آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میسی اور یمال کی پہلی ملاقات: گود میں کھیلنے سے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے تک کی کہانی
- مصنف, ڈینیئل آسٹن
- عہدہ, بی بی سی سپورٹس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک اور مستقبل میں اُس کا وارث سمجھے جانے والا کھلاڑی پہلی بار اس وقت مدمقابل آئیں گے جب اتوار کو ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کا مقابلہ سپین سے ہو گا۔
ارجنٹینا کے لیونل میسی اب 39 برس کے ہیں اور سپین کے لامین یمال صرف 19 سال کے، اس لیے یہ بات میسی کی ثابت قدمی اور یمال کی غیرمعمولی صلاحیت کا ثبوت ہے کہ دونوں ایک ہی میچ میں اور وہ بھی فٹبال کے کھیل کے سب سے بڑے مقابلے میں کھیلیں گے۔
تاہم یہ پہلی بار نہیں کہ ان دونوں کا آمنا سامنا ہو رہا ہے۔
یہ واقعہ 2007 میں پیش آیا تھا، جب 20 سالہ میسی کچھ عرصہ قبل ہی بارسلونا کی ٹیم کے لیے مستقل کھیلنے والے کھلاڑی بنے تھے اور لامین یمال صرف پانچ ماہ کے تھے۔
اس ملاقات کو جوان مونفرٹ نے اپنی تصاویر میں محفوظ کیا تھا۔
یہ تصاویر دو سال قبل دوبارہ منظرِ عام پر آئیں، جب لامین یمال نے سپین کو یورو 2024 جتوانے میں مدد دی، اور اُن کے والد نے ان میں سے ایک تصویر آن لائن پوسٹ کرتے ہوئے اس کے ساتھ یہ عبارت لکھی: ’دو لیجنڈز کا آغاز‘۔
ان تصاویر میں مسکراتے ہوئے میسی ایک ننھے بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے اور نہلا رہے ہیں، جو بعد میں حیران کن طور پر اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والا تھا۔
مونفرٹ نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ’یہ تقدیر کا ایک حقیقی معجزہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے۔ جب آپ کو کوئی ایسی غیرمعمولی چیز مل جائے جو آپ کے تصور سے کہیں زیادہ بڑی ہو۔ اگر آپ یہ کہانی کسی فلم میں لکھیں تو بھی ایسا ہونا ناممکن ہی لگے گا۔‘
’میسی نہیں جانتے تھے کہ بچے کے ساتھ کیا کریں‘
یہ فوٹو شوٹ بارسلونا کے کیمپ نو سٹیڈیم کے ڈریسنگ روم میں ہوا تھا اور لامین یمال کا خاندان وہاں اس لیے موجود تھا کہ انھوں نے ایک مقابلہ جیتا تھا۔
ان کے والدین، مراکش میں پیدا ہونے والے منیر نصراوی اور استوائی گنی سے تعلق رکھنے والی شیلا ایبانا، اپنے اپنے خاندانوں کے ہمراہ بچپن میں کاتالونیا منتقل ہونے کے بعد ملے تھے۔
لامین یمال اُن کی سب سے بڑی اولاد ہیں اور اُن کی پیدائش کے فوراً بعد اُن کے خاندان نے ایک کاتالانی اخبار کی جانب سے بارسلونا کی شرٹ کے سپانسر اور بین الاقوامی بچوں کی فلاحی تنظیم یونیسیف کے اشتراک سے منعقدہ ایک قرعہ اندازی میں حصہ لیا۔
اتفاقی طور پر منتخب ہونے والوں کے بچوں کی بارسلونا کی ٹیم کے کسی کھلاڑی کے ساتھ پیشہ ورانہ انداز میں تصاویر لی جانی تھیں۔
لامین یمال بھی جیتنے والوں میں شامل تھے، اور جس دن خاندان وہاں پہنچا، اتفاقاً اُن کی جوڑی میسی کے ساتھ بنا دی گئی۔
مونفرٹ کا کہنا ہے کہ ’مجھے 2024 تک یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ تصویر میں موجود بچہ لامین ہے، یہاں تک کہ میرے ایک دوست نے فون کر کے بتایا کہ اُس کے والد نے یہ تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہے۔
’میسی ایک بہت اپنے آپ میں گم رہنے والے انسان ہیں، کافی جھجکنے والے اور شرمیلے۔ وہ ڈریسنگ روم میں آئے اور اچانک اُنھیں ایک ننھے بچے کے ساتھ تصاویر بنوانی تھیں اور بچہ بھی ایک بہت چھوٹا بچہ اور اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے اُنھیں سمجھ نہ آ رہا ہو کہ کیا کریں۔‘
مونفرٹ کا کہنا ہے کہ ’ایک نوجوان شخص کے لیے یہ مشکل ہوتا ہے لیکن لامین بہت خوش مزاج اور مسکراتا ہوا بچہ تھا۔ اُس کی والدہ شیلا نے ہماری مدد کی، وہ خود بھی کم عمر تھیں اور خاندان بہت غریب تھا، لیکن اُن کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا تجربہ تھا۔‘
’میسی ایسے مواقع پر ہمیشہ پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کرتے تھے اور اُنھوں نے بہت جلد خود کو صورتِ حال کے مطابق ڈھال لیا۔‘
’میں ہمیشہ اپنے والدین کا مقروض رہوں گا‘
19 سال کی عمر تک میسی اپنے کریئر میں 11 گول کر چکے تھے اور ایک بار لا لیگا اور ایک بار یوئیفا چیمپیئنز لیگ جیت چکے تھے۔
پیر کے روز 19 برس کے ہونے والے لامین یمال اب تک 56 گول کر چکے ہیں اور تین بار لا لیگا، ایک بار کوپا ڈیل رے اور یورو 2024 جیت چکے ہیں۔
درحقیقت یمال کھلاڑی کا خاندانی نام نہیں بلکہ اُن کے دو ابتدائی ناموں میں سے ایک ہے۔
اُن کا مکمل نام لامین یمال نراوی ایبانا ہے اور وہ بارسلونا اور سپین دونوں کی جانب سے اپنی شرٹ کے پیچھے پہلے دو نام لکھواتے ہیں تاکہ اُن دو افراد کو خراجِ تحسین پیش کر سکیں جنھوں نے اُن کی پیدائش کے وقت خاندان کی مدد کی تھی۔
سپین کے ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر یہ رپورٹ کیا گیا ہے کہ لامین یمال کے والد نے دو دوستوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کا نام اُن کے ناموں پر رکھیں گے کیونکہ انھوں نے مالی مشکلات کے دوران خاندان کے اخراجات پورے کرنے میں مدد کی تھی۔
لامین یا امین عربی زبان میں ایک عام مردانہ نام ہے، جس کا انگریزی مفہوم دیانت دار یا قابلِ اعتماد کہا جا سکتا ہے، جبکہ یمال، جمال کی ایک شکل ہے جس کے معنی نفاست یا خوبصورتی کے ہیں۔
وہ بارسلونا کے شمال میں تقریباً 20 میل دور ماتارو کے محنت کش طبقے کے علاقے روکافوندا میں پلے بڑھے۔
یہ علاقہ 1960 کی دہائی میں سپین کے دیگر علاقوں سے آنے والے تارکینِ وطن کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، اور جب وہ نسبتاً خوشحال علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوئے تو 1990 کی دہائی میں دوسرے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن یہاں آباد ہونے لگے۔
لامین یمال نے اپنے بعض گولوں کا جشن اپنی انگلیوں سے 4-0-3 کا اشارہ بنا کر منایا ہے، جو روکافوندا کے پوسٹ کوڈ کی طرف اشارہ ہے۔
یمال نے ٹورنامنٹ کے آغاز میں ایل پائس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میری والدہ نے جو کیا، میرے والد نے جو کیا، میں وہ کسی ایسے فرد کے لیے نہیں کر سکتا جو میرا اپنا بچہ نہ ہو۔‘
’اگر آپ کے پاس پیسے نہ ہوں تو اپنے بچے کو فٹ بال کھلوانا بہت مشکل ہوتا ہے اور میرے والدین نے یہ سب ممکن بنایا۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا قرض میں کبھی نہیں چکا سکوں گا۔‘
’میرا دل دو ٹکڑوں میں بٹ رہا ہے‘
مونفرٹ کے لیے، جو کاتالانی ہیں اور بارسلونا کے حامی بھی، میدان میں میسی اور یمال کا آمنے سامنے آنا اُس کہانی کا بہترین اختتام ہے جو تقریباً دو دہائیاں پہلے شروع ہوئی تھی۔
58 سالہ مونفرٹ کہتے ہیں ’میرے خیال میں ہم اُن کی کہانی کا دائرہ مکمل کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوشگوار اختتام ہے۔‘
انھوں نے کہا ’میں بارسلونا کا مداح ہوں اور میرے خیال میں میسی کے لیے یہ بہترین ہو گا اگر وہ اپنے کریئر کا اختتام دوسری بار ورلڈ کپ جیت کر کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔‘
’لامین کے پاس ورلڈ کپ جیسے اعزاز جیتنے کے لیے ابھی بہت وقت ہے لیکن سپین اور لامین اس وقت بہترین فارم میں ہیں اور اگر وہ ابھی یہ ٹائٹل جیت لیتے ہیں تو اس کی قدر اُن کے دوسرے اعزازات سے زیادہ ہو گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ میرے لیے بہت مشکل ہے۔ میرا دل دو ٹکڑوں میں بٹ رہا ہے۔‘