شوبز ڈائری: سنجے کپور شاہ جہاں کی روح سے ملنے اور راکول پریت سنگھ پاکستان دیکھنے کی خواہشمند

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
- وقت اشاعت
’میرے خاندان کا تعلق پاکستان سے ہے اور میں ہمیشہ سے ہی پاکستان جانے کی خواہشمند ہوں، لاہور دیکھنا چاہتی ہوں۔ میرے دادا جو تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان سے انڈیا آئے تھے اپنا گھر دیکھنے لاہور جانا چاہتے تھے لیکن فوج میں ہونے کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔‘
یہ کہنا ہے بالی ووڈ اداکارہ راکول پریت سنگھ کا جو فلم ’سردار کا گرینڈ سن‘ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
منگل کے روز نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی اس فلم میں کام کرنے والے اداکار ارجن کپور اور نینا گپتا کے خیالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔
ویب سائٹ بالی ووڈ ہنگامہ کے فریدون شہریار کے ساتھ انٹرویو میں ارجن کپور کا کہنا تھا کہ کووڈ کے دوران جس طرح پاکستان کے عوام اور فنکاروں نے انڈیا کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور انڈین عوام کے دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں طرف کے عوام کے دل ملے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارجن کپور نے امید ظاہر کی کہ کووڈ کے بعد بھی یہ رشتہ سیاست کی نظر نہ ہو بلکہ برقرار رہے۔
نینا گپتا کا کہنا تھا کہ ان کی یہ فلم سرحد کے دونوں جانب رہنے والوں کے جذبات کو جوڑے گی اور لوگ اس میں اپنائیت محسوس کریں گے۔
نینا کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ خراب نہیں ہوتے بلکہ ماحول خراب کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
نینا نے بتایا کہ جب وہ نیو یارک گئیں تو پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے کرایہ لینے سے انکار کر دیا جس سے ظاہر ہے کہ لوگ سرحد کی پروا کیے بغیر ہم سے محبت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کووڈ بحران کے دوران پاکستانی اداکار اور گلوکار علی ظفر سمیت ملک کے کئی فنکاروں نے انڈیا کے لیے گیت گائے اور محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی دونوں ملکوں کے عوام رابطے میں رہے اور ایک دوسرے کے لیے دعائیں کیں۔

،تصویر کا ذریعہMANDEL NGAN
کپور خاندان کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نیا نہیں بلکہ ارجن کپور کے والد اور فلمساز بونی کپور کی فلم ’مام‘ میں پاکستانی اداکارہ سجل علی اور عدنان صدیقی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
اسی خاندان کے چشم و چراغ سنجے کپور سے جب ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ اگر انھیں ماضی کی کسی شخصیت کی روح سے بات کرنے کا موقع ملے تو وہ کس سے بات کرنا پسند کریں گے، تو سنجے نے کہا کہ وہ شاہ جہاں سے بات کرنا چاہیں گے اور ان سے رومانس پر مشورہ کریں گے۔
سنجے نے کہا کہ شاہ جہاں ایسے رومانٹک شہنشاہ تھے جنھوں نے شاندار عمارتیں تعمیر کروائیں خاص طور پر تاج محل جو محبت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔
لیکن جب سنجے سے ان کی اپنی فلموں میں سے پسندیدہ فلم کے بارے میں پوچھا گیا تو سنجے مسکرا دیے کیونکہ ظاہر ہے نام لینے کے لیے کوئی قابلِ ذکر فلم بھی تو ہونی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
انڈیا کے مغربی ساحل پر آنے والے توکتائی طوفان نے بالی ووڈ کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
امیتابھ بچن کے دفتر میں سیلاب آ گیا تو سارہ علی خان کے گھر کے باہر تمام درخت گر گئے۔ رنبیر کپور اپنا گھر بنوا رہے تھے وہاں بھی نقصان ہوا لیکن سب سے زیادہ پریشان راکھی ساونت نظر آئیں۔
انسٹاگرام پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں راکھی ایک کافی شاپ کے باہر نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے نظر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہSTRDEL
ان کا کہنا تھا کہ اس طوفان میں ان کے گھر کی بالکنی ٹوٹ گئی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں بھگوان سے شکایت کرتے ہوئے کہا ’زندگی کتنی پریشان ہے میں بہت اپسیٹ ہوں۔‘
راکھی نے کہا کہ ’ایک تو ویسے ہی ملک میں آکسیجن کی کمی ہے اوپر سے آکسیجن دینے والے اتنے درخت گر گئے ہیں اب کیا ہو گا۔‘
اب یہ پتا نہیں کہ یہ راکھی کی تشویش تھی یا طنز۔
























