’بِل بِل پاکستان‘ گانے والے عون علی کھوسہ کی لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد ’بخیریت گھر واپسی‘

aon ali khosa

،تصویر کا ذریعہTwitter/KhadijaSiddiqui

    • مصنف, سحر بلوچ اور یسریٰ جبین
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے گذشتہ ہفتے لاپتہ ہونے والے یوٹیوبر اور طنزیہ گانا ’بل بل پاکستان‘ گانے والے عون علی کھوسہ کے وکلا کے مطابق وہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں عون علی کھوسہ کی وکیل خدیجہ صدیقی نے اس پیش رفت کی تصدیق اور عون کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا کہ ’خوش آمدید، اللہ آپ کی حفاظت کرے‘۔ عون کی وکلا ٹیم میں شامل میاں علی اشفاق نے ایکس پر ان کے ’خیریت سے گھر پہنچنے‘ کی تصدیق کی۔

حال ہی میں عون کھوسہ نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی پر ایک طنزیہ گانا گایا تھا جس میں مشہور ملی نغمے ’دل دل پاکستان‘ کو ’بِل بِل پاکستان‘ سے بدل کر حکومت پر تنقید کی گئی تھی۔

پاکستان میں بجلی کے مسئلے اور معاشی بحران پر مبنی گانے کی ویڈیو یوٹیوب پر شائع کی گئی تھی جس کے بعد کئی لوگوں نے اسے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا تھا۔

14 اگست کو گانے کی ریلیز کے بعد عون کے اہلخانہ کے مطابق انھیں اسی رات لاہور سے چند نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جس کے بعد یوٹیوب سے اس ویڈیو کو بھی حذف کر دیا گیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

گذشتہ روز لاہور میں یوٹیوبر عون علی کھوسہ کے اغوا کا مقدمہ ان کی بیوی بینش اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

تھانہ اچھرہ میں درج مقدمے کے متن کے مطابق 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب مسلح نامعلوم افراد ’دروازہ توڑ کر‘ عون کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے۔ اس میں الزام ہے کہ نامعلوم افراد کی طرف سے عون کو اغوا کیا گیا اور وہ ان کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور کیمرہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔

عون کی اہلیہ بینش اقبال نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے جمعے کے روز سی سی پی او لاہور کو 20 اگست تک ان کی بازیابی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

اس سے قبل عون کے اہلخانہ نے پولیس پر مقدمے کے اندراج کے لیے تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا تھا تاہم لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس حوالے سے اب تک پولیس کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور شکایت کے اندراج کے بعد ہی تحقیقات کی جائے گی۔

عون کھوسہ

،تصویر کا ذریعہX

’نقاب پوش افراد ہم پر بندوق تانے کھڑے تھے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عون کے اہل خانہ کے وکیل میاں علی اشفاق بتاتے ہیں کہ ’14 اور 15 اگست کی درمیانی شب فلیٹ پر دستک ہوئی تھی جس پر عون کی اہلیہ بینش کو پوچھنے پر بتایا گیا کہ وہ بلڈنگ کی انتظامیہ کی طرف سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کی گاڑی کو کسی نے ٹکّر ماری ہے۔‘

’بینش کو لگا کہ یہ کوئی چور ہے اور انھوں نے دروازہ نہیں کھولا بلکہ عون کو جا کر مطلع کیا۔‘

میاں علی اشفاق کے بقول ’پھر عون خبردار ہو کر دروازے پر گئے اور بات کرنے کی کوشش کی تاہم اسی دوران ان کے گھر کا دروازہ توڑا گیا۔‘

میاں علی اشفاق نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم دس سے بارہ مسلح افراد گھر میں زبردستی داخل ہوئے اور انھوں نے عون کا ویڈیو بنانے کا سیٹ اپ اُکھاڑ کر ان کا لیپ ٹاپ، موبائل فون، کیمرا وغیرہ ضبط کر لیا۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ بازیابی کی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ عون کھوسہ ’طنز و مذاح کرنے والے، ڈیجیٹل کوننٹنٹ کرئیٹر ہیں۔ ان کے طنز و مذاح کی وجہ سے انھیں یوٹیوب پر لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں اور سبسکرائب کر چکے ہیں۔‘

عون کی اہلیہ بینش اقبال نے درخواست میں بتایا ہے کہ رات دو بجے کالی پینٹ شرٹ میں ملبوس نقاب پوش افراد ان کے ’گھر میں گھس آئے تھے۔‘

درخواست میں بتایا گیا کہ ’عون بارہا پوچھتے رہے کہ ان کا سامان کیوں اٹھایا جا رہا ہے اور انھوں نے کیا کیا ہے لیکن ان کو کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔‘

درخواست میں بتایا گیا کہ ’تین نقاب پوش افراد اہلِ خانہ کے سر پر بندوق تانے کھڑے رہے جبکہ اس دوران عون کو زبردستی ایک ڈبل کیبن ویگو گاڑی میں بٹھایا گیا۔ جس کے بعد اسی گاڑی کے پیچھے تمام تر نقاب پوش افراد بھی فورچیونر گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔‘

درخواست کے مطابق صبح ہوتے ہی ان کی اہلیہ بینش نے اچھرا تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تھانے میں موجود اہلکاروں نے ایف آئی آر درج نہیں کی جس کے بعد انھیں عدالت میں بازیابی کی درخواست دائر کرنا پڑی۔

تاہم لاہور پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’پولیس کو عون کے مبینہ اغوا کے بارے میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ شکایت درج کرائی جائے گی تو پولیس اس پر تحقیقات کرے گی۔

دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ میں اس درخواست کی سماعت جسٹس شہباز علی رضوی کی عدالت میں ہوئی۔ اس دوران عدالت نے پولیس کو لاپتہ یوٹیوبر کی 20 اگست تک بازیابی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

عون کھوسہ

،تصویر کا ذریعہX

’لوگوں کی ہنسی بھی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے‘

عون علی کھوسہ ایک آن لائن کامیڈین ہیں جن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالوورز ہیں۔ وہ اپنی ویڈیوز میں مختلف سماجی مسائل کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال میں عون کا چرچہ تب ہوا جب انھوں نے 14 اگست کو پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر ’بِل بِل پاکستان‘ نامی گانا اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کیا جو چند گھنٹوں میں ہی وائرل ہو گیا اور ہزاروں لوگوں نے اسے دیکھا۔

گانے کی دھن معروف گلوکار جنید جمشید کے گانے ’دل دل پاکستان‘ سے متاثرہ ہے مگر اس میں عوام کی مایوسی، بجلی کے مہنگے بِل اور حکمرانوں پر طنز کیا گیا ہے۔

پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن (ایچ آر سی پی) نے عون کے مبینہ اغوا کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عون کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@amnestysasia

ایک بیان میں ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ عون حکومت کے ناقدین میں سے ایک ہیں جنھوں نے طنزیہ ویڈیوز سے ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ’اغوا اس رجحان کا حصہ ہے جس میں سماجی و سیاسی کارکنان، طلبہ اور صحافیوں کو پاکستانی حکام کی جانب سے خاموش کیے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’عوام کے زیادہ ہنسنے سے بھی ملک میں عدم استحکام آسکتا ہے۔‘

’کب خوش ہونا ہے، کب ہنسنا، کب رونا ہے، یہ اب صرف ریاست بتائے گی۔‘

صحافی عمران افضل راجہ نے لکھا ’عون علی کھوسہ ایک انتہائی شریف النفس اور اپنی حدود کے اندر کام کرنے والا آرٹسٹ ہے جس نے کبھی کسی کی تضحیک نہیں کی۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’اگر آپ کو ان کے لطیف مزاح سے مسئلہ ہے تو بہتر ہے کسی افریقی ملک کو چُن لیں۔ 10 مسلح نقاب پوشوں سے عون کھوسہ کو غائب کروانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@ImranARaja1

آرٹسٹ شفاعت علی نے لکھا کہ ’عون کے سیاسی نظریات سے اختلاف انھیں حراست میں رکھنے کا جواز نہیں۔ ہنسنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ عون کھوسہ کو فوری رہا کیا جائے۔‘