ریاض میں ہونے والے مذاکرات پر اصل بات کس نکتے پر ہو رہی ہے؟, جیمز لینڈل، نامہ نگار برائے سفارتی امور، کیئف
امریکی مذاکرات کار سوموار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں یوکرینی اور روسی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
ریاض میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں اصل میں کیا بات چیت کی جا رہی ہے؟ اس حوالے سے مختلف پیغامات مل رہے ہیں۔
اگر ہم گذشتہ ہفتے کو دیکھیں تو امریکہ کے مطابق ٹرمپ اور پوتن کی فون پر ہونے والی گفتگو میں ان مذاکرات کا فوکس توانائی اور انفراسٹرکچر کی تنصیبات پر حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات پر ہو گا۔
یوکرین کے مطابق ٹرمپ اور زیلنسکی نے توانائی کی تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکنے پر بات کی۔
امریکی خبررساں ادارے سی بی ایس سے گفتگو میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے فضائی جنگ بندی پر بات کی جو کہ ان کے خیال سے پہلے سے ہی موجود ہے لیکن روس نے ٹرمپ اور پوتن کی فون کال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انرجی انفراسٹرکچر کی تنصیبات پر حملے بند کیے جائیں گے۔
لیکن یہاں ایک بات بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ روس اب بھی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے پرانرجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔
بحیرہ اسود کے حوالے سے بھی کنفیوژن موجود ہے۔
امریکہ کا خیال، جس کے بارے میں مائیک والٹز نے بھی کہا کہ میری ٹائمز سیز فائر ہے لیکن کریملن نے بحیرہ اسود کے نام نہاد منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے‘ کی خواہش کا اظہار کیا، جو اب ایک غیر فعال محدود معاہدہ ہے جس کے تحت سمندری راہداریوں کے ذریعے اناج اور کھاد کی ترسیل کی محفوظ نقل و حمل کی اجازت دی گئی ہے۔
اسی طرح رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔
لیکن امریکہ نے 'جزوی جنگ بندی پر عمل درآمد اور اسے وسعت دینے' کی امید ظاہر کی ہے۔
والٹز نے دونوں فریقوں کے درمیان ’لائن آف کنٹرول‘ پر اتفاق کرنے اور کسی بھی جنگ بندی کی تصدیق اور امن قائم کرنے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے پر بھی بات کی۔







