علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ رکھنے کی قرارداد: ’اگر ہری کے بچوں کو ہری گڑھ نہیں ملے گا تو کیا پاکستان کو ملے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
انڈیا کے شہر علی گڑھ میں برسراقتدار بی جے پی کی حمایت والے میونسپل بورڈ نے علی گڑھ کا نام تبدیل کر کے ہری نگر کرنے کی ایک قرارداد منظور کی ہے۔ یہ قرار داد اب حتمی منظوری کے لیے ریاستی حکومت کے پاس بھیبجی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت اس سے پہلے کئی ایسے شہروں کے نام بدل چکی ہے جو مسلمانوں کے نام سے منسوب تھے۔
قرارداد کی بورڈ سے منظوری کے بعد حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے میئر پرشانت سنگھل نے بتایا کہ شہر کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کی تجویز بورڈ کے ایک بی جے پی رکن نے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ علی گڑھ کا نام ہری گڑھ کرنے کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ ’ہماری جو پرانی تہذیب و ثقافت ہے، ہماری جو ہندو دھرم کی روایت ہے، اسی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے نام بدلنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی یہ شہر ہری گڑھ کے نام سے جانا جائے گا۔ یاد رہے کہ ’ہری‘ ہندوؤں کے دیوتا بھگوان کرشن کا ایک نام ہے۔
بی جے پی کے ایک رہنما نیرج شرما نے علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کے لیے ایک عرصے سے مہم چلا رکھی تھی۔
انھوں نے نام بدلنے کی قرارداد منظور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہری ایک تاریخی نام ہے۔ یہ نام یہاں کی تہزیب و تمدن اور ہندو روایات سے وابستہ ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 1920 میں قائم ہوئی کیا اس سے پہلے یہ شہر نہیں تھا؟ اس سے پہلے ہری گڑھ اپنی تہذیبی وراثت پر کھڑا تھا۔ تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ اگر ہری کے بچوں کو ہری گڑھ نہیں ملے گا تو کیا سعودی عرب کے بچوں کو ملے گا، قزاقستان کو ملے گا، پاکستان کو ملے گا۔‘

’یہ مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش ہے‘
شہر کے ایک نوجوان حیدر خان میونسپل بورڈ کی اس قرارداد سے خوش نہیں ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’میں تو نہیں چاہتا کہ اس شہر کا نام ہری گڑھ ہو۔ بہتر ہو گا کہ آپ یہ سوال بی جے پی والوں سے پوچھیں کہ یہ شہر تو جب سے بسا ہے تب سے اس کا نام علی گڑھ ہے۔ اب نئی نئی باتیں ہو رہی ہیں کہ پہلے یہ نام تھا، وہ نام تھا۔ اگر نام بدلنے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو کر دیجیے۔ کہا جاتا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو اور مایاوتی نے نام بدلے ہیں تو کیا موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی انھیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علی گڑھ میونسپل بورڈ میں اپوزیشن سماج وادی پارٹی کے ایک رکن مشرف حسین محضر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ارکان نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں دھوکے سے اس قرار داد کو منظور کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بی جے پی کی جبر کی پالیسی کا حصہ ہے، وہ گذشتہ 15 برس سے علی گڑھ کا نام بدلنےکی کوشش کر رہے تھے۔ جب تک ہماری پارٹی میونسپل بورڈ میں موجود ہے تب تک علی گڑھ کا نام علی گڑھ ہی رہے گا۔ یہ علی گڑھ تھا، ہے اور رہے گا۔‘
شہر کے ایک بزرگ شہری اور سابق رکن بلدیہ مظفر سعید نے نام بدلنے کی قرارداد کو ایک سازش قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ ہمارے روز مرہ کے مسائل میں پانی کی عدم فراہمی، بجلی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نوجوانوں میں کثرت سے نشے کی لت جیسے مسائل شامل ہیں۔ کیا علی گڑھ کو ہری گڑھ کر دینے سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا اس سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟ یہ 2024 کے انتخابات سے پہلے مذہبی جذبات بھڑکانے کی ایک سازش ہے۔‘
علی گڑھ سے قبل کس کس شہر کا نام تبدیل کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
علی گڑھ کا نام بدلنے کی قرارداد اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ اگر اس نے اس قرارداد کو حتمی طور پر منظور کر لیا تو علی گڑھ کا نام بدل جائے گا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس سے پہلے الہ آباد کا نام پریاگ راج ، مغل سرائے کا نام دین دیال اپادھیائے نگر اور فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا کر چکے ہیں۔
کئی اور شہروں اور قصبوں کے نام بدلنے کی تجویز ہے۔ مسلم ناموں کو بدلنے کا سلسلہ دوسری کئی ریاستوں میں چل رہا ہے۔ ماضی قریب میں ریاست ہریانہ میں چند دیہات کے نام بھی بدل دیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر میں اورنگزیب کے نام سے منسوب اورنگ آباد کا نام چھترپتی سمبھاجی اور عثمان آباد کا نام دھارا شیو رکھ دیا گیا ہے۔
یہاں دلی میں اورنگزیب کے نام سے منسوب ایک سڑک کا نام بدل دیا گیا ہے۔ نام بدلنے کے پیچھے بے جے پی کی دلیل یہ ہے کہ شہروں اور قصبوں اور اداروں کے نام ’مسلم حملہ آوروں ‘ کے نام پر نہیں رکھے جا سکتے۔
ان کے نظریات کے مطابق انڈیا میں ماضی کے سبھی مسلم حکمراں ’غیر ملکی حملہ آور‘ تھے اور ان کے نام پر شہروں اور قصبوں کا نام ہونا غلامی کی علامت ہے۔
مغربی اتر پردیش کا شہرعلی گڑھ اپنے مضبوط تالوں کی صنعت اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے جانا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تالوں کی صنعت تو زوال پذیر ہو گئی لیکن مسلم یونیورسٹی ترقی کرتی گئی۔ یہ ایک سینٹرل یونیورسٹی ہے یعنی اس کا فنڈ مرکزی حکومت کے بجٹ سے جاری ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی کا نام علی گڑھ شہر کے نام پر رکھا گیا تھا۔
End of یہ بھی پڑھیے
علی گڑھ یونیورسٹی کی تاریخی اہمیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہو گا کہ شہر کا نام باضابطہ طور پر ہری گڑھ ہو جانے پر اس یونیورسٹی کا پرانا نام بدستور برقرار رہے گا یا یہ بھی بدل جائے گا۔ شہر کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی مذہبی جذبات کی سیاست کی زد میں رہی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو انیسویں صدی کے معروف مسلم مصلح سر سید احمد خان نے قائم کیا تھا۔ 1857 کی بغاوت کے بعد انڈیا پر انگریزوں کے مکمل تسلط کے بعد سامراجی حکومت نے بغاوت کی پاداش میں اتر پردیش، دلی اور اس کے نواحی علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو پھانسی دے دی تھی اور ان کی جاگیریں وغیرہ ضبط کر لی گئی تھیں۔
یہ ایک تغیر کا دور تھا، مسلمان جدید تعلیم کی مخالفت کر رہے تھے۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے اور اسلام کے ایک عقلیت پسند تصور کو فروغ دینے کے لیے تحریک چلائی۔ اسی تحریک کے تحت انھوں نے مسلمانوں کے اعلیٰ طبقے کی جدید تعلیم کے لیے 1875 میں علی گڑھ میں اینگلو محمڈن اورئینٹل کالج کھولا جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا۔
اس یونیورسٹی نے ملک کی جدوجہد آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ اگر سامراجی دور میں قوم پرستی کی سیاست کا محور تھی تو دوسری جانب اس نے کمیونسٹ نظریے کی بھی پذیرائی کی۔ ترقی پسند نظریات کا بھی یہ مسکن رہی ہے۔ آزادی کے آخری مراحل میں جب ملک میں تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو اس وقت میں بھی اس یونیورسٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ تحریک کے بعض مسلم رہنماؤں نے یہیں تعلیم حاصل کی تھی ۔
مسلم یونیورسٹی اگرچہ ایک سینٹرل یونیورسٹی ہے لیکن اسے ایک اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ حاصل رہا ہے جس کے تحت طلبہ کے داخلوں اور اساتذہ کی بھرتیوں اور تعلیمی نصاب کے سلسلے میں اسے خود مختاری حاصل تھی۔
لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد یونیورسٹی کی اس خصوصی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور اسے دوسری مرکزی یونیورسٹیوں کے برابر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اتر پردیش حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر علی گڑھ شہر کی تاریخ کے ضمن میں لکھا ہے کہ اٹھارویں صدی سے پہلے اس کا نام کول یا کولی تھا۔ اور اس میں صرف موجودہ شہر ہی نہیں بلکہ آس پاس کے علاقے بھی شامل تھے ۔ الک الگ ادوار میں یہ مختلف حکمرانوں کے زیر تسلط رہا۔ انیسویں صدی میں یہ مغربی اتر پردیش کے ایک اہم شہر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر گزشتہ ایک صدی سے مسلمانوں کی سیاست ، ثقافت اور نفسیات کا ایک اہم مرکز رہے ہیں ۔ بعص تجزیہ کاروں کے مطابق شاید یہی سبب ہے کہ یہ انڈیا کی مذہبی سیاست کی زد میں ہے۔

























