بالواسطہ ہراسانی پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ، ’واٹس ایپ گروپ میں بانجھ پن کے حوالے سے 17 بار تضحیک کی گئی‘

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

وفاقی محتسب نے ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون کے تحت حال ہی میں ایک فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں ایک خاتون کی شکایت پر ان کے ادارے کے ایک سینیئر ملازم کو قصوروار قرار دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق مذکورہ ملازم نے خاتون کو بالواسطہ طور پر بانجھ پن سے متعلق تضحیک آمیز جملوں کا نشانہ بنایا اور ان کی قومیت کی بنیاد پر بھی ہراساں کیا۔

الزامات ثابت ہونے پر ملزم پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جس میں سے چار لاکھ روپے بطور ہرجانہ شکایت کنندہ کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ ایک لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔

اولاد نہ ہونے کا طعنہ

وفاقی محتسب کی جانب سے جاری کیا گیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے جس میں تضحیک آمیز رویے اور گفتگو کو بھی ہراسمنٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے کہا کہ ’یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون کی مزید تشریح ہوئی ہے اور یہ واضح ہوا ہے کہ قانون صرف مخصوص اقدامات ہی نہیں بلکہ ہراساں کرنے والی ذہنیت اور رویوں کے خلاف بھی لاگو ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق اس مقدمے میں نہ صرف شکایت کنندہ خاتون کی اولاد نہ ہونے پر واٹس ایپ گروپ میں بار بار تضحیک کی گئی بلکہ ان کے لیے توہین آمیز الفاظ بھی 17 مرتبہ استعمال کیے گئے۔

اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کے بارے میں فوزیہ وقار نے بتایا کہ ’ہمارے سامنے واٹس ایپ گروپ کے سکرین شاٹس پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ گواہوں کے بیانات سے بھی یہ ثابت ہوا کہ جس شخص کے خلاف شکایت دائر کی گئی تھی، وہی ان طرزِ عمل اور پیغامات کا ذمہ دار تھا۔‘

ان کے مطابق مذکورہ شخص نے واٹس ایپ گروپ میں ایسے پیغامات پوسٹ کیے تھے جنھیں ادارے کے دیگر ملازمین بھی دیکھ سکتے تھے۔

یہ معاملہ کب اور کیسے شروع ہوا؟

نمرہ (فرضی نام)، جو پاکستان کے ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتی ہیں، نے ستمبر 2025 میں اپنے دفتر کے ایک ملازم کے خلاف وفاقی محتسب کے پاس ورک پلیس ہراسمنٹ کی شکایت درج کرائی۔

درخواست کے مطابق یہ معاملہ گذشتہ برس رمضان کے دوران اس وقت شروع ہوا جب نمرہ نے اپنے دفتر کی یونین کے انتخابات میں سیکریٹری کے عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انھیں ہراساں کرنے کا سلسلہ انتخابی مہم کے دوران شروع ہوا، جب مخالف گروپ سے وابستہ ایک کارکن نے ان کے خلاف مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی مہم چلائی اور واٹس ایپ گروپ میں ان کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرے کیے۔

نمرہ نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہ تمام سرگرمیاں انتظامیہ کی سرپرستی یا تعاون سے ہوئیں، کیونکہ ان کے بقول ملزم نہ صرف ان کے خلاف انتخابی مہم چلا رہا تھا بلکہ اس وقت ادارے میں ایکٹنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز تھا۔

شکایت کنندہ کے مطابق ہراسمنٹ کا رویہ صرف ان تک محدود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران ملزم نے ان کی تنظیم سے وابستہ دیگر خواتین کو بھی ہراساں کیا۔

درخواست میں نمرہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی مہم کے دوران ملزم کا طرزِ عمل ایک مسلسل اور منظم رویے کی عکاسی کرتا تھا۔

شکایت کنندہ نمرہ (فرضی نام) نے باضابطہ طور پر ادارے کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ملزم کے خلاف کارروائی کی درخواست کی، تاہم ان کے بقول کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد وہ اپنی شکایت پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق کے پاس لے گئیں، جنھوں نے ادارے کی انتظامیہ کو معاملے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ تاہم نمرہ کے مطابق ان ہدایات کے باوجود ملزم کے خلاف نہ کوئی تادیبی کارروائی کی گئی اور نہ ہی باضابطہ انکوائری عمل میں لائی گئی۔

اپنی درخواست میں نمرہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بعد ازاں ادارے کی انتظامیہ نے اپنی سطح پر چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس نے تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ منیجنگ ڈائریکٹر کو پیش کر دی۔ ان کے مطابق اس انکوائری کے باوجود ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’اس اقدام نے نہ صرف انکوائری کے عمل کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ ملزم کے طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی بھی کی۔‘

نمرہ کے مطابق معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ ادارے نے وفاقی سیکریٹری برائے انسانی حقوق کو آگاہ کیا کہ انتظامیہ نے شکایت کی جانچ پڑتال کی، الزامات کا جائزہ لیا اور ملزم کا تحریری مؤقف بھی حاصل کیا۔

ملزم نے اپنے جواب میں تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ دراصل اپنے بعض ساتھیوں کے خلاف جاری بے ضابطگیوں اور مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات سے توجہ ہٹانے اور انھیں بچانے کے لیے یہ الزامات عائد کر رہی ہیں۔

ادارے کے اس موقف کے بعد نمرہ نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا اور وہاں باقاعدہ شکایت دائر کی، جس کے ساتھ انھوں نے اپنے دعوؤں کی حمایت میں مختلف دستاویزی اور دیگر شواہد بھی جمع کرائے۔

’ہمارے معاشرے میں ایسی باتوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے‘

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اولاد نہ ہونے والی خواتین کے ساتھ معاشرے کا رویہ عموماً امتیازی اور تضحیک آمیز ہوتا ہے۔

عورت مارچ کی منتظم کمیٹی کی رکن لینا غنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں بانجھ پن کا طعنہ دینا اس قدر معمول کی بات سمجھی جاتی ہے کہ اکثر لوگ اسے مشورے یا خیرخواہی کے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ جب کوئی خاتون ایسی باتوں پر اعتراض کرے یا ردعمل دے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اتنی چھوٹی سی بات پر تماشہ کیوں بنا رہی ہو یا پھر یہ کہ وہ ضرورت سے زیادہ حساس ہے۔‘

لینا غنی کے مطابق ’وفاقی محتسب کی جانب سے ایسا فیصلہ آنا خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پیشہ ورانہ ماحول میں کس طرح گفتگو کی جانی چاہیے۔ خاص طور پر سرکاری یا دفتری واٹس ایپ گروپس میں اکثر لوگوں کا رویہ ضرورت سے زیادہ بے تکلف ہو جاتا ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ ایسے فورمز پر گفتگو کے واضح اصول اور ضابطۂ اخلاق مرتب کریں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے ساتھ ملازمین کی باقاعدہ تربیت بھی ضروری ہے۔ میرے خیال میں اداروں کو ایسے معاملات کی سماعت کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کرنا چاہیے، جس میں تحقیقاتی یا شکایتی کمیٹیوں کے بعض ارکان ادارے سے باہر کے ہوں تاکہ شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘