ہندو مسلم فسادات کی 40 سال پرانی رپورٹ اب پیش کرنے کے پس پشت بی جے پی حکومت کا مقصد کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہASLAM KHAN
- مصنف, اننت جھنانے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، لکھنؤ
- وقت اشاعت
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں 13 اگست سنہ 1980 کو ہونے والے مراد آباد فسادات کے 43 سال بعد الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایم پی سکسینہ کی اس سے متعلق رپورٹ کو یوگی حکومت نے ریاستی قانون ساز اسمبلی میں عام کیا ہے۔
حالانکہ یہ رپورٹ 40 سال سے تیار تھی لیکن اسے آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ مراد آباد فسادات کو آزادی کے بعد ملک کے سب سے پُرتشدد واقعات میں شامل کیا جاتا ہے۔
جسٹس سکسینہ کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ فسادات کے پیچھے انڈین مسلم لیگ کے ایک رہنما کا ہاتھ تھا اور رپورٹ میں آر ایس ایس، بی جے پی اور اس وقت کی انتظامیہ کو کلین چٹ دے دی گئی تھی۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آزاد انڈیا کے پہلے سب سے بڑے فرقہ وارانہ فسادات میں کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مرادآباد کی عیدگاہ پر فسادات کیسے ہوئے؟
کمیشن کی 496 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے نتیجے میں کہا گیا ہے کہ عام مسلمانوں نے عیدگاہ میں فساد برپا نہیں کیا۔ 13 اگست 1980 کا واقعہ کوئی تنہا یا منفرد واقعہ نہیں تھا۔ یہ واقعات کا ایک سلسلہ تھا اور فرقہ وارانہ فسادات پھوٹنے کی کئی عمومی اور خصوصی وجوہات تھیں۔
مسلم لیگ کے ڈاکٹر شمیم احمد خان کے سیاسی عزائم کو بہت بلند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اتر پردیش میں انڈین مسلم لیگ کو زندہ کیا۔
رپورٹ میں مئی 1980 میں ایک والمیکی لڑکی کے ساتھ اجتماعی ریپ کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی اور دلتوں کے درمیان تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ تھے۔
کمیشن کے مطابق ڈاکٹر شمیم احمد خان اور ان کے حامیوں نے یہ کہہ کر عیدگاہ میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کی کہ والمیکی ’بدلہ لینا چاہتے ہیں اور وہ خنزیروں کو عیدگاہ میں لانا چاہتے ہیں جس سے عیدگاہ میں موجود مسلمان مشتعل ہوگئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق اس فرقہ وارانہ قتل عام کے پیچھے ڈاکٹر شمیم احمد خان اور ڈاکٹر حامد حسین عرف ڈاکٹر اجی کی قیادت میں مسلم لیگی اور خاکسار پارٹی کے لوگ شامل تھے۔
یہ سب 'پہلے سے منصوبہ بندی اور انھی لوگوں کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔'
جسٹس ایم پی سکسینہ کے مطابق یہ 'ڈاکٹر شمیم احمد کی قیادت والی مسلم لیگ اور ڈاکٹر حامد حسین عرف ڈاکٹر اجی کی قیادت میں خاکسار پارٹی کے حامیوں اور ان کے کرائے کے لوگ کام کی کارستانی تھی۔'
رپورٹ میں واقعہ کو 'پہلے سے منصوبہ بند' اور اس کے دماغ کے 'پروڈکٹ' کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مشتعل مسلمانوں نے پولیس چوکیوں اور تھانوں پر حملے شروع کر دیے، ہندو بستیوں پر اندھا دھند حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ہندوؤں نے جوابی کارروائی کی اور واقعے نے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'بی جے پی اور آر ایس ایس فسادات میں کبھی سامنے نہیں آئے'
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مراد آباد فسادات میں 84 افراد ہلاک اور 112 زخمی ہوئے تھے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے اس وقت کے وزیر داخلہ سوروپ کمار بخشی نے اسمبلی میں فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 289 بتائی تھی۔
لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کے کردار کو واضح کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’ان فسادات میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی کبھی آگے نہیں آئے۔‘
اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ کے مطابق اس وقت کے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیندر مکوانا نے اپریل 1980 میں قائم ہونے والی بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس پر فسادات بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔
رپورٹ میں انتظامیہ کو کلین چٹ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ عیدگاہ اور دیگر مقامات پر ہنگامہ آرائی کرنے کا کوئی سرکاری افسر یا ہندو ذمہ دار نہیں تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی پایا گیا کہ ’مسجد میں ہنگامہ برپا کرنے کے لیے عام مسلمان بھی ذمہ دار نہیں تھے۔'
رپورٹ میں پولیس کی کارروائی کو درست قرار دیا گیا جس میں فائرنگ بھی شامل تھی۔
کمیشن کے مطابق 'یہ لوگوں کی املاک کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
84 لوگ کیسے مارے گئے؟
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'زیادہ تر لوگ بھگدڑ کی وجہ سے ہلاک ہوئے جس کے لیے انتظامیہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔'
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس واقعے میں چونکہ اقلیتی برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بشمول بچے تشدد میں مارے گئے تھے، اس لیے وہ غصے کی آگ میں بھڑکتے رہے، حالانکہ یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر کی موت بھگدڑ کے واقعے میں ہوئی تھی۔'
انڈین ایکسپریس کے مطابق ’اندرا گاندھی نے فسادات کے پیچھے بیرونی طاقتوں کا ہاتھ بتایا تھا لیکن مراد آباد جا کر انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔
’تشدد کے دو دن بعد انھوں نے لال قلعہ سے اپنی تقریر میں کہا کہ جس نے بھی یہ شرارت کی ہے جس سے ملک کو نقصان پہنچے اسے سخت ترین سزا ملے گی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کمیشن کی مسلمانوں کو ووٹ بینک نہ سمجھنے کی ہدایت
جسٹس ایم پی سکسینہ نے رپورٹ میں فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو تجاویز بھی دیں۔
جسٹس سکسینہ نے ایک تجویز پیش کی کہ مسلمانوں کو انتخابات میں ’ووٹ بینک‘ کے طور پر سمجھنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، کیونکہ اگر کوئی انھیں انتخابات کے وقت سودے بازی کی قیمتی شے سمجھتا ہے تو اس کے نقصان دہ نتائج برآمد ہوں گے۔
کمیشن نے انتظامیہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ’فرقہ وارانہ فسادات سے پیدا ہونے والے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہیے اور عام طور پر کوئی بھی مقدمہ واپس نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے ایک برادری کے لوگوں اور دوسری برادری کے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں متضاد باتیں
اتر پردیش کے سینیئر صحافی سمن گپتا کے مطابق جسٹس سکسینہ کی رپورٹ کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ '30 دن کے روزے کے بعد تقریباً 60 سے 70 ہزار بنیاد پرست مسلمانوں کا ایک ہجوم عید الفطر کی نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ پر جمع ہوا تھا۔'
سمن گپتا کہتی ہیں کہ 'اس رپورٹ کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ کوئی عدالتی اتھارٹی یہ رپورٹ دے رہی ہے۔ ابتدائی لائن میں ہی کہا گیا ہے کہ عیدگاہ میں 60-70 ہزار بنیاد پرست مسلمان تھے۔ آپ نے 60-70 ہزار مسلمانوں انتہا پسند کیسے بنا دیا؟
'اور بعد میں رپورٹ خود ہی اس کی تردید کرتی ہے کہ فسادی عام مسلمان نہیں بلکہ مسلم لیگی ممبران تھے۔ تو وہ 60-70 ہزار بنیاد پرست مسلمان کون تھے؟ وہ کیا تھے؟'
آر ایس ایس اور بی جے پی کو کلین چٹ دینے کے بارے میں سمن گپتا کہتی ہیں: 'اس میں یہ نہیں لکھا ہے کہ فسادات میں کانگریس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بلکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ بلکہ اس وقت بی جے پی تو نئی نئی بنی تھی۔ اس وقت کوئی بھی بی جے پی کو اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن رپورٹ میں لکھا ہے کہ وہ اس میں شامل نہیں تھی۔'
صحافی سمن گپتا نے مسلم ووٹ بینک کے معاملے پر بھی اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا: 'جب کوئی عدالتی افسر رپورٹ لکھتا ہے تو اس کے ہر لفظ کا مطلب ہوتا ہے۔ رپورٹ میں ایسے بہت سے لوگوں کا ذکر ہے جو اب دنیا میں نہیں ہیں جو چیزوں کی تصدیق کرتے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا کوئی مجرم پایا گیا؟
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان فسادات کی تحقیقات اور عدالتوں سے لوگوں کو کبھی انصاف ملا؟
صحافی سمن گپتا کا کہنا ہے کہ 'آپ تمام فسادات کی تحقیقات کو دیکھیں، کتنے لوگوں کو انصاف اور سزا ملی ہے، اگر لوگوں کو سزا دی جاتی تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے؟'
"دوسری باتوں کو چھوڑیں، بابری مسجد تو سب کی آنکھوں کے سامنے گرائی گئی۔ ہر کوئی دعویٰ کرتا تھا کہ میں سب سے اوپر ہوں، آگے تھا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ عدالت میں کیا ہوا؟ جو سی بی آئی جو مقدمہ چلا رہی تھی وہ اپیل کرنے بھی نہیں گئی تو باقی واقعات کے بارے میں کیا کہیں گے؟'
انڈین یونین مسلم لیگ کے چار ممبران پارلیمنٹ ہیں اور وہ جنوبی ریاست کیرالہ سے آتے ہیں جہاں ان کی پارٹی کانگریس کے ساتھ اتحاد میں ہے اور حزب اختلاف کے 'انڈیا' اتحاد میں بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں مسلم لیگی رہنما ڈاکٹر شمیم احمد اور ڈاکٹر حامد حسین عرف اجی کو فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان کی موت بالترتیب 20 اور 15 سال قبل ہو چکی ہے۔
انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی صدر کوثر حیات خان کا کہنا ہے کہ 'ڈاکٹر شمیم کے خلاف 302 (قتل) کا مقدمہ تھا، جس میں وہ بری ہو گئے تھے۔ 18 مردوں پر این ایس اے (راسوکا) لگایا گیا تھا جسکا وقت ختم ہونے بعد سب کو رہا کر دیا گیا تھا۔'
'کہانی وہیں ختم ہوئی اور پھر اور اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر شمیم احمد پر فساد بھڑکانے کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔'
کوثر خان کا کہنا ہے کہ 'رپورٹ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ کبھی عدالت میں نہیں آئیں اور نہ ہی اس قسم کے ہنگامے کو بھڑکانے کے الزام میں کوئی ٹرائل ہوا، اسی لیے حیرت کی بات ہے کہ آپ نے جھوٹی رپورٹ بنا کر اسے مقفل کر دیا۔'
’1983 میں جب کانگریس کی حکومت تھی تو اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے تھا۔ سنہ 1983 میں جب ڈاکٹر شمیم بھی زندہ تھے، اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے تھا، کچھ کارروائی ہونی چاہیے تھی، کیس ہونا چاہیے تھا۔ ایسا کیوں نہیں ہوا؟'

،تصویر کا ذریعہKASHIF KHAN
رپورٹ کی ریلز کے وقت پر سوال
اسمبلی میں جس سیاسی ماحول میں یہ رپورٹ جاری کی گئی ہے اس کے بارے میں صحافی سمن گپتا کہتی ہیں کہ ’جب بھی کوئی سیاسی لیڈر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کی سیاسی وجوہات ہوتی ہیں۔
'مسٹر یوگی کی حکومت پانچ سال پہلے اقتدار میں تھی، تو یہ رپورٹ پہلے کیوں نہیں آئی؟ انھوں نے تاخیر کی وجوہات بتائی، لیکن یہ رپورٹ سیاسی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔'
مستقبل میں اس رپورٹ کے سیاسی استعمال پر صحافی سمن گپتا کا کہنا ہے کہ 'کسی کمیونٹی کی طرف اشارہ کرنا اور ان کے خیالات اور پارٹی کو کلین چٹ ملنا یہ دو وجوہات ہیں اور یہ ان کے ایجنڈے پر فٹ بیٹھتا ہے۔'
کوثر حیات خان کا کہنا ہے کہ ’اس گڑے مردے کو اکھاڑنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسے کانگریس سے مقابلے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اور مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ ہے، اس لیے وہ اسے کسی اور طریقے سے استعمال کرکے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔'
مغربی اتر پردیش اور اس کی سیاست پر گرفت رکھنے والے صحافی شاداب رضوی کا کہنا ہے کہ 'نہ آپ کمیشن پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی عدالت پر کیونکہ اسی عدالت نے مسلم لیگ کے ڈاکٹر شمیم احمد کو بری کر دیا تھا۔
'لیکن کمیشن کے مطابق، اتنے شواہد تھے کہ انھیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ 2024 سامنے ہے اور میرا ماننا ہے کہ جس طرح سے اتر پردیش کا ماحول پولرائز ہوتا نظر آرہا ہے تو وہ اس رپورٹ پر کانگریس اور مسلم لیگ پر حملہ کر سکتے ہیں۔
'وہ کہہ سکتے ہیں کہ فسادات ان لوگوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ہمارے دور میں فسادات نہیں ہوتے۔ اور ہمارے دور میں ایسا پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہ لوگ بی جے پی اور سنگھ کو بدنام کرتے رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہANI
یوگی حکومت نے تاخیر کی کیا وجہ بتائی؟
جب رپورٹ جاری کی گئی تو اس میں تاخیر پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا گیا کہ 1980 کے مراد آباد فسادات کی جوڈیشل کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ 1983 سے تیار تھی۔
1986 سے 2005 تک کے 40 سالوں میں اسے 14 بار کابینہ کی منظوری کے لیے ریاست کی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے بھیجا گیا، لیکن اتر پردیش میں فرقہ وارانہ صورتحال، رپورٹ کی اشاعت کے اثرات اور دیگر کی وجہ سے رپورٹ کو اعلیٰ سطح پر زیر التوا رکھنے کا فیصلہ کیا جاتا رہا۔
بعد ازاں کسی وجہ سے تحقیقاتی رپورٹ دستاویزات سے الگ ہو گئی۔ تلاش کرنے پر نہیں مل سکی۔
بالآخر رپورٹ رجسٹروں میں رکھی پائی گئی اور 7 اگست کو ہنگامے کی رپورٹ اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں پیش کر دی گئی۔
مراد آباد کے رہنے والے فہیم احمد نے 13 اگست 1980 کو ہونے والے فسادات میں اپنے والد، دادا، چچا اور گھر میں کام کرنے والے ایک نوکر کو کھو دیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کا گھر عیدگاہ کے قریب تھا اور ان کے دادا حاجی انور حسین انھیں اپنی گود میں اٹھا کر عید کی نماز پڑھنے لے گئے تھے۔
فہیم احمد کا کہنا ہے کہ مجھے وہ خوفناک دن آج بھی یاد ہے کہ کس طرح پولیس والے ان تمام لوگوں کو ہمارے گھر سے گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اور آج تک ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

،تصویر کا ذریعہKASHIF KHAN
مرادآباد کے محلہ گجراتی میں رہنے والے وجے اگروال بھی فسادات کا نشانہ بنے۔
وجے اگروال کی اہلیہ راما اگروال نے ان فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: 'میرے شوہر اس دن یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے کہ وہ بازار جا رہے ہیں، لیکن اس کے بعد وہ پھر کبھی واپس نہیں آئے۔'
یوگی حکومت کے فسادات سے متعلق رپورٹ کے بارے میں راما اگروال کا کہنا ہے کہ 'اب حکومت اس معاملے میں کیا کرتی ہے، لیکن کون جانتا ہے کہ میرے شوہر کو کس نے مارا، ہم نے سب کچھ بھگوان پر چھوڑ دیا ہے۔'
فسادات کے وقت محمد عالم کی عمر تقریباً 10 سال تھی۔
فسادات کے دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: 'فسادی ہمارے گھر میں گھس آئے، سارا سامان اکٹھا کرنے کے بعد اس میں آگ لگا دی اور جاتے وقت میری والدہ جمیلہ خاتون کو گولی مار دی۔'
محمد عالم کی والدہ کی میت اہلکار اٹھا کر لے گئے لیکن وہ انھیں واپس نہ مل سکی۔
کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ 'حکومت نے اب جو رپورٹ سامنے رکھی ہے اور اس میں جن لوگوں کو قصوروار کہا گیا ہے، یہ بات بالکل غیر ذمہ دارانہ ہے، کسی پر الزام لگانا سب سے آسان کام ہے۔'
فسادات میں محفوظ احمد نے اپنے دادا کو کھو دیا، وہ خود بھی اس واقعے کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔
لیکن ان کی دادی انھیں بتاتی تھیں کہ فسادات پھوٹنے کے بعد دادا اور دیگر لوگ مسجد کے اوپر والے دو منزلہ مکان میں چھپ گئے تھے لیکن فسادیوں نے انھیں باہر نکالا، گولی مار کر آگ میں پھینک دیا۔ ہمارے دادا کی ہڈیاں بھی ہم کو نہیں مل پائیں۔'
محفوظ کا کہنا ہے کہ ہم انصاف کے لیے بھٹکتے رہے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔
فسادات کی رپورٹ کو پبلک کرنے اور اس کے دعوؤں پر محفوظ احمد کی کوئی رائے نہیں ہے۔
سینیئر صحافی فرید شمسی جو کافی عرصے سے مراد آباد میں رپورٹنگ کررہے ہیں کے مطابق انھیں مرادآباد فسادات میں 207 کیس درج ہونے کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔
وہ کہتے ہیں: 'تقریباً پانچ ماہ کے بعد جب امن اور ہم آہنگی کے لیے امن کمیٹی کے اجلاس ہوئے تو بہت سے معاملات باہمی افہام و تفہیم سے طے پاگئے۔ ہم نے ان معاملات میں کبھی کوئی عدالتی کارروائی نہیں دیکھی۔'
(مراد آباد سے شہباز انور کی اضافی رپورٹنگ)



























