انڈین حکام آخر بالی وڈ ادکارہ جیکلن فرنینڈس کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟

جیکلن فرنینڈس

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
  • وقت اشاعت

انڈیا کی ایک عدالت منی لانڈرنگ کیس میں بالی وڈ اداکارہ جیکلن فرنینڈس کی ضمانت کے لیے دی جانے والی درخواست پر منگل کو فیصلہ سنانے والی ہے۔

37 سالہ اداکارہ سے مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والی سرکاری ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ای ڈی نے ان پر مالی بدانتظامی کا الزام لگایا ہے اور ادارہ انھیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لینا چاہتا ہے۔

فرنینڈس کے وکیل پرشانت پاٹل نے الزامات کی تردید کی ہے اور اصرار کیا کہ ان کے خلاف کوئی قانونی مقدمہ نہیں ہے۔

جیکلن فرنینڈس کون ہیں؟

فرنینڈس ایک معروف اداکارہ ہیں اور ان کی شہرت کی وجہ سے یہ کیس انڈیا میں سرخیوں میں ہے۔

ان کا تعلق پڑوسی ملک سری لنکا سے ہے۔ وہ سری لنکا کے مقابلہ حسن کی فاتح اور ماڈل رہی ہیں۔ انھوں نے سنہ 2009 میں بالی وڈ میں قدم رکھا اور خود کو ایک مقبول اداکارہ کے طور پر قائم کیا۔

سنیما کے ناقدین اکثر ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ لیکن فرنینڈس کی انڈسٹری کے کچھ بڑے سٹارز کے ساتھ جوڑی بنائی گئی ہے، جن میں سیف علی خان، اکشے کمار اور سلمان خان شامل ہیں، اور ان کی کچھ فلمیں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

انھوں نے سپر سٹار شاہ رخ خان اور اداکارہ پریانکا چوپڑا کے ساتھ انڈیا اور بیرون ملک سٹیج شوز میں حصہ لیا ہے اور ایک مشہور ڈانس ریئلٹی شو میں جج کے طور پر کام کیا ہے۔

کئی بڑے برانڈز کے لیے کام کرنے والی سلیبریٹی اداکارہ مستقل طور پر میڈیا کی 'انتہائی مطلوب' خواتین، 'دنیا کی سب سے پرکشش ایشیائی خواتین' اور 'مقبول ترین انڈین سیلبریٹیز' فہرستوں میں شامل رہتی ہیں۔

لیکن گذشتہ سال سے وہ ایک غیر معمولی تنازعے میں الجھی ہوئی ہیں جس میں ایک مبینہ جعل ساز سے ان کے تعلقات، اس سے ملنے والے مہنگے تحائف کی تفصیلات، اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات شامل ہیں۔

ای ڈی حکام نے انھیں کئی مواقع پر پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے، عدالت میں ان کے خلاف الزامات دائر کیے ہیں اور اب انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ انھیں اس وقت تک گرفتار نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ ان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ نہ ہو جائے۔

جیکلن فرنینڈس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناداکارہ جیکلن فرنینڈس نے سنہ 2009 میں بالی وڈ میں قدم رکھا

فرنانینڈس کے خلاف کیس کیا ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کے خلاف جو معاملہ ہے وہ سوکیش چندر شیکھر نامی شخص کے ساتھ ان کے تعلقات کے گرد مرکوز ہے۔ سوکیش ایک 32 سالہ شخص ہیں جن پر کئی لوگوں سے جبری پیسہ لینے کے الزامات ہیں جبکہ سرکاری حکام اور میڈیا میں انھیں 'کون مین' یعنی دھوکہ باز، جعل ساز یا فراڈیا کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق چندر شیکھر دیگر مقدمات کے سلسلے میں سنہ 2018 سے جیل میں ہیں لیکن گذشتہ سال اگست میں ان کے خلاف ایک تازہ شکایت درج کی گئی ہے جس کی رو سے ان پر ایک کاروباری خاندان سے سنہ 2020 میں دو ارب روپے جبری وصولی کے الزامات ہیں۔ ان کے وکیل اشوک کے سنگھ نے اپنے مؤکل کے خلاف تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ 'انھیں پھنسایا جا رہا ہے۔'

حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران انھوں نے پایا کہ گذشتہ سال فروری اور اگست کے درمیان چندر شیکھر نے جیکلن فرنینڈس کو تقریبا سوا سات کروڑ روپے کے تحائف سے نوازا تھا جس میں ڈیزائنر ہینڈ بیگ، کپڑے، زیورات، ایک گھوڑا، ان کے بہن بھائیوں اور والدین کے لیے کاریں، جائیدادیں اور نقدی شامل تھی۔

فرنینڈس تحائف سے انکار نہیں کرتی ہیں لیکن ان کے وکیل مسٹر پاٹل کا کہنا ہے کہ وہ ایک وسیع جرم کے نیٹ ورک کا 'شکار' ہیں۔

جیکلن فرنینڈس

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنجیکلن فرنینڈس کو پوچھ گچھ کے لیے کئی بار ای ڈی حکام کے جانب سے بلایا گیا

ان کے تعلقات

عدالتی کاغذات کے مطابق چندر شیکھر پہلے پہل دسمبر سنہ 2020 میں پنکی ایرانی کے ذریعے فرنینڈس سے رابطہ میں آئے۔ ایرانی اس معاملے کے ایک سال بعد مبینہ طور پر مجرم کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار ہوئيں لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کر دی گئيں۔ بہر حال اداکار فرنینڈس نے اس وقت اس شخص میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔

جیکلن نے بالآخر پہلی بار جنوری سنہ 2021 کے آخر میں چندر شیکھر  سے اس وقت بات کی جب ان کے عملے کو ان کے مطابق انڈین وزارت داخلہ سے ایک کال موصول ہوئی جس میں یہ کہا گیا کہ اداکارہ کو چندرشیکھر سے بات کرنی چاہیے کیونکہ وہ ایک اہم عہدیدار ہیں۔ تفتیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک 'جھانسہ' دینے والی کال تھی جس میں چندر شیکھر کے فون نمبر کو اس طرح دکھایا گیا تھا گویا وہ وزارت داخلہ سے ہوں۔

فرنینڈس کا کہنا ہے کہ اس نے انھیں یہ بتایا کہ وہ جنوبی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور یہ کہ وہ ایک معروف نیوز ٹی وی چینل اور ایک بڑی جیولری کمپنی کا مالک ہے اور وہ سٹریمنگ کے لیے ایک پروجیکٹ تیار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ لیڈ کے طور پر اس میں جیکلن کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بہر حال جیکلن ان سے دو بار جنوبی انڈیا کے شہر چینئی میں اس وقت ملیں جب وہ اپنے چچا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پرول پر جیل سے باہر آیا تھا۔

مسٹر پاٹل کا اصرار ہے کہ جیکلن فرنینڈس کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ جیل میں ہے کیونکہ وہ ہر وقت ان کے ساتھ ویڈیو کالز پر رہتا تھا حالانکہ قیدیوں کو فون تک بلا روک ٹوک رسائی نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے جیکلن کو اپنے ذاتی جیٹ طیاروں میں سفر کرنے کی ویڈیوز بھیجی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مسٹر پاٹل اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ فرنینڈس چندر شیکھر سے ڈیٹنگ کر رہی تھیں۔  وہ کہتے ہیں کہ 'یہ اس (ڈیٹنگ) سے پہلے کا مرحلہ تھا، وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا اور اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو فون کر رہا تھا اور انھیں متاثر کرنے کے لیے مہنگے تحائف خرید کر عطیہ کر رہا تھا۔ اور وہ اس پر غور کر رہی تھیں۔'

عدالتی دستاویزات کے مطابق چندرشیکھر نے اسے ٹفینی کی ایک ہیرے کی انگوٹھی تحفے میں دی تھی جس پر ان کے نام لکھے ہوئے تھے اور اس نے جیکلن کو پروپوز کیا تھا۔

جنوری میں ان دونوں کی قربتوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد فرنینڈس نے انسٹاگرام پر اپنے مداحوں، دوستوں اور میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے پوسٹ کیا کہ وہ ان کی ذاتی جگہ میں دخل اندازی نہ کریں۔

جیکلن فرنینڈس اور سلمان خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیکلن فرنینڈس نے کئی نامور اداکاروں کے ساتھ فلمیں کی ہیں

تفتیش کار کیا کہتے ہیں؟

حکام کا کہنا ہے کہ فرنینڈس کو رشتے کے آغاز میں ہی معلوم تھا کہ چندر شیکھر کون ہیں کیونکہ ان کے عملے نے گذشتہ سال 12 فروری کو انھیں اس کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں مضامین بھیجے تھے۔

لیکن اداکارہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے مز ایرانی کی وضاحت پر یقین کیا کہ 'وہ چندر شیکھر کو 13 سال سے جانتی تھیں، کہ وہ ایک اچھے خاندان سے ہیں اور پریس کے مضامین ان کے سیاسی حریفوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی جعلی خبریں ہیں اور پھر انھوں نے چند دنوں کے بعد ان کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے گذشتہ سال اگست میں ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جب انھوں نے جیل میں رہتے ہوئے اسے پولیس کے ہاتھوں دوبارہ گرفتار کیے جانے کی خبریں دیکھی تھیں۔

لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جیکلن فرنینڈس نے 'آسانی سے اس کے مبینہ مجرمانہ ماضی کو نظر انداز کیا اور اس سے تحائف قبول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جس کا مطلب ہے کہ وہ جرم کی رقم وصول کر رہی تھیں۔'

انھوں نے جیکلن فرنینڈس پر معلومات کو روکنے، انھیں گمراہ کرنے اور فون سے پیغامات کو حذف کرنے کا بھی الزام لگایا ہے جو کیس میں شواہد کے طور پر استعمال کیے جا سکتے تھے۔

ان کا دفاع کیا ہے؟

مسٹر پاٹل کا کہنا ہے کہ فرنینڈس نے چندر شیکھر کے ساتھ شیئر کیے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کر دیا 'کیونکہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس صدمے سے گزریں جب انھیں پتہ چلا کہ وہ ایک دھوکہ باز تھا۔

'یہ ایک مشہور شخصیت کی نجی بات چیت تھی اور ایسی تصاویر تھیں جو وہ نہیں چاہتی تھیں کہ لوگ دیکھیں۔ آپ ان کی ذاتی تصاویر کے پیچھے نہیں جا سکتے۔ آپ کو ایک عورت کی عزت کی حفاظت کرنی چاہیے۔'

مسٹر پاٹل کہتے ہیں کہ  'فرنینڈس بھی دوسروں کی طرح مسٹر چندرشیکھر کے جھوٹ کا شکار ہوئيں جس کا ان پر الزام ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف منی لانڈرنگ یا جرم سے حاصل ہونے والے پیسے کے متعلق  الزامات کے قائم رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: 'سپریم کورٹ کہتی ہے کہ جرم کا علم کلیدی ہے۔ لیکن جیکلن کو چندر شیکھر کے کسی جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ان سے سوال کریں اور کہیں کہ انھوں نے جو کیا وہ اخلاقی طور پر غلط تھا، لیکن کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانونی طور پر غلط ہے؟'

انھوں نے مزید کہا: 'مقدمہ میں کوئی جان نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انھیں عدالت سے انصاف ملے گا۔'

بی بی سی کی سوچترا کے موہنتی کی اضافی رپورٹنگ