قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس، ’حکومت نے سمارٹ فون پر عائد بھاری ٹیکسز پر مارچ تک نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی‘

حکومت نے منگل کو سمارٹ فون پر بھاری ٹیکسز پر نظرثانی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی کے مطابق یہ یقین دہانی منگل کو نوید قمر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام سمیت حکومتی وزرا کی طرف سے بھی کرائی گئی ہے۔

خلاصہ

  • اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر پولیس نے دایگل اور گورکھپور میں دکانیں اور تعلیمی ادارے بند کروا دیے
  • آئی ایم ایف، کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کی قسط کی منظوری دے دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے معاشی اصلاحات کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔
  • آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کی منظوری کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی
  • کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جھڑپوں میں تیزی، ہلاکتوں میں اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے لیے پراسیکیوٹرز کی تعیناتی شروع

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے لیے پراسیکیوٹرز کی تعیناتی شروع, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے 9 اور 10 مئی کے واقعات کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مردان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ کو سرکار کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر شہروں میں بھی مقدمات واپس لینے کے لیے خصوصی پراسیکیوٹرز تعینات کیے جائیں گے۔

    یہ فیصلہ کابینہ نے گذشتہ ہفتے ایک اجلاس میں کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور صوبائی حکومت انھیں واپس لینے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں دے گی۔ مردان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں اس حوالے سے درخواست جمع کرائی جا چکی ہے۔

    انصاف لائیرز فورم کے رہنما ندیم شاہ ایڈووکیٹ کے مطابق صوبے میں 9 اور 10 مئی کے واقعات کے بارے میں 300 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کے فیصلے ہو چکے ہیں اور زیادہ تر ملزمان بری ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اب 50 سے زائد مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جنھیں صوبائی حکومت واپس لینا چاہتی ہے۔

    کچھ مقدمات فوجی عدالتوں میں بھی زیر سماعت رہے، جن میں 102 افراد پر مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو دو سے دس سال تک کی سزائیں سنائی گئیں جبکہ کئی ملزمان کو شواہد نہ ہونے یا نرمی کے باعث بری کر دیا گیا۔

    سینیئر قانون دان شبیر گگیانی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 494 کے تحت عام مقدمات میں ضلعی انتظامیہ عدالت سے یہ مقدمات واپس لینے کی درخواست کر سکتی ہے۔

  2. آسٹریلین ساحل پر سات برس قبل 24 برس کی لڑکی کا قتل، پولیس انڈین پنجاب میں مجرم تک کیسے پہنچی؟, ٹفنی ٹرن بل، بی بی سی نیوز

    Queensland Police Service

    ،تصویر کا ذریعہQueensland Police Service

    آسٹریلیا کے مشہور ساحلی علاقے میں سات سال قبل ہونے والے قتل کے مقدمے میں ایک سابق نرس کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

    24 سالہ ٹویاہ کورڈنگلی کی لاش اکتوبر 2018 میں وینگیٹی بیچ پر ریت کے ٹیلوں میں نیم مدفون حالت میں ملی تھی۔ وہ اتوار کی دوپہر اپنے کتے کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکلی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان پر کم از کم 26 مرتبہ چاقو کے وار کیے گئے تھے۔

    ٹویاہ کورڈنگلی کی لاش ان کے والد کو ملی۔ اس واقعے نے ریاست کوئنز لینڈ میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ وہ مقامی کمیونٹی میں بطور ہیلتھ سٹور ورکر اور اینیمل شیلٹر کی رضاکار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔

    41 سالہ راجوِندر سنگھ، جو انڈیا ریاست پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت انِسفیل میں مقیم تھے، قتل کے اگلے ہی روز ملک چھوڑ کر انڈیا چلے گئے اور چار برس تک روپوش رہے۔

    Australia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک ماہ طویل مقدمے کے بعد پیر کو جیوری نے انھیں مجرم قرار دیا، جس پر عدالت میں موجود عوام نے خوشی اور آنسوؤں کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا۔

    یہ راجوندر سنگھ کے خلاف دوسری بار مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ اس سے قبل مارچ میں ہونے والا ٹرائل بغیر نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

    پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ راجوندر سنگھ کا اچانک ملک چھوڑ دینا ان کے جرم کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق شواہد نے راجوندر سنگھ کو مجرم ثابت کیا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والی ایک لکڑی پر سنگھ کا ڈی این اے موجود تھا، جو 3.8 ارب گنا زیادہ امکان کے ساتھ انہی کا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مقتولہ کے موبائل فون کی لوکیشن راجوندر سنگھ کی گاڑی کی نقل و حرکت سے مطابقت رکھتی تھی۔

    راجوندر سنگھ کو منگل کے روز سزا سنائی جائے گی۔

  3. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1217 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ انڈیکس 1217 پوائنٹس اضافے کے بعد 168303 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور پورے سیشن کے دوران حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس تیزی کی بڑی وجہ آج ہونے والا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دیے جانے کی توقع ہے۔

    تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان نے آئی ایم ایف کے اہداف پورے کیے ہیں، اسی لیے قسط کی منظوری متوقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں کاروبار میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔‘

  4. وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا پولیس لائنز پشاور کا دورہ، جدید اسلحہ اور آلات پولیس کے حوالے کیے, بلال احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا اور اس موقع پر پولیس فورس کو بلٹ پروف گاڑیوں، جدید اسلحہ اور سکیورٹی آلات با ضابطہ طور پر حوالے کیے گئے۔

    پولیس کو ڈرون کیمرے، اینٹی ڈرون گنز، اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل کیمرے، جیمرز، بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں۔

    اس کے علاوہ سنائپر رائفلز، ڈریگونوف، ایم سولہ، سب مشین گنز اور ہیوی مشین گنز بھی پولیس فورس کے حوالے کی گئیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تھرمل ویپن سائٹس اور تھرمل بائنوکلرز سے پولیس کی رات کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی جبکہ بلٹ پروف ہیولز اور سائیڈ آرمَرنگ سے پولیس کی نقل و حرکت زیادہ محفوظ ہو سکے گی۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پولیس فورس کو موجودہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس فورس کے جذبے جوان ہیں اور وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پولیس فورس کو ناقابلِ تسخیر بنایا جائے اور موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مزید اسلحہ و آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’2018 سے 2022 تک صوبے میں امن رہا مگر اس کے بعد حالات خراب ہوئے۔ جب ہم 80 ہزار شہداء کی بات کرتے ہیں تو ان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن بحال کیا جائے گا اور اسے برقرار بھی رکھا جائے گا۔ سہیل آفریدی کہنا تھا کہ جب تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنے گی تو امن و امان قائم ہوگا۔

  5. وزیراعظم شہباز شریف کی گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی کے مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبے پر فوری عملدرآمد کی منظوری دی ہے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ کے سولر پراجیکٹ سے ماحول دوست اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

    پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایت بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلا تعطل، مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر تمام ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت توانائی کے اقدامات سے گوادر میں بجلی کی فراہمی میں تعطل کو 42 فیصد کم کیا جا چکا ہے۔ آئندہ چھ ماہ میں بجلی کے وولٹیج کو مستحکم کرنے کے لیے بھی جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

    قلیل مدتی منصوبوں میں آئندہ 8 سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.7 میگا واٹ کی سولر کپیسٹی نصب کی جائے گی، جبکہ طویل مدتی منصوبوں میں 40 میگا واٹ کا پراجیکٹ شامل ہے۔ حکام کے مطابق گوادر میں صنعتی اور شہری توسیع کے باعث آئندہ سالوں میں بجلی کی طلب میں 30 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

    گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ کا سولر پراجیکٹ دو حصوں پر مشتمل ہے، جس میں 18 میگا واٹ چھتوں پر سولر پروگرام اور 82 میگا واٹ یوٹیلٹی سکیل سولر شامل ہیں۔ یہ منصوبہ 2027 تک مکمل کیا جائے گا اور اس سے حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور دیگر سہولیات سے گوادر کی بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ اور مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔

  6. انڈیا کسی خود فریبی یا گمان میں نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی شدید ہوگا: فیلڈ مارشل عاصم منیر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    CDF

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نئے قائم کردہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ تینوں افواج کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور زیادہ شدید ہوگا۔‘

    سرکاری میڈیا کے مطابق عاصم منیر نے اپنے خطاب میں افغان طالبان کو پیغام دیا کہ شدت پسندوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے ہے۔

    انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے سنیچر کے روز ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ انڈیا کو درپیش بیشتر مسائل پاکستان کی فوج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی، تربیتی کیمپ اور انڈیا کے خلاف نظریاتی دشمنی سب فوج سے جڑی ہیں۔

    GHQ

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    آج اپنے خطاب میں عاصم منیر نے کہا کہ ’نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں۔‘

    عاصم منیر نے کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے۔

    فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کے لیے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی جبکہ ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا۔ ان کے مطابق بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ اور ہمارے عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام یہ جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے۔

    اس موقع پر انھوں نے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں کثیر الجہتی آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ اُبھرتے ہوئے سکیورٹی خدشات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    اجلاس میں بری، بحری اور فضائی افواج کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے اور دفاعی حکمتِ عملی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ افواجِ پاکستان کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار رہنا ہوگا اور مشترکہ آپریشنز کے ذریعے قومی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  7. یوکرین امن مذاکرات: ’کچھ مایوس ہوں کہ زیلنسکی نے نئے منصوبے کے مسودے کو ابھی تک نہیں پڑھا‘، ٹرمپ

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں امن مذاکرات کی تازہ کوششیں لندن میں ہونے والے اجلاس سے قبل تیز ہو گئی ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں میں مختلف سطحوں پر کئی اہم ملاقاتیں اور تجاویز سامنے آئی ہیں۔

    28 نکاتی امن منصوبہ

    نومبر میں امریکہ کی حمایت یافتہ ایک 28 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اس منصوبے کو روس کے حق میں تصور کیا گیا کیونکہ اس میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کچھ علاقہ چھوڑ دے، اپنی فوج کا حجم کم کرے اور نیٹو میں شمولیت سے دستبردار ہو۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ان کے ملک کو یا تو اپنی عزت کھونی پڑے گی یا امریکی حمایت۔ یورپی اتحادیوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ’زیادہ جھکاؤ روس کے حق میں‘ ہے۔

    جنیوا مذاکرات

    23 نومبر کو جنیوا میں امریکہ، یوکرین اور یورپی اتحادیوں کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی ممالک نے ایک متبادل تجویز پیش کی جس میں یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے اور سکیورٹی ضمانتیں دینے کی بات کی گئی۔ بی بی سی اس تجویز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    روس-امریکہ مذاکرات دسمبر کے آغاز میں ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف کے درمیان پانچ گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے لیکن کوئی بڑا نتیجہ سامنے نہ آیا۔ کریملن کے ترجمان نے کہا کہ ملاقات ’تعمیراتی‘ تھی مگر منصوبے کے کچھ حصے روس کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔

    امریکہ-یوکرین مذاکرات

    گذشتہ ہفتے میامی میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور یوکرین کے سینیئر مذاکرات کار رستم عمرُوف کے درمیان تین روزہ بات چیت ہوئی۔

    ان مذاکرات کے دوران امن منصوبے کا ایک نیا مسودہ تیار کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ولادیمیر زیلنسکی کے مذاکرات کار ’اس منصوبے کو پسند کرتے ہیں‘۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’کچھ مایوس ہیں کہ صدر زیلنسکی نے ابھی تک اس مسودے کو نہیں پڑھا۔‘

    زیلنسکی نے کہا کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں سے بریفنگ لیں گے اور ’کچھ معاملات صرف بالمشافہ ہی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔‘

  8. انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    انڈونیشیا کے صدرپرابووو سوبیانتو پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی انڈونیشیا کے صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے انڈونیشیا کے صدرپرابووو سوبیانتو کو پھول پیش کیے۔ دونوں ملکوں کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انڈونیشیا کے صدر کا اس موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔

    انڈونیشیا کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ انڈونیشیا کے صدرکو وزیراعظم شہباز شریف نے دورے کی دعوت دی تھی۔ صدر پرابووو سوبیانتو کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    انڈونیشیا سے آخری صدارتی دورہ 2018 میں صدر جوکو ویدودو نے کیا تھا۔

    یہ دورہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سال پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اپنے قیام کے دوران صدر پرابووو سوبیانتو وزیرِاعظم کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

    Zardari, Sharif, Indonesia

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    دورے کے دوران دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور علاقائی و عالمی سطح پر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر جامع تبادلہ خیال کریں گے۔

    پاکستان اور انڈونیشیا قریبی، خوشگوار اور دیرینہ تعلقات کے حامل ہیں جو مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔ صدر پرابووو سوبیانتو کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کا اہم موقع فراہم کرے گا، جو دونوں ممالک کی شراکت داری کے مسلسل فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

  9. پنجاب میں گاڑیوں پر بھاری جرمانوں کے خلاف بلوچستان میں گڈز ٹرانسپورٹ مالکان کی ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Trucks

    پنجاب حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر بھاری جرمانوں کے خلاف بلوچستان میں گڈز ٹرانسپورٹ مالکان نے ہڑتال کردی ہے۔

    ٹرانسپورٹروں نے ہزار گنجی سمیت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں ٹرکوں کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہزارگنجی ٹرک سٹینڈ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ترجمان روزی خان مندوخیل نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

    Trucks

    انھوں نے اسے ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے جو قانون بنایا ہے وہ ٹرانسپورٹروں سے مشاورت کے بغیر بنایا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھاری جرمانوں کے قانون اور ٹرک ڈرائیوروں کے خلاف درج ایف آئی آرز کو واپس لیا جائے۔

    روزی خان مندوخیل نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں ٹرکوں کو کھڑا کیا گیا ہے اور اگر گڈز ٹرانسپورٹروں کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔

    ایک اور ٹرانسپورٹر حاجی نظام الدین نے بتایا کہ پنجاب میں جو گاڑیاں جاتی ہیں وہاں ڈرائیوروں کی بے توقیری کی جاتی ہے جبکہ چیک پوسٹوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹرانسپورٹروں کے لیے ناقابل برداشت ہے اس لیے ٹرانسپورٹرز یہ چاہتے ہیں کہ ڈرائیوروں کو عزت دی جائے اور بھاری جرمانوں کے قانون کو واپس لیا جائے۔

  10. جی ایچ کیو میں چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کے اعزاز میں گارڈ آف آنر

    Syed Asim Munir

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں آج ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق مسلح افواج کے ایک چاق و چوبند دستے نے انھیں سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔

    تقریب میں چیف آف ایئر سٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور چیف آف نیول سٹاف، ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ارسال کی گئی سمری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تعیناتی کی منظوری دے دی تھی۔

    ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدتِ ملازمت پانچ سال ہے۔

    اس نوٹیفیکیشن کے اجرا کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدتِ ملازمت 2030 میں ختم ہو گی۔

    نوٹیفکشن کا اجرا 4 دسمبر 2025 کو ہوا ہے اور اس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ پانچ سال تک پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز اور آرمی چیف ہوں گے۔

    جنرل عاصم منیر کو نومبر 2022 میں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا تھا۔

    لیکن پھر پاکستان کے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے بعد آرمی چیف کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی تھی۔ جس کے تحت بطورِ آرمی چیف اُن کی مدتِ ملازمت نومبر 2027 میں ختم ہونا تھی۔

    اب 27 ویں ترمیم کے بعد آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفینس فورسز کا اضافی عہدہ بھی ہے اور نوٹیفیکیشن کے تحت وہ آئندہ پانچ سال کے لیے چیف آف ڈیفینس فورسز اور آرمی چیف ہوں گے۔

  11. ایمان مزاری کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس پر سماعت 15 دسمبر تک ملتوی

    ایمان مزاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ نے اس مقدمے پر سماعت کی۔ آج کی پیشی میں ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی موجودگی میں وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے سے متعلق ایک درخواست ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔

    مختصر سماعت کے بعد جج افضل مجوکہ نے اس کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

  12. چینی لڑاکا طیاروں نے جاپانی جہازوں کے ریڈار لاک کر دیے، ٹوکیو کا احتجاج

    جاپان کا چین سے احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپان نے کہا ہے کہ چینی لڑاکا طیاروں نے اس کے جہازوں کے ریڈار لاک کیے ہیں، جسے ممکنہ حملے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ سنیچر کے روز جاپان کے جنوبی جزائر اوکیناوا کے قریب پیش آیا ہے۔

    جاپانی وزارتِ دفاع کے مطابق چینی جے-15 لڑاکا طیارے چین کے ایئرکرافٹ کیریئر ’لیاؤ نِنگ‘ سے روانہ ہوئے اور دو مرتبہ جاپانی جہازوں کے ریڈار لاک کیے۔ جاپان نے فوری طور پر اپنے لڑاکا طیارے روانہ کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاپانی جہازوں نے کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہیں کی تھی۔

    جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے کہا کہ یہ اقدام ’انتہائی افسوسناک‘ ہے اور چین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان ’سوچا سمجھا مگر مضبوط ردِعمل‘ دے گا۔

    جاپان کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے چینی بحریہ نے جاپان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’حقائق کے منافی‘ ہے اور جاپان کو بیجنگ کو ’بدنام کرنے‘ سے باز رہنا چاہیے۔ چین کے مطابق اس کی فوجی مشق کا پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی سے کشیدہ ہیں۔

    گذشتہ ماہ جاپانی وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور طاقت کے استعمال کو خارج از امکان نہیں قرار دیتا۔

    گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کے کوسٹ گارڈز کے درمیان مشرقی بحیرہ چین میں متنازع جزائر کے قریب جھڑپ کی متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

    چین نے حالیہ کشیدگی کے بعد اپنے شہریوں کو جاپان سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، جاپانی سمندری خوراک کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے اور جاپانی فلموں کی نمائش بھی روک دی ہے۔

  13. تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ایک فوجی ہلاک، تھائی رائل آرمی کا ’فوجی اہداف‘ پر فضائی حملوں کا دعویٰ

    تھائی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    تھائی لینڈ کی رائل آرمی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کمبوڈیا کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد ’متعدد علاقوں میں فوجی اہداف‘ پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح کمبوڈیا کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں اس کا ایک فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    کمبوڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ تھائی لینڈ نے کیا تھا اور اس نے جوابی کارروائی نہیں کی ہے۔

    تھائی لینڈ کی فوج کا کہنا ہے کہ اسے متنازع سرحد سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر کمبوڈیا کے شہر سمراونگ میں T-55ٹینکوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگا ہے۔

    دوسری جانب، سرحد پر جاری جھڑپوں کے باعث تھائی حکام کی جانب سے سا کیو شہر میں انخلا کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ قصبہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحد سے تقریباً 48 کلومیٹر اور بنکاک سے 200 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

    تھائی فوج نے کمبوڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ صوبہ سی ساکیٹ کے قریب سرحد پر تھائی فوجیوں پر ڈرون، مشین گنوں اور گرینیڈ سے حملے کر رہا ہے۔

    انھوں نے الزام لگایا ہے کہ کمبوڈیا کے فوجی شمال مشرقی تھائی لینڈ کے سرحدی گاؤں بان کروات کے متعدد شہری علاقوں پر بی ایم 21 ایم ایل آر ایس (BM-21 MLRS) راکٹ بھی فائر کر رہے ہیں۔

    کمبوڈیا کا کہنا ہے کہ دراصل تھائی لینڈ جارحیت کر رہا ہے اور انھوں نے بالکل بھی جوابی کارروائی نہیں کی ہے۔

    اس سے قبل اتوار کے روز تھائی لینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے فوجیوں کا جنوب مشرقی صوبے سی سا کیٹ میں کمبوڈیا کے فوجیوں کے ساتھ 35 منٹ تک مسلح تصادم ہوا تھا۔ بعد ازاں تھائی لینڈ نے سی ساکیٹ اور تین دیگر سرحدی صوبوں سے لوگوں کے انخلا کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ جولائی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان مسلح سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد دونوں ملک جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے ساتھ ٹیرف مذاکرات کو روکنے کی دھمکی کے بعد ملائیشیا کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا اور اس متعلق ایک ڈکلیریشن پر اکتوبر میں دستخط ہوئے تھے۔

    صدر ٹرمپ یہ جنگ بھی رکوانے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔

    تاہم گذشتہ گزشتہ ماہ تھائی لینڈ نے جھڑپوں کے بعد یکطرفہ طور پر اس ڈکلیریشن معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  14. مغربی افریقی ملک بینن کے صدر کا فوجی بغاوت ناکام بنانے کادعویٰ: ’حالات مکمل قابو میں ہے‘

    صدر پیٹریس طالن

    مغربی افریقی ملک بینن میں فوجی اہلکاروں کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر ملک کے صدر کو معزول کر کے اقتدار سنبھالنے کے دعوے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد صدر پیٹریس طالن ٹی وی پر آئے اور قوم کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ’حالات مکمل قابو میں ہے‘۔

    پیٹریس طالن لائیو نشریات کے دوران کافی پرسکون نظر آئے۔ انھوں نے کہا، ’میں اپنی فوج اور اس کے قائدین کی جانب سے فرض شناسی کے احساس کی تعریف کرنا چاہوں گا، جو... قوم کے ساتھ وفادار رہے۔‘

    حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے فوجیوں کے ایک گروپ کی جانب سے قومی ٹیلی ویژن پر قبضے کے چند گھنٹوں بعد بغاوت کو ناکام بنا دیا ہے۔

    بعد ازاں دوپہر کو بینن کے سب سے بڑے شہر کوٹونو میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دھماکے فضائی حملوں کا نتیجہ ہیں۔

    دھماکوں سے قبل فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ہمسایہ ملک نائیجیریا سے تین طیارے بینن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

    نائجیریا کے صدر کے ترجمان نے بعد میں تصدیق کی کہ ان کے لڑاکا طیارے ’بغاوت کے سازش کاروں کو قومی ٹی وی اور ایک فوجی کیمپ سے ہٹانے میں مدد کے لیے فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے جہاں وہ دوبارہ منظم ہو گئے تھے۔‘

    بینن

    ،تصویر کا ذریعہBTV

    ،تصویر کا کیپشنفوجی اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا تھا کہ انھوں نے صدر پیٹریس طالن کو معزول کر کے اقتدار سنبھال لیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے قبل فوجی اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا تھا کہ انھوں نے صدر پیٹریس طالن کو معزول کر کے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ فوجی اہلکاروں کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل تیگری پاسکل فوجی عبوری کونسل کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر طالن کی حکومتی کارکردگی کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

    بینن کو افریقہ کی نسبتاً مستحکم جمہوریت سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور کپاس کے بڑے پیداواری ملکوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔

  15. غزہ میں انخلا کی ’یلو لائن‘ اب نئی سرحد ہے: اسرائیلی آرمی چیف

    غزہ یلو لائن

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف آئل زمیر کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی ’یلو لائن‘ اسرائیل کے ساتھ غزہ کی ’نئی سرحد‘ ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آئل زمیر کا کہنا ہے کہ پیلی لکیر ایک نئی سرحدی لائن اور آبادیوں کے لیے ایک جدید دفاعی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔

    10 اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ اسرائیلی افواج ’پیلی لکیر‘ سے پیچھے چلی جائیں گی۔ یہ لکیر اس علاقے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کا انخلا ہوا ہے۔

    غزہ جنگ بندی منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت، اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے 53 فیصد حصے پر قابض ہے جس میں غزہ کی بیشتر زرعی اراضی شامل ہے۔

    منصوبے کے اگلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج نے مزید علاقے کو خالی کرنا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے ایک عبوری اتھارٹی کا قیام، غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    غربِ اردن کے ’سیاسی الحاق‘ پر بات ہو سکتی ہے: نیتن یاہو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو رواں ماہ کے اختتام میں غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ’امن کے مواقع‘ پر بھی بات کریں گے۔ ان کا اشارہ اسرائیل کے عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے کی امریکی کوششوں کی جانب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں عرب ریاستوں اور ’فلسطینی پڑوسیوں کے ساتھ عملی امن قائم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔‘ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ہمیشہ غربِ اردن پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار کرے گا۔

    تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غربِ اردن کے ’سیاسی الحاق کے مسئلے‘ پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل اپنے زیر قبضہ مغربی کنارے کا الحاق نہیں کرے گا۔

  16. پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج ہو گا, تنویر ملک ، صحافی

    آئی ایم ایف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج (8 دسمبر پیر) ہو گا تاکہ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے قرضوں کی منظوری کے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔

    آئی ایم ایف نے ایک اعلامیے میں اجلاس کی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کے قرض پروگرام کا جائزہ لے گا۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اپنے قرض پروگرام کے لیے اس سال اکتوبر میں سٹاف لیول معاہدہ کیا تھا اس سے پہلے 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک دونوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔

    اس معاہدے کی منظوری ابھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے لینا باقی ہے، جس کے بعد ہی فنڈز جاری کیے جا سکیں گے۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے جن میں تقریباً ایک ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت اور مزید 20 کروڑ ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت شامل ہوں گے۔

  17. فوج کو برا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے: وفاقی وزیر اطلاعات کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے لاہور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک بھر میں تعمیر و ترقی کا جال بچھایا ہے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج دشمن کے لیے خوف کی علامت ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ملک کا دفاع مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس فوج نے بڑے دشمن کو شکست دی ہو، اسے برا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 12 برسوں میں وہاں کوئی بڑا تعلیمی یا صحت کا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ انھوں نے پنجاب میں کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ، فارنزک لیب اور سیف سٹی منصوبے کو مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کی مثال قرار دیا۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچایا گیا اور اب زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی سہولتوں کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

  18. ’غیر منتخب عسکری ترجمان نے منتخب قیادت کے لیے غیر مہذب زبان استعمال کی‘: پشاور جلسے میں تحریک انصاف کی قرارداد

    تحریک انصاف کا پشاور جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف کے پشاور کے جلسے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں جمعے کے روز ایک عسکری ترجمان کی پریس کانفرنس پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر قرارداد میں کہا گیا کہ غیر منتخب عسکری ترجمان کی طرف سے منتخب قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی گئی جو سول بالادستی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ قرارداد میں اس منطق کو بھی مسترد کیا گیا ہے جس کے تحت سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا۔

    اس قرارداد میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ’قومی ہیرو‘ اور ’پاکستان کے منتخب حقیقی وزیرِ اعظم‘ قرار دیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ عوام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا اور یہ تصور یکسر مسترد کیا جاتا ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کر کے رہا کیا جائے اور ان کی اہلِ خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔

    اس قرارداد میں سیاسی جدوجہد کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جان دینے والے فوجی اہلکاروں کو بھی سلام پیش کیا گیا ہے۔

    قرارداد میں گورنر راج کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے رکاوٹوں اور مبینہ دھاندلی کے باوجود تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے۔ اس لیے گورنر راج کے نتیجے میں بننے والی کوئی بھی حکومت عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگی۔

    قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد پر عمل کیا جائے اور پی ٹی ایم کے وفد کو بازیاب کرایا جائے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن اب تک انھیں ان کے حقوق نہیں ملے۔ قرارداد میں نئے این ایف سی ایوارڈ میں ان حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اور تجارت کو بحال کیا جائے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

    پشاور کے نو حلقوں میں انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے قرارداد میں الیکشن کمیشن سے فوری انصاف اور صوبائی حکومت سے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    آخر میں قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت اور آزادیِ اظہار کو بحال کیا جائے، عدلیہ کو آزاد کیا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ ملک بحران سے نکل کر متحد ہو سکے۔

  19. ایک جعلی سینیٹر اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے: سہیل آفریدی کا پشاور جلسے سے خطاب

    سہیل آفریدی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا جواب دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں گالیاں دوں۔‘

    تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پارٹی کے دو جعلی وزرا اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے۔ نہ آپ ایک جعلی سینیٹر ہیں اور نہ آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیں۔‘

    جمعے کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرس میں ان کے منھ سے کچھ سخت الفاظ سنائی دیے جن میں ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘، ’ذہنی مریض‘، ’خود پسند‘ اور ’اپنی ذات کا قیدی‘۔۔۔ شامل ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے اس شخص کا نام نہیں لیا جس کے لیے وہ یہ الفاظ استعمال کر رہے تھے لیکن پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے ہر شخص کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کا مرکز اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان ہی تھے۔

    خود عمران خان گذشتہ کئی برسوں سے پاکستانی فوج کے سربراہ (اور اب چیف آف ڈیفینس فورسز) فیلڈ مارشل عاصم منیر پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ ’میرے بڑوں نے مجھے ملک اور اس کے اداروں سے محبت سکھائی ہے۔‘

    اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے، سنجیدہ تو آپ نہیں ہیں، 21 برس سے آپریشن پر آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے، 21 سال سے میرا پختون پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔‘

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی ہے تو قصور آپ کا ہے، آپ اپنی پالیسی بدلیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے موجودہ سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر آنے والا بندہ ایک نئی پالیسی بناتا ہے اور ایک نیا تجربہ کرتا ہے۔ یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب ایک پالیسی بنے گی، یہ صوبے کے عوام بنائیں گے اور وہی پالیسی چلے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری ان باتوں سے تکلیف پہنچتی ہے، ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہم تکلیف پہنچائیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، یہ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرے گا، فیصلہ عوام کریں گے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ہم پر کیا تنقید کر رہے ہو، ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا۔ اسی لیے ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس پاکستان کو خوشحال دیکھنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘

    پشاور کے جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خطاب سے قبل قومی ترانہ بجایا گیا۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کا آغاز پشتو کے ایک شعر سے کیا، جس پر جلسے میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں پشاور کے لیے سو ارب روپے کے پیکج کا بھی اعلان کیا۔

    اس کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورننس ہے تو عوام تیسری مرتبہ عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’گورننس تو ان کی نہیں ہے جنھیں اب آئی ایم ایف نے چارج شیٹ کیا ہے کہ اشرافیہ نے عوام کے ٹیکسز میں سے پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ سیاسی نابالغ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ صرف عمران خان کی بات کر رہے ہیں۔‘ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے عمران خان کے حق میں نعرے لگوائے اور کہا کہ ’جہاں تک میری ذات کی بات ہے تو مجھ پر جو الزامات لگے وہ آپ نے سنے۔ مجھے کبھی ایک نام سے پکارا گیا، کبھی دوسرے نام سے۔ میں علامہ محمد اقبال کا شاہین ہوں۔ کچھ کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو میں نے پرواز اونچی کرنی ہے، میں نے کوے سے نہیں لڑنا، یہ سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی حد تک تو کچھ نہیں کہتا مگر جب بات عمران خان کی آئے گی تو پھر جواب دیا جائے گا۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’عمران خان خیبر پختونخوا میں بھی ہے، پنجاب میں بھی ہے، سندھ میں بھی ہے، بلوچستان میں بھی ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہے اور عمران خان بیرونِ ملک بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں باہر جا کر آپ جن کے بوٹ پالش کرتے ہیں وہ عمران خان کو جھک کر سیلوٹ کرتے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ان لوگوں کو مشورہ دینے والا کچھ سمجھتا بھی ہے یا نہیں، وہ جو مشورہ دیتا ہے سب اس کے الٹ ہو جاتا ہے۔ عوام ان سے اور منحرف ہو جاتے ہیں۔ یہ مجمع اس بات کی گواہی ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

  20. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
    • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو دو روزہ سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
    • پاکستانی فوج نے صوبہ بلوچستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے ایک آپریشن میں 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • انڈیا کی ریاست گوا کے ایک مشہور نائٹ کلب میں آتشزدگی کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے۔
    • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ جون میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایران مشرق وسطیٰ میں اب بھی ایک خطرہ ہے۔