بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سریاب کے علاقے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور مرکزی رہنما صبغت اللہ کو عدالت سے دی جانے والی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بی وائی سی کے رہنمائوں کو گوادر میں 2024 میں راجی مچی کے موقع پر ایف سی کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے دی جانے والی سزا کے خلاف سریاب میں برما ہوٹل کے علاقے میں احتجاج کی کال دی گئی تھی۔
تاہم برما ہوٹل کے علاقے میں پولیس کی بہت بڑی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس نے وہاں مظاہرین کو جمع نہ ہونے دیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کے وکلا کی ٹیم کے رکن خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ برما ہوٹل کے علاقے سے ایک خاتون کے علاوہ سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
بعد میں بی وائی سی کے مطابق بشیر چوک اور سریاب کسٹمز کے علاقے سمیت تین مقامات پر لوگ جمع ہوئے اور وہاں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
بشیر چوک پر مظاہرین نے روڈ پر ٹائر جلائے اور بی وائی سی کے رہنماؤں کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی۔
’ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کی سزا کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جائے گا‘
خالد خان بلوچ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے میں کئی قانون نقائص ہیں وہاں مدعا علیہان کو شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جس مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو سزا ہوئی اس کی ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر کی گئی جبکہ استغاثہ کے بیان میں ایف سی کی گاڑی اور ایف سی اہلکار کی ہلاکت کی تاریخوں میں تضاد ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسی مقدمے میں کئی ماہ بعد ایک شریک ملزم کو شامل کیا گیا جسے گوادر میں ایک عدالت نے بری کر دیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر کی عدالت نے شریک ملزم کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ایف آئی آر کے اندراج کے علاوہ دیگر بعض قانونی تضادات کی نشاندہی کی تھی جن کو انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت کے فیصلے میں نظر انداز کردیا گیا۔
خالد بلوچ ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ مبینہ حکومتی جبری کاروائیوں کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر کے خلاف مقدمات کو جیل منتقل کیا گیا اور محکمہ داخلہ نے بعض ایسے اقدامات کیے جن سے شفاف ٹرائل کے امکانات ختم ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے پر مدعا علیہان اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان اور ان کے وکلا کو شفاف ٹرائل کے تمام مواقع فراہم کیے گئے تھے۔