دوران پرواز ایئر پلین موڈ کا دور ختم ہونے کے قریب ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی یونین میں فضائی مسافروں کو جلد یہ اجازت ہوگی کہ وہ طیارے میں بیٹھ کر ’ایئر پلین موڈ‘ استعمال کیے بغیر پوری طرح اپنا موبائل فون استعمال کرسکیں۔
یورپی کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ایئرلائنز پروازوں میں ہر قسم کے موبائل ڈیٹا سمیت فائیو جی ٹیکنالوجی کی سروسز فراہم کر سکتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ اب مسافروں کو پرواز میں سوار ہوتے ہی اپنا فون ایئر پلین موڈ پر نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم یہ غیر واضح ہے کہ اس ہدایت پر عملدرآمد کیسے ہوگا۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کو 30 جون 2023 تک فائیو جی فریکوینسی بینڈ دستیاب بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یعنی لوگ دوران پرواز اپنے فون کے تمام فیچرز استعمال کر سکیں گے جیسے کال ملانا، موسیقی اور ویڈیوز کے لیے انٹرنیٹ ایپس استعمال کرنا وغیرہ۔
انٹرنل مارکیٹ کے لیے یورپی یونین کے کمشنر تھیئری بریٹن نے کہا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے لوگوں کے لیے منفرد سہولیات فراہم کی جاسکیں گی اور یہ یورپی کمپنیوں کے لیے ترقی کا اچھا موقع ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’انتہائی برق رفتار اور بڑی صلاحیت والا مواصلاتی نظام انگنت ممکنات کو جنم دیتا ہے۔‘
یورپی کمیشن نے 2008 سے پروازوں کے لیے مخصوص فریکوینسی بینڈز ریزور کر رکھے ہیں۔ اس طرح دوران پرواز بعض سہولیات کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم تاریخی اعتبار سے یہ سروس سست روی کا شکار رہی ہے کیونکہ اس کے لیے ایسے مصنوعات استعمال ہوتے ہیں جو طیارے اور زمین پر لوگوں میں سیٹلائٹ کے ذریعے رابطہ قائم کرتی ہیں۔
مگر نئے نظام میں فائیو جی کی تیز ڈاؤن لوڈ سپیڈ کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ موبائل نیٹ ورک ای ای کے مطابق یہ سو ایم بی پی ایس سے زیادہ ہوسکتی ہے اور یوں کوئی فلم چند منٹوں میں ڈاؤن لوڈ کرنا ممکن ہے۔
برطانوی فلائٹ سیفٹی کمیٹی کے سربراہ دائے وٹنگھم نے بی بی سی کو بتایا کہ تاریخی اعتبار سے ایئر پلین موڈ کی اہمیت رہی ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ موبائل ڈیوائسز کا طیاروں کی اڑان پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تشویش تھی کہ موبائل سگنل آٹو میٹک فلائٹ کنٹرول سسٹم میں مداخلت کرسکتا ہے۔‘
’مگر اب ہمیں تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ اس مداخلت کا خطرہ بہت کم ہے۔ یہ تجویز ہمیشہ سے دی گئی ہے کہ جب آپ فلائٹ پر ہوں تو تمام ڈیوائسز کو ایئر پلین موڈ پر رکھا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں بھی اس حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ فائیو جی فریکوینسی طیاروں کی اڑان میں خلل ڈال سکتی ہے اور یہ امکان ظاہر کیا گیا کہ اس سے طیاروں کی بلندی کی پیمائش خراب ہوسکتی ہے۔
تاہم وٹنگھم نے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین میں اس پر مسئلہ نہیں بنایا گیا۔ ’مداخلت کے بہت کم امکان ہیں۔ فائیو جی کے لیے الگ فریکوینسی ہے اور امریکہ کے مقابلے یہاں اس کی پاور سیٹنگز فرق ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’سفر کرنے والے عوام فائیو جی چاہتے ہیں۔ نگراں ادارے ممکنہ طور پر اس کی اجازت دیں گے۔ مگر حفاطت یقینی بنانے کے لیے کچھ اقدام کیے جائیں گے۔‘
بی بی سی نے اس حوالے سے برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے مگر ان کی جانب سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

























