ٹرمپ کا ہنرمند غیر ملکی ملازمین کی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملازمت کے لیے امریکہ آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ویزا فیس پندرہ سو ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حکم نامے سے امریکہ میں ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی جن کی افرادی قوت کا انحصار چین اور انڈیا سے آنے والے ہنر مند افراد پر ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خفیہ شرائط نہیں، کسی دوسرے ملک نے چاہا تو انھیں بھی معاہدے میں شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں: خواجہ آصف
  • فلسطین میں غزہ شہر پر قبضے کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک، یمن سے داغا گیا ڈرون اسرائیلی شہر پر آ گِرا
  • صدر ٹرمپ نے انڈیا کو چابہار بندرگاہ سے متعلق دی گئی رعایت واپس لے لی، 'یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے تنہا کرنے کی مہم کا حصہ ہے'
  • بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. پاکستان اور سعودی عرب میں سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ: ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت، دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور ہو گی‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGoP

    پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

    سعودی ولیِ عہد شہزاد محمد بن سلمان کی دعوت پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بدھ کو ایک روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے تھے جہاں اُن کا شاہی استقبال کیا گیا۔

    ولی عہد کی سرکاری رہائش گاہ پر محمد بن سلمان اور شہباز شریف میں ہونے والے ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے دفاعی شراکت داری سے متعلق شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی شراکت داری سے متعلق اس معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔

    دارالحکومت ریاض کےقصر یمامہ میں ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے ’اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSPA

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے۔‘

    ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ’سٹرٹیجک باہمی شراکت داری‘ کا معاہدہدونوں ممالک کی اپنی سلامتی و دفاع اور خطے سمیت دنیا بھر میں قیامِ امن کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گذشتہ آٹھ دہائیوں پر مشتمل دفاعی شراکت داری، سٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں دونوں ملکوں نے ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2015 میں دہشت گردی کے خلاف 40 اسلامی ممالک کے اتحاد نے سعودی عرب کی کمان میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا۔ پاکستان کے تعاون سے ایک خصوصی فورس تشکیل دی تھی۔ جس کی قیادت پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائیرڈ راحیل شریف تھے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب پہنچنے پر ’شاہی استقبال‘: 21 توپوں اور ایف-15 لڑاکا طیاروں کی سلامی

    بدھ کے روز جب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر ریاض پہنچے تو سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا۔

    وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار سعودی لڑاکا طیارے پاکستانی وزیرِ اعظم کے طیارے کے ساتھ، ساتھ پرواز کر رہے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیرِ اعظم نے اپنے جہاز سے سلیوٹ کر کے سعودی طیاروں کو جواب دیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جہاز کے کاک پٹ سے ہی بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔

    سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ پہنچنے پر ریاض کے نائب گورنر محمد بن عبد الرحمن، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر احمد فاروق اور اعلی سفارتی حکامنے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔ وزیرِ اعظم کی ریاض آمد پر پورے شہر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے۔

    وزیر اعظم کے مطابق اس موقع پر وزیرِ اعظم کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور سعودی عرب کی افواج کے دستے نے سلامی پیش کی۔

  2. اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے بڑے رہائشی علاقے میں داخل، گزشتہ 48 گھنٹوں میں 98 افراد ہلاک، متعدد زخمی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے منگل کی شب شروع ہونے والی اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں مزید شدت آگئی ہے۔ مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ درجنوں اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں غزہ شہر کے ایک بڑے رہائشی علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے دوسرے دن کی پیش رفت ہے جس کا مقصد علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔

    منگل سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے 98 افراد ہلاک اور 385 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علوہ، مزید چار افراد غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد اگست کے آخر میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ ادارے کی جانب سے غزہ شہر میں قحط کا اعلان کیے جانے کے بعد سے غذائی قلت سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 154 ہو گئی ہے۔

    غزہ شہر سے سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں ٹینک، بلڈوزر اور بکتر بند گاڑیاں شیخ رضوان کے علاقے کے کناروں پر حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں، جو شمالی غزہ شہر میں واقع ہے۔ اسرائیلی افواج کے توپ خانے کے گولوں اور فضائی حملوں کی وجہ سے ہر جانب دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں، ایسے میں مختلف اقدامات ایسے بھی کیے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے علاقے میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو چھپایا جا سکے۔

    شیخ رضوان کا علاقہ جنگ سے پہلے دسیوں ہزار افراد کا مسکن تھا اور اسے شہر کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی غزہ سٹی کی کارروائی کا مقصد حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کو آزاد کرانا اور 3000 تک جنگجوؤں کا خاتمہ ہے، جنھیں وہ اس علاقے میں حماس کا ’آخری گڑھ‘ قرار دیتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج کے اس آپریشن پر دُنیا بھر کے کئی مُمالک کی جانب سے کڑی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیو دی چلڈرن اور آکسفیم سمیت 20 سے زائد بڑی امدادی تنظیموں کے سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ ’غزہ کی صورتحال کی غیر انسانی نوعیت ناقابلِ برداشت ہے۔‘

    شیخ رضوان کے رہائشیوں نے بتایا کہ بدھ کو ہونے والا زمینی حملہ اسرائیلی فوج کے انتہائی شدید فضائی حملوں کے بعد شروع ہوا، اس حملے میں علاقے کی عمارتوں اور مرکزی سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر زمینی کارروائی کی تیاری لگ رہی تھی۔

    غزہ شہر سے اپنے خاندان کے ساتھ جنوب کی طرف فرار ہونے والے ایک مقامی رہائشی سعد حمادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسرائیلی ڈرونز کے حملوں میں کُچھ نہیں بچا، انھوں نے سولر پینلز، بجلی کے جنریٹر، پانی کے ٹینک، حتیٰ کہ انٹرنیٹ نیٹ ورک تک کو نشانہ بنایا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’زندگی ناممکن ہو گئی تھی اور یہی وہ چیز تھی جس نے زیادہ تر لوگوں کو خطرے کے باوجود علاقے سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔‘

  3. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔