آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے بعد نابینا حافظ جی کا چوری شدہ موبائل واپس
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں مسجد میں ایک نابینا شخص کے موبائل کی چوری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے دو روز کے بعد اس شخص کو اس کا موبائل فون واپس مل گیا ہے۔
حافظ امجد پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یکم مئی کو عصر کا وقت تھا، مدرسے کی چھٹی ہوچکی تھی اور وہ نماز کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ وہ موذن ہیں۔
’اس شخص نے کہا کہ آپ یوٹیوب چینل بناتے ہیں تو میں نے بتایا کہ وہ تو پہلے سے بنا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ دکھائیں تو میں نے اس کو دکھایا۔ اس پر اس نے کہا کہ اس کا ’تھنب نیل‘ ٹھیک نہیں ہے اس کو تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے موبائل سے ریکارڈنگ کرتے ہیں لیکن آپکا موبائل ٹھیک نہیں ہے۔‘
حافظ امجد کے مطابق اس شخص نے کہا کہ حمد سنائیں میں نے سنائی۔ ’اس کے بعد اس نے کہا کہ نعت سنائیں، میں نے جیسے ہی نعت ختم کی اور اس کو آواز لگائی تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔‘
مدرسے میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود تھی، جس کے مطابق اس شخص نے بلیو رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور چہرے پر داڑھی تھی۔ وہ حافظ امجد کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس نے فون جیب میں ڈالا، ادھر ادھر دیکھا ایک صف پیچھے ہوا۔ اس کے بعد کھڑا ہوکر باہر نکل گیا۔ اس شخص کی مسجد سے باہر نکلتے ہوئے بھی ویڈیو موجود تھی جس میں اس نے چہرے پر سرجیکل ماسک پہنا ہوا تھا۔ اس نے باہر کھڑی ہوئی موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور روانہ ہوگیا۔
مدرسہ االہدی کے نائب مہتمم مفتی اسامہ ربانی نے بی بی سی کو بتایا کہ قاری امجد نے پیسے جمع کرکے یہ موبائل خریدا تھا۔ اس کی چوری کے بعد ان کی طبعیت خراب ہو گئی اور سنبھلنے میں ڈیڑھ دن لگا۔
موبائل چوری ہونے کی درخواست متعلقہ گلستان جوہر تھانے میں جمع کرائی گئی جبکہ چوری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں چوری کرنے والے کو برا بھلا کہا گیا۔
جمعرات کی شب مدرسے پر ایک رائیڈر پہنچا اور بتایا کہ اس کے پاس پارسل ہے جس میں فون ہے اور وہ امجد کے لیے یہ ڈلیوری لایا ہے۔ رائیڈر کی ویڈیو رکارڈ کی گئی جس میں وہ بتا رہا ہے کہ الہ دین پارک کے سامنے ایک بندہ کھڑا تھا جس نے رائیڈ بک کی۔ اس نے موبائل فون دیا اور کہا کہ دارالہدی جاکر امجد صاحب کو یہ موبائل دے دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مفتی اسامہ ربانی کا کہنا ہے کہ موبائل سے ساری فائیلز اور ایپس کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہے۔ لیکن موبائل ملنے کے بعد امجد کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی ہے۔
دوسری جانب گلستان جوہر پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔