آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی: اسرائیلی مخالفت کے باوجود غزہ کا دورہ کرنے اور الجزیرہ قائم کرنے والے قطری امیر
اتوار کے روز قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 74 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔
قطر کو اس کا پہلا تحریری آئین دینے کے علاوہ قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے قیام کا سہرا بھی ان ہی کے سر جاتا ہے۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کو فلسطینیوں کے حقوق کا بھی مضبوظ حامی سمجھا جاتا تھا۔ ان وفات پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
پیر کے روز پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی ایک وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تھے اور انھوں نے ریاستِ قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات پر تعزیت کی تھی۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کا شمار نہ صرف قطر بلکہ مشرق وسطیٰ کے بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کون تھے؟
بی بی سی عربی کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ الثانی جنوری 1952 میں دوحہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے برطانیہ میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی اور 1971 میں فارغ التحصیل ہوئے۔
ملک واپسی کے بعد وہ قطر کی مسلح افواج میں شامل ہوئے اور فوجی رینکوں میں ترقی کرتے ہوئے میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
1977 میں انھیں ولی عہد اور وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے حکمران رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قطر کے امیری دیوان (امیر کے دفتر) نے شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کو ملک کی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک اور جدید قطر کا معمار قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کے دورِ حکومت میں معاشی، سماجی اور ثقافتی شعبوں میں وسیع پیمانے پر ترقی ہوئی، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) دو گنا سے زیادہ بڑھ گئی، جبکہ فی کس جی ڈی پی میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا۔
اپنے والد کے خلاف بغاوت
27 جون 1995 کو شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد الثانی کے خلاف ایک بے خون بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔
ان کے اس اقدام کو قطری مسلح افواج، کابینہ اور خطے کے بعض ہمسایہ ممالک کی حمایت حاصل تھی۔
الجزیرہ نیٹ ورک کا قیام
اقتدار سنبھالنے کے محض ایک سال بعد 2016 میں شیخ حمد بن خلیفہ الثانی الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے قیام کا اعلان کیا۔
اس چینل میں کام کرنے والے زیادہ تر صحافی اس سے قبل بی بی سی عربی کے سیٹلائٹ چینل میں کام کرتے تھے، جو اس ہی سال بند ہوا تھا۔
قطر کا پہلا تحریری آئین
سنہ 1999 میں شیخ حمد نے ملک کا پہلا آئین تیار کرنے کے لیے بنائی گئی 32 رکنی کمیٹی کو نئے مسودے کے لیے تجاویز پیش کرنے کے لیے تین سال کا وقت دیا۔
اس پیش رفت کو قطر میں جمہوریت کی جانب ایک ابتدائی قدم قرار دیا گیا۔ آئین کے مسودے کی 2003 میں عوامی رائے شماری کے ذریعے منظوری دی گئی اور یہ 2005 کے وسط میں نافذ العمل ہوا، جس کے ساتھ قطر کو اپنی تاریخ کا پہلا تحریری آئین ملا۔
تاہم 2024 میں آئینی ترامیم سے متعلق ایک ریفرنڈم کے بعد قطر اپنے انتخابی عمل سے پیچھے ہٹ گیا۔ ان ترامیم کے تحت مجلسِ شوریٰ کے ارکان کے لیے جزوی انتخابات ختم کر دیے گئے اور امیر کی جانب سے تمام ارکان کی تقرری کے نظام کو بحالی کر دیا گیا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی
سنہ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے دوران شیخ حمد نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں۔
2009 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ اس وقت قطر وہ واحد خلیجی ملک تھا، جس کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط تھے۔
حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے عرب رہنما
اکتوبر 2012 میں اس وقت کے قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ نے غزہ کا دورہ کیا۔
قطر کے امیر 2007 میں حماس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد غزہ کی پٹی کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت تھے۔
اسرائیل اور مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی نے شیخ حمد کے دورے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی کے اس وقت کے صدر محمود عباس نے اس دورے سے قبل قطری امیر کو فون کیا اور زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ رہنما ہیں۔
اسرائیل، جو حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، نے قطری امیر کے دورے کو 'غیر معمولی' قرار دیتے ہوئے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔
اس وقت کے اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ییگال پالمور نے کہا ’حماس کو کھلے عام گلے لگا کر قطر کے امیر نے امن کی کوششوں کو بس کے نیچے دھکیل دیا ہے۔‘
شیخ حمد جب سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مصر سے رفح کراسنگ کے راستے گاڑی میں سوار ہو کر غزہ پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے ان کا استقبال کیا اور انھیں گلے لگایا۔
اسماعیل ہنیہ کا کہنا تھا کہ ’آپ کا آج کا دورہ عملی طور پر اس معاشی اور سیاسی محاصرے کے خاتمے کا اعلان ہے جو ظالم قوتوں نے غزہ کی پٹی پر مسلط کر رکھا ہے۔‘
دوسری جانب قطری امیر نے اس تاریخی دورے کے دوران فلسطینی دھڑوں سے اتحاد کی اپیل کی تھی۔
انھوں نے غزہ کی پٹی میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا۔
بیٹے کو اقتدار کی منتقلی
سنہ 2003 میں شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے اپنے بیٹے شیخ جاسم بن حمد الثانی کی یہ درخواست منظور کر لی کہ وہ ولی عہد کا منصب اپنے بھائی شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حق میں چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد شیخ تمیم کو قطر کا نیا ولی عہد مقرر کر دیا گیا۔
اس پیشرفت کے تقریباً سات سال بعد جون 2013 کو شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے اقتدار ولی عہد شیخ تمیم بن حمد الثانی کے حوالے کر دیا۔
اقتدار کی منتقلی کے موقع پر اپنے خطاب میں شیخ حمد نے کا کہنا تھا کہ ’آپ ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں نوجوان قیادت پرچم تھامے گی، مستقبل کی نسلوں کی امنگوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انھیں پورا کرنے کے لیے انتھک محنت کرے گی۔‘