آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کا کشنر اور وٹکوف کے دوحہ دورے کا اعلان، ’آئندہ دنوں میں امریکہ سے کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں‘ ایران

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔ تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے اور ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان حملے روکنے اور دوحہ میں مذاکرات پر 'اتفاق' ہو گیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ
  • معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر فیصلہ کن کارروائی کریں گے: عراقچی
  • یورپ میں ہیٹ ویو سے منسلک 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں،عالمی ادارہ صحت
  • ایرانی وزیر خارجہ اور عراق کے وزیر اعظم کی ملاقات، جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور
  • اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران کا امریکہ سے مطالبہ

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران کا اختیار ہے: غریب‌ آبادی کا فرانسیسی صدر کے بیان پر ردِعمل

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر کاظم غریب‌ آبادی نے فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی صرف ایران کرے گا اور اور کسی دوسرے ملک کو اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق بارودی سرنگوں کی صفائی پر صرف ایران کا اختیار ہے اور اصولی طور پر کسی غیر ملکی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    غریب‌ آبادی نے موجودہ صورتحال کو حساس اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے فرانس کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بیانات اور اشتعال انگیزی کے ذریعے صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنائے۔

    واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے حال ہی میں عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے ہمراہ سکیورٹی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون کرے گا۔

  2. آئندہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی ملاقات طے نہیں ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکی نمائندوں کے ممکنہ دورۂ قطر کا ایرانی وفد کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ ایرانی تکنیکی وفد صرف مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے دوحہ جا رہا ہے، خصوصاً شق 11 کے حوالے سے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 10 کے تحت امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری لائسنس جاری کر دیے ہیں اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی جاری ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ شق 11 کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ شق 13 کے مطابق حتمی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز ان شقوں پر عملدرآمد کے تسلسل سے مشروط ہے۔

    یاد رہے اب سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے تصدیق کہ تھی کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘ تاہم ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے بھی ان مذاکرات کی تردید کی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’وٹکوف اور کشنر اس ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔‘

  3. کوئٹہ: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کی سزا کے خلاف احتجاج، فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو - کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سریاب کے علاقے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو عدالت سے دی جانے والی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

    جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بی وائی سی کے رہنمائوں کو گوادر میں 2024 میں راجی مچی کے موقع پر ایف سی کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے دی جانے والی سزا کے خلاف سریاب میں برما ہوٹل کے علاقے میں احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

    تاہم برما ہوٹل کے علاقے میں پولیس کی بہت بڑی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس نے وہاں مظاہرین کو جمع نہ ہونے دیا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کے وکلا کی ٹیم کے رکن خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ برما ہوٹل کے علاقے سے ایک خاتون کے علاوہ سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بعد میں بی وائی سی کے مطابق بشیر چوک اور سریاب کسٹمز کے علاقے سمیت تین مقامات پر لوگ جمع ہوئے اور وہاں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    بشیر چوک پر مظاہرین نے روڈ پر ٹائر جلائے اور بی وائی سی کے رہنماؤں کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی۔

    ’ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کی سزا کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا‘

    خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے میں کئی قانون نقائص ہیں وہاں مدعا علیہان کو شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جس مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو سزا ہوئی اس کی ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی گئی جبکہ استغاثہ کے بیان میں ایف سی کی گاڑی اور ایف سی اہلکار کی ہلاکت کی تاریخوں میں تضاد ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسی مقدمے میں کئی ماہ بعد ایک شریک ملزم کو شامل کیا گیا جسے گوادر میں ایک عدالت نے بری کر دیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر کی عدالت نے شریک ملزم کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ایف آئی آر کے اندراج کے علاوہ دیگر بعض قانونی تضادات کی نشاندہی کی تھی جن کو انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت کے فیصلے میں نظر انداز کردیا گیا۔

    خالد بلوچ ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ مبینہ حکومتی جبری کاروائیوں کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کے خلاف مقدمات کو جیل منتقل کیا گیا اور محکمہ داخلہ نے بعض ایسے اقدامات کیے جن سے شفاف ٹرائل کے امکانات ختم ہو گئے۔

    انھوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے پر مدعا علیہان اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

    تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان اور ان کے وکلا کو شفاف ٹرائل کے تمام مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

  4. وٹکوف اور روبیو آج ایران کے بارے میں کانگریس کو بریفنگ دیں گے: وائٹ ہاؤس

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو آج ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کانگریس کو بریفنگ دیں گے۔

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یہ بریفنگ فون کے ذریعے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کو دی جائے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے آج بتایا کہ امریکہ اور ایران، تہران کی درخواست پر منگل کے روز قطر کے شہر دوحہ میں ملاقات کریں گے۔

    کچھ ہی دیر بعد وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات کے لیے دوحہ روانہ ہوں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر نمائندوں کی موجودگی میں اعلیٰ سطحی بات چیت کے ساتھ ساتھ تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے۔

    تہران نے اب تک اس خبر پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر میں منگل کی ملاقات کے بارے میں اعلان سے قبل، ایران کی مذاکراتی ٹیم کے تکنیکی سربراہ کاظم غریب آبادی نے بعض میڈیا اداروں کی ایسی رپورٹس کی تردید کی تھی۔

  5. آبنائے ہرمز سے 115 بحری جہازوں کا کامیاب انخلا

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے خلیجی خطے میں انخلا کی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد اب تک تقریباً 115 بحری جہاز، جن پر 2500 ملاح سوار تھے، آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکل چکے ہیں۔

  6. لبنانی فوج کے کمانڈر اور صدر کی سینٹکام کے کمانڈر سے ملاقات

    لبنان کی فوج کے کمانڈر نے خطے میں امریکی فوج (سینٹکام) کے کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔

    لبنان کی فوج کے بیان کے مطابق، ’لبنان اور خطے کی تازہ ترین پیش رفت‘ روڈولف ہیکل اور ایڈمرل بریڈ کوپر کے درمیان گفتگو کا محور تھی۔

    اس بیان میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ’فریم ورک معاہدے کے کامیاب نفاذ کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا۔

    جمعے کے روز، لبنان اور اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ایک سہ فریقی معاہدے کے ’فریم ورک‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی لبنان کی حکومت کے سرکاری اکاؤنٹ پر اطلاع دی کہ انھوں نے پیر کے روز صدارتی محل میں ایڈمرل بریڈ کوپر، امریکہ کے ناظم الامور کیتھ ہینیگن، اور جنگ بندی کے طریقہ کار کی ٹیم کے سربراہ جنرل جوزف کلیرفیلڈ سے ملاقات کی ہے۔

    صدر عون کے دفتر کے بیان کے مطابق، یہ ملاقات لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے کے نفاذ کے لیے تیاریوں پر مرکوز تھی۔

    صدر نے اس ملاقات میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’لبنان کو سلامتی اور استحکام کے حصول میں مدد دینے پر‘ شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی حکومت ملک کی مسلح افواج کے ذریعے اپنی عملداری کو جنوبی سرحد تک بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔

    اسی دوران، لبنان کی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری، جو حزب اللہ کے اتحادی اور ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے اس معاہدے کی مذمت کی ہے۔

    حزب اللہ لبنان کا کہنا ہے کہ لبنان کی حکومت کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور یہ معاہدہ ملک کے آئین کے خلاف ہے۔

  7. آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان کے قریب راستے سے جہازوں کی آمدورفت میں کمی آئی ہے: بی بی سی فیکٹ چیک

    بی بی سی کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہازوں پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے جہازوں کی آمد و رفت کم ہو گئی ہے۔

    بی بی سی ویریفیکیشن یونٹ نے ان دو جہازوں پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا ہے جو جنوبی راستے سے سفر کر رہے تھے۔ یہ راستہ عمان کے ساحل کے قریب واقع ہے۔

    ایران نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ اس راستے کا استعمال تہران کی منظوری کے بغیر ’ناقابل قبول اور خطرناک‘ ہے اور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک متبادل راستہ متعارف کرایا تھا۔

    اب میرین انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق، کل (اتوار) صرف 16 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں آئل ٹینکر، کنٹینر جہاز اور مال بردار جہاز شامل تھے۔

    اس سے ایک دن قبل، یعنی سنیچر کو مجموعی طور پر 35 جہاز، اور جمعہ کو 44 جہاز اسی راستے سے گزرے تھے۔

    بی بی سی ویریفیکیشن یونٹ کے تجزیے، جو کیپلر کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے ایک ہفتہ قبل سنیچر اور اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب جنوبی راستہ ایران کے ساحل کے قریب شمالی راستے کے مقابلے میں زیادہ مصروف تھا۔

    اس رپورٹ کے مطابق، تقریباً 26 فیصد جہازوں نے گزرنے کے دوران اپنی پوزیشن رپورٹ کرنے والے سسٹم کو بند کر دیا تھا۔

  8. عراقی حکومت نے ایران سے منسلک گروپوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے تین ماہ کا وقت دے دیا

    عراقی حکومت نے ایران کے ساتھ منسلک مسلح گروہوں کو ستمبر کے آخر تک (مزید تین ماہ) ہتھیار ڈالنے کا وقت دیا ہے۔

    عراقی حکومت کے ترجمان نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس خبر کا اعلان کیا۔

    عراق کے نئے وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل، واشنگٹن نے بغداد پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ان گروہوں کو غیر مسلح کرے۔

    علی زیدی ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری دعوت پر تقریباً دو ہفتوں میں امریکہ کا دورہ کریں گے۔

    حالیہ جنگ کے دوران ایران کے قریبی ان مسلح گروہوں میں سے کچھ جو خود کو ’مزاحمت کا محور‘ کہتے ہیں، نے عراق میں امریکی مفادات پر حملے کیے ہیں۔

  9. ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے کشنر اور وٹکوف دوحہ جائیں گے: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کہ ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کے لیے سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘

    تاہم دوسری طرف ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے منگل کو ہونے والے مذاکرات کی تردید کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’وٹکوف اور کشنر اس ہفتے کی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تکنیکی مذاکرات‘ بھی ان اجلاسوں کے درمیان ہی ہوں گے۔

  10. پی آئی اے نجکاری: حکومت نے انتظامی کنٹرول سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا

    وزارت نجکاری کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے پہلے مالی مرحلے کی تکمیل کے بعد ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نجکاری کمیشن نے آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے تحت حصص کی فروخت کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد شیئر خریداری اور سبسکرپشن معاہدے (ایس پی ایس اے) کی تمام پیشگی شرائط پوری ہونے پر ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں سرمایہ کار کنسورشیم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    وزارت نجکاری کی پریس ریلیز میں اس اقدام کو حکومت کے معاشی اصلاحاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔

    بیان کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد وزارت دفاع سمیت دیگر فریقوں نے کئی پیچیدہ شرائط مکمل کیں، جن میں ملکی و غیر ملکی ریگولیٹری منظوری، ٹیکس سے متعلق امور، طیاروں کی مالی معاونت کے انتظامات اور سرمایہ کار کنسورشیم کی جانب سے لین دین کے تحفظ کی فراہمی شامل تھیں۔

    وزارت نجکاری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام اقدامات نہایت کم وقت میں مکمل کیے گئے جبکہ ایئرلائن کی پروازیں، تجارتی روابط اور سروسز بلا تعطل جاری رکھی گئیں۔

    نجکاری کے لیے بولی کا عمل دسمبر 2025 میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کنسورشیم نے 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ اس میں سے 55 ارب روپے حکومت کو پی آئی اے سی ایل کی فروخت کے عوض ادا کیے جائیں گے جبکہ 125 ارب روپے ایئرلائن کی بہتری اور بحالی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

    وزارت نجکاری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کنسورشیم نے 10 ارب روپے حکومت کو ادا کر دیے ہیں جبکہ 80 ارب روپے ایئرلائن میں بطور نئی سرمایہ کاری شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ایئرلائن کا مالی استحکام، بیڑے کی توسیع، روٹس میں اضافہ اور سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

    بیان میں درج ہے کہ معاہدے کے تحت دوسرا مالی مرحلہ اگلے 12 ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا، جس میں مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

  11. دوحہ میں ایران، امریکہ مذاکرات: ٹرمپ کا دعویٰ اور کاظم غریب آبادی کی تردید

    امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ ٹیکنیکل مذاکرات کے حوالے سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیان سامنے آ رہے ہیں۔

    ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران نے ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ اس کا انعقاد کل دوحہ میں ہو گا۔‘

    تاہم دوسری طرف ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے منگل کو ہونے والے مذاکرات کی تردید کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب کیے گئے وعدوں پر عمل در آمد کے حوالے سے قطر کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کے درمیان ’تکنیکی مذاکرات کی ابھی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور متعلقہ ورکنگ گروپس کے فریم ورک کے تحت تب منعقد ہو گا، جب حالات سازگار ہوں گے اور تاریخ و مقام پر اتفاق ہو جائے گا، اور اس سلسلے میں ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔‘

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھی ایک ذریعے نے بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات منگل کو دوحہ میں متوقع ہیں۔

  12. جرمنی میں فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد ہلاک: پولیس

    شمالی جرمنی کے شہر سٹاڈے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے ایک مشتبہ ملزم ہے۔

    پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس علاقے میں داخل ہونے سے گریز کریں۔

    پولیس کے مطابق واقعے کا محرک ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

    سٹاڈے کی آبادی تقریباً 50,000 ہے اور یہ شہر ہیمبرگ کے مغرب میں واقع ہے۔

  13. آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران، عمان مشترکہ کمیٹی کا مسقط میں پہلا اجلاس

    آبنائے ہرمز سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے ایران اور عمان کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں ہوا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب ‌آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ دونوں فریقوں نے ’آبنائے ہرمز سے متعلق موجودہ امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس کے انتظام‘ پر تبادلۂ خیال کیا۔

    کاظم غریب آبادی امریکہ کے ساتھ ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجلاس آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت منعقد ہوا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ میں کہا گیا ہے: ’ایران، سلطنت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور سمندری خدمات کے تعین کے لیے، قابلِ اطلاق بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز سے ملحقہ ساحلی ممالک کے حق خود مختاری کے مطابق، بات چیت کرے گا اور خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال کرے گا۔‘

    اس وقت ایران اور عمان نے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دو مختلف راستوں کا تعین کر رکھا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت پہلے 30 دنوں کے دوران ’تکنیکی اور عسکری رکاوٹوں کو دور کرنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ضرورت‘ کے پیش نظر اس آبی گزر گاہ کا انتظام ایران کے سپرد کیا گیا ہے۔

  14. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد میں 50 فیصد بازار کھل گئے، ٹرانسپورٹ بحال، انٹرنیٹ اور پیٹرول کی بندش برقرار, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد میں مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بازار کھولنے کے اعلان کے بعد پیر کے روز شہر میں جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو جون سے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال جاری تھی، جس کے باعث کئی روز تک کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں متاثر رہیں۔ گذشتہ ہفتے 27 جون کو مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر بازار کھولنے اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس اعلان کے بعد مظفرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں تقریباً 50 فیصد دکانیں کھل چکی ہیں، جبکہ تمام اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ نو جون کے بعد پہلی مرتبہ شہر میں معمول کی آمد و رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    تاہم انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، جس کے باعث بینک اگرچہ کھلے ہیں لیکن آن لائن نظام بند ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے کاروباری مراکز اور سروس سینٹرز بند ہیں۔

    شہر کے مرکزی تجارتی علاقے خواجہ بازار اور مین بازار، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت کی جاتی ہیں، زیادہ تر کھل چکے ہیں جبکہ چند دکانیں اب بھی بند ہیں۔

    مدینہ مارکیٹ، جہاں گارمنٹس، ریڈی میڈ ملبوسات اور کاسمیٹکس کی دکانیں ہیں، وہاں محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور تقریباً 30 فیصد دکانیں کھلی ہیں۔

    سی ایم ایچ روڈ پر واقع میڈیکل مارکیٹ، جس میں میڈیکل سٹورز، لیباریٹریاں اور کلینکس شامل ہیں، مکمل طور پر کھل چکی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔

    مظفرآباد کے مرکزی لاری اڈے پر تمام ٹرانسپورٹ اڈے دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور مختلف روٹس پر مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ لاری اڈے سے ملحقہ بیشتر دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔

    دوسری جانب شہر کے تمام پیٹرول پمپ بدستور بند ہیں، جس پر ٹرانسپورٹرز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ تو بحال کر دی گئی ہے لیکن ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث گاڑیاں چلانا مشکل ہو رہا ہے۔

    مرکزی انجمن تاجران کے سینیئر وائس چیئرمین گوہر کشمیری کا کہنا ہے کہ انجمن کے اعلان کے بعد بازار کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ تاہم ان کے بقول انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متعدد دکانداروں کو بازار کھولنے کے فیصلے کی بر وقت اطلاع نہیں مل سکی، جبکہ پیٹرول پمپ بند ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جو ابھی تک دکانیں کھولنے نہیں پہنچ سکے۔

    ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بتایا کہ 70 فیصد بازار کھل چکے ہیں اور ٹریفک بحال ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور انٹرنیٹ کا مسئلہ جلد حل کر دیا جائے گا۔

  15. پاکستان اور انڈیا کے درمیان ٹریک ٹو سفارتکاری کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں: انڈین سیکریٹری خارجہ

    انڈیا اور پاکستان کے درمیان کولمبو میں ہونے والے ٹریک ٹو مکالمے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا: ’یہ نجی طور پر منعقد کی گئی تقاریب ہیں جن کا اہتمام غیر سرکاری فریقوں نے کیا ہے۔‘

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا: ’ہمارے نزدیک ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ انڈیا سے جو بھی افراد ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، چاہے وہ ریٹائرڈ سفارت کار ہوں، ریٹائرڈ فوجی افسران ہوں یا سول سوسائٹی کے ارکان، وہ ان میں اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور اپنا ذاتی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔‘

    انڈین سیکریٹری خارجہ کے مطابق ان تقاریب میں شریک ہونے والے افراد ’کسی بھی طرح سے انڈین حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔‘

    وکرم مصری کا یہ ردعمل ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے عہدے داروں نے کولمبو میں ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی اہلکار، اور دونوں ممالک کی حکمران جماعتوں کے سیاستدان بھی شریک تھے۔

    خبروں کے مطابق اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور انڈیا کے درمیان غیر رسمی سفارتی رابطوں کو فروغ دینا تھا۔

  16. قطر میں منجمد چھ ارب ڈالر کے اثاثے ایران کو واپس کر دیے جائیں گے: مسعود پزشکیان

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے چھ ارب ڈالر ایران کو واپس کر دیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے والی ایرانی اور امریکی تکنیکی ٹیموں کی آئندہ کچھ دنوں میں دوحہ میں ملاقات متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق ثالثوں نے کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطے کے چینلز قائم کر دیے ہیں اور تکنیکی سطح کی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

  17. ایران کی آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے: اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر

    اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ ایران کی آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

    اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صبر ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف امور پر تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے، خاص طور پر اس بارے میں کہ معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات تک کیسے رسائی دی جائے، یورینیم کو کیسے ڈاؤن بلینڈنگ کی مدد سے کم افزودہ کیا جائے اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ ایران کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اس کی گرفت بتدریج کم ہو رہی ہے۔ ’خلیجی عرب ممالک آبنائے ہرمز کے متبادل راستے تیزی سے تیار کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اپنی تیل پائپ لائن کو وسعت دے رہا ہے جبکہ سعودی عرب بھی اپنی پائپ لائنیں بڑھا رہا ہے۔‘

    امریکی سفیر کے مطابق امریکہ بھی خطے میں اپنی فوجی اڈوں کے ڈھانچوں میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ تنصیبات کو مضبوط بنایا جائے گا، کچھ زیرِ زمین منتقل کی جا سکتی ہیں جبکہ بعض کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران جس دباؤ کو اپنا ہتھیار سمجھتا ہے وہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ٹول عائد کرنے کا تصور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور چین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    والٹز کے مطابق ایران کو امید تھی ٹول وصولی کے لیے اسے عمان کی حمایت حاصل ہو گی مگر اب عمان نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دنیا کے ممالک اور ان کی معیشتوں کو یرغمال بنانے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

  18. پاکستانی بمباری کے نتیجے میں 36 شہری ہلاک، 163 زخمی ہوئے: افغان طالبان ترجمان

    افغان طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ رات پاکستان کی جانب سے متعدد علاقوں میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں 36 عام شہری ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔اس پاکستانی کارروائی کے بعد افغانستان کے مختلف علاقوں سے تباہی کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

  19. اپنی حدود پہچانیں اور تہران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں: ایران کی بحرین کو تنبیہ

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو سخت فیصلے لینے پر مجبور نہ کریں۔

    ایرانی خبررساں ادرے تسنیم کے مطابق، علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ’بحرینیوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود پہچانیں، اپنے مستقبل کے ساتھ ایسے کھیل نہ کھیلیں، اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کی روز پاناما کے پرچم بردار ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکی فوج نے ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔

    اس حملے کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں بحرین نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بحرینی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ان خطرناک ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد پروجیکٹائلز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ ملک کی فوج چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  20. ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے متعلق بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں منعقد ہوا۔

    کاظم غریب آبادی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے خلیجی ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور رواں ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر تبادلۂ خیال کیا۔