بلال مقصود: یہ بچے جب بڑے ہوں گے تو یہ نظمیں اُنھیں نیا مطلب دیں گی

بچپن سے ہی ہم لوگ خرگوش اور کچھوے کی کہانی نثر و نظم میں سنتے آ رہے ہیں۔ مگر اب زمانہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں جہاں غیر ملکی مواد تک بچوں کی رسائی پہلے سے کہیں زیادہ ہے تو وہیں پاکستان میں بچوں کے لیے خصوصی مواد کے حوالے سے کام شاذ و نادر دیکھنے میں آتا ہے۔
پاکستان میں رہتے ہیں اور اردو زبان سے واقف ہیں تو سٹرنگز کا نام آپ کے لیے اجنبی نہیں ہو گا جنھوں نے نوّے کی دہائی سے پاکستانیوں کے دل میں جگہ بنا لی اور ایک عرصے تک میوزک انڈسٹری پر راج کیا۔
اب یہ بینڈ ریٹائر ہو چکا ہے مگر اس کے موسیقار بلال مقصود پاکستانی بچوں کے لیے ایک نئے پراجیکٹ کے ساتھ آ رہے ہیں۔
اُنھوں نے (انگلش بسکٹ مینوفیکچررز) کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے نئی نظمیں تخلیق کی ہیں جن میں مختلف جانوروں کی خصوصیات کے ذریعے بچوں کی تربیت کی کوشش کی گئی ہے۔
صحافی بُرّاق شبیر کے ساتھ گفتگو میں بلال مقصود اس پراجیکٹ کے بارے میں مزید بتا رہے ہیں۔

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بچوں کی نظموں کا یہ پراجیکٹ کیا ہے اور بلال مقصود اس سے کیا چاہتے تھے؟ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ: ہم سب جانتے ہیں کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر مواد بہت محدود ہے۔ جو اچھا مواد ہے وہ یا انگریزی میں ہے یا ہندی میں ہے۔ اردو میں بچوں کے لیے ڈھونڈتے ہیں تو بہت مشکل سے ملتا ہے اور وہ بھی اس معیار کا نہیں ہوتا جو غیر ملکی مواد ہوتا ہے۔
’تو اس پراجیکٹ کا مقصد یہی تھا کہ جو بچے بڑے ہو رہے ہیں اُن کو اردو میں معیاری مواد دیا جائے تاکہ وہ اپنی زبان اور ثقافت اور اقدار سے منسلک رہیں۔‘
کیا وہ ہمیشہ سے ہی ایسے کسی پراجیکٹ پر کام کرنا چاہتے تھے؟ اس سوال پر بلال مقصود نے کہا کہ یہ آئیڈیا اُن کے دماغ میں اس وقت چل رہا تھا جب وہ آٹھ یا نو سال کے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں ابو کے ساتھ لندن گیا تھا، وہاں میں سیسمی سٹریٹ پہلی بار دیکھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے پاکستان میں بھی بچوں کے لیے گانے اور دھنیں دیکھی رکھی تھیں مگر اسے اُنھوں نے مختلف پایا۔ پھر اُنھوں نے بچوں کے دوسرے شوز دیکھے اور سوچا کہ بچوں کے لیے اگر کبھی کام کیا تو اس سمت میں کریں گے۔
’میرے بچے جب بڑے ہو رہے تھے تو اُنھوں نے بارنی، نوڈی اور سیسمی سٹریٹ دیکھا۔ میں اور میری بیوی بات کرتے تھے کہ اردو میں ہمارے پاس یہ مواد کیوں موجود نہیں۔ تو جب یہ پراجیکٹ میرے پاس آیا تو مجھے لگا کہ میری بہت پہلے مانگی ہوئی دعا اللہ نے قبول کر لی کہ میں اپنے ملک کے بچوں کے لیے کچھ پروڈیوس کر سکوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
اس پراجیکٹ سے کیا نتیجہ چاہ رہے تھے؟
بلال مقصود نے اس کے جواب میں کہا کہ جب ای بی ایم والوں نے اُنھوں نے رابطہ کیا تو بہت ہی سادہ بریفنگ دی کہ آٹھ جانور ہیں اور ان آٹھ کے لیے نظمیں چاہییں۔
’لیکن وہ بہت خوبصورت بریف تھی کیونکہ اس میں ایک لائن تھی کہ یہ نظمیں اردو میں چاہییں۔ اور اس کا مقصد یہی تھا کہ بچوں کو اردو میں معیاری مواد دینا ہے اور اُنھوں نے مجھے منتخب کیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اب تک پوچھا نہیں ان سے کہ اُنھوں نے مجھے کیوں منتخب کیا لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں بہت خوش قسمت تھا۔ نتیجہ یہ چاہ رہے تھے کہ بچے یہ سنیں اور دیکھیں مگر میرے دماغ میں ایک اور چیز چل رہی تھی، وہ یہ کہ یہ صرف بچوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔‘
اپنی اس بات کی وضاحت میں بلال مقصود کہتے ہیں کہ پاکستان میں آپ جتنا مواد دیکھیں، اس پر ذہنی محنت نہیں ہوتی، یعنی کہ بچوں کے لیے کام ہے سو بس کر دیا اور ہو گیا۔
’میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ بچے جب بڑے ہوں گے اور وہ سوچیں گے کہ اُنھوں نے کیا سنا تھا، تو یہ نظمیں اُنھیں نیا مطلب دیں گی۔ اور جو امی ابو اس وقت سن رہے ہیں اُن کے لیے بھی اس میں کچھ ہو۔ خالی یہ نہیں کہ آپ نے بچوں کو یہ ٹی وی پر لگا کر دے دیا اور اپنا کام کرتے رہیں۔‘
انٹرنیٹ پر ریسرچ کرنے کے دوران اُنھیں لگا کہ جو مواد اس وقت موجود ہے، اُنھیں وہ کام تو بالکل نہیں کرنا ’کیونکہ اس میں جو مجھے کمی نظر آئی وہ پیغام کی، سبق کی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ کام میں ’صرف الفاظ ہیں، ترنم ہے، کہ ہاتھی ڈھول بجاتا آیا یا چڑیا نے دروازہ کھولا سب نے مل کر کھانا کھایا، یہ سب بچوں کو کچھ سکھاتا نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’تو میں نے جو مقصد ذہن میں بنایا وہ یہ کہ اخلاقی سبق ہونا ضروری ہے۔ اب یہ آٹھ جانور ہیں، ان کے ذریعے ہم کیا سبق دے سکتے ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ ہر جانور کا ایک خاص پہلو ہے، ہاتھی بہت بڑا ہوتا ہے، شیر سے سب ڈرتے ہیں،۔ خرگوش تیز بھاگتا ہے، کچھوا آہستہ چلتا ہے، یہ سب خصوصیات انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ کیا ہم اس سب کو لے کر کوئی ایسی کہانی بنا سکتے ہیں جس سے انسانوں کے لیے بھی کوئی مقصد نکل پائے؟‘
وہ بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے ان سب کو لے کر جو کہانیاں بنائیں، اُن میں اخلاقی سبق اس جانور کی خاصیت کے برخلاف رکھا۔ مثلاً خرگوش اپنی نظم میں اپنی تیز رفتاری کی تعریف بھی کرتا ہے مگر یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ اس سے تھک بھی جاتا ہے۔
’یہ تھکنے والا عنصر ہر انسان کی زندگی میں ہے۔ چاہے آپ دنیا کے ٹاپ ٹینس پلیئر کو دیکھ لیں، وہ ٹاپ پر ہے، مگر جتنی محنت وہ کرتا ہے، ہمیں نہیں معلوم نہیں، لیکن اسی لیے وہ ٹاپ پر ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ قدرت کا تحفہ اپنے آپ میں سب کچھ نہیں، بلکہ آپ کو محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔‘
کچھوے کی سست رفتاری کی مثال دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’اسی طرح کچھوے کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آہستہ چلتا ہے مگر ہماری نظم وہ آہستہ بھی چلتا ہے، لیکن جب پانی مل جائے تو تیز تیرتا ہے، یعنی جب انسان کو اپنی شخصیت کے حوالے سے موافق حالات ملیں گے تو وہ بہترین کارکردگی دکھائے گا، آپ اس کے بارے میں رائے قائم نہ کریں۔ آپ اس کو وہ موافق حالات فراہم کریں۔‘
’شیر کی نظم میں ہمارے اپنے خوف کا تذکرہ ہے۔ ہم اندھیرے سے، پانی سے، ہجوم سے ڈرتے ہیں لیکن اس نظم میں یہ سبق ہے کہ اگر ہم اپنے خوف سے دوستی کر لیں تو وہ خوف ختم ہو جاتا ہے اور ہماری طاقت بن جاتا ہے۔‘
اپنے بچوں سے بھی بلال مقصود اپنے کام کے بارے میں رائے لیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ خرگوش سے متعلق نظم میں وہ تین ہفتے تک پھنسے رہے کہ آخر اس میں مقصدیت کیسے پیدا کی جائے۔ اس موقع پر اُنھوں نے اپنے 24 سالہ بیٹے سے بات کی اور پوچھا، تو اُنھوں نے پانچ سیکنڈ میں کہا کہ ’ابا خرگوش تیز بھاگتا ہے مگر کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کتنی محنت کرتا ہے۔‘
سبق کے ساتھ ساتھ وہ کہتے ہیں کہ ان نظموں کو ایسے لکھا گیا ہے کہ اُنھیں گانے میں بھی مزہ آیے اور یاد کرنا بھی آسان ہو۔
’مثال کے طور پر ایک نظم ہے کہ پنجرے میں چڑیا گانا گا رہی ہے، اسے اپنے گھونسلے کی یاد آ رہی ہے۔ یہ نظم بچوں کو رحمدلی سکھاتی ہے، جب یہ بڑے ہوں گے تو اُنھیں اندازہ ہو گا۔‘
























