سخت گیر ہندو تنظیم دارالعلوم دیوبند میں ’گنگا جل‘ کا چھڑکاؤ کیوں کرنا چاہتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
سخت گیر تنظیم ہندو رکشا دل کے رہنماؤں کی جانب سے دارالعلوم دیوبند میں ہندو مذہب میں مقدس سمجھا جانے والا ’گنگا جل‘ یا گنگا کا پانی چھڑکنے کے اعلان کے بعد پولیس نے تنظیم کے رہنما للت شرما اور ان کے ساتھیوں کو ہردوار سے سہارنپور کی طرف جانے روک دیا ہے۔
اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کی عمارت ہندوؤں کے بھگوان شیو کے مندر پر تعمیرکی گئی تھی اور للت شرما نے آٹھ اگست کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ 11 اگست کو شیوراتری کے موقع پر سہارنپور میں واقع 150 برس سے زیادہ قدیم مدرسے میں گنگا جل چڑھائیں گے۔
للت شرما نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ان کی جانب سے مقام کے سروے اور کھدائی کروانے کی درخواست کے باوجود مقامی انتظامیہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود دارالعلوم دیوبند کا رخ کریں گے۔
ہندو تنظیم کے اس دعوے کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور بی بی سی کے رابطہ کرنے کے باوجود دارالعلوم دیوبند کی جانب سے تاحال ان دعووں اور تازہ صورتحال پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
للت شرما منگل کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ’گنگا جل‘ لے کر سہارنپور کی طرف بڑھے تو پولیس نے انھیں روک لیا اور واپس جانے کو کہا جس کے بعد للت شرما پولیس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔
انڈیا ذرائع ابلاغ کے مطابق دیوبند سرکل افسر امیت کمار سنگھ نے کہا تھا کہ کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہندو رکشا دل کا اعلان اور مندر کا متنازع دعویٰ
ہندو رکشا دل کے قومی صدر پنکی چودھری نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں سے بڑی تعداد میں اس ’جل چڑھاؤ‘ مہم میں شریک ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انتظامیہ ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ لیکن ہندو رکشا دل کسی دباؤ کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ جائیں گے اور وہاں جل چڑھائیں گے۔‘
انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ ’ہم پہلے سے کہتے آ رہے ہیں کہ وہاں ہمارے مہادیو کا مندر ہے۔ وہاں ہم جائیں گے۔ کوئی ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش نہ کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
للت شرما ہندو رکشا دل کے اتراکھنڈ کے ریاستی صدر ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اور قابل اعتراض بیانات دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دارالعلوم کے احاطے کے تقریباً 14 فٹ نیچے شیو مندر دبا ہوا ہے اور وہاں شیو لنگ موجود ہے۔
گذشتہ مئی میں بھی انھوں نے اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے احاطے کی کھدائی کرائے اور اس کی سائنسی جانچ ہو۔
تاہم اس سلسلے میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
ہندو رکشا دل نے اپنے اس دعوے کے ساتھ کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور نہ ہی کسی غیر جانبدار سرکاری تحقیق میں اس کی تصدیق ہوئی ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے نیچے کوئی مندر ہے۔

،تصویر کا ذریعہX
دارالعلوم دیوبند کی اہمیت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مغربی اتر پردیش کے چھوٹے سے قصبے دیوبند میں واقع دارالعلوم عالم اسلام کا مشہور دینی مرکز ہے جو 1866 میں قائم کیا گیا تھا۔
دارالعلوم کی ویب سائٹ کے مطابق ’تقریباً گذشتہ ڈیڑھ صدی سے دارالعلوم دیوبند نہ صرف بر صغیر بلکہ تمام دنیائے اسلام میں مسلمانوں کی دینی تعلیم کے لیے ایک بے نظیر درس گاہ سمجھی جاتی رہی ہے۔ جامع ازہر مصر کے علاوہ اسلامی اور دینی علوم و فنون کا کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جو اپنی قدامت، مرجعیت و مرکزیت اور طلبہ کی کثرت کے لحاظ سے اتنی اہمیت رکھتا ہو جتنی دارالعلوم دیوبند کو دنیائے اسلام میں حاصل ہے۔‘
اس ادارے نے بر صغیر کے مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ اپنے فتوؤں اور سیاسی موقف کے لیے اکثر تنازعوں میں بھی رہا ہے۔ جبکہ اپنے مذہبی نظریات اور خیالات کے لیے یہ سخت گیر ہندو تنظیموں کی نظر میں رہا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم جمعیت العلمائے ہند کا تعلق اسی ادارے سے ہے۔ 11 اکتوبر 2025 میں دارالعلوم دیوبند اس وقت بھی ملک میں توجہ کا مرکز بنا جب انڈیا کے دورے پر آئے ہوئے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اس ادارے کا دورہ کیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب انڈیا میں کسی مسجد یا تاریخی مقام کے نیچے مندر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو۔ جنوری 2024 کے دوران بنارس کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس وقت بعض ہندوؤں نے مقامی عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مسجد ایک قدیم مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔
1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد نومبر 2019 کے دوران سپریم کورٹ نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی۔
جبکہ آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے دنیا کا ساتواں عجوبہ تاج محل بھی ایسے ہی تنازعات کی زد میں رہا ہے۔



















