جاپان: یوٹیوب سے مقبول ہونے والے رکن پارلیمان کو سینیٹ سے نکال دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGAASYY/YOUTUBE
- مصنف, شائمہ خلیل
- عہدہ, بی بی سی، ٹوکیو
- وقت اشاعت
جاپان میں پہلی مرتبہ کسی رکن پارلیمان کو کبھی بھی کسی اجلاس میں شرکت سے پہلے ہی اس کی رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔
ایوان بالا کے اس رکن کا نام یوشیکازو ہیگاشتانی ہے جو اصل میں یو ٹیوب پر اپنی ہلکی پھلکی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئے اور پھر سات ماہ پہلے ملک کے ایوانِ بالا کے رکن منتخب ہو گئے۔
منگل کو یوشیکازو ہیگاشتانی کی پارلیمان سے بے دخلی کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹ کی انضباطی کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ جب سے رکن منتخب ہوئے ہیں ایک دن بھی پارلیمان میں حاضر نہیں ہوئے، اس لیے کمیٹی نے انھیں سینیٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوشیکازو ہیگاشتانی کو یوٹیوب پر ’گاسی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں وہ اپنی ویڈیوز میں مشہور شخصیات کے بارے میں چٹی پٹی باتیں کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ان کی ویڈیوز لوگوں میں اس قدر مقبول ہوئیں کہ انھیں گزشتہ برس جولائی میں ملک کی سینیٹ کا رکن منتخب کر لیا گیا۔
یاد رہے کہ جاپان میں کسی رکن پارلیمان کے لیے سب سے بڑی سزا یہ ہو سکتی ہے کہ اسے پارلیمان سے نکال دیا جائے۔ سنہ 1950 کے بعد کسی رکن کے خلاف اس قسم کی کارروائی صرف دو مرتبہ کی گئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ کسی رکن کو مسلسل غیر حاضری کی بنا پر پارلیمان سے بےدخل کیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ ایوان بالا اسی ہفتے انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کر دے گا۔
یوشیکازو ہیگاشتانی کو ’نہ نظر آنے والا رکن پارلیمان‘ کا نام دیا گیا ہے اور جاپان میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
رکن پارلیمان منتخب ہونے کے بعد سے یوشیکازو ہیگاشتانی مسلسل جاپان آنے سے انکار کرتے رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول انھیں خدشہ ہے کہ ملک واپسی پر انھیں دھوکہ دہی، کچھ سلیبرٹیز کی طرف سے ہتک عزت کے دعوؤں کی وجہ سے گرفتار کر لیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یوشیکازو ہیگاشتانی کا تعلق ملک کی حزب اختلاف کی ایک چھوٹی جماعت سجیکا جوشی سے ہے جس کی ارکان پارلیمان کی کل تعداد دو ہے۔ اس جماعت کا صرف ایک مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ جاپان کے سرکاری میڈیا میں اصلاحات کی جائیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عوام میں اپنی شہرت برقرار رکھنے کے لیے یہ جماعت گاہے بگاہے اپنا نام تبدیل کرتی رہتی ہے۔
بے دخلی کے اعلان سے پہلے گزشتہ ہفتے پارلیمان نے مسٹر ہیگاشتانی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ٹوکیو آئیں اور پارلیمان میں آ کر اپنی غیر حاضری پر معافی مانگیں۔ ارکان پارلیمان نے کہا تھا کہ وہ مسٹر ہیگاشتانی کو بے دخلی سے پہلے آخری موقع دے رہے ہیں۔
لیکن مسٹر ہیگاشتانی نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اس کی بجائے انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کہا کہ وہ ٹوکیو جائیں گے ضرور اور پارلیمان سے اپنی تنخواہ لیکر ترکی کے زلزلہ زدگان کو عطیہ کر دیں گے۔
لیکن وہ ملک واپس نہیں آئے جس پر انھیں پارلیمان سے نکال دیا گیا ہے۔
مسٹر ہیگاشتانی کی جماعت کے دوسرے رکن پارلیمان، ہمادا ساتوشی کا کہنا تھا کہ مسٹر ہیگاشتانی کو اس الزام پر پارلیمان سے نکالنا کہ وہ کبھی حاضر نہیں ہوئے، ایک غیر قانونی قدم ہے، لیکن انضباطی کمیٹی نے متفقہ طور پر ان کے خلاف ووٹ دیا۔























