’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘: انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی زندگی پر فلم پر تنازع

،تصویر کا ذریعہThe Accidental Prime Minister
منموہن سنگھ انڈیا کے سب سے طویل عرصہ تک رہنے والے وزیراعظم ہیں جن کو ملک کی معاشی اصلاحات کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔
ناقدین کے مطابق ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے کچھ ماہ قبل ریلیز ہونے والی ان کی زندگی پر مبنی فلم ’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘ میں دراصل ان کا مذاق اڑایا گیا۔
فلم میں منموہن سنگھ کو ان کے انتہائی آراستہ دفتر میں بیٹھا دکھایا گیا ہے جہاں وہ سونیا گاندھی اور اس وقت کے کانگرس پارٹی کے صدر سے احکامات لینے کے بعد چکرائے ہوئے سے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ناقدین نے اس فلم کو پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں منموہن سنگھ کو ایک کمزور وزیراعظم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ تمام اختیارات سونیا گاندھی اور ان کے خاندان کے پاس ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم میں منموہن سنگھ کا کردار ادا کرنے والے بالی وڈ اداکار انوپم کھیر کے مطابق اس فلم کے ذریعے ایک ایسے سیاست دان کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کو غلط بلکہ مشکل سے ہی کبھی سمجھا گیا۔
لیکن کچھ ناقدین کے مطابق منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر سنجے بارو کی یاداشت پر مبنی اس فلم میں انڈین وزیر اعظم کے کردار کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ فلم سنجے بارو کی کتاب پر مبنی ہے جنھوں نے سنہ 2004 سے 2008 تک منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔
سنجے بارو نے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کے بعد کتاب لکھی جس میں انھوں نے منموہن سنگھ اور ان کے دور حکومت کے بارے میں کئی انکشافات کیے۔
'دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر' میں اکشے کھنہ سابق وزیر اعظم کے میڈیا ایڈوائزر کے کردار جبکہ جرمن نژاد اداکارہ سجین برنیٹ سونیا گاندھی کے کردار میں نظر آتی ہیں۔
منموہن سنگھ جن کی عمر اب 86 برس ہے۔ سنہ 2004 سے 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے لیکن اپنے دور حکومت میں انھوں نے صرف چند مرتبہ ہی انٹرویو دیے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کو ایک کمزور وزیراعظم بنانے میں ان کی اپنی جماعت کا ہاتھ تھا۔

،تصویر کا ذریعہThe Accidental Prime Minister
کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلم میں آرٹ نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ کچھ کے مطابق فلم میں منموہن سنگھ کی بحیثیت وزیراعظم کامیابیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔
کچھ سکھ رہنماوں کے مطابق سکھ کمیونٹی کو منموہن سنگھ کے وزیر اعظم ہونے پر فخر تھا لیکن فلم میں ان کے کردار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے رہنما آر پی سنگھ کا کہنا کہ منموہن سنگھ نے اپنے دور حکومت میں سکھ کمیونٹی کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے۔

،تصویر کا ذریعہThe Accidental Prime Minister
فلم میں منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزرکا کردار ادا کرنے والے اداکار اکشے کھنہ نے فلم کا بھر پور انداز میں دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی سیاست پر بننے والی کسی بھی فلم پر مخلتف قسم کا ردعمل آنا ایک لازم بات ہے۔
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اس فلم پر ملا جلا ردعمل سامنے آئے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے سخت مایوسی ہو گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک فلم ہے کوئی زلزلہ یا سونامی نہیں لہذا آپے سے باہر ہونے کی ضرورت نہیں۔




















