ہیں۔ میں ان ریاستوں میں اپنے ہم منصب وزرائے اعلیٰ سے بھی رابطے میں ہوں اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل حکمران نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے وزیراعلیٰ سے اس معاملے پر مداخلت کرنے اور انڈیا میں اپنے ہم منصبوں سے بات کرنے کی درخواست کی تھی۔ عمران نبی نے اپنی ایکس پر اپنی پوسٹ میں سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز کا حوالہ دیا جس میں یہ طلبہ اپنی خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں۔