سانولی اور گہری رنگت والے افراد سن سکرین لگانے سے کیوں ہچکچاتے ہیں؟

ڈیمی

،تصویر کا ذریعہDEMI COLLEEN

    • مصنف, منیش پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز بیٹ
  • وقت اشاعت

اگر آپ کسی ایسی جگہ جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جہاں تیز دھوپ پڑتی ہے تو ظاہر ہے کہ آپ چند ضروری چیزیں ضرور ساتھ پیک کریں گے۔ ان میں دھوپ کے چشمے، ٹوپی، پانی کی بوتل اور ۔۔۔ سن سکرین۔

یہ آپ کو دھوپ کی خطرناک شعاؤں سے محفوظ رکھنے میں مدد کرے گی اور جلد کا کینسر ہونے کے امکانات کم کرنے میں بھی مدد دے گی۔

تاہم ہر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ اسے لگانا ضروری ہے اور یہ رجحان کچھ اقلیتی برادریوں میں سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ماضی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ معلوم ہوا تھا کہ کچھ برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسے استعمال کرنے سے ہچکچکاتے ہیں۔

تاہم ہم میں سے اکثر افراد کیونکہ بالکل آخر میں بنائے گئے منصوبوں کے تحت تفریحی مقامات کی سیر کے لیے نکلتے ہیں، اس لیے بی بی سی نیوز بیٹ نے ان مفروضوں پر نظر ڈالی جو اس ہچکچاہٹ کی وجہ بنتے ہیں۔

تانوی شاہ

،تصویر کا ذریعہTANVI SHAH

روایتی حفاظت

انتیس سالہ ڈیمی کولین ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں جن کی توجہ اقلیتی برادری کے لیے خوبصورتی اور سن سکرین سے متعلق غلط فہمیاں دور کرنا ہے۔

جب وہ نوجوان ہوا کرتی تھیں تو وہ اس مفروضے پر یقین رکھتی تھیں کہ ’برطانیہ میں سورج کی شعائیں اتنی تیز نہیں ہیں کہ ان سے کوئی نقصان ہو سکے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کیونکہ میری رنگت گندمی تھی اس لیے میں سمجھتی تھی کہ مجھے اپنی جلد پر ایس پی ایف (سن پروٹیکشن فیکٹر) لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ڈیمی کا ماننا ہے کہ ’بلیک ڈونٹ کریک‘ یعنی سیاہ فام افراد جلدی بوڑھے نہیں ہوتے، سے یہ غلط تاثر جاتا ہے کہ ہمیں سورج کے خلاف محفوظ رکھنے کے لیے ہماری جلد ہی کافی ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ تسلیم کرتی ہیں کہ نوجوانی میں وہ ایس پی ایف کا استعمال نہیں کرتی تھیں۔

تانوی شاہ ایک 27 سالہ انفلوئنسر ہیں اور وہ بھی ڈیمی سے اتفاق کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ جب وہ نوجوان تھیں تو سن سکرین لگانے سے گریز کرتی تھیں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا اس لیے تھا کیونکہ انھیں ایس پی ایف کی اہمیت کے بارے میں علم نہیں تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب آپ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتی ہوں، جیسے میں انڈین ہوں، تو یہاں ایک جھوٹا مفروضہ ہے کہ ہماری جلد سورج سے اتنی جلدی نہیں جلتی، اس لیے ہمیں ایس پی ایف چہرے پر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

تو پھر کسی عام آدمی کو قدرتی طور پر جلد میں ہی کتنی حفاظت ملتی ہے؟

ڈاکٹر وانیتا رتن جو جلد کے امراض کی ماہر ہیں کہتی ہیں کہ گندمی، سیاہ فام یا گہری رنگت کے افراد میں میلانن موجود ہوتا ہے جو انھیں قدرتی طور پر بہتر تحفظ دیتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ایس پی ایف کی سیون ریٹنگ کے برابر ہے جو ’اتنا کم ہے کہ آپ اس مقدار کو بوتل میں بھی نہیں ڈال سکتے۔‘

تانوی کہتی ہیں کہ انڈیا میں گھرانے عام سٹورز سے ملنے والی مصنوعات کے حوالے سے خدشات رکھتے ہیں۔

وہ یاد کرتی ہیں کہ انھیں ایک ہلدی سے بنا ماسک چہرے پر لگانے کی تجویز دی گئی تاہم انھیں کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا۔

ان کا ماننا ہے کہ اس حوالے سے معلومات کا فقدان اگلی نسلوں میں بھی منتقل کر دیا جاتا ہے کہ کون سی چیز سائنسی اعتبار سے صحیح ہے اور کون سی نہیں۔

ڈیمی نے یہ تجربہ سورج سے بچاؤ کے حوالے سے ملنے والی مصنوعات کے بارے میں بھی کیا اور گاجر کے تیل کے ذریعے اپنی جلد کو زیادہ سانولا کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ایک ڈاکٹر سے تجویز لینے اور تحقیق کرنے کے بعد ڈیمی نے اپنی سوچ بدلی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سوچا کہ میں ایس پی ایف سے متعلق جن مفروضوں پر یقین رکھتی ہوں وہ درست نہیں ہیں۔‘

رتن

،تصویر کا ذریعہDR VANITA RATTAN

سورج میں خود کو محفوظ کیسے رکھا جائے؟

  • ایسے کپڑے پہنیں جو آپ کی جلد کو ڈھانپ کر رکھیں
  • ایس پی ایف 30 پلس سن سکرین استعمال کریں جس یو وی اے پروٹیکشن فور سٹار ہو
  • ایسا ہیٹ پہنیں جس کا چھاتا بڑا ہو
  • اچھی کوالٹی کی سن گلاسز پہنیں
  • سورج سے خود کو بچانے کے لیے سائے میں رہیں

’یہ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ حفاظت کے لیے بھی ہے‘

ڈیمی یہ بھی مانتی ہیں کہ اس حوالے سے کی گئی تشہیری مہم نے بھی اثرات ڈالے ہیں کیونکہ یہ اکثر ’سفید فام افراد کو ٹارگٹ کرتی تھیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان مصنوعات دوسری رنگتوں کی جلد پر کیا اثر ہو گا اس بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کی گئی۔

ڈیمی کہتی ہیں کہ ’سن سکرین ہمیشہ سے ہی ایسی مصنوعات میں سے تھی جو سفید فام افراد استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ فام اور گندمی جلد والے افراد کو اس بحث سے باہر رکھا جاتا رہا ہے۔ اس لیے اس بارے میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔‘

ڈاکٹر رتن کہتی ہیں کہ ’گذشتہ پانچ سالوں کے دوران مصنوعات بہتر ہوئی ہیں اور اب برانڈز ہر رنگت کے افراد کے لیے مصنوعات بنا رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس سے پہلے ہمارے پاس اچھی سکن کیئر مصنوعات نہیں ہوتی تھیں، آپ خوش قسمت ہوتے تھے اگر آپ کو اچھا موئسچرائزر مل جاتا۔‘

اس لیے سکن کیئر مصنوعات کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔

نیدرلینڈز میں حکومت سکن کینسر کی ریکارڈ شرح کے خلاف اقدامات اٹھانا چاہتی تھی، اس لیے انھوں نے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اور فیسٹیولز، پارکس، سپورٹس وینیوز اور بڑی پبلک جگہوں پر مفت سن سکرین دینا شروع کر دی ہے۔

برطانیہ میں سن سکرین کو کاسمیٹک مصنوعات کی بریکٹ میں رکھا جاتا ہے اور اس 20 فیصد ٹیکس لگتا ہے جو ایک بوتل پر ایک اعشاریہ پانچ ڈالر اضافی لگا دیتا ہے۔

برطانیہ میں فلاحی اداروں نے اس کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تانوی اور ڈیمی اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ برطانیہ میں زیادہ افراد کو اسے استعمال کرنے کی ترغیب تب ملے گی جب اس تک پہنچ آسان ہو گی۔

ڈیمی کہتی ہیں کہ ’اس کا طبی استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں ہے بلکہ حفاظت کے لیے بھی ہے۔‘