آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برازیل کے صدر جائر بولسونارو دس روز مسلسل ہچکیوں کا شکار رہنے کے بعد ہسپتال داخل
برازیل کے صدر جائر بولسونارو کے دفتر کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس روز سے آنے والی مسلسل ہچکیوں کے باعث برازیل کے صدر کو ایمرجنسی سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
صدر جائر کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی آنت میں ممکنہ رکاوٹ کی جانکاری کے لیے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
برازیل کے 66 سالہ صدر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ’خدا نے چاہا تو وہ جلد واپس آئیں گے۔‘
سنہ 2018 کے انتحابات کے دوران اُن کے پیٹ میں خنجر کے ذریعے ہونے والے حملے کے بعد سے برازیل کے صدر کی صحت سے متعلق تشویش پائی جاتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2018 میں وہ چاقو کے حملے میں بری طرح زحمی ہو گئے تھے اور ان کے جسم کا 40 فیصد خون بہہ گیا تھا۔ خنجر کے حملے کے بعد سے اب تک ان کی متعدد آپریشن ہو چکے ہیں۔
برازیل کے صدر بدھ کی صبح برازیلا میں معائنے کے لیے ایک فوجی ہسپتال گئے تھے جہاں ڈاکٹروں نے اُن سے کہا کہ وہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک ڈاکٹرز کے زیر نگرانی رہیں گے۔
لیکن بعد میں صدارتی دفتر نے آگاہ کیا کہ جس سرجن نے سنہ 2018 میں صدر کی سرجری کی تھی انھوں نے صدر کو ساؤ پاؤلو ہسپتال میں مزید ٹیسٹ اور ممکنہ آپریشن کے لیے داخل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔
برازیل کی اطلاعات کی منیجر فابیو فاریہ نے رپورٹرز کو بتایا کہ صدر بولسونارو کو ساؤ پالو ہسپتال منتقل کرنے سے قبل بے ہوش کیا گیا تھا۔ صدر کے بیٹے فلاویو نے سی این این برازیل کو بتایا کہ ان کے والد کا ایک آپریشن ہوا ہے اور ان کے معدے سے احتیاطً کچھ مواد نکالا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلاویو نے مزید کہا کہ ان کے والد کو بولنے میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن اگر اس کے لیے انھیں سرجری کی ضرورت پڑی تو وہ زیادہ سنگین نوعیت کی نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
صدر بولسونارو نے اس سے قبل ہسپتال کے بستر سے اپنی ایک تصویر بھی ٹویٹ کی جس میں ان کی چھاتی پر مختلف قسم کے طبی آلات اور سینسر لگے نظر آ رہے تھے اور پادری کے حلیے سے ملتا جلتا شخص اُن کے ہسپتال کے بستر کے پاس کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔
اپنے ڈھائی سالہ متنازع دور صدارت کے بعد آج کل بولسونارو کو ملک میں کورونا وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں سینکڑوں افراد نے کورونا ویکسین کی خریداری میں کرپشن کے الزامات پر سڑکوں پر مظاہرے کیے تھے۔
برازیل کے صدر کو اس وبا کے دوران قومی سطح پر حکمت عملی، ان کی ویکسین، لاک ڈاؤن اور ماسک کے استعمال پر شکوک و شبہات کے باعث سخت تنقید کا سامنا ہے۔ گذشتہ ماہ برازیل میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئیں تھیں جو دنیا میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔