سپرسٹار: کرداروں میں گھپلے اور کہانی میں جھول سپرہٹ کی راہ میں رکاوٹ

،تصویر کا ذریعہSuperstar Film
- مصنف, حسن زیدی
- عہدہ, تجزیہ کار
- وقت اشاعت
حالیہ دنوں میں ریلیز کی جانے والی فلم ’سپرسٹار‘ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی، نور، جو تھیٹر میں اداکاری کرتی ہے، فلمی شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے خواب دیکھتی ہے۔
پھر اس کا ٹاکرا ملک کے سب سے بڑے فلم سٹار، سمیر، سے ہو جاتا ہے جو نہ صرف اُن خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا راستہ اس کے لیے ہموار کرتا ہے، بلکہ جس سے اس کو عشق بھی ہو جاتا ہے۔ اور پھر معاملات گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ جیسے جیسے نور کا ستارہ اونچا ہوتا جاتا ہے، سمیر کا ستارہ فرش کے قریب آنا شروع ہو جاتا ہے۔
شاید آپ کو یہ کہانی کا خلاصہ تھوڑا تھوڑا انگریزی فلم ’اے سٹار اِز بورن‘ کی یاد دلاتا ہو، جس سے متاثر ہو کر انڈین فلم ’ابھیمان‘ بھی بنائی گئی تھی۔
لیکن اس انگریزی فلم کے برعکس ’سپر سٹار‘ میں مسئلہ مرد کی اپنے پروٹژے کی شہرت کے بارے احساسِ کمتری نہیں ہے۔ یہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ شہرت کی تلاش میں انسان کیا کچھ کھو بیٹھتا ہے یا کیا کچھ کھونے کو تیار ہے اور کیا ’اِز اِٹ ورتھ اِٹ؟‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سپرسٹار‘ کی پروڈیوسر ہم ٹی وی کی مومنہ درید ہیں جو ہم ٹی وی کے ڈراموں کی بدولت اپنی آڈیئنس سے خوب واقف ہیں۔ یہ آڈیئنس زیادہ تر خواتین پر مشتمل ہے جن کو رومانس اور رشتوں میں اونچ نیچ کے ڈرامے سب سے زیادہ پسند آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSuperstar Film
مومنہ کی پہلی دو فلمیں بطور پروڈیوسر یعنی ’بِن روئے‘ اور ’پرواز ہے جنون‘ بھی اسی فارمولے کو لے کر کامیاب رہی تھیں (حالانکہ ’پرواز ہے جنون‘ کہنے کو ایئرفورس پر مبنی فلم تھی)۔ یہاں پر بھی انھوں نے پوری کوشش کی ہے کہ ان کے ڈراموں کے مداح مایوس نہ ہوں۔
فلم میں ہم ٹی وی کی پسندیدہ اداکارہ ماہرہ خان ہیں (جنھوں نے اپنے اداکاری کیریئر کا آغاز چینل کے مشہورِزمانہ ڈرامے ’ہمسفر‘ سےکیا تھا)، ایک خوش شکل ہیرو (بلال اشرف) بھی ہیں اور اس فلم میں جذبات کی اُڑان اور گانوں کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔
’سپرسٹار‘ کے ہدایتکار محمد احتشام الدین ہیں جو ہم ٹی وی کے لیے کئی ڈرامے بنا چکے ہیں لیکن جن کی بطور ہدایتکار یہ پہلی فلم ہے۔ احتشام نے خود اپنا آغاز تھیٹر سے کیا تھا اور ان کی اس سے محبت اس فلم میں واضح نظر آتی ہے۔ ’سپرسٹار‘ میں تھیٹر نہ صرف روح کی غذا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یہ کرداروں کو اپنا رُخ سیدھا کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک کسوٹی کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔
نور کے نانا (ندیم بیگ) ایک وقت کبھی مشہور فلم ہدایتکار تھے جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسٹیج کی طرف راغب ہو گیے اور اپنا ایک منفرد سا تھیٹر چلاتے ہیں (جس کی مثال کم از کم پاکستان میں آپ کو نہیں ملے گی)۔

،تصویر کا ذریعہSuperstar Film
’سپرسٹار‘ کی کہانی (جو کہ ابتدائی طور پر اذان سمیع خان نے لکھی تھی) کبھی آپ کو بور نہیں ہونے دیتی، جو کہ پاکستانی فلموں کے حوالے سے بجائے خود ایک کارنامہ ہے۔ لیکن اس میں کچھ بڑے گھپلے بھی ہیں، خاص طور پر فلم کے دوسرے حصے میں۔ سننے میں آیا ہے کہ فلم کے انٹرمِشن کے بعد کا حصہ کافی حد تک ری رائٹ کیا گیا تھا۔
اس کی وجہ کیا تھی، یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن شاید یہی ری رائٹ اِن گھپلوں کا سبب بن گیا ہے۔ میں کہانی کا کوئی راز یہاں فاش نہیں کرنا چاہتا لیکن ان گھپلوں کا تعلق کرداروں کی بنیادی فطرتوں سے ہے۔
جہاں پہلے حصے میں سمیر کو تھوڑا بہت لاڈوں سے بگڑا ہوا لیکن اندر سے نرم اور خیال کرنے والا انسان دکھایا گیا ہے، فلم کے بیچ میں وہ ایک ایسی حرکت کرتا ہے جو اس کی فطرت کے بالکل برعکس لگتی ہے، یا کم از کم جس کا اشارہ ہمیں اس سے پہلے کہیں نہیں ملتا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے بعد بھی اسے اپنی اس حرکت پر زیادہ شرمندگی بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ پوری طرح کبھی اس کی معافی مانگتا ہے۔
دوسری طرف جہاں سمیر کی اس حرکت پر (جو فلم کا ٹرننگ پوائنٹ بنتا ہے) نور کا غصہ پوری طرح سمجھ میں آنے والی چیز ہے، وہاں نور کا بعد میں، یکدم پلٹا کھانا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔ کیونکہ اس کہانی کا دارومدار انھی دو کرداروں اور ان کے رشتے پر ہے۔ یہ کہانی کی ایک بہت بڑی کمزوری سمجھی جا سکتی ہے۔
دیکھنے میں ’سپرسٹار‘ کافی حد تک خوبصورت لگنے کی کوشش کرتی ہے اور لگتی بھی ہے اگرچہ کبھی کبھار یہ خوبصورتی کہانی سے متصادم لگتی ہے۔ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ سکرین پر ہر خوبصورتی ضروری نہیں کہ فلم کے لیے اچھی ہو۔ آخر کو لاہور کے بھاٹی گیٹ میں رہنے والے متوسط طبقے کے لوگوں کے گھر سرینا ہوٹل کی مانند نہیں لگ سکتے۔

،تصویر کا ذریعہSuperstar Film
بہرکیف، کہانی اور عکاسی کے ان مسئلوں کے باوجود، جو بات آپ کو فلم دیکھتے رہنے پر مجبور کرتی ہے وہ ایک تو یہ کہ ماہرہ خان شاید اپنے فلم کیرئر کا سب سے بہتر کام پیش کرتی ہیں۔ جس میں معصومیت، حیرت، تلخی، غصہ سب جھلکتے ہیں۔
ماہرہ کے بارے ان کے ناقدین کی عموماً یہ تنقید رہی ہے کہ وہ سٹار ضرور ہیں لیکن ان کی اداکاری کی رینج محدود ہے۔ میرے اپنے خیال میں اس میں ہاتھ اس بات کا بھی ہے کہ ان کی سکرپٹس کو پرکھنے کی صلاحیت ابھی کمزور ہے۔ ظاہر ہے اگر سکرپٹ کمزور ہوگا تو کسی بھی اداکار کو اس میں جان ڈالنے میں مشکل پیش آئے گی۔ لیکن اگر کردار میں جان ہو اور ہدایتکار سمجھدار ہو، تو جیسا کہ ’سپرسٹار‘ میں واضح ہے، ماہرہ اس میں اپنی اداکاری کے جوہر ضرور دکھا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، بلال اشرف بھی اپنے کمسن کیریئر کی بہترین پرفارمنس پیش کرتے ہیں۔ یقیناً اس سے پہلے ان کی گذشتہ اداکاری کچھ خاص قابلِ ذکر نہیں رہی ہے۔ کچھ نقادوں نے تو ان کو لکڑی کے ٹکڑے سے بھی منسوب کیا تھا، یعنی ان کی اداکاری اتنی ہی متاثرکن تھی۔
لیکن ’سپرسٹار‘ سے یہ ظاہر ہے کہ کم از کم انھوں نے اپنی اداکاری پر اور ہدایتکار نے ان پر بہت محنت کی ہے۔ ابھی ہم ڈی نیرو کے لیول کو چھونے کی بات نہیں کر رہے لیکن بلال نے اس فلم میں اپنے ارتقا سے ضرور متاثر کیا ہے۔
اگر وہ اسی رفتار سے اپنے آپ کو بہتر کرتے رہے تو قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ فلم انڈسٹری کے ایک قابلِ اعتماد مرکزی اداکار بن سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSuperstarFilm
دیگر اداکاروں میں ندیم صاحب تو پھر آخر ندیم صاحب ہی ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے کرداروں میں ایک خاص مانوسیت لاتے ہیں جس کا جواب نہیں ہے۔ لیکن مرینہ خان (جو سمیر کی ماں کا کردار ادا کرتی ہیں)، وقار حسین (جو نور کے ایجنٹ کا رول نبھاتے ہیں) اور علیزے شاہ (جو نور کی چھوٹی بہن چھٹکی کا کردار کرتی ہیں) فلم میں نمایاں ہیں۔
علی کاظمی، عدنان شاہ ٹیپو اور جاوید شیخ بھی اپنا اثر چھوڑتے ہیں لیکن ان کے کردار چھوٹے ہیں اور ان کو پرفارم کرنے کا کم ہی موقع ملتا ہے۔
خاص طور پر میرے خیال میں فلمسازوں نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کے دو ستونوں، ندیم صاحب اور شیخ صاحب کے اکٹھے کام کرنے کا ایک سنہرا موقع گنوا دیا۔ ان کا ایک سین ساتھ ضرور ہے لیکن کاش اِس سین میں کچھ اور جان ہوتی۔
’سپرسٹار‘ کی موسیقی اذان سمیع خان اور سعد سلطان نے مشترکہ طور پر ترتیب دی ہے۔ فلم میں سات گانے ہیں جن میں سے تین اذان سمیع خان نے اکیلے بنائے ہیں۔ جیسے میں پہلے لکھ چکا ہوں، یہ اذان کا دوسرا ساؤنڈ ٹریک ہے (’پرے ہٹ لو‘ کی موسیقی بھی اُن کی بنائی ہوئی تھی) اور ان دونوں کاوشوں کے مدِنظر وہ جلد بلند پایہ موسیقاروں میں شامل ہو جائیں گے۔
فلم کے حوالے سے سب ہی گانے سننے کے قابل ہیں لیکن اِن میں ’بیکراں عشق‘ یقیناً سب سے بہتر گانا ہے، جو آپ فلم ختم ہونے کے بعد بھی گنگناتے رہیں گے۔
ماہرہ خان کی سٹار پاور، ان کی اور بلال اشرف کی کیمسٹری، اور ان کے کرداروں کے رشتے کے ڈرامے کی وجہ سے ’سپرسٹار‘ ہم فلمز کے لیے اچھے پیسے ضرور کما لے گی لیکن اگر اس کی کہانی میں بنیادی جھول نہ ہوتے تو یہ فلم سپر ہِٹ بھی ہو سکتی تھی۔






















