مس مارول: تقسیم برصغیر کی تکالیف کو محسوس کرتی سپر ہیرو کی کہانی

،تصویر کا ذریعہDisney
- مصنف, زویا متین اور میرل سبیسٹین
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
- وقت اشاعت
’میرا پاسپورٹ پاکستانی ہے اور میری جڑیں انڈین ہیں اور درمیان میں ایک سرحد ہیں جسے خون اور دکھ سے سینچا گیا۔‘
آپ کو عموماً کسی امریکی ٹی وی شو پر پاکستان اور انڈیا کے بارے میں بات سننے کو نہیں ملتی لیکن مس مارول سیریز میں، جس میں ایک نو عمر مسلم سپر ہیرو کو دکھایا گیا ہے، اس بیانیے کو بدلتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ جملہ اس شو کی سپر ہیرو کمالہ خان کی نانی ثنا نے کہا، جو سنہ 1947 میں تقسیم ہندوستان کا حوالہ دے رہی ہیں جس کے بعد پاکستان اور انڈیا معرض وجود میں آئے تھے۔
ناقدین نے چھ اقساط کے اس شو میں تقسیم ہندوستان کے تکلیف دہ اور صدمے سے بھرپور واقعے کی حساسیت سے عکاسی کرنے پر تعریف کی ہے۔
ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے اختتام پر ہونے والی یہ تقسیم تاریخ میں لوگوں کی سب سے بڑی تحریک تھی۔ اس بٹوارے میں تقریباً 12 ملین لوگ پناہ گزین ہوئے اور پانچ سے 10 لاکھ کے درمیان لوگ مذہبی تشدد میں مارے گئے۔
انڈیا اور پاکستان کی فلم انڈسٹری نے اپنی فلموں میں اس تقسیم کے تکلیف و غم کو کئی مرتبہ سکرین پر دکھایا مگر مس مارول نے اس کو آج یعنی حال کی نظر سے پیش کیا، جس میں کئی نسلوں پر محیط اس تقسیم کے دکھ، صدمے اور شناخت کے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔
مصنفہ آنچل ملہوترا، جنھوں نے برصغیر کی تقسیم کی کہانیوں اور زبانی تاریخ کو اپنی کتابوں میں دستاویزی شکل دی ہے، کہتی ہیں کہ یہ شو اپنی تحقیق کو ’ایک ایسی چیز میں بدل دیتا ہے جو بامعنی، جذباتی طور پر مربوط اور درست ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اس نے تاریخ سے دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی وجہ بننے والے حساس واقعات جو آج تک جاری ہیں، کو اجاگر کر کے اچھا کام کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مس مارول ایک کردار کمالہ خان کی کہانی ہے، جسے ایک پاکستانی نژاد امریکی نوجوان اداکارہ ایمان ولانی نے ادا کیا ہے جو ایک سپر ہیرو بن جاتی ہیں۔
یہ سپرہیرو کردار پہلی بار سنہ 2014 میں ایک کامک بک سیریز میں متعارف کروایا گیا تھا جس میں کمالہ میں سپر ہیرو کی طاقتیں ایک خلائی جین کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں اور ان صلاحتیوں کو ایک میوٹجینک گیس کے ذریعے متحرک کیا جاتا ہے۔
مگر اس شو میں کمالہ اپنی سپر ہیرو کی طاقت اور صلاحتیں ایک پراسرار کڑے سے حاصل کرتی ہیں جو ان کی پرنانی عائشہ کا ہوتا ہے، جو تقسیم برصغیر کے وقت غائب ہو گئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آنچل ملہوترا کہتی ہیں کہ یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ شو بنانے والوں نے سپر پاورز کے لیے ایک خاندانی ورثے کا انتخاب کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’انڈیا اور پاکستان بھر میں لوگ اپنا خاندانی ورثہ سنبھالے پھرتے ہیں اور اس شو میں یہ دکھانا بالکل ایسے تھا جیسے ماضی کا دریچہ کھل گیا ہو۔ نوجوان نسلوں کے لیے جو سنہ 1947 کے تباہ کن واقعات کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہیں، کوئی چیز ماضی میں داخل ہونے کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے اور کمالہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔‘
آنچل ملہوترا اور بہت سے دوسرے افراد کے لیے بھی اس شو کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں تقسیم برصغیر کو کوئی بھولی بسری یاد یا محض ایک پس منظر میں نہیں بتایا گیا ’بلکہ یہ واقعہ تمام کہانی کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔‘
یہ شاید اس سیریز کی پانچویں قسط میں واضح ہوتا ہے جب مس مارول کے ٹائٹل ٹریک کی جگہ ’تو میرا چاند۔۔۔‘ ایک غمگین گانے سے تبدیل کر دیا گیا۔ یہ گانا سنہ 1949 میں اداکار شیام اور سوریا نے گایا تھا جو دونوں پنجاب کے ایک ایسے علاقے سے تھے، جو پاکستان کا حصہ بن گیا تھا۔
اس کے بعد ایک نیوز ریل چلتی ہے جس میں انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے بانی محمد علی جناح کو دکھایا جاتا ہے، جس کے بعد تقسیم کے وقت کے تشدد کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
اس قسط میں بعد میں دکھائے جانے والے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے سے قبل ماضی میں لے جاتے ہوئے ہمارا تعارف کمالہ کی پرنانی عائشہ اور ان کے شوہر حسن سے ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہDisney
اس میں ہم جانتے ہیں کہ کمالہ کے ننھیال کا شمار ان لاکھوں مسلمان خاندانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے سنہ 1947 میں پاکستان کی جانب نقل مکانی کی تھی۔ اس وقت ان کی پرنانی عائشہ اور ان کے شوہر کراچی جانے والی آخری ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش میں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور ان کی نانی ثنا جو اس وقت ایک شیر خوار بچی تھی معجزانہ طور پر اپنے والد سے مل جاتی ہیں۔
شرمین عبید چنائے جنھوں نے مس مارول سیریز میں تقسیم کے وقت کی اقساط کی ہدایتکاری کی ہے، کمالہ کو ان تکلیف دہ لمحات میں لے جاتی ہیں جو ان کے خاندان اور تاریخ کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
اس قسط میں ایک کمسن لڑکی کی نظر سے شائقین ریلوے سٹیشن پر انسانوں کا سمندر دیکھتے ہیں جو بے صبری سے ٹرین پر سوار ہونے کے لیے جگہ تلاش کر رہے ہیں جبکہ چند افراد وہاں اپنے پیاروں کو نم آنکھوں سے رخصت کر رہے ہیں۔
ان مناظر میں جو آوازیں اور گفتگو سنائی دیتی ہیں وہ سٹیزن آرکائیو آف پاکستان اور سٹیزن آرکائیو آف انڈیا سے حاصل کردہ ہیں۔ یہ دو آزاد ادارے ہیں جنھوں نے تقسیم ہندوستان کے وقت کی زبانی تاریخوں کو محفوظ کر رکھا ہے۔
شرمین عبید چنائے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان مناظر میں اس وقت کی شدت اور تکلیف کو بیان کرنا چاہتی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایسی مشہور تصاویر کی تلاش میں تھی جو درد، وحشت، دکھ کی علامت ہوں اور اس مایوسی کی عکاسی کر سکیں جب لوگ اپنے گھروں سے نکل رہے تھے۔ میں شائقین کو اس وقت میں لے جانا چاہتی تھی کہ اس وقت لوگ کیا محسوس کر رہے تھے، ان کے چہروں پر کیا تاثرات تھے۔‘
اس کے نتیجے میں شائقین کمالہ کے ساتھ اس حیرت انگیز تجربے کو محسوس کرتے ہیں جب وہ بے بسی سے ان مناظر میں موجود دیگر افراد کی طرح بھیڑ سے گزرتی ہیں۔
شرمین عبید کا کہنا ہے کہ ’جب کمالہ پہلی مرتبہ تقسیم کے وقت میں جاتی ہیں تو اس وقت وہ سپر ہیرو نہیں بلکہ صرف کمالہ خان ہوتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مس مارول سیریز میں تقسیم ماضی کی ایک یاد نہیں بلکہ ایک ایسی کلیدی چیز ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ کمالہ اپنی نانی کی تکلیف اور دکھ کو کبھی محسوس نہیں کر سکتیں لیکن جو کچھ وہ ریلوے سٹیشن پر دیکھتی ہیں، وہ ان کی شناخت کو بنانے میں اہم ہے۔
حالانکہ اس سیریز میں اہم حصہ سپر ہیومن کی خصوصیات پر مبنی ہے لیکن اس میں کچھ ذاتی کہانیوں پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ کمالہ کی طرح، بہت سے جنوبی ایشیائی ہندو اور مسلمان تشدد کے شروع ہونے سے پہلے تک ہم آہنگی سے رہنے کی کہانیوں کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں یا کچھ ایسی کہانیاں جن میں خاندان کا کوئی فرد تقسیم کے وقت زندہ سرحد پار نہ کر سکا۔
آنچل ملہوترا کہتی ہیں کہ ایسے بہت سے لوگ جو تقسیم کے دوران زندہ بچ گئے آج بھی اس سے نبرد آزما ہیں اور یہ حل نہ ہونے والا احساس نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اور آپ تصور کر سکتے ہیں کمالہ کو جب بالکل اس کے مرکز میں پھینکا گیا تو انھیں کیسا محسوس ہوا۔‘
کمالہ کے علاوہ اس سیریز میں دیگر کردار بھی دنیا میں اپنا مقام تلاش کرنے کی جستجو میں ہیں۔
کمالہ کی نانی کے کردار ثنا کے لیے تقسیم برصغیر ایک ایسا واقعہ تھا جس کی تیاری کرنا ناممکن تھا لیکن انھوں نے اپنی پوری زندگی اس کو یاد کرتے، اس کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش میں گزاری۔
آنچل ملہوترا کہتی ہیں کہ اس سیریز کی ان اقساط میں کمالہ اور ان کی نانی کے درمیان ہونے والی گفتگو اس بین النسل صدمے کی گہرائی اور تکلیف کا پتا دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کمالہ کی نانی کو شاید چیزیں محسوس ہوتی ہوں لیکن وہ سب کچھ کہتی نہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جس پر وہ انحصار کر رہی ہیں یا بتا رہی ہیں، تاریخ اس سے کہیں زیادہ گہری ہے لیکن وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ کمالہ کو اسے خود ہی دریافت کرنا پڑے گا۔‘
کمالہ کی والدہ تلخ ماضی سے اور اپنی ایسی والدہ سے جو آج بھی ماضی کے صدمے میں پھنسی ہوئی ہیں، چھٹکارا پانے کے لیے پاکستان چھوڑ دیتی ہیں لیکن امریکہ میں انھیں احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچپن کی ان روایات اور اخلاقیات کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہتی ہیں اور جب وہ برسوں بعد کراچی واپس آتی ہیں تو انھیں یہ محسوس کر کے اچھا لگتا ہے کہ یہ اب بھی گھر لگتا ہے۔
اپنی والدہ کی طرح کمالہ اپنی پہچان اور شناخت سے دور نہیں بھاگتی ہیں بلکہ وہ اپنے خاندان کی روایات کے ساتھ اپنی آزادی کا ایک توازن قائم کرتی ہیں۔ یہ دہری دنیاؤں کا سامنا کرنے والے ایشیائی امریکی نوجوانوں کی ایک کلاسک کہانی ہے جو اپنے قدامت پسند والدین اور سکول کی آزاد زندگی کے درمیان ایک توازن قائم کرتے ہیں لیکن ان کی پہچان کا دوہرا پن روایتی نسلوں کے فرق سے کہیں آگے بڑھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہDisney
اس سیریز میں کمالہ آدھی جن اور آدھی انسان ہیں۔ وہ اس دنیا میں رہتی ہیں لیکن ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ایک اور دنیا سے ہے۔ انھیں کبھی اپنی جنوبی ایشیائی شناخت پر شرمندگی نہیں ہوئی لیکن انھیں کراچی میں اپنا آپ ایک اجنبی لگتا ہے۔
جب انھیں اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے تو انھیں مستقبل کے بارے میں اچانک آگاہی ہوتی ہے لیکن اسے سمجھنے کے لیے انھیں پہلے اپنے خاندان کے ماضی میں جانا ہو گا۔
آخر میں ان دونوں دنیاؤں میں جانا ہی ان کی اصل طاقت بن جاتا ہے اور وہ کڑا، جو اس تمام سفر کا مرکز ہے، انھیں اس سفر پر لے جاتا ہے جو بصورت دیگر ان سے چھپا رہتا۔
آنچل ملہوترا کہتی ہیں کہ ’ہر نسل کو اپنے خاندان کی تاریخ اور اس کے اپنی زندگیوں پر اثرات کو سمجھنے کے لیے اپنی ذات میں جھانکنا ہو گا۔ اس کے بغیر بہت سے لوگ خود سے لاعلم رہیں گے، چاہے اگر آپ کمالہ جیسے سپر ہیرو ہی کیوں نہ ہوں۔‘
























