راجستھان میں مونچھیں روزگار کا ذریعہ

بھارتی ریاست راجستھان میں مونچھیں کبھی بہادروں کی شخصیت کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں، اب روزگار کے حصول کے لیے بھی اہم ہو گئي ہیں۔
راجستھان سے صحافی ناراین باریٹھ بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں مونچھوں کی اس قدر اہمیت تھی کہ مونچھوں پر محاورے بنے اور مردوں کی محفل میں مونچھوں کا ذکر اس طرح ہوتا تھا جیسے وہ مردانگی اور جواں مردی کی علامت ہوں۔
اب راجستھان میں مونچھیں سیاحت اور علاقے میں روزگار کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں دربان کی نوکری کے لیے گھنی اور لمبی مونچھیں کسی ڈگری یا ڈپلومہ کی طرح روزگار حاصل کرنے میں کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔
کچھ بڑے ہوٹل اپنے مونچھ دربانوں کو ماہانہ ’مونچھ بھتہ‘ بھی دیتے ہیں۔
دور صحرا میں گونجتی گیت اور موسیقی کی آواز، رنگ برنگے ملبوسات اور خوبصورت قلعے محلوں کے درمیان جب کوئی سیاح کسی ہوٹل میں داخل ہوتا ہے تو شاہی انداز میں اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔
سیاح سلامی دیتے بڑی بڑی مونچھوں والے دربانوں کو یوں دیکھتے ہیں جیسے ان میں تاریخ کی جھلک نظر آ رہی ہو۔
لمبے لمبے تڑنگے سرجيت سنگھ پہلے فوج میں تھے، اب جے پور کے ایک پانچ سٹار ہوٹل میں دربان ہیں۔ انہیں اپنی رعبدار مونچھوں پر تاؤ دینے کے عوض بھتہ ملتا ہے۔
اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سرجيت کہتے ہیں’ان مونچھوں کو بڑے جتن سے رکھنا پڑتا ہے۔ مونچھوں کی مساج کرنی پڑتی ہے، شیمپو سے دھونا پڑتا ہے۔ ان کی حفاظت کے لیے گھر پر مونچھ پٹی باندھني پڑتی ہے۔ روز ایک گھنٹے تک گھر پر ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ ٹورسٹ انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور کئی بار انعام بھی دیتے ہیں، یہ ہماری ثقافت کی شناخت ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرجيت کو اپنی مونچھوں کی دیکھ بھال کے لیے ہر ماہ تقریباً پانچ سو روپے اضافی ملتے ہیں۔
سپر سٹار امیتابھ بچن کو بھی ایک ہندی فلم میں مونچھوں سے متاثر ہوکر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا ’مونچھیں ہوں تو نتتھو لال جیسی ہوں۔ فلم میں نتتھو لال کا کردار چھوٹے قد کے اداکار نے ادا کیا تھا‘۔
جے پور میں راجپوتانا شریٹن ہوٹل کے چیف مینیجر سونیل گپتا بتاتے ہیں ’ہوٹل کی صنعت میں مونچھ والے دربان کی خاصی اہمیت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے دربان کو مونچھوں کے لیے ماہانہ اضافی پیسے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مونچھوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال کر سکیں اور کوئی دقت نہ ہو‘۔
انہوں نے کہا ’دراصل دربان کی شخصیت میں اس کا قد کاٹھ اور مونچھیں اہم ہوتی ہیں۔ جتنی بڑی اور گھنی مونچھیں ہوں گی، وہ اتنا ہی پر کشش لگے گا۔ ہوٹل میں داخل ہونے والے دروازے پر کھڑے ایسے کی شخصیت سے ہوٹل کے معیار کا پتہ چلتا ہے کہ یہ بڑا ہوٹل ہے۔ جب ہم کسی دربان کی تقرری کرتے ہیں تو ان سب پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔ اس میں ان کی صورت شکل کے ساتھ مونچھی بھی شامل ہیں‘۔

سونیل گپتا کے مطابق ’راجستھان جسے پرانے دور میں راجپوتانہ کہا جاتا تھا، اس کی شان مونچھیں رہی ہیں۔ہوٹلوں پر تعینات دربان گھی، شیمپو اور ملتاني مٹی سے اپنی موچھوں کو شاداب رکھتے ہیں کیونکہ جتنی شاداب موچھیں ہوں گی اتنے ہی زیادہ روزگار کے مواقع ہوں گے‘۔
اجمیر ضلع میں بياور کے کلیان گورجر کے رعب دار چہرے پر اعلی قسم کی مونچھوں نے انھیں ایک بڑے ہوٹل میں دربان کی نوکری دلانے میں بڑی کی مدد کی۔
کلیان گورجر کہتے ہیں ’یہ تو راجستھان کی ثقافت ہے، پھر غیر ملکی انھیں دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں، ہمارے ساتھ تصویر كھنچواتے ہیں۔ جو فائیو سٹار ہوٹل ہیں، ان میں گھنی مونچھ والوں کو ہی ملازمت میں رکھا جاتا ہے، اس لیے مونچھیں ہمارے لیے ڈگری کی طرح ہیں‘۔
راجستھان میں حالیہ سالوں میں سیاحت کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ محکمۂ سیاحت کے مطابق ہر سال کوئی دو کروڑ سے زیادہ سیاح راجستھان آتے ہیں۔ ان میں پندرہ لاکھ غیر ملکی بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہوٹلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
سیاحت کے ماہر سنجے کوشک مونچھوں کی اہمیت پر کہتے ہیں ’راجستھان میں مونچھ آن بان اور شان کا حصہ رہی ہے۔ اسے مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور شخصیت مزید پر کشش بن جاتی ہے‘۔






















