آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوُلا کی زبردست کامیابی، کیا وہ قوم کو متحد کر سکیں گے؟
انتخابات میں فتح کے بعد ساؤ پاؤلو کی مرکزی شاہراہ پر اپنے نو منتخب صدر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ورکرز پارٹی کے کارکنوں کا سیلاب اُمنڈ آیا۔ فضا پر سرخ دھویں کے بادل بناتے ہوئے وہاں موجود ہجوم نعرے لگا رہا تھا: ’لوُلا واپس آگیا ہے۔‘
لوئز ایناسیو لوُلا دا سِلوا نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’یہ بہت مشکل مہم تھی۔ یہ بولسونارو کے مقابلے میں لوُلا نہیں تھا، بلکہ ظلم کے مقابلے میں جمہوریت کی جنگ تھی۔‘
انتہائی دائیں بازو کے امیدوار، جائیر بولسونارو، کے مقابلے میں بائیں بازوں کے امیدوار اور سابق صدر، لوئز ایناسیو دا سِلوا، کی فتح برازیل کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔
دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ کانٹے کا تھا جو لوُلا نے 50.9 فیصد ووٹوں سے جیت لیا ہے۔ ایک زمانے میں لوُلا برازیل کے سب سے مقبول راہنما تھے، اور ملک کے سب سے اہم عہدے پر ان کی واپسی ایک تاریخی لمحہ ہے۔
بیس سال پہلے وہ بڑی تبدیلی کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، مگر بعد میں کرپشن کے الزامات میں انھیں سزا ہوئی اور 2018 کے انتخابات کے لیے نا اہل قرار دیدیا گیا۔ انھیں جیل جانا پڑا، تاہم بعد میں الزامات منسوخ کر دیے گئے۔
لوُلا کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا دوسرا سیاسی جنم ہے، کیونکہ انھوں نے تو مجھے زندہ دفنانے کی کوشش کی تھی۔ یکم جنوری سے برازیل دو نہیں رہیں گے، ہم ایک ہیں، ہم اور نہیں لڑنا چاہتے۔‘ مگر ملک کو متحد کرنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
اگرچہ وہ اپنے عہدے کا حلف نئے سال میں لیں گے مگر مخالفین کے دل جیتنے کا کام ابھی سے شروع کرنا ہوگا۔
ساؤ پاؤلو میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اولیور ستیونکیل کہتے ہیں کہ ’آج رات ہی سے انھیں ان لوگوں سے مکالمہ شروع کرنا ہوگا جنھوں نے انھیں ووٹ نہیں دیا۔ انھیں برازیل کے تمام شہریوں کا صدر بن کر دکھانا ہوگا۔‘ ان کے مخالف صدر جائیر بولسونارو کے کیمپ میں فی الحال خاموشی ہے۔ مگر اس بارے میں عام تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا وہ اور ان کے حامی آسانی سے اپنی شکست کو تسلیم کر لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر ستیونکیل کہتے ہیں، ’میرے خیال میں آنے والے دن اور ہفتے تناؤ سے لبریز ہوں گے۔‘ اگرچہ بولسونارو اکثر کہتے رہے ہیں کہ وہ انتخابی نتائج کو چیلنج کریں گے، مگر پروفیسر ستیونکیل موجودہ صورتحال کو جمہوریت کے لیے اچھی خبر قرار دیتے ہیں۔
اگر موجودہ صدر بغیر رکاوٹ پیدا کیے اقتدار منتقل کر بھی دیتے ہیں تب بھی کانگریس اور علاقائی سیاست کے اندر ان کے وارث موجود ہوں گے۔ اور لوُلا کو رجعت پسند قانون سازوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوُلا کی عمر 77 سال ہے اور وہ 2003 سے 2010 تک ملک کے صدر رہے ہیں۔ ان کا تعلق بائیں بازو کی سیاست سے ہے۔ وہ دھات کی صنعت میں مزدوری کرتے تھے۔ جبکہ بولسونارو 67 برس کے ہیں۔ ان کا تعلق انتہائی دائیں بازو سے ہے۔ اور برازیل کی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔