جلال چانڈیو: مقبول عوامی گلوکار جن کی دستیابی یقینی بنا کر شادی کی تاریخ طے کی جاتی

،تصویر کا ذریعہUS Consulate/ FB page
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی کا سُپر ہائی وے ہو یا پنجاب میں جی ٹی روڈ یا موٹر وے، ان شاہراؤں پر سفر کرتے ہوئے آپ نے اکثر ٹرکوں کے پیچھے ایک بارعب شخص کی تصویر ضرور دیکھی ہوگی جن کے چہرے پر بڑی بڑی موچھیں اور سر پر سُرخ سندھی ٹوپی سجی ہوتی ہے۔
اکثر تصویروں میں اُن کی قمیض کا گریبان کُھلا ہوتا ہے اور اندر سے سونے کی چین جھلک رہی ہوتی ہے اور تصویر کے ساتھ یا نیچے جلال چانڈیو تحریر ہوتا ہے۔
جلال چانڈیو سندھ کے عوامی گلوکار تھے جن کی موسیقی بالخصوص ڈرائیور حضرات، مزدور اور کسان تو پسند کرتے ہی ہیں لیکن بالعموم نوجوانوں میں بھی وہ اتنے ہی مقبول ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹویٹر سپیس‘ پر گذشتہ دس روز سے ورچوئل جلال میلہ سجا ہوا ہے جس کا اختتام 10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 21ویں برسی کی تقریب پر ہو گا۔
ایک چرواہے سے مقبول گلوکار بننے تک کا سفر

،تصویر کا ذریعہMashooq Jalal
جلال چانڈیو کی پیدائش وسطی سندھ کے موجودہ نوشہروفیروز ضلع کے قصبے ’پھل‘ میں ہوئی۔ اُن کے والد حاجی فیض محمد چانڈیو مال مویشیوں کی خرید و فروحت کے کام سے منسلک تھے۔ جلال کو بچپن میں سکول بھیجا گیا لیکن تعلیم میں اُن کی عدم دلچسپی رہی۔
تعلیم میں ان کی عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انھیں قریبی شہر نواں جتوئی میں ایک درزی کے پاس ٹیلرنگ کا کام سیکھنے بھیجا مگر یہ کام بھی جلال کو کچھ خاص نہ بھایا کیوں کے ان کے سر پر تو صرف موسیقی کا بھوت سوار تھا۔
ان کے والد ابتدا میں اپنے بیٹے کی گائیکی سے ناخوش تھے لیکن جب لوگوں نے جلال کی آواز کی تعریف کی تو انھوں نے جلال کو گانے کی اجازت دے دی۔
جلال چانڈیو کے دوست اور سینیئر صحافی ناز سھتو کے مطابق جلال کی جائے پیدائش یعنی قصبے پھل میں کسی مزار پر میلے کے موقع پر ایک پروگرام تھا جہاں جلال نے بھی گایا جس کو سامعین نے بہت پسند کیا۔ ابھی جلال اس پروگرام سے واپس گھر نہیں لوٹے تھے کہ کئی افراد نے جلال کے والد کو میلے میں ان کی پرفارمنس سے آگاہ کیا اور تعریف کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسائیکلوپیڈیا سندھیانہ کے مطابق جلال نے سائینداد چانڈیو سے ابتدائی تربیت حاصل کی اور اُس کے بعد فقیر احسان علی اور بعد میں باقاعدہ تربیت فقیر علی گل مہر سے حاصل کی جو صوفی گویے تھے اور یکتارا اور چپڑی بجاتے تھے۔ فقیر علی گل سے جلال نے گائیکی کے ساتھ یکتارا اور چپڑی کا فن سیکھا۔
یکتارا ایک تار والا ساز ہے جس کو دائیں ہاتھ میں پکڑ کے ایک انگلی سے بجایا جاتا ہے جبکہ چپڑی لکڑی کے دو ٹکڑے ہوتے ہیں جن کے ساتھ چھوٹے گھنگھروں بندھے ہوتے ہیں، جو بائیں ہاتھ سے بجائی جاتی ہے۔
صوفی آستانوں سے عام محفلوں تک

،تصویر کا ذریعہMashooq Jalal/ EMI Pakistan
یکتارا بجانے والوں کو یکتارا پوٹا کہا جاتا ہےجن کی گائیکی صوفی آستانوں اور مزاروں تک محدود تھی۔ جلال کا کسی گوئیے گھرانے سے تعلق تھا نہ ہی وہ کسی کلاسیکل استاد کے شاگرد تھے۔
سینیئر صحافی ناز سہتو بتاتے ہیں کہ سندھ میں میلے کے موقع پر تھیٹر کرنے کی روایت تھی جس میں ٹکٹ لے کر محفل سُنی جاتی تھی۔ سندھ میں پنجاب کے گلوکار عنایت حسین بھٹی اور عالم لوہار بھی اکثر ان میلے ٹھیلوں پر آ کر گاتے تھے۔
مگر جلد ہی جلال کی شہرت ہو گئی اور تھیٹر کمپنیوں کو اپنے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے جلال کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہو گئیں۔
سینیئر صحافی منظور سولنگی ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اُن کے مطابق خیرپور ناتھن (دادو ضلع) میں جڑیل شاہ کا میلہ تھا، اناؤنسر نے اعلان کیا کہ اب وہ ’ببر شیر‘ گلوکار عنایت حسین بھٹی کو سٹیج پر دعوت دیں گا۔ اس کے بعد جب جلال چانڈیو کی باری آئی تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ دھرتی کے ’ببرشیر‘ گلوکار وہ ہوں جس پر تمام تماشائیوں نے کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کیا۔
کیسٹس کی آمد اور مقبولیت
سندھ یونیورسٹی کے شعبہ بشریات سے وابستہ ڈاکٹر رفیق وسان بتاتے ہیں جلال چانڈیو نے جب گائیکی کا آغاز کیا تو اس وقت گھروں اور ہوٹلوں میں گرامو فون بجتے تھے، جو ہر کسی کی دسترس میں نہیں تھے مگر جب ستر کی دہائی کے بعد آڈیو کیسٹس عام ہوئیں تو جلال کی مقبولیت بھی عام ہوئی۔
ناز سہتو بتاتے ہیں کہ ’ابتدا میں کیسٹ کمپنیاں جلال کو ریکارڈ نہیں کرتی تھیں، لوگ اُن کی محفلوں کو خود اپنے ٹیپ رکارڈز میں ریکارڈ کرتے اور ان کی کاپی بنا کر عام کرتے، اُن کی مقبولیت کی وجہ سے کیسٹ کمپنیاں مجبور ہوگئیں کہ انھیں ریکارڈ کریں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’نتیجے میں اُن کی کیسٹس ریکارڈ بزنس کرنے لگیں اور یوں سندھ کے شہروں اور قصبوں میں آڈیو کیسٹس کا کاروبار ان کی گائیکی کی بدولت فروغ پانے لگا۔‘
سندھ کے محکمہ ثقافت کے سیکریٹری عبدالحمید آخوند کا کہنا ہے کہ لوگ جلال کو زیادہ پسند اس لیے کرتے تھے کیونکہ ان کی گائیکی سندھ کی گائیکی تھی۔
’سندھ میں بسوں، ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں لتا، کشور کمار اور دیگر مقبول انڈین سنگرز کے گانے چلائے جاتے تھے، مگر جب جلال چانڈیو آئے تو انھوں نے سب کو نکال دیا اور وہ مقبول برانڈ بن گئے جن کو ہر جگہ سنا جانے لگا۔‘
کیسٹس کی دنیا میں مقبولیت کے بعد ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر اور صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کے شوہر غلام حسین شیخ نے انھیں ریڈیو پاکستان پر متعارف کروایا۔

،تصویر کا ذریعہMashooq Jalal
’عام لوگوں کے جذبات کی ترجمانی‘
جلال چانڈیو کی مادری زبان سرائیکی تھی لیکن انھوں نے سرائیکی کے ساتھ سندھی، براہوی، بلوچی، اردو اور پنجابی میں بھی گیت گائے۔ جہاں انطوں نے ادبی دنیا میں غیر معروف شاعروں کی شاعری گائی وہیں انھوں نے شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمت، صوفی صادق حسین سمیت دیگر صوفی شعرا کو بھی گایا۔
ان کے پاس کلاسیکل راگیوں اور گلوکاروں کی طرح ڈائری نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ تاہم ان کی خصوصیت یہ تھی کہ انھیں ہزاروں کلام زبانی یاد تھے۔
ناز سہتو کے مطابق انھوں نے عام شاعری گائی جیسے چھلا، ٹوپی، رومال، ہار وغیرہ جو چیزیں اصطلاح اور محاورے میں استعمال ہوتی تھی ان کا موضوع تھیں ،انہوں نے حسن اور اظہار محبت کو آسان الفاظ میں بیان کیا۔
سینیئر صحافی منظور سولنگی شاعری بھی کرتے رہے ہیں اور اُن کے مطابق جلال نے عام لوگوں کی شاعری کو گایا اور عام لوگوں کے ہی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی۔ اس سے قبل بھی یہ شاعری ہوتی تھی لیکن گائی نہیں جاتی تھی کیونک اِس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔
منظور بتاتے ہیں کہ جیسے انھوں نے ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیورز پر ایک گیت گایا جو ہر ٹریکٹر والا اپنے زمانے میں بڑے شوق و ذوق سے بلند آواز میں بجاتا تھا۔
سابق سیکریٹری ثقافت حمید آخوند کہتے ہیں کہ بعض اوقات ادب میں عام لوگوں کے احساسات کی بات نہیں ہوتی مگر جلال نے اس کے برعکس کیا۔
جلال شادیوں کی تاریخ مقرر کرتے
وقت کے ساتھ جلال دیہی نوجوانوں کے دلوں کی ڈھڑکن بن گئے تھے اور سندھ میں ایسے بہت سے قصے سننے کو ملتے ہیں کہ جب کسی نے صرف اس لیے شادی کے لیے حامی بھر لی جب گھر والوں نے یقین دلایا کہ اس کی شادی پر جلال چانڈیو کو مدعو کیا جائے گا۔
شادی بیاہ کے سیزن میں اُن کے پاس لوگوں کو تانتا بندھا رہتا اور پہلے اُن سے تاریخ لی جاتی اور بعد میں ان کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے شادی کے دن رکھے جاتے۔
جلال اگر کسی شادی کی تقریب میں جاتے تو وہاں شرکا کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی تھی اور بعض اوقات میزبان کے لیے مشکل صورتحال بن جاتی۔
جلال چانڈیو کی وفات پر سینیئر صحافی اسحاق منگریو نے روزنامہ ’کاوش‘ میں اپنی یادداشتوں میں لکھا تھا کہ ایک شادی کی تقریب میں جلال کی محفل تھی ڈاکو آ گئے اور کہا کہ آپ لوگوں نے سُن لیا اب اُن کی باری ہے۔ جس کے بعد ڈاکو جلال چانڈیو اور اُن کے سازندوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

،تصویر کا ذریعہMashooq Jalal
مزاحمتی عنصر
سندھ میں جلال چانڈیو جب مقبولیت کے عروج پر تھے اُس وقت جنرل ضیا الحق کی آمریت کا دور تھا اور سندھ میں احساس محرومی بڑھ چکا تھا۔ سیاسی جدوجہد، گرفتاریاں اور کوڑوں کی سزائیں عام تھیں۔
اینتھرپولوجسٹ رفیق وسان کا کہنا ہے کہ جلال چانڈیو نے خود کو سندھ کی مزاحمتی کلچر سے الگ نہیں کیا تھا، اُن کے کیسٹس میں سندھ سے محبت کے گیت شامل ہوتے جیسے استاد بخاری کا گیت تھا ’ہم سپاہی سندھ کے‘ یا ذوالفقار علی بھٹو پر ’بھلائے سے بھی بھلائی نہیں جائے گی تیری وفاداری‘ جلال کی مقبولیت میں کوئی ایک عنصر نہیں بلکہ متعدد عناصر تھے۔
جلال اپنی زندگی میں ایک خوش مزاج انسان تھے، اُن کے پاس اعلیٰ نسل کی بھینسیں، گھوڑے اور مرغے ہوتے تھے۔
جلال چانڈیو سندھ کے پہلے اور آخری گلوکار ہیں جن کی زندگی پر فلم بنائی گئی جس میں انھوں نے بھی اداکاری کی۔ اُن کے ساتھ اس فلم میں مصطفیٰ قریشی، مشتاق چنگیزی اور دیگر فنکار کاسٹ ہوئے۔ اس فلم میں ان کے پانچ کے قریب اپنے گائے ہوئے گیت بھی شامل تھے۔
ناز سہتو کے مطابق یہ اپنے دور کی ایک سپر ہٹ فلم تھی۔ بعض دیہی شہروں میں لوگ بستر لے کر سنیما آ جاتے کہ معلوم نہیں کب ٹکٹ ملے گا، کیونکہ ان کی فلم پر کھڑکی توڑ رش ہوتا تھا اور ٹکٹ حاصل کرنا بہت ہی مشکل۔
جلال چانڈیو برانڈ بن گئے
جلال چانڈیو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی عشق کی راہ کے مسافر ہوئے، انھوں نے تین شادیاں کیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوگئے، پہلے حیدرآباد اور پھر کراچی میں زیر علاج رہے۔ جب دوست احباب ان کے پاس جاتے تو وہ کہتے وہ ’مریض عشق‘ ہیں اور ساتھ یہ لائن سناتے ’میرا دارو و دوا تمہارا دیدار ہے، طبیبوں کا معائنہ بیکار ہے۔‘
جلال چانڈیو کی وفات 10 جنوری 2001 کو ہوئی۔ اُن کے سفر آخر پر بھی ’کھڑکی توڑ‘ رش تھا کیونکہ ہزاروں ان کے آخری دیدار کے لیے امنڈ آئے۔ اس موقع پر پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا تھا جس میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔
اس وقت تک جلال چانڈیو ایک برانڈ بن چکے تھے۔ ان کے بعد آنے والے بہت سے گلوکاروں نے ان جیسا انداز و لباس اپنایا جیسا کہ روبینہ حیدری اور تاج مستانی، جو سر پر سندھی ٹوپی پہن کر یکتارا اور چپڑی بجاتی تھیں۔
اس کے علاوہ جلال کی عرفیت سے چھوٹا جلال، آخری جلال، گرم جلال، جگر جلال سمیت کئی گلوکار سامنے آئے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جس میں ان کا بیٹا دلبر جلال بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہSoomal Solangi
ری مکس اور ٹک ٹاکرز میں مقبول
فیس بک ہو، یوٹیوب یا ٹک ٹاک جلال چانڈیو کے گیت ہر جگہ دستیاب ہیں۔ گلوکار زلف علی نے اُن کے گیتوں کو ری مکس کر کے گایا جن میں سے 'جیسی ہے مست جوانی، ویسی ہے رات سہانی' نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔
زلف علی بتاتے ہیں کہ وہ جلال سے زیادہ آشنا نہیں تھے، اُن کے دوستوں نے بتایا کہ جلال کو سُنو اور جب انھوں نے سُنا تو جلال کی گائیکی نے انھیں متاثر کیا۔
’کوئی فنکار گائیکی میں تیکنیک استعمال کرتا ہے اور کوئی روح سے گاتا ہے، جلال اپنی روح سے گاتے اور اس کا اظہار کرتے تھے۔ سوشل میڈیا اور ٹک ٹک آنے کے بعد بھی نوجوان اُن کے ری مکس گانوں کو بے حد پسند کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیے
’آ میری حیاتی بچا، مٹھا میں مردا پیاں، میڈی درداں ماں جان چھڑا، مٹھا میں مردا پیاں‘ یہ سرائیکی گیت جلال چانڈیو نے کئی سال قبل گایا لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ یہ ٹک ٹاک کا مقبول سانگ ہے جو وائرل ہوا۔
صادق آباد کے نوجوان فقیر رجب علی داؤد پوٹہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے بچپن میں ٹریکٹر پر یہ گیت سُنا تھا جو ان کے علاقے میں کافی مقبول تھا، وہ اس کو گنگناتے تھے، اُن کا ایک دوست ایک مرتبہ ساؤنڈ سسٹم سیٹ کر رہا تھا اس نے کہا کہ کچھ بھی گاؤ۔ انھوں نے یہ کلام گایا جس کے 30 سیکنڈ ریکارڈ کیے اور یہ ٹک ٹاک پر وائرل ہو گیا، جس کے بعد انھوں نے یہ پورا گیت گایا اور یوں جلال کے اس گیت نے ایک شناخت دی۔
فقیر رجب علی کے والد واحد بخش فقیر الن فقیر کے پیروکار ہیں اس لیے انھیں گائیکی وراثت میں ملی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں میں جلال آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا کیسٹس کے زمانے میں ہوگا، سمارٹ فونز آنے کے بعد تو اس کا میوزک زیادہ سُنا جاتا ہے۔‘
ٹرک آرٹ میں تو جلال چانڈیو نظر آتے ہیں لیکن یہ فائن آرٹ کے سٹوڈنٹس کو بھی متوجہ کرتے ہیں۔ سومل سولنگی ٹیکسٹائل ڈیزائنر ہیں، انھوں نے جلال کا ڈیجیٹل پورٹریٹ بھی بنایا تھا۔
اُن کا کہنا ہے کہ جلال چانڈیو ایک عوامی گلوکار تھا جس کو ہر طبقے کے لوگ سُنتے تھے اور یونیورسٹیوں سے لے کر مزدور طبقے تک سب پسند کرتے تھے، اس کی تعلیم نہیں تھی لیکن اس کو شاعری زبانی یاد رہتی یہ اس کی کمنٹمنٹ تھی۔
جلال چانڈیو میلہ
میلوں سے مقبولیت حاصل کرنے والے گلوکار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ٹوئٹر سپیس‘ پر جلال چانڈیو میلہ لگایا گیا ہے، جس میں جلال کی ذاتی زندگی، موسیقی کی دنیا میں مقبولیت پر شیئرنگ کی جاتی ہے۔
اس میلے کا خیال ان نوجوانوں نے پیش کیا جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں۔
فدا جتوئی برطانیہ میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے کچھ دوست امریکہ، کینیڈا، یورپ اور عرب ممالک میں رات کو ایک گھنٹے کا 'جپسیز' کے نام سے ٹوئٹر سپیس سیشن کرتے ہیں جس کا فوکس سندھ ہوتا ہے۔
’اپنی دھرتی سے دور بیھٹے ہیں، اس لیے میلے اور ملاکھڑوں میں شرکت نہیں کر سکتے۔ یوں خیال آیا کہ جلال کا ورچوئل میلہ لگائیں جس میں دوست احباب جلال کے قصے کہانیاں شیئر کریں اور اس کے گیت سنائیں۔ اس طرح یکم جنوری سے یہ سلسلہ شروع کیا جو دس جنوری کو جلال کی برسی کے روز تک جاری رہے گا۔‘
خلیق جمالی جو ٹوئٹر پر چارن جمالی کے نام سے موجود ہیں خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’موسم سرما سندھ میں میلوں کا موسم ہوتا ہے، ہمیں خیال آیا کیوں نہ ایک ورچوئل میلہ لگایا جائے یوں ہم نے جلال میلہ کے نام سے مہم چلائی اور وہ نوجوان نسل جس نے جلال کو نہیں سُنا انھیں اس سے روشناس کرا رہے ہیں کہ وہ کتنا بڑا گلوکار تھا اور اس کا انداز کتنا نرالا تھا۔‘
اس میلے میں شریک طالبہ مسکان چانڈیو کہتی ہیں کہ انھوں نے اس سے قبل جلال کو سُنا تھا لیکن اتنا غور نہیں کیا تھا۔ ’لیکن جب جلال میلے کا آغاز ہوا تو اس کو سُننے کا شوق جاگا اور جب بغور سُنا تو محسوس ہوا کہ کمال کا آرٹسٹ ہے پہلے سنتی تھی لیکن اتنا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔‘
ایک اور طالبہ منیبہ ابڑو کہتی ہیں کہ ’جلال کو بچپن سے سُنا تھا، اُن دنوں میں فوک سننے کی عادت نہیں تھی لیکن جلال نے روشناس کروایا۔‘

























