ارجنٹینا کی ’جادوگرنیاں‘ جو میسی کو ایک اور ورلڈ کپ جتوانا چاہتی ہیں

    • مصنف, ليبو ديسيكو
    • عہدہ, عالمی مذہبی امور کے نامہ نگار، لندن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

دلیا ووکر کا ماننا ہے کہ ان کے ملک کی فٹبال ورلڈ کپ میں آخری فتح کے پیچھے کوئی غیبی طاقت کارفرما تھی۔

بیونس آئرس سے تعلق رکھنے والی 41 سالہ دلیا کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ جادو نے ارجنٹینا کو جیتنے میں مدد دی۔‘

دلیا ان بہت سی خواتین میں شامل ہیں جو خود کو ’جادوگرنیاں‘ کہتی ہیں، جو لیونل میسی اور ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کی حمایت میں تعویذ پڑھتی اور مختلف رسومات ادا کرتی ہیں۔

ان خواتین نے خود کو ’لا بروخینیتا‘ کا نام دیا، جو ہسپانوی لفظ ’بروخا‘ (جس کا مطلب جادوگرنی ہے) اور ’لا سکیلونیتا‘ (جو موجودہ کوچ لیونل سکیلونی کے دور میں ارجنٹینا کی ٹیم کا لقب ہے) کا امتزاج ہے۔

دلیا کے مطابق ’لا بروخینیتا‘ کی اراکین نے اپنی رسومات میں جدید جادو، موم بتیاں، دعائیں اور تعویذ استعمال کیے۔

یہ خواتین واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی تھیں اور اس بارے میں تبادلۂ خیال کرتی تھیں کہ ٹیم کی کارکردگی کے کن پہلوؤں کو زیادہ حمایت کی ضرورت ہے۔

زیادہ مقبول رسومات میں وہ شامل تھیں جن کا مقصد مخالف ٹیم کے مخصوص کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ’منجمد‘ کرنا تھا، تاہم دلیا کہتی ہیں کہ وہ اس کی حامی نہیں تھیں۔

اس کے بجائے وہ زیادہ مثبت رسومات کو ترجیح دیتی ہیں، جیسے موم بتیاں جلانا اور ’مثبت توانائی‘ بھیجنا۔

جب 2022 میں قطر میں ارجنٹینا نے کامیابی حاصل کی تو ’لا بروخینیتا‘ گروپ نے اسے اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔

دلیا کہتی ہیں: ’میرے لیے یہ واقعی جادوگرنیوں کا ورلڈ کپ تھا۔‘

وہ اس بار بھی وہی رسومات دہرانے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اپنی عبادت کی جگہ پر قومی ٹیم کے رنگوں، نیلے اور سفید، کی موم بتیاں جلائیں گی۔

وہ کہتی ہیں: ’ارجنٹینا میں اگر کوئی چیز کامیاب ہو جائے تو توہمات کے مطابق اگلی بار بھی اسے بالکل اسی طرح دہرانا چاہیے۔‘

مگر صرف ’لا سکیلونیتا‘ کے شائقین ہی ماورائی طاقتوں کا سہارا نہیں لیتے۔

پیرو میں شمنوں کے ایک گروہ نے دارالحکومت لیما میں رسومات ادا کیں تاکہ ان کی ٹیم 2022 کے ٹورنامنٹ میں جگہ بنا سکے، تاہم وہ آسٹریلیا سے 5-4 کے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ہار گئے۔

افریقہ کے مختلف حصوں میں روحانیت روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے، جس میں فٹبال بھی شامل ہے۔

رسومات اور تعویذ

کچھ لوگوں کے لیے اس کا مطلب مقامی عقائد اور روایتی روحانی پیشواؤں سے رجوع کرنا ہے۔

2002 میں افریقی فٹبال کنفیڈریشن (کاف) نے نام نہاد ’ٹیم کنسلٹنٹس‘ پر پابندی عائد کی، جو دراصل روایتی روحانی پیشواؤں کے لیے ایک نرم اصطلاح ہے، کہ وہ افریقہ کپ آف نیشنز میں کسی بھی ٹیم کے ساتھ کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔

کھیلوں کے صحافی ماہر مزاحی کہتے ہیں کہ اب بھی بہت سے پُرجوش شائقین سٹیڈیم میں اپنی حمایت کے دوران روایتی طریقے اپناتے ہیں، تعویذ پہنتے ہیں، منتر پڑھتے ہیں، اور بعض اوقات ’آگ بھی اگلتے ہیں‘۔

گذشتہ سال نومبر میں جب نائجیریا ورلڈ کپ کوالیفائرز سے باہر ہوا تو اس کے کوچ ایرک شیل نے جمہوریہ کانگو کی ٹیم پر ’ووڈو‘ جادو استعمال کرنے کا الزام لگایا، تاہم کانگو کے سابق کوچ فلوراں ایبینگی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’بکواس‘ قرار دیا۔

جادو ٹونے کی طرف اشارہ کرنا اس بات کا سبب بن سکتا ہے کہ بہت سے لوگ کھلے عام روایتی رسومات ادا کرنے کا اعتراف نہ کریں۔

مزاحی کہتے ہیں: ’فٹبال کی دنیا یورپ کے گرد گھومتی ہے۔ بڑے کلب وہیں ہیں، بہترین کھلاڑی وہیں کھیلتے ہیں، اس لیے یورپ سے مختلف کسی بھی چیز کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ’ایسی چیز نہیں جس پر افریقیوں کو شرمندہ ہونا چاہیے، یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ ’افریقی روایتی روحانی طریقے پسماندہ ہیں‘، تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ مغرب سے آنے والی ہر چیز بہتر ہے۔

تاہم کچھ لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی مخالف ٹیم کی کارکردگی یا میچ کے نتیجے کو متاثر کرنے کے لیے رسومات ادا کرنے اور عمومی طور پر خدا سے برکت کی دعا کرنے میں واضح فرق ہے۔

اللہ ہر چیز پر قادر ہے

مزاحی کہتے ہیں کہ افریقی فٹبال شائقین ابراہیمی مذاہب جیسے عیسائیت اور اسلام کو کھلے عام اپناتے ہیں۔

وہ الجزائری شائقین کے ایک عام نعرے کی مثال دیتے ہیں جس میں وہ اللہ سے اپنی ٹیم کے تحفظ اور مدد کی دعا کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اگر آپ خاص طور پر مغربی افریقہ، جیسے گھانا یا نائجیریا جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہر میچ میں گوسپل موسیقی چلائی جاتی ہے۔‘

حال ہی میں گھانا کے وزیر کھیل کوفی ایڈی ایڈمز نے ایک چرچ اجتماع سے قومی ٹیم ’بلیک سٹارز‘ کے لیے دعا کرنے کی درخواست کی۔

گھانا فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی ملک کی دو بڑی مذہبی برادریوں، عیسائیوں اور مسلمانوں، سے دعائیں کروانے کی کوشش کی۔

ٹیم کی ٹورنامنٹ میں روانگی سے قبل اکرا میں قومی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں اس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ فٹبال ایسوسی ایشن نے اس ٹورنامنٹ کو ’فٹبال کا سب سے بڑا سٹیج‘ قرار دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے بیان کے مطابق ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل گھانا فٹبال ایسوسی ایشن ملک کے امام کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئی، جہاں امام نے ٹیم کی کامیابی اور برکت کے لیے دعا کی۔

اکرا میں مقیم صحافی ناتھن لاریا کہتے ہیں کہ ہمار یقین ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وہ گھانوی ثقافت میں ایمان کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’انسانی کوششیں اہم ہیں، لیکن یہ دعائیں ہماری کوششوں کی تکمیل کا ذریعہ ہیں اور کامیابی کے لیے ضروری بھی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’اسی لیے دعا کرنا اور اللہ سے حفاظت اور رہنمائی طلب کرنا اہم ہے۔‘

ماہر مزاحی کہتے ہیں: ’شاید دنیا میں کوئی اور جگہ ایسی نہیں جہاں عقیدہ اور فٹبال اس طرح آپس میں جڑے ہوں جیسے افریقہ میں۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میں نے مذہبی اظہار کی ایک واضح مثال اس وقت دیکھی جب میں بچہ تھا اور برازیل نے 2002 کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ایک کھلاڑی تھا کاکا، جس نے اپنی جرسی اتاری تو اس کے نیچے ایک اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی، جس پر لکھا تھا: ’میرا تعلق حضرت عیسیٰ سے ہے‘ اور میں نے سوچا: یہ تو دلچسپ بات ہے، میں نے پہلے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ کوئی شخص اپنی جرسی کے نیچے ایسی ٹی شرٹ بھی پہن سکتا ہے۔‘

مزاحی کے مطابق یہ ’دنیا کے لیے ایک پیغام‘ تھا۔

اسی طرح اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے روانگی سے قبل برازیل کی ٹیم کو دی جانے والی الوداعی تقریب بھی ایک طرح کا اظہار تھی۔

روانگی سے پہلے ہوائی جہاز کو رن وے پر فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ذریعے ’واٹر سلیوٹ‘ دیا گیا۔

فضائی روایات میں یہ علامتی تقریب عام طور پر پہلی یا اہم پروازوں کے لیے کی جاتی ہے۔

اس بار برازیل کے شائقین کو امید ہے کہ اس سے ان کے ملک کے پانچ ورلڈ کپ خطابات کے ریکارڈ میں چھٹا اضافہ ممکن ہو سکے گا۔