برٹنی سپیئرز: 2016 کے بعد پہلا گانا سر ایلٹن جان کے ساتھ ریلیز

برٹنی سپیئرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں برٹنی سپیئرز تیرہ برس طویل کنزرویٹرشپ سے آزاد ہوئی تھیں جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ اب لوگوں اور میوزک کی دنیا سے ڈرنے لگی ہیں
    • مصنف, مارک سیوج
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی پاپ سنگر برٹنی سپیئرز نے برطانیہ کے مقبول گلوکار سر ایلٹن جان کے ساتھ مل کر 2016 کے بعد سے اب تک کا اپنا پہلا گانا ریلیز کیا ہے۔

تیرہ برس تک اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر والد کے قانونی کنٹرول کے ختم ہونے کے بعد سے یہ ان کا پہلا گانا ہے۔ ان کے والد کے قانونی کنٹرول نے ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کیا۔

چھ برس بعد برٹنی سپیئرز کی موسیقی کی دنیا میں واپسی سر ایلٹن جان کے ساتھ ایک دوگانے کے ساتھ ہوئی ہے جسے انھوں نے سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے لانچ کیا۔

ریلیز سے قبل برٹنی نے کہا ’یہ بہت ہی کول بات ہے کہ میں ہمارے دور کے ایک بے حد کلاسک موسیقار کے ساتھ گانا گا رہی ہوں۔‘

انھوں نے کہا ’میں بہت زیادہ جذباتی محسوس کر رہی ہوں۔ یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے۔‘

اس گانے میں سر ایلٹن جان کے تین کلاسک ہٹ گانوں کی جھلک ہے : ٹائینی ڈانسر، دا ون اور ڈونٹ گو بریکنگ مائی ہارٹ۔ ان تینوں کو سمر کلب بیٹ کے مطابق جدید روپ دیا گیا ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

پورے ٹریک میں برٹنی سپیئرز اور ایلٹن جان ایک ساتھ گاتے سنائی دیتے ہیں۔ آوازوں پر ایکو یعنی گونج جیسے ایفیکٹ استعمال کیے گئے ہیں جس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پچھلی بار سے اب تک برٹنی سپیئرز کی آواز میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔

ٹریک کے درمیان تک پہنچتے برٹنی کے سٹائل میں ’بیبی‘ بھی سنائی دیتا ہے جس سے تھوڑا بہت اندازہ اس بات کا لگتا ہے کہ گذشتہ چھ برسوں میں ان کی آواز میں بھی عمر کا اثر سنائی دینے لگا ہے اور آواز ماضی کے مقابلے تھوڑی بھاری ہو گئی ہے۔ حالانکہ برٹنی کے چند مداحوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ماضی میں برٹنی کے مینیجروں کی طرف سے ان پر اس قسم کے دباؤ رہتے تھے کہ وہ بچکانی آواز میں گائیں۔

’ہولڈ می کلوزر‘ گانا کل ملاکر سر ایلٹن جان کے اس گانے سے بھی قریب پایا جا رہا ہے جسے گذشتہ برس ’گلوبل میوزک لسٹ‘ میں پہلے نمبر پر قرار پایا گیا تھا، وہ گانا ’کولڈ ہارٹ‘ تھا۔

ان کا وہ فارمولا متعدد ریڈیو فارمیٹ اور سٹریمنگ پلے لسٹس پر بھی کامیاب پایا گیا اور اس فارمیٹ نے سر ایلٹن جان کے اب تک کے سب سے کامیاب گانوں کو نوجوان نسل کے درمیان مقبول بنانے میں بھی مدد کی۔

ایسے میں اس بات سے حیران نہیں ہونا چاہیے کہ اب وہ یہی جادو اپنے مزید گیتوں پر بھی آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرانے مقبول ترین گانوں کو جدید بیٹس کے ساتھ ملا کر انہیں وہ روپ دینا جو آج کی نسلوں کو پسند آتا ہے، یہ ایک ایسا کارگر طریقہ ثابت ہوا ہے جس کی مدد سے پاپ کی دنیا کے دو دور قریب لائے جا رہے ہیں۔

برٹنی اپیئرز اور سر ایلٹن جان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرٹنی اور سر ایلٹن جان کے مداحوں نے گانے کو پسند کیا ہے حالانکہ ناقدین اس سے بہت خوش نہین ہیں

گارڈین کو دیے ایک انٹرویو میں سر ایلٹن جان نے بتایا کہ ان کے پارٹنر ڈیوڈ فرنش نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ یہ گانا برٹنی سپیئرز کے ساتھ مل کر تیار کریں۔

انھوں نے کہا ’انھوں نے زبردست گایا۔ ہر شخص کہہ رہا تھا کہ وہ اب نہیں گا پائیں گی۔ لیکن میں نے کہا وہ ایک کمال کی گلوکار ہیں۔ انھوں نے گانا شروع کر دیا ہے، میرا خیال ہے وہ کر لیں گی۔ انھوں نے کر دکھایا اور میں ان کے کام سے بہت خوش ہوں۔‘

لانچ سے قبل سر ایلٹن جان نے اس گانے کو ایک فرینچ بیچ ریستوران میں پیش کیا۔ اسے انھوں نے بھی وہاں گایا اور ڈی جے ساتھ میں میوزک بجاتا رہا۔

انھوں نے کہا ’میں بہت خوش ہوں کہ مجھے برٹنی سپیئرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔‘

سر ایلٹن جان کے مطابق ’وہ واقعی ایک مثال ہیں۔ اب تک کے سب سے بڑے پاپ سٹارز میں سے ایک اور ریکارڈنگز میں وہ زبردست سنائی دیتی ہیں۔ میں انھیں بہت پیار کرتا ہوں اور جو گیت ہم نے مل کر تیار کیا ہے اس کے لیے میں بہت زیادہ خوش ہوں۔‘

گذشتہ برس نومبر میں لاس اینجلس کی ایک عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں برٹنی پر عائد کنزرویٹرشپ کو ختم کر دیا تھا۔ اس وقت برٹنی کی عمر 39 برس تھی۔

اس موقعے پر ان کے مداح اور حامی بھی لاس اینجلس کورٹ کے باہر کھڑے تھے جن کی نظر میں کنزرویٹرشپ دراصل استحصال ہے۔

کنزرویٹرشِپ عدالت کی طرف سے ایسے افراد کے لیے ہوتی ہے، جن کی ذہنی صحت کے حوالے سے خدشات ہوتے ہیں یا جو خود اپنے فیصلے کرنے کے قابل نہ ہوں۔

برٹنی سپیئرز کے والد جیمی سپیئرز نے سنہ 2008 میں ایک عدالتی حکم نامے کے تحت اپنی بیٹی کی زندگی کے معاملات کا کنٹرول سنبھالا تھا اور اس کنٹرول کے تحت وہ بچے پیدا کرنے کے فیصلے سے لے کر کچن کی الماری کا رنگ تبدیل کرنے کا فیصلہ تک خود نہیں کر سکتی تھیں۔

جس وقت یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا برٹنی سپیئرز اپنی ذہنی صحت کے بارے میں خدشات کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھیں۔

تاہم اس تمام عرصے میں برٹنی کو کام کی کمی نہیں رہی۔ انھوں نے تین البم ریلیز کیے، ٹی وی پر متعدد شوز میں نظر آئیں، جن میں امریکی ایکس فیکٹر کی جج کا رول بھی شامل تھا۔

اس فیصلے کے آنے کے بعد سے اب تک ان کے مداح بار بار ان کی موسیقی کی دنیا میں واپسی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن وہ یہ قدم نہیں اٹھا رہی تھیں۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

گذشتہ برس ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ وہ میوزک انڈسٹری سے ’فاصلہ‘ قائم کر کے چل رہی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’لوگوں کو ان تمام بری باتوں کا علم نہیں جن کا مجھے شکار بنایا گیا اور میں اس سب سے گزرنے کے بعد ان لوگوں اور اور اس کاروبار سے ڈرنے لگی ہوں۔‘

سر ایلٹن جان نے اس سے قبل بھی ایسے موسیقاروں کی مدد کی ہے جو برے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں رابی ولیمز سے لے کر ایمینم تک شامل ہیں۔ برٹنی سپیئرز کو بھی ان کی اسی بات نے متاثر اور راضی کیا۔

سر ایلٹن جان نے گارڈین کو بتایا ’نوجوانی میں یہ سب کچھ بہت مشکل ہوتا ہے۔ برٹنی بھی ٹوٹ چکی تھی۔ میں بھی ایک بار ایسے ہی ٹوٹ چکا تھا اور پھر میں نے نشے کو الودہ کہہ دیا۔ وہ بہت برا دور تھا۔ میں بھی اس دور سے گزر چکا ہوں جب آپ اتنا ٹوٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور وہ سب بہت برا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا ’میں خوش قسمت ہوں کہ اب مجھے نشے کو چھوڑے ہوئے 32 سال گزر چکے ہیں اور اتنا خوش میں پہلے کبھی نہیں ہوا جتنا اب ہوں۔ اب میرے پاس موقع ہے کہ میں لوگوں کو سمجھاؤں اور ان کی مدد کروں، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی فنکار کو اس سیاہ دور سے گزرنا پڑے۔‘

یہ بھی پڑھیئے:

ٹائنی ڈناسر ریلیز ہوتے ہی برٹنی سپیئرز کے مداحوں نے اسے سٹریم اور خرید کر ان کے لیے اپنے پیار کا اظہار اور ساتھ کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔

ایک مداح نے ریڈٹ ڈاٹ کام پر لکھا ’پندرہ برس انہوں نے جس جہنم میں گزارے ہیں اس کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ انہیں دنیا کی ہر خوشی اور لوگوں کا ساتھ حاصل ہو۔‘

یوٹیوب پر ایک مداح نے لکھا ’برٹنی کی آواز زبردست لگ رہی ہے۔ یہ گانا، اس کی دھن اور سبھی کچھ بہت عمدہ ہے۔ ایک بڑا ہٹ۔‘

ایک دیگر مداح نے لکھا ’یہ دنیا کا نمبر ون گانا ہونے والا ہے۔ برٹنی اور ایلٹن دونوں کا یہ حق ہے۔‘

حالانکہ ان کے مداح نے اتنا جوش نہیں دکھایا جتنا ان کے ماضی کے گانوں ’اوپس آئی ڈڈ اٹ اگین‘ اور ’روئنڈ‘ کے وقت دکھایا تھا۔

دوسری جانب اخبار دا ٹائمز نے اسے ’ایک بوگس ریمکس‘ بتایا جو اوریجنل گانے کے جادو کو ختم کر دیتا ہے۔‘