زر سانگہ: خیمے میں رہنے پر مجبور پشتو گلوکارہ کے لیے عالمی ایوارڈ

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پشتو لوک موسیقی کی ملکہ کہلائی جانے والی منفرد آواز کی مالک زر سانگہ کو نہیں معلوم کہ وہ آغا خان موسیقی ایوارڈ جیت چکی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں سڑک کنارے رہنے والی زر سانگہ کو جب بتایا گیا کہ انھیں آغا خان میوزک ایوارڈ دیا جا رہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کے گلوکاروں میں سے انھیں منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے بڑی سادگی سے کہا کہ ’نہیں مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں خیمے میں رہ رہی ہیں، دنیا میں کیا ہو رہا ہے انھیں کیونکر معلوم ہو گا۔
پاکستان کی نامور پشتو گلوکارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی عمر لگ بھگ 77 برس ہو گئی ہے اور اب تک وہ اپنے لیے ایک چھت حاصل نہیں کر پائیں، اس لیے مجبوراً اس خیمے میں رہتی ہیں۔
ان کے بیٹے ہجران نے بتایا کہ جمعے کو دوپہر کے وقت ان سے رابطہ ہوا ہے اور انھیں اس ایوارڈ کے بارے میں بتایا گیا ہے لیکن اس بارے میں انھیں مزید تفصیل معلوم نہیں ہے۔
خانہ بدوش زر سانگہ کون ہیں؟
زر سانگہ اپنے فنِ گلوکاری کا مظاہرہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں بھی کر چکی ہیں۔ بنیادی طور پر خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی زر سانگہ کا نام زلوبئی ہے۔ وہ لکی مروت اور نورنگ کے قریب ایک دیہات میں 1946 میں پیدا ہوئی تھیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جب 20 سال کی تھیں تو ان کے علاقے میں کچھ گلوکار رہتے تھے اور ان کا ان کے گھر آنا جانا تھا، وہاں انھیں شوق پیدا ہوا اور پھر موسیقی میں دل لگ گیا۔
’یہ بات میرے والد کو پسند نہیں تھی اور اس پر انھوں نے بہت برا منایا لیکن مجھے موسیقی کا شوق تھا اور اپنا شوق پورا کرنا چاہتی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت ان کے ساتھ موسیقی میں شیر افگن، دلفراز اور رشید اللہ تھے جنھوں نے گلنار بیگم سے ان کی ملاقات کروائی جو اپنے وقت کی بہت مقبول گلوکارہ تھیں۔
’انھوں نے میری آواز سنی تو بہت تعریف کی اور پھر مجھے ریڈیو پاکستان میں گانے کا موقع ملا اور یوں میں اس میدان میں داخل ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہIkram Khan via AKDN
انھوں نے بتایا کہ وہ 1965 سے گانے گا رہی ہیں اور اب تک تو انھیں یاد نہیں ہے کہ وہ کتنے گانے گا چکی ہیں لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں انھوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس سال آغا خان میوزک ایوارڈ کے لیے پاکستان سے زرسانگہ اور سائیں ظہور کے علاوہ افغانستان سے داؤد خان سادوزئی، انڈیا سے ذاکر حسین اور برطانیہ، ایران، انڈونیشیا، تنزانیہ اور دیگر ممالک سے موسیقی کے میدان میں اپنے نام روشن کرنے والے کل 11 فنکار منتخب ہوئے ہیں۔
اس ایوارڈ کا آغاز 2018 میں کیا گیا تھا اور یہ ہر تین سال بعد دیا جاتا ہے۔ اس ایورڈ کی انعامی رقم پانچ لاکھ امریکی ڈالر ہے جو کامیاب فنکاروں میں تقسیم کی جائے گی۔
اس ایورڈ کی تقریب اس ماہ کے آخر میں مسقط عمان میں منعقد ہو گی۔ ایوارڈ جیتنے والے فنکار اپنی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
زر سانگہ خیمے میں کیوں رہائش پذیر ہیں؟
بنیادی طور پر زر سانگہ خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس عمر میں ان کی خواہش ہے کہ ان کا اپنا مکان ہو جس میں وہ رہ سکیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے انھیں ایک مکان کسی ادارے کی جانب سے دیا گیا تھا لیکن پھر وہ مکان واپس لے لیا گیا۔ ان دنوں وہ کوہاٹ میں انڈس ہائی وے پر سڑک کے کنارے خیمے میں رہائش پذیر ہیں۔
زر سانگہ کے کل چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انھوں نے اپنے ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے لعل جان سے شادی کی تھی جبکہ شوہر کے کزن کے ساتھ متعدد گانے بھی گائے ہیں۔
ان کے تین بیٹے بہوئیں اور پوتے بھی ان کے ساتھ ہیں جبکہ تین بیٹیوں کی شادی کروا چکی ہیں اور وہ اپنے اپنے گھروں میں رہتی ہیں۔ ان کے دو بیٹے طبلہ نواز اور ایک بیٹا ہارمونیم پلیئر ہے۔

ان کے بیٹے ہجران نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں اور اکثر موسیقی کی تقریبات میں وہ والدہ کے ہمراہ طبلہ اور ہارمونیم پر ہوتے ہیں جبکہ ان کی ٹیم میں دیگر ساتھی بھی شامل ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ 2017 میں جب وہ نوشہرہ کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ ان دنوں ان کے گھر میں چوری ہوئی تھی جہاں ان کی لگ بھگ ساری جمع پونجی چور لے گئے تھے۔
زر سانگہ نے بتایا کہ ماضی میں انھیں دیگر فنکاروں کے ساتھ وظیفہ یا ماہانہ معاوضہ ملتا تھا لیکن نو برسوں سے ان کا وظیفہ بند ہے جبکہ ملکی حالات کی وجہ سے اب لوگ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بھی گلوکاروں اور فنکاروں کو نہیں بلاتے۔
وہ بتاتی ہیں کہ کورونا کی وبا کے دوران انھوں نے بہت برا وقت دیکھا جب ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ملک میں شدت پسندی کی وجہ سے انھوں نے ماضی میں اپنی موسیقی کی تقریبات ختم کر دی تھیں لیکن پھر حالات بہتر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی موسیقی کی طرف توجہ دینا شروع کر دی تھی۔
زر سانگہ نے بتایا کہ ماضی میں تو موسیقی کی محفیلیں ہوا کرتی تھیں اور ان میں مرد اور عورتیں بھی موسیقی سننے آیا کرتے تھے ، لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوتے تھے ایک طرف مرد اور ایک جانب خواتین ہوتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔


























